ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی سرزمین کو کپا رکھا ہے وہیں ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب کو دینے والاہے ۔امریکہ نے بدھوار کو اعلان کیا کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم ترین معاہدہ کیا ہے اس معاہدے کے تحت سعودی عرب امریکی اشتراک سے اپنے غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام کو ڈولپ کر سکے گا ۔امریکہ کے وزیر کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیر پرنس عبدالعزیز بن سلما ن نے پر امن مقاصد کے لئے نیوکلیائی اشتراک سے وابستہ معاہدے 123 پر دستخط کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیائی سیکورٹی اقدامات سے متعلق ایک باہمی معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے مل کر کئی دہائیوں تک چلنے والی اور اربوں ڈالر کی ساجھیداری کے لئے قانونی بنیاد تیار کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو اب جائزے کے لئے امریکی کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا ۔سرکاری اعلان کے بعد امریکہ اور دنیا کے کئی ملکوں میں اس پر الگ الگ رد عمل سامنے آرہا ہے ۔اسرائیل کے اقتصادی وزیر نیر برکات نے کہا کہ اگر سعودی عرب نیوکلیائی گزر بسر کے استعمال اور پر امن مقاصد اور بجلی پروڈکشن تک محدود رکھتا ہے تو ان کے دیش کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے اگر وہ اس کا استعمال نیوکلیائی ہتھیار بنانے کے لئے کرتا ہے تو اسرائیل اسے کبھی قبول نہیں کرسکتا ۔وہیں اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور وزیرخارجہ لبن مین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب کا غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام آخر نیوکلیائی ہتھیار پروگرام میں بدل جائے گا انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوسکتی ہے جسے انہوں نے ایک پاگل پن بھری ہتھیاروں کی دوڑ قرار دیا ۔اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی اجازت مل سکتی ہے اور امریکی کمپنیوں کے لئے اربوں ڈالر کی کمائی ہوسکتی ہے دی وال اسٹریٹ جرنل نے مجوزہ معاہدوں کو اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے نیوکلیائی ڈھانچے کے مرکز میں ہے ۔اور غیر ملکی کمپنیاں اس سے باہر ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سیدھے امریکی دخل سے سعودی نیوکلیئر پروگرام پر واشنگٹن کا اثر بڑھے گا ۔دلیل ہے کہ امریکہ کی ساجھیداری سے نیوکلیائی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہونے سے روکنے میں بھی مدد ملے گی ۔یہ معاملہ پاکستان کی ٹنشن بھی بڑھانے والا ہے کیوں کہ اب تک مسلم ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جس کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہے اسی کے دم پر پاکستان اسلامی نیٹو بنانے کا خواب بھی دیکھتا ہے ۔سعودی عرب نے بھی اس کے ساتھ ڈیفنس ڈیل اس لئے کی تھی کہ ایسے میں اگر وہ خود ان ہتھیاروں تک پہنچ رکھ سکے گا تو اس کے لئے پاکستان کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی اس ڈیل کی امریکہ کے اندر بھی مخالفت ہو رہی ہے ۔امریکہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا ٹرمپ یہ بھول گئے ہیں 9/11 حملے میں جو 19 آتنکی تھے اس میں سے 15 سعودی عرب سے آئے تھے ۔اب آپ انہیں سے اتنا خطرناک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ۔اس سے نہ صرف مشرقی وسطیٰ میں ہی نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی دوڑ مچے گی بلکہ پوری دنیا میں بھی ایسی کوشش ہوگی۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کب اپنی بات سے پلٹ جائیں کہا نہیں جاسکتا۔ ہم نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا حال دیکھا ہے سمجھوتہ ہونے کے بعد دستخط ہونے کے باوجود ٹرمپ ایسی ایسی نئی شرائط جوڑ دیتے ہیں جس سے وہ سمجھوتے کھٹائی میں پڑ جائیں ۔کل کو یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل کے دباؤ میں وہ ایسی نئی شرط جوڑ دیں جس سے یہ سمجھوتہ کھٹائی میں پڑ جائے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں