Translater
28 اپریل 2021
کورونا مریض کو ایک منٹ میں 50سے 60لیٹر آکسیجن درکار !
دہلی میں کورونا مریضوں کی تعدا د دن بدن بڑھ رہی ہے ایسے میں میڈیکل سے متعلق دکتیں بھی بڑھ رہی ہیں دہلی کے درجن اسپتالوں آکسیجن کی قلت کی شکایتیں آرہی ہیں وہیں مریضوں کے بڑھنے سے اس کی خپت بڑھ رہی ہے ۔ خاص کر وینٹی لیٹر پر مریضوں مین دوگنا آکسیجن کی ڈیمانڈ بڑھی ہے پہلے جن وینٹی لیٹر کے مریضوں کو ہر دن 25سے 30لیٹر آکسیجن دی جاتی تھی اب وہ بڑھ کر 50سے 60لیٹر ہور ہی ہے آکسیجن کی کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لیڈی ہارڈی میڈیکل کالج کی این ایس تھیسیا ایکسپرٹ ڈاکٹر رنجو سنگھ نے بتایا کہ اگر چہرے پر ماسکے کے ذریعے اکسیجن دی جاتی ہے تو ایسے میں اس کو ہر منٹ 5سے 6لیٹر آکسیجن درکار ہوتی وہیں اگر مریض وینٹی لیٹر پر تو اسے 25سے 30لیٹر آکسیجن پر منٹ چاہئے لیکن کووڈ مریضوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ انہیں بھی ہائی فلو نیزل آکسیجن دی جا رہی ہے ڈاکٹر سنجو نے بتایا کہ ایچ ایف این او میں ایک خاص طرح کی مشین کی استعمال ہوتا ہے جو ناک کے دونوں نلی کے ذریعے آکسیجن دی جاتی ہے اس سے مریض کے آکسیجن کی ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن اس میں دو گنا زیادہ آکسیجن خرچ ہوتی ہے اس طرح دہلی میں کووڈ مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور وینٹی لیٹر پر مریضوں کی تعدا د بڑھی ہے اسی وجہ سے آکسیجن کی مانگ بڑھ گئی ہے ۔ دہلی کے بڑے اسپتالوں میں رقیق آکسیجن کا استعمال ہوتا ہے سبھی بڑے اسپتالوں میں پلانٹ لگے ہوئے ہیں جہاں سے آکسیجن وارڈ اور آئی سی یو اور وینٹی لیٹر بیڈ تک سپلائی کی جاتی ہے یہ عام طور پر ایمرجنسی کیلئے ہوتا ہے جب مریض کو کہیں سفٹ کر نا ہو تو یا جانچ کیلئے تب اس آکسیجن سسٹم کا استعمال ہوتاہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں