کھیل کی دنیا میں اب بھارت کا نام بھی آرہا ہے اور یہ ہر ہندوستانی کے لئے فخر کی بات ہے کہ بھارت میں ہنر یعنی ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ کمی ہے تو کھلاڑیوں کو سہولیت اور ان کے کھیل کو فروغ دینے کی۔ آج کرکٹ دنیا میں ٹیم انڈیا ورلڈ کی چوٹی ٹیموں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے میری رائے میں بی سی سی آئی کا بہت بڑا اشتراک ہے۔ کرکٹ کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کی شکل میں اتنا پیسہ مل رہا ہے کہ وہ اور بھی بہتر کھیل کا مظاہرہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم ہاکی میں اس لئے پچھڑے ہوئے ہیں کیونکہ ہم نے اس کی بہتری کے لئے قدم نہیں اٹھائے ۔ جن کے بنا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ لندن اولمپکس میں ایک کھیل جس میں بھارت کا نام پہلی بار آیا ہے وہ ہے بیٹ منٹن کا کھیل، بیشک ہم نے نشانے بازی ، کشتی، باکسنگ و ایتھلیٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کے سائنا نہوال نے جو کمال دکھایا ہے وہ قابل قدر ہے۔ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کے بیٹ منٹن ایک ایسا کھیل ہے جس میں برسوں سے چین کا دبدبہ رہا ہے اور بالادستی رہی ہے۔ سائنا نے اس دبدبے کو پہلی بار توڑا ہے اس لئے جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ ایک اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی نے سائنا کے ساتھ تین سال کے لئے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اس کو پورے40 کروڑ روپے ملیں گے تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ دراصل سائنا ایک برانڈ کے طور پر اسی وقت سے ابھرنا شروع ہوئی تھی جب انہوں نے لندن اولمپکس میں چین کے وانگشن کو ہراکر اولمپک میں میڈل اپنے نام کرلیا تھا۔ کرکٹ کو چھوڑ کر کسی دیگر کھیل میں دیش کی سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی کھلاڑی اب سائنا بن گئی ہیں۔ سائنا نے رتی اسپورٹس سے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ اس کمپنی سے جڑ کر کافی خوش ہیں اور رتی کے بگراؤنڈ اور اس کے بھروسے کو دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس طرح سے چیزوں کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں اور یہ ان کا سب سے مثبت پہلو ہے۔ رتی اسپورٹس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ارون پانڈے نے کہا ہے کہ ہم سائنا سے جڑ کر کافی خوش ہیں جنہوں نے اپنے کھیل سے دیش کے وقار کو بڑھایا ہے۔ سائنا اس طرح رتی اسپورٹس سے جڑنے والی پہلی ہائی پروفائل ہستیوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جس میں بھارتیہ کرکٹ کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی شامل ہیں۔ لندن اولمپکس سے لوٹنے کے بعد سچن تندولکر نے انہیں بی ایم ڈبلیو کار تحفے میں دی تھی۔ کرکٹر کے علاوہ کسی ہندوستانی کھلاڑی کے ساتھ ایسے معاہدے اپنے آپ میں کافی خوش آئین ہیں۔ پچھلے برس کے مقابلے سائنا کا برانڈ ویلیو بھی بڑھا ہے۔ موجودہ وقت میں وہ 10 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات میں نظر آرہی ہیں۔بگ بی کے ساتھ بھی انہیں ایک بیوٹی سامان بیچنے والی کمپنی کے اشتہار میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ سلور میڈل جیتنے والے پہلوان سشیل کمار بھی ایک اشتہار میں نظر آرہے ہیں۔ اس تبدیلی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ باکسنگ ، ویٹ لفٹنگ اور نشانے بازی ،ہاکی، فٹبال اور تیز اندازی کے بھی کچھ کھلاڑی اسی طرح پردے پر نظر آئیں گے اور ہندوستانی کھلاڑیوں کو وہ عزت ۔ پیسہ ملے گا جس کے وہ پوری طرح سے حقدار ہیں۔ (انل نریندر)
Translater
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں