Translater
07 جنوری 2025
ایک اورتفتیشی جرنلسٹ شہید ہوا !
چھتیس گڑھ کے ماو¿وادی متاثرہ بیجا پور کے ٹی وی جرنلسٹ مکیش چندراکر کی لاش تین جنوری کو ایک سیپٹک ٹینک سے برآمد کی گئی ۔مکیش کمار چندراکر 1جنوری 2025 کی شام سے ہی گھر سے لاپتہ تھے ۔وہ ایک آزاد صحافت کے طور پر این ڈی ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے ۔اس کے علاوہ وہ یوٹیوب پر ایک مقبول چینل بستر جنشنگ بھی چلا رہے تھے جس میں بستر کی اندرونی خبریں نشر ہوتی تھیں ۔بستر میں ماو¿وادیوں کی طرف سے اغوا پولیس ملازمین یا دیہاتیوں کی رہائی میں مکیش نے کئی بار اہم ترین رول نبھایا تھا۔پریس کلب آف اندیا نے ایک بیان جاری کر مکیش چندراکر کے قتل کے مذمت اور مانگ کی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر معاملے کی جانچ پوری کی جائے اور قصورواروں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔بستر کے آئی جی پولیس سنور راج پی نے کہا کہ صحافی مکیش چندراکر کے بھائی کی شکایت کے بعد پولیس کی اسپیشل ٹیم جانچ کررہی تھی اور شام ہم نے چٹان کے پاس بستی میں ٹھیکیدار شریش چندرا کرکے کمپلیکس میں ایک سیپٹک ٹینک سے مکیش چندرا کر کی لاش برآمد کی ہے ۔اس معاملے سے مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی ۔مکیش کے موبائل کی آخری لوکیشن اور فون کال کی بنیاد پر جانچ جاری ہے۔اسی دوران ٹھیکیدار شریش چندراکر کی جانب سے اپنے مزدوروں کے لئے بنائے گئے رہائشی کمپلیکس میں پولیس نے چھان بین شروع کی تو انہیں ایک تازہ کنکریٹ کا ڈھال نظر آیا پتہ چلا کہ یہ پرانہ سیپٹک ٹینک ہے جس کے ڈھکن کو بند کرکے دو دن پہلے ہی کنکریٹ بچھائی گئی ۔پولیس نے شبہ کی بنیاد پر اس سیپٹک ٹینک کو توڑا تو پانی کے اندر مکیش کی لاش ملی ۔اس کی لاش پر گہرے چوٹ کے نشان تھے ۔مکش چندرا کرکے بڑے بھائی اور ٹی وی جرنلسٹ نے بتایا کہ بدھوار 1جنوری 2025 کی شام کو اس کا بھائی چندرا کر گھر سے گیا تھا ۔لیکن گھر والوں کو اگلی صبح پتہ چلا تو شروع میں تو مکیش نے سوچا کہ ان کے بھائی کسی خبر کے لئے آس پاس کے کسی علاقہ میں چلے گئے ہیں لیکن جب وہ آئے تو ان کا گھر اوران کا فون بند ملا تو انہیں پریشانی ہوئی ۔ان کے بھائی مطابق میں اور میں مکیش الگ الگ رہتے ہیں ۔بھائی سکیش نے کہا کہ ٹھیکیدار سریندر چندراکر کی جانب سے بنائی گئی سڑک کی تعمیر میں کرپشن کی ایک خبر این ڈی ٹی وی پر چلائی تھی جس کے بعد سرکار نے اس معاملے کی جانچ کا اعلان کر دیا تھا ۔بتایا جارہا ہے ٹھیکیدار شریش چندراکر اس خبر کے نشر سے بے حد پریشان تھے اور انہوں نے مکیش چندرا کر اپنے گھر ملنے کے لئے بلایا ۔شوشل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلے تو مکیش ملاقات کرنے سے ٹالتا رہا لیکن آخر پہلی جنوری کی شام کوشریش چندرا کر سے ملنے ان کے گھر گیا وہیں سے وہ غائب ہوگیا اور پھر 3جنوری کو ان کا سریش چندراکر کے ذریعے بنائے گئے مزدوروں کے مکانوں میں بنے ایک سیپٹک ٹینک سے ان کی لاش برآمد ہوئی ۔ایک تفتیشی صحافی اپنا فرض نبھاتے ہوئے شہید ہوا۔ہم مکیش چندراکر کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور ان کی کھوجی پتریکاریکتا کو سلام کرتے ہیں ۔امید کرتے ہیں پولیس قاتلوں کو جلد سے جلد تلاش کرے گی اور انہیں عدالت سے سخت سے سخت سزا دلوائے گی ۔ریاستی سرکار سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاست سے دور رکھیں اور مکیش چندراکر اور ان کے گھر والوں کو انصاف دلانے میںپوری مدد کریں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں