Translater

12 جنوری 2023

4کو پھانسی کل 40کو سزائے موت!

ایران میں حجاب کے خلاف جاری چار ماہ سے تحریک کو طاقت کے بل پر کچلنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ایسے مظاہروں میں شامل ہونے کے الزام میں سابق نیشنل کراٹے چیمپئن محمد مہدی کریمی اور بچوں کے کراٹے کو چ سید محمد حسینی کو پھانسی دے دی گئی ۔ایران کے محکمہ انصاف کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق کریمی حسینی کو 3نومبر کو پہلا میلٹری افسر روہلا ازامیان کے قتل کا قصور وار پایا گیا۔ حجاب مخالف مظاہروں سے وابسطہ چار لوگوں کو پھانسی دی جا چکی ہے ۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے سے وابسطہ 40سے زیادہ مظاہرین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پھانسی پر لٹکائے گئے چاروںمظاہرین سمیت 26مظاہرین کے نام سامنے آئے ہیںجنہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔ ان میں سے تین کو جلد پھانسی دی جا سکتی ہے ۔ حجاب نہ پہننے کے جرم میں 16ستمبر کو طالبہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد پورے دیش میں حجاب کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اب تک 19262مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں اور ان میں سے 576مظاہرین کی کاروائی میں جان جا چکی ہے ۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کمشنر سمیت تمام انسانی حقوق رضاکار تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ایران میں منصفانہ سماعت اور بچاو¿ کا مو قع دیے بنا ہی مظاہرین کو من مانی طریقے پھانسی دی جا رہی ہے ۔ دونوں مظاہرین کو پھانسی کی سز دینے کے خلاف یورپین یونین کے محکمہ خارجہ و سیکورٹی کمیٹی کے چیف جوسف وورل نے ایران میں پھانسی کی سزا پر نکتہ چینی کی ۔ ایران کیلئے امریکہ کے خاص نمائندے روبرٹ مالے میں انہیں جوڈیشری کا قتل قرار دیا ۔ ایسے ہی بر طانیہ کے وزیر خارجہ نے کہ ہم اس بے رحمی کو فوراً روکنے کی مانگ کرتے ہیں۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران سرکار بہت ہی گھنونے طریقوں سے اپنے ان لوگوں جو قتل کئے جارہے ہیں جو واجب حق مانگ رہے ہیں ایران میں انسانی حقوق گروپوں نے بتایا کہ 15دیگر لوگوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میںموت کی سز اہے ۔انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ایشور کے خلاف جنگ چھیڑنا ہے ۔ اس الزام میں موت کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ سبھی لوگوں پر انقلابی عدالت بند کمرے میں مقدمہ چلاتی ہے ان میں سرکاری وکیل ملزمان کی پیروی کرتے ہیں ۔ اکثر جھوٹے کیس پیش کئے جاتے ہیں اور زبردستی قبول نامے اور دھوندھلے ویڈیو کے بنیا دپر سزا دی جا تی ہے ۔یہ ویڈیو اسی حساب سے بنائے جاتے ہیں۔ (انل نریندر)

بے کنٹرول ترقی نے پہاڑو ں کی بنیاد ہلائی!

ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اتراکھنڈ کے اونچے علاقوں میں جاری بلا رکاوٹ ترقیاتی کاموں نے جوشی مٹھ شہر کی بنیاد ہلاکر رکھ دی ہے۔ یہ کرائسس کافی سنگین ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس خطے میں سرنگ بنانے اور پہاڑوں میں ہو رہے دھماکوں پر فوراً روک لگادینی چاہئے ۔ کلائمیٹ ٹرینڈس کی طرف سے جاری بیان میں ماہرین نے ان پر گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی ،انڈین اسکول آف بزنس کے معاون ایسوسئٹ پروفیسٹر آئی پی سی سی رپورٹ کے ایک مصنف ڈاکٹر انجل پرکاش نے کہا ہے کہ 2019اور 2022میں شائع دو رپورٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ قدرتی آفات کیلئے بے حد حساس ہے ،اس لئے اس خطے کے ڈھانچے بند ترقی کیلئے ماحولیات مناسب اسکیمیں بنانی چاہئے ۔ جہاں تک بجلی پیداوار کی بات ہے اس کے لئے دیگر طریقوں کی تلاش کی جانی چاہئے ۔ اس خطے میں تھرمل پاور پروجیکٹس سے جتنا فائدہ ہوگا اس سے کہیں زیادہ ماحولیات کو نقصان ہوگا۔ کڑھوال یونیورسٹی کے جیوگرافیائی سائنس شعبے کے پروفیسر وائی پی سندریال کے مطابق جوشی مٹھ میں جاری کرائسس صاف طور سے انسانی سرگرمیوں کے سبب ہے ۔ یہاں آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے میں بنا کنٹرو ل اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے باوجود قصبے میں پانی کے نکاسی کا مکمل انتظام نہیں ہے ۔ملبے کی چٹانوں کے بیچ باریک سامان پتھر وغیرہ کے علاوہ پانی کے بہنے سے چٹانوں کی طاقت کم ہوئی ہے ۔جس سے چٹانیں گریں اور جس وجہ سے گھروں میں دراڑیں آگئی ہیں ۔ دوسرے تھر مل پاور پروجیکٹس کیلئے ان سرنگوں کو بنانے کیلئے دھاماکوں کے ذریعے کام چل رہا ہے اور اس سے مقامی طور پر زلزلے کے جھٹکے آ رہے ہیں ۔حکومت نے 2013کی کیدار ناتھ ٹریجڈی اور 2021کی رشی کیش گنگا کے سیلاب سے کچھ نہیں سیکھا ۔جیوگرافیائی ہل چل کو لیکر جوشی مٹھ بیشک ان دنوں سرخیوںمیں ہے بلکہ وہ ہی نہیں اتراکھنڈ کے نینی تال ،اتر کاشی و چمپاوت کو سائنسدانوں نے چٹانیں دھنسنے ،زمین میں گڈھے پڑنے کے لحاظ سے کافی سنگین بتایا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نیچر سے چھیڑ چھاڑ کے بجائے اسے بنائے رکھنے کی ٹھوس پالیسی کی ضرورت ہے ۔کماو¿ یونیو سٹی کے جیوگرافی سائنس شعبے کے سائنسدانوں پروفیسر بی ایم کوٹالیا کا کہنا ہے کہ نینی تال کے چوٹی پر واقع بلیا نالا علاقہ جیوگرافیائی اور زمین دھسنے کے نظرے سے انتہائی حسا س ہے ۔ ریسرچ میں پایا گیا ہے کہ علاقے کی پہاڑی ہر برس ایک میٹر ڈھہ رہی ہے ۔ اترکاشی چونے کی پہاڑیاں ہے ٹھیک جوشی مٹھ کی طرز پر ہی اتر کاشی کی بنیاد ٹیکی ہوئی ہے ۔چمپاوت میں چٹان کمزور ہیں اور سوکھی ڈانگ میں سب سے زیادہ کمزور پہاڑ ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس مسئلے کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے ۔جوشی مٹھ معاملے کو لیکر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری پی کے مشرانے اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ کے حالات کو لیکر اعلیٰ سطحی میٹنگ اور اس سے امید یہی کی جاتی ہے کہ سرکار مسئلے کی سنگینی کو سمجھے اور مناسب پالیساں بنائے جس سے ماحولیات کا خاص دھیان رکھا جاسکیں ۔ضرورت پڑے تو ماہرین کو بھی پالیسی بنانے میں شامل کریں ۔ (انل نریندر)

10 جنوری 2023

راتوںرات50لوگوں کو بے گھر نہ کریں!

ہلدوانی میں قبضہ اور ان کو بسانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فوری راحت دی ہے جو قابل خیر مقدم کام ہے ۔ہلدوانی میں ریلوے کی زمین پر بسی ناجائز کچی بستیوں کو ہٹانے کے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر سپریم کور ٹ نے فوری روک لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی ہمدردی کا اشو ہے مگر اس کیلئے باقاعدہ حل نکالنے کی ضرورت ہے عدالت کا کہنا تھا کہ 50ہزاور لوگوں کو سات دنوںمیں راتوں رات نہیں نکا لا جا سکتا پہلے بسایا جائے ۔واضح ہو کہ 20دسمبر 2022کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ہلدوانی میں ریلوے کی زمین سے قبضہ ہٹانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد احتجاجی مظاہروں کے درمیان ریلو ے حکام نے ان ناجائز بستیوکا سروے کیا تھا ۔مانا جا رہا ہے کہ قبضہ ہٹانے سے 50ہزار لوگ اجڑ جائیںگے۔ 10جنوری کے آپ پاس توڑ پھوڑ کی کاروائی ہونی تھی اور فیصلے سے متاثر لوگوں نے مناسب قدم اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں آخیر اپیل دائر کردی اس کے بعد عدالت عظمہ نے ہمدردی کا ثبوت دیتے ہوئے توڑ پھوڑ پر فوری روک لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عوام زندگی کا مسئلہ ہے ۔ بھلے ہی لوگ یہاں ریلوے کی زمین پر دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور یہاں بجلی پانی اور اسکول وغیر جیسی رہنے کی ساری سہولیا ہے ۔جہاں ووٹ بینک کے چلتے سبھی پارٹیاں ان لوگوکی پوشیدہ حمایت کرتی ہیں اور چناو¿ میں ووٹ لیتی ہیں ۔اب دلیل یہ دی جارہی کہ یہاں ناجائز تعمیرات ہیں ۔ تو پھر سہولیات کیوں دی گیں ۔ سہی غلط کی بحث اور سیاسی نفع نقصان کی سیاست جاری رہے گی ۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرکار کو انسانی ہمدردی کے طور پر قانون سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے دوران اترا کھنڈ سرکار اورریلوے کو نوٹس جاری کیا۔ اب اگلی 7فروری کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کی روک سے اس کڑاکے کی ٹھنڈ میں ہزاروں لوگوں کو راحت ملی ہے عدالت نے حکم میںریلوے کی جانب سے پیش وکیل سے کہا کہ زمین کی ریلوے کو ضرورت ہے لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ یہ زمین پوری طرح سے ریلوے کی ہے یاکچھ حصہ ریاستی سرکار کا بھی ہے؟ عدالت نے کہا کہ عرضیوںمیں دعویٰ ہے کہ ان کے پاس پٹے کے کاغذ ہیں اور وہ 1947میں ہجرت کرکے آئے ہیں اور زمین کی نیلامی ہوئی تھی ان کایہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں ایسے میں انہیں بسانا تو چاہئے ہی ۔ جبکہ ریلوے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوںپر کاروائی راتوں رات نہیں ہوئی ہے مقدمہ کافی دنوں سے چل رہا ہے معاملہ بے حد نازک ہے ۔ زمین ریلوے کی ہے ،ریاست کے وکاس کا معاملہ ہے یہ علاقہ ریاست کاگیٹ وے ہے ۔ جسٹس کول کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے میںکوئی حل چاہتے ہیں ور ر اب آگے کوئی تعمیر یا قبضہ نہ ہو ۔ جسٹس نے اڈیشنل سولیسیٹر جنرل سے کہا کہ جنہیںبھی زمین کی ضرورت ہے پہلے لوگوں کو بسانا چاہئے اہم ترین کسوٹی سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے دی کہ معاملے کا کوئی پائیدار حل نکالنا ہوگا۔ امید کرنی چاہئے کہ سپریم کورٹ کی رائے زنی ایسے دیگر معاملوںمیں خیال رکھا جائے گا۔ (انل نریندر)

پتھر تو دکھائی دے رہے پر رام سیتو کے باقیات نہیں کہہ سکتے !

پچھلے کچھ برسوں سے خاص کر پچھلا عام چناو¿ بھاجپا نے شری رام کے نام پر لڑا تھا اب پھر سے شری رام کے نام پر ہی چناو¿ لڑنے کی تیار میں ہیں ۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے چناوی ریاست تریپورہ میں ایک ریلی سے خطاب میں اعلان کردیا کہ اگلے سال 1جنوری 2024تک ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر بن کر تیا رہو جائے گا یعنی اسی اشو پرلو ک سبھا چناو¿ لڑا جا ئے گا۔ ایک طرف تو بھاجپا شری رام کی شرن میں آتی ہے اور ان کے سہارے اقتدار تک پہنچتی ہے وہیں اقتدار میں آنے کے بعد ایک دوسری ٹیون اپنا لیتی ہے ۔ میں بات کر رہا ہوں شری رام کے ذریعے بنائے گئے رام سیتو کی ۔ مرکزی حکومت نے رام سیتو کو لیکر راجیہ سبھا میں جمعہ کو اپنا موقف رکھا ۔ نیوکلیائی توانائی اور اسپیس ٹکنالوجی وزیر جتیندر سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹکنالوجی کے ذریعے کچھ حد تک ہم رام سیتو کے ٹکرے آئی لینڈ اور ایک طرح کے لائم اسٹون کے ڈھیر کی پہچان کر پائے ہیں یہ پل کے حصہ ہیں یا باقیات کہہ نہیں سکتے ۔ رام سیتو کی تلاش میں ہماری کچھ حدیں ہیں اس کی تاریخ 18ہزار سال پرانی ہے جس پل کی بات ہو رہی ہے وہ 56کلو میٹر لمبا تھا ۔ سرکار قدیم دور کے اور ایسے معاملوں میں جانچ کر رہی ہے 2007میں یو پی اے سرکارنے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ جیسے کوئی آئینی ثبوت نہیں ہے یہ سیتو انسانوں نے بنایا تھا ۔ جب اس مسئلے زبردست احتجاج ہواتو سرکار نے حلف نامہ واپس لے لیا ۔اب سرکار کہہ رہی ہے کہ پتھر تو نظر آ رہے ہیں اور رام سیتو کے باقیات ہیں ،یہ کہہ نہیں سکتے ؟ بھارت میں رام سیتو پر تنازعہ اور سیاست خوب ہوئی ہے ۔ایک بار پھر سے رام سیتو سیاسی پارٹیوں کے جنگ کا اکھاڑہ بن گیا ہے۔ ہندو دھرم کے قدیمی گرنتھو کے مطابق اس سیتو کو بھگوان رام نے بنوایا تھا جبکہ انگریز اسے اڈم برج کہتے ہیں ۔تو مسلمانوں کے مطابق اسے حضرت آدم نے بنوایا تھا ۔کہتے ہیںکہ جب لنکا کے راجہ راون نے جب ماں سیتا کا ہرن کر لیا تھا تو بھگوان رام نے وانر سینا کی مدد سے اس پل کو بنوایا تھا ۔ اس سیتو کے ذریعے پوری وانر سینا لنکا پہنچی تھی اور راکشسوں کو گھیر کر کے ماتا کو آزاد کرایا تھا ۔بھارت میں رام سیتو کو لیکر اصلی تنازعہ 2005میں شروع ہوا جب اس وقت کی سرکار نے سیتو سمندرم شپنگ نہر پروجیکٹ کو منظوری دے دی تھی اس پروجیکٹ کے تحت اس سیتو کو توڑ کر ایک راستہ تیار کرنا تھا جس سے خلیج بنگال سے آنے والے جہازوں کو سری لنکا کا چکر نہ لگانا پڑے اس سے وقت اور دوری سے اندھن بچانے کا مقصد تھا ۔حالاںکہ ہندو انجمنوں نے اس کی جم کر مخالفت کی اور معاملہ سپریم کور ٹ پہنچا ۔ بتادیں سیتو سمندرم پروجیکٹ کو واجپائی سرکار نے منظوری دی تھی ۔رام سیتو کا اشو کروڑوں ہندوو¿ں کی عقیدت سے جڑا ہے اس سے انکار کرنا نقصان دہ ہوگا۔ اگر آپ بھگوان رام پر یقین کرتے ہیں تو رام سیتو پر بھی یقین کرنا ہوگا۔ کروڑوں ہندو¿ں کا خیال ہے کہ یہ سیتو بھگوان رام نے ہی بنوایا تھا اس کا اگر کوئی سرکار مخالفت کرے گی تو نقصان ہی اٹھائے گی ۔ سرکار کو نہ صرف اسے ماننا ہوگا بلکہ سے قومی وراثت ڈکلیئر بھی کرنا ہوگاجے شری رام! (انل نریندر)

05 جنوری 2023

اقتدارمیں آئے تو پہلے یہ تین کام کریںگے!

اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دہلی پڑاو¿ میں راہل گاندھی اعتماد سے لبریز نظر آئے ۔ لاکھوں لوگوں سے سیدھی بات چیت کرنے کے بعد ان میں ایک نئی چمک نظر آئی۔ سنیچر کو راہل گاندھی نے دیش میں بی جے پی کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک کاو¿نٹر کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے مضبوط طریقے سے متبادل نظریہ سامنے رکھا تو اگلے لوک سبھا چناو¿میں کامیابی بہت مشکل ہو جائے گی ۔ راہل گاندھی سے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیاکہ اگر وہ پی ایم بنے تو وہ کونسے پہلے تین کام کریںگے ؟راہل نے بتایا کہ ہم یہ کام کریںگے سب سے پہلے تعلیم کا سسٹم بدلنا چاہوںگاہمارا تعلیمی نظام ٹھیک نہیں ہے ۔ 99.9فیصد بچے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ،وکیل ،انجینئر ،پائلٹ یا آئی پی ایس بننا چاہتے ہیں ۔سسٹم بتارہا ہے کہ اس پانچ کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔دوسرا ہم بنا اسکل کا سمان پائے نوجوانوں کو روز گار نہیں دے سکتے ابھی جن کے پاس ہنر ہے ہم ان کی مدد نہیں کرتے بلکہ ہم ان کے ہنر کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تیسرا ہمیں دیش میں بھائی چارہ اور محبت بڑھانا ہے دیش میں تشدد ،نفرت کا بول بالا ہے جس کا دوسرے دیش فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ہماری خارجہ پالیسی گمراہ کرنے والی ہے ۔اس سے دیش کو نقصان ہوگا۔راہل گاندھی نے کہا کہ آج پاکستان اورچین ایک ہو گئے ہیں یہ خطرناک ہے جب ہماری سرکارتھی ہم نے انہیں ایک نہیں ہونے دیا تھا۔سرکار کو فوج کا سیاسی استعمال بند کرنا ہوگااور اس کے لئے اسپیشل قدم اٹھانے ہوںگے جو سرحد پار میں ہو رہا ہے اسے چھپائیے مت انہوں نے کہ میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو اپنا گورو مانتا ہوں وہمیں سکھارہے ہیں کہ ہمیں کیا کیا کرنا چاہئے ۔ سرکار چاہتی ہے کہ میں بلیٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر یاترا کروں ایسا کرنا مجھے قبول نہیں ہے ۔ بی جے پی کے نیتا روڈ شو کرتے ہیں اور بلیٹ پروف گاڑی سے باہر نکلتے ہیں پروٹوکال توڑتے ہیں تو ان کے لئے قائدہ الگ ہے میرے لئے الگ ۔ راہل نے کہا یاترا کے بعد ویڈیوبناو¿ں گا کہ ٹی شرٹ میں کیسے چلا جاتا ہے ۔میں جانتا ہوں اپوزیشن کے لیڈ ر ہمارے ساتھ کھڑے ہیں آج کے ہندوستان میں سیاسی مجبوری اور دوسری مجبوریاں ہوتی ہیں ۔میںاس طرح نہیں کرنا چاہتا ۔کون آرہا ہے کون نہیں میں اپوزیشن کا بہت احترام کرتا ہوں اگر آپ سماج وادی پارٹی کو دیکھیں تو ان کے پاس قومی نظریہ نہیں ہے ان کی اترپریش میں جگہ ہے شاید وہ اپنی اسی جگہ کی حفاظت کرتے ہیں۔اس لئے وہ ہمارے ساتھ نہیں آئے ادھر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سنیچر کو صاف کیا کہ ریاست میں ان کی اتحادی کانگریس کے ذریعے اگلے عام چناو¿ میں راہل گاندھی پی ایم امیدوار بنانے پر روز دے رہے ہیں۔انہیں کوئی پریشانی نہیں ۔ (انل نریندر)

نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کی مہر !

دیش کی سپریم کورٹ نے سال 2016میں ہوئی نوٹ بندی کے خلاف دائر عرضیوںپر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت میں اس معاملے میں مرکزی سرکار کے فیصلے سے جڑے الگ الگ پہلوو¿ں کو چنوتی دی گئی تھی ۔ سپریم کورٹ نے جسٹس این نذیر کی سربرراہی والی پانچ رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا ہے ۔ حالانکہ جسٹس ناگ رتنا نے فیصلے میں اسے غیر قانونی بتایا ہے ۔ جسٹس این نذیر کی بنچ نے کن وجوہات سے عرضی گزاروں کی دلیلوں کو خارج کیا اور کس بنیاد پر نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا یہ جاننا ضروری ہے ۔ لائیو لاءمیں شائع خبر کے مطابق جسٹس گوئی نے کہا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا قانو ن کی دفعہ 26/2میں دئے گئے اختیارات کی بنیاد پر کسی بینک نوٹس سیریز کو پابندی لگایا یا بند کیا جاسکتا ہے ۔ اور اس دفعہ میں استعمال کئے گئے لفظ کسی طرح سے منفی ذہنیت کے ساتھ نہیں دیکھا جاسکتا ۔ انہوںنے کہا کہ اس دفعہ میں جس کسی لفظ کا استعمال کیا گیا ہے اس کی پابندی تشریح نہیں کی جاسکتی ۔ جدید چلن اور موجودہ تشریح کرنا ہے ایسے تشریح سے بچنا چاہئے ۔جس سے بد مزگی پیدا ہو اور تشریح کے دوران قانون کے مقاصد کو ذہن میں رکھا جانا چاہئے اس کے ساتھ ہی انہوںنے کہ مرکزی سرکار کو سینٹرل بورڈ کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ایسے میں ان ولٹ سے فوگاڈ ہے ۔ اقتصادی پالیسی کے مسئلے پر بے حد تحمل برتنے کی ضرورت ہے ۔ حالانکہ جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ سبھی نوٹوںپر پابندی لگایا جانا بینک کی طرف سے کسی بینک نوٹ کی کسی سیریز کو چلن سے باہر کئے جانے سے زیادہ سنگین ہے ۔ایسے میں اس معاملے میں سرکار کو قانون پاس کرانا چاہئے تھا ۔جسٹس ناگ رتنا نے کہا کہ جب نوٹ بندی کی تجویز مرکزی سرکار کی طرف سے آتی ہے تو آر بی آئی کی کی دفعہ (22)کے تحت نہیں آتی ۔اس معاملے میں قانون پاس کیا جانا چاہئے تھا۔ اگر راز رکھنے کی ضرورت ہوتی تو اس میں آرڈیننس لانے کا راستہ اپنایا جا سکتا تھا۔وہیں جسٹس گوئی نے کہا کہ اس قدم کیلئے جن مقاصد کو ذمہ دار بتایا گیا تھا وہ صحیح مقاصد تھے ۔مرکزی سرکار نے سال2016میں 8نومبر کی رات اچانک 500اور 1000روپے کے نوٹ کو بند کردیا تھا۔ اس کے بعد کئی ہفتوں تک دیش بھر میں بینکوں اور ای ٹی ایم کے سامنے پرانے نوٹ بدل کر نئے نوٹ حاصل کرنے والوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیںتھیں ۔ اس کے بعد کئی فریقین نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف عرضیاں دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے 58ایسے عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ۔ سماعت سے پہلے کہہ دیا گیا تھا کہ اگر یہ اشو واجب ہے تو عدالت کا وقت برباد کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔کیا ہمیں وقت گرزنے کے بعد ہمیں اس سطح پر معاملہ اٹھانا چاہئے تھا ۔ اس کے بعد عرضی گزاروں کی طرف سے کہا گیا تھا ۔ سوال اس بات کا ہے کہ کیا مستقبل میں اس قانون اس طرح استعمال کیا جا سکتاہے؟آر بی آئی کے وکیل جیدیپ گپتا نے کہا کہ عرضی گزار اس عدالت سے مانگ کر رہے ہیں کہ یہ مرکزی سرکار کی اس پاور کو چھین لیں جس کے ذریعے وہ آر بی آئی کی تجویز پر افراط زر جیسے موقعوں پر چلن میں موجودہ پوری کرنسی واپس لے سکتی ہے۔ (انل نریندر)

03 جنوری 2023

کھلاڑی تو بہت ہوئے پیلے جیسا کوئی نہ ہوا!

خود کو فٹبال کا بیتھووین کہنے والے پیلے کے فن میں ایسیکشش تھی کہ دنیا کو اس خوبصورت کھیل سے پیار ہو گیا۔کرپشن فوجی تختہ پلٹ اور کچلنے والی سرکاروں کو جھیل رہے برازیل جیسے دیش کو فٹبال کے کھیل کو ایک نئی پہچان پیلے نے دلائی ۔فٹبال کھیلنا اگر فن ہے تو ان سے بڑا فنکار دنیا میں شاید کوئی دوسرا نہیں ہوا 60سال سے زیادہ وقت تک کھیل شائقین کے دلوںپر فٹبال کے بھگوان پیلے کا جانا واقعی گزرتے سال کی سب سے تکلیف دہ خبر رہی۔ پیلے یعنی اڈیشن اورانٹس ہو نیسی منٹو صر ف ایک کھلاڑی ہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین قابل تعریف انسان بھی تھے ۔وہ دوسرے بہت سے کھلاڑیوں کی طرح بے جواز نہیں ہو جاتے تھے ۔ نیمار جیسے نوجوان برازیلی کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ان کا واسطہ مسلسل بڑھتا گیا ۔ وہ 82برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد دنیا سے گئے ہیں ان کے ریکارڈ کو توڑنا ہمیشہ مشکل ہوگا۔ پیلے اپنے دیش برازیل کو تین ورلڈ کپ جیتانے میں کامیاب رہے ۔یہ ایک ایسی تاریخ ہے جو فٹبال کی دنیامیں لائٹ ہاو¿س کی طرح ہے ۔ جس کھلاڑی کو بھی غرور ہوگا وہ پیلے کے کریئر پر غور کرے گاتو اسے محسوس ہوگا کہ پیلے کس خاص مٹی کے بنے تھے ۔ وہ دہائیوںسے دنیا کے بچوں کے تعلیمی نصاف میں حصہ بنے رہے اور شاید ہمیشہ رہیںگے ۔ سرکر دہ کھلاڑی بھی اکثر کہتے ہیں کہ کھلاڑی تو بہت ہوئے لیکن پیلے جیسا کوئی نہ ہوا ۔ وہ دنیا کے عظیم فٹبال کھلاڑی کے طور پر یاد کئے جائیںگے ۔ ان کی شخصیت بلاشبہ اپنے مودجودہ کھلاڑی یا بعد کے کھلاڑیوں سے بڑی ہے ۔پہلے فٹبال میں تین ایس (اسپیڈ ،اسکل اور اسٹیمینا ) کی اہم کردار تھا ۔ مگر پیلے نے اس کڑی میں ایک اور ایس جوڑا (اسٹرینتھ) (طاقت) کھیل کے میدان میں ان کی پھرتی اور ان کے ہنرداد ان کے حریف کھلاڑی بھی دیتے ہیں ۔ یہ واقعی حیرت میں ڈالنے والا وقعہ ہے ۔بے حد غریبی میں پڑھے لکھے بڑے ہوئے پیلے کا کھیل جب عروج پر تھا تو ان کے کھیل کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ اور ان پے پیسے کی بوجھار کرنے کیلئے دنیا کے تمام امیر اور مشہور کلب کچھ بھی رقم خرچ کرنے کو تیار ہو جاتے تھے ۔ تب برازیل حکومت نے انہیں نیشنل ورثہ ڈکلیئر کر دیا ۔ یہ تھا پیلے کا رتبہ اور مقبولیت یہ بھی کم تعجب کی بات نہیں کہ جس نام پیلے سے وہ مشہور ہوئے اس کا مطلب نہ تو انہیں اور نہ ان کے دوستوں کو معلوم تھا۔ میدان میں ان کا جلوہ اور گیم پر ان کا کنٹرول اور کھلاڑیوں کو چکما دینے کے ان کے فن کو دیکھتے بنتی تھی۔پیلے سال 1958میں محض 17سال کے تھے لیکن فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں دو گول کئے تھے ۔وہ جیت آج بھی برازیل اور دنیا کیلئے مثال ہے ۔ آج پیلے ہمارے درمیا ن نہیں ہیں تو فٹبال اداس ہے ۔ پیلے کا ایک قول آج بھی گونج رہا ہے ’کامیابی کوئی حادثہ نہیںہے یہ سخت محنت،عزم ،سیکھنا ،پڑھنا،قربانی دینااور سب سے بڑھ کر آپ جو کر رہے ہیں یا کرنا سیکھ رہے ہیں ،اس سے پیار کرنا ہے‘۔ (انل نریندر)

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...