Translater
16 دسمبر 2020
نیوز پیپر انڈسٹری ڈوبنے کے دہانے پر ہے !
انڈین نیوز پیپر سوسائٹی (آئی این ایس ) کے صدر ایل اے ڈیمولم نے مرکزی سرکار سے نیوز پیپر انڈسٹریز کو حوصلہ افزا مالی پیکیج دیئے جانے کی مانگ کی ہے واضح ہو کہ آئی این ایس کئی ماہ سے اس پیکیج کی امید سرکار سے لگائے ہوئے ہے ۔ آئی این ایس کا کہنا کہ نیوز پیپیر انڈسٹری محصول میں کمی کے چلتے بھاری مالی بہران کا سامنہ کر رہی ہے کیونکہ کووڈ 19کی وجہ سے اشتہارات اور سرکولیشن دونوں ہی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس کی وجہ سے بہت سے اخبارات تو بند ہوگئے ہیں یا کچھ اخباری ایڈیشن بے میعاد ملتوی کردئے گئے ہیں اگر یہی حالت رہی تو مستقبل قریب میں اور بھی کئی اخبار بند ہو سکتے ہیں8مہینے میں اخباری صنعت کو قریب 12500کروڑ روپئے کا نقصان ہوچکا ہے سال کے آخیر تک یہ تخمینہ 16ہزار کروڑ تک جاسکتا ہے ۔ دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کا چوتھا ستون ڈھانے کے سنگین وسماجی اور سیاسی نتیجوں کا تصور آسانی سے کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس بہران سے تیس لاکھ اخباری صنعت سے جڑے ورکروں اور اسٹاف وغیرہ پر برا اثر پڑے گا جو براہ راست یا غیر براہ راست سے اخباری صنعت میںلگے ہوئے ہیں جیسے پترکار پرنٹر ،ڈیلوری وینڈر اور کئی دیگر شکلوں میں کام کر رہے ہیں ۔ اگر نیوز پیپر انڈسٹری ڈھ جاتی ہے تو اس کی تباہ کاری کا اثر لاکھوں ہندوستانیوں پر پڑے گا جس میں اس کے ملازم اور ان کے بچے وغیرہ شامل ہیں ۔ اس سے جڑی صنعت پرنٹنگ پریس نیوز پیپر ہاکر اور ڈلیوری وینڈر سمیت پوری چین کے بے حد ایکو سسٹم پر بھی برا اثر پڑے گا۔ جو دہائیوں سے روزی روٹی کے لئے ااس پر منحصر ہیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ
مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں