Translater

03 ستمبر 2011

بابا رام دیو کو گھیرنے میں لگی سرکار


Published On 4th September 2011
انل نریندر
بابا رام دیو اور انا ہزارے کی تحریک سے خار کھائی کانگریس پارٹی اور یوپی اے حکومت اب ان سے دشمنی نکال رہی ہے۔ جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے حکومت ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئی ہے۔ بابا رام دیو کو سرکار اب خود غیر ملکی کرنسی ایکٹ (فیما) میں پھنسانے میں بے چین ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو اور ان کے ٹرسٹ کے خلاف فیما قانون کی خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو کی کمپنیوں پر بیرونی ممالک سے ہونے والے پیسے کے لین دین میں قواعد کو نظر انداز کرنے کے الزام میںیہ مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ میں بابا کو عطیہ میں ملے مبینہ جزیرے کے معاملے کی بھی پڑتال کی جارہی ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور جانچ ایجنسیاں یہ دیکھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ اس جزیرے کو حاصل کرنے میں بابا اور ان کی کمپنی کہیں قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ایسے میں جلد ہی اس معاملے میں بابا کے ساتھی آچاریہ بال کرشن اور یوگ گورو کے سینئر منتظمین سے پوچھ تاچھ کرنے کے آثار ہیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھارتیہ ریزرو بینک اور غیر ملکی جانچ ایجنسیوں اور بینکوں کے ذریعے سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر معاملے درج کئے ہیں۔انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی یوگ پیٹھ، بھارتیہ سوابھیمان ٹرسٹ اور یوگ مندر ٹرسٹ کے ذریعے سے پیسے کے بیجا لین دین کی جانکاری ملی ہے۔ ان اداروں کے امریکہ، نیوزی لینڈ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے غیر ملکی کرنسی حاصل ہوئی ہے اور ایسا کرنے میں وسیع پیمانے پر قواعد کو تلانجلی دی گئی ہے۔ بتاتے ہیں کہ برطانیہ سے ہی ایک معاملہ قریب 7 کروڑ روپے کے لین دین سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ بے نامی سودے سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے عام تاجروں اور خوردہ دوکانداروں سے مل کر ناجائز طور پر مالی لین دین کے ثبوت ملے ہیں۔ ریزرو بینک سے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ملے دستاویزات کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنیوں نے برآمدات سے ہوئی تقریباً 1.8 کروڑ روپے (چار لاکھ ڈالر) کی آمدنی کے بارے میں سینٹرل بینک کو کوئی معلومات نہیں فراہم کی گئی۔ قاعدے کے مطابق برآمدات سے غیرملکی کرنسی میں ہوئی آمدنی کی اطلا ع چھ مہینے کے اندر آر بی آئی کو دینا ضروری ہے۔ رام دیو سے وابستہ کمپنیوں نے چھ مہینے کے بعد بھی آر بی آئی کو کچھ نہیں بتایا۔
بابا رام دیو اور ان کی کمپنیوں کے خلاف انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے فیما کے تحت مقدمے سے سامان پتنجلی اینڈ ہربل پارک میں ملازمین میں اپنے مستقبل کو لیکر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔پدارتھی میں واقع فوڈ پارک میں قریب پانچ ہزار ملازم کام کرتے ہیں۔ فوڈ پارک کے آس پاس گاؤں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ سبھی کو بے چینی ہے کہ کہیں انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ ان کے کھاتوں کو منجمد نہ کردے اور ان کا مستقبل اَدھر میں لٹک جائے۔ ادھر بابا رام دیو نے ہری دوار میں کہا کہ انہوں نے یا ان کے ٹرسٹ نے کسی بھی طرح کے لین دین میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ہے۔ بابا نے بتایا کہ ابھی تک انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے انہیں یا ان کے ٹرسٹ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی کوئی سرکاری جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ انہیں اس کی جانکاری میڈیا سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس ملنے پر معقول جواب دیا جائے گا۔ بابا رام دیو ہری دوار کے کنکھل میں واقع دیویہ یوگ فارمیسی سے اخبار نویسوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ان کے ٹرسٹ سے کسی بھی طرح کا کوئی بھی غیر آئینی کام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی لین دین ہوا ہے۔
Baba Ram Dev, Ram Lila Maidan, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, ED, Black Money, Corruption,

سیاسی آقاؤ کے اشارے پر نوٹس بھیجا گیا، اروند کیجریوال

انا ہزارے کی تحریک سے غصے سے بھری منموہن سنگھ سرکار نے اب ان لوگوں کو نشان زد کرکے نشانے پر لینا شروع کردیا ہے جنہوں نے اس کی مٹی پلید کرنے میں سرگرم کردار نبھایا تھا۔ میڈیا پر لگام لگانے کیلئے مخصوص گروپ بنانے کی بھی خبر ہے۔ انا کے اسٹیج سے سرکار کو برا بھلا کہنے والے فلم اداکار اوم پوری ، کیرن بیدی پر پہلے ہی ہتک عزت کا مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف متنازعہ تبصرے کو لیکر پارلیمنٹ میں تحریک استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے کا سامنا کررہی کیرن بیدی کا ٹیم انا اب کھل کر ساتھ دے رہی ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا پوری ٹیم متحد ہوکر کیرن بیدی کے ساتھ ہے۔ اس طرح کے قدم سے جنتا کے درمیان یہ تاثر جائے گا کہ ممبران پارلیمنٹ ان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب نوٹس ملے گا تو وہ اس پر جواب دیں گی۔ ٹیم انا کے ایک اور اہم ساتھی سابق مرکزی وزیر قانون شانتی بھوشن سی ڈی معاملے میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ دہلی پولیس نے سی ڈی معاملے میں عدالت میں داخل اپنی کلوزر رپورٹ میں جانکاری دی ہے کے سی ڈی میں سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور شانتی بھوشن کی بات چیت کا ٹیپ اصلی ہے۔ اس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ سی ڈی اصلی ہے تو یہ سیدھے سیدھے سپریم کورٹ میں بڑا بدعنوانی کا معاملہ بنتا ہے۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ان کے پاس ایک چشم دید گواہ بھی ہے،وہ ہے ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ۔ انہوں نے پولیس کو پوچھ تاچھ میں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر پر لینڈ لائن فون سے خودپرشانت بھوشن سے ملائم سنگھ کی بات کروائی تھی۔
منموہن سنگھ حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی اروند کیجریوال سے ہے۔ ٹیم انا میں کیجریوال کو وہ سب سے بڑا روڑا مانتی ہے۔ اب ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اروند کیجریوال کو بھارتیہ محصولاتی سروس سے 2006 میں دئے گئے استعفے کو مرکزی حکومت نے اب تک منظوری نہیں دی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق مرکزی حکومت نے وقت سے پہلے نوکری چھوڑنے کے لئے ان سے 3 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ اب یہ رقم بڑھ کر 9 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ کیجریوال نے اس میں چھوٹ کے لئے درخواست دی تھی جس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سرکارسے سیدھے ٹکراؤ کے بعد مرکزی سرکار کا محکمہ پرسنل کیجریوال کے استعفے کا معاملہ پھر سے کھول سکتا ہے۔ محصولاتی سروس کے افسر کے طور پر کیجریوال نے سال2000ء میں دو سال کی ’اسٹڈی لیو‘ لی تھی۔ اس دوران مرکزی سرکار کے قواعد کے مطابق انہیں تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔ اس مدت کے بعد انہوں نے دو سال بغیر تنخواہ کے تعلیمی مطالع چھٹی لی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق چھٹی سے لوٹنے کے بعد کم سے کم تین سال نوکری کرنی پڑتی ہے لیکن کیجریوال نے اس سے پہلے ہی 2006 ء میں استعفیٰ دے دیا۔ ایسے میں ڈی او پی ٹی نے ان سے 3 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ کیجریوال نے پھر درخواست کی کہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے اس لئے انہیں اس میں چھوٹ دے دی جائے۔ مگر اب تک محکمے نے اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں لیا۔ حالانکہ استعفے کے فوراً بعد کیجریوال کو اس سے بڑی رقم میگسیسے ایوارڈ کے طور پر ملی تھی۔
جمعہ کے روز اروند کیجریوال نے الزام لگایا کہ انہیں9 لاکھ روپے کی ادائیگی کا نوٹس سیاسی آقاؤ کے اشارے پر بھیجا گیا ہے۔ لوکپال کے مسئلے پر انا کے ذریعے انشن کرنے سے دس دن پہلے انکم ٹیکس نے 5 اگست کو کیجریوال کو ایک نوٹس بھیجا۔ نوٹس میں کیجریوال سے ان کے انکم ٹیکس کمیشنر رہتے مطالع چھٹی پر جانکاری کی میعاد کی تنخواہ اور اس پر لگے سود اور قرض کے اوپر دوبارہ سود سمیت بقایا رقم کو ملا کر کل 9.27 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔کیجریوال نے کہا انکم ٹیکس محکمے نے میرے دو سال چھٹی پر رہنے کے دوران تعمیل رہے بانڈ کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ میں نے بانڈ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ انکم ٹیکس محکمے نے یہ نوٹس سیاسی آقاؤں کے دباؤ میں بھیجا ہے۔ہزارے کے ایک دوسرے ساتھی ورکر پرشانت بھوشن نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار نے سبق نہیں لیا اور وہ گھناؤنے طریقے اپنانے پر اترآئی ہے۔ قابل ذکر ہے انکم ٹیکس محکمے سے کیجریوال کو بھیجے گئے نوٹس میں ان سے دو سال کی تنخواہ کی شکل میں 3.54 لاکھ روپے او ر اس پر سود کی شکل میں4.16 لاکھ روپے کمپیوٹر کے قرض کی بقایا رقم کی شکل میں 51 ہزار روپے اور اس پر سود کی شکل میں 1.04 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس طرح انہیں 9 لاکھ سے زائد روپے کی رقم دینے کو کہا گیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Kiran Bedi, Prashant Bhushan, Lokpal Bill,

02 ستمبر 2011

اگلا ایجنڈا چناؤ اصلاحات کا ہونا چاہئے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 3rd September 2011
انل نریندر
 لوکپال کے اشو پر انا ہزارے نے پہلی لڑائی جیت لی ہے۔ اب ٹیم انا کا اگلا ایجنڈا چناؤ اصلاحات کا ہوگا۔ اس کے اشارے وہ خود دے چکے ہیں۔ رام لیلا میدان میں انا نے کہا تھا کہ دیش کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ چناوی عمل میں وسیع اصلاحات کی جائیں۔ ورنہ جو نیتا ایک ایک چناؤ میں 10-10 کروڑ روپے خرچ کرڈالتے ہیں ، ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سیاست میں سادھو سنت بنے رہیں۔ انا نے دو اشو دئے ہیں۔ پہلا ’’رائٹ ٹو رجیکٹ‘‘ دوسرا ہے ’’رائٹ ٹو ری کال‘‘یعنی چناہوا نمائندہ عوام کے حساب سے کام نہ کرے تو اسے بیچ میں ہی واپس بلانے کا حق ووٹروں کے پاس ضروری ہونا چاہئے۔ میں نے بہت عرصے پہلے یہ بات اسی کالم میں سپرد قلم کی تھی۔ جرمنی میں یہ سسٹم نافذ ہے اور موجودہ حکومت اسی کے تحت بنی ہے۔ رائٹ ٹو جیکٹ کا دباؤ سارے ممبران پارلیمنٹ پر ضرور بنے گا۔ ابھی تو یہ ہورہا ہے کہ ایک بار وہ چناؤ جیت کر آجائیں تو انہیں اگلے پانچ سال تک جنتا کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ صرف پارلیمنٹ معطل نہ ہو اور انہیں دوبارہ چناؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے یہ ہی ایک تشویش رہتی ہے۔ جھارکھنڈ سے آزاد ممبر پارلیمنٹ اندر سنگھ نام دھاری نے کہا کہ انا کی دونوں مانگوں میں سب سے پائیدار مانگ ’’رائٹ ٹو رجیکٹ‘‘ ہے۔ اس سے سیاست میں دبنگئی اور کالی کمائی پر روک لگ سکتی ہے۔ دیش میں سب سے زیادہ ووٹر نوجوان ہیں۔آج کا نوجوان طبقہ بیدار ہوچکا ہے اور وہ کہتا ہے سیاست میں جرائم کا بول بالا ختم ہو۔ انا کی اس مانگ سے سیاست میں صاف ستھری ساکھ کے لوگوں کو ہی داخلہ ملے گا۔ نام دھاری نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کیلئے جے پرکاش نارائن کی اپیل دیش میں مقبول ہوچکی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ ٹیڑھی کھیر ہے۔ پنچایتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ عوام کے نمائندوں کو واپس بلانے کی سہولت ہے۔ لیکن ایک بار چناؤ ہونے کے بعد عوام کے نمائندوں کو فی الحال واپس بلانا اس لئے ناممکن ہے کیونکہ قانون میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس کے تحت انہیں واپس بلایا جاسکے۔ کانگریس کی طرف سے کہا گیا ہے ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ ایک عام معاملہ نہیں ہے کیونکہ بڑی تعداد میں ووٹر ووٹ نہیں ڈالتے۔ انہوں نے کہا کہ آج ووٹر بیدار ہوا ہے۔ انا کی تحریک کے بعد حالات بدلے ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کا خیال ہے انا کا ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ یعنی ووٹ کے وقت بھی امیدوار کی ناپسند کا متبادل کی عوامی تحریک زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔ حکومت اگر جھک گئی تو ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سیاست کرنا مشکل ہوجائے گا۔ انا کے ساتھی اروند کیجریوال فرماتے ہیں کہ چناؤ اصلاحات کو لیکر لوگ جلد ہی ایک ایجنڈا جنتا کے سامنے لائیں گے۔ ان کی کوشش رہے گی کے اگلے سال میں دیش کی چناوی تصویر بدل جائے۔ چناؤ اصلاحات کا ایجنڈا جن لوکپال سے بھی زیادہ پائیدار ہے۔ ایک طرح سے یہ تو موجودہ سسٹم میں تبدیلی کا ایک حصہ ہے۔ اس کے لئے پورے دیش میں ایک ساتھ تبدیلی کی مشعل جلانے ہوگی۔ تبھی سیاسی پاٹیوں پر کارگر دباؤ بن پائے گا۔ کیونکہ اس تبدیلی کیلئے کئی آئین ترامیم بھی کرنی پڑ سکتی ہیں۔ ٹیم انا نے امید لگائی ہوئی ہے کہ 26 جنوری سے پہلے لوکپال قانون بن جائے گا۔ کیجریوال کو اب یہ اندیشہ نہیں ہے کے جنتا کے دباؤ کو دیکھنے کے بعد حکومت کے لوگوں میں اس میں کوئی گڑ بڑی کرنے کی ہمت ہوگی۔
یہ مناسب ہی ہے کہ چناؤ اصلاحات کے سلسلے میں انا کے ذریعے اٹھائے گئے اشوز پر بحث ہو۔ یہ بحث تبھی رفتار پکڑنی چاہئے کیونکہ بدعنوانی کی بنیادی وجہ خرچ ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک سچائی ہی ہے کہ لوک سبھا اسمبلی انتخابات میں امیدوار بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتے ہیں اور چنے جانے کے بعد اس سے دوگنا روپیہ کمانے کے چکر میں لگ جاتے ہیں۔ یہ مان کر چلتے ہیں کہ اگر اگلا چناؤ وہ کسی سبب ہار بھی جاتے ہیں تو ان کے پاس اتنا پیسہ ہونا چاہئے کہ ان کا سیاسی بنواس ٹھیک طرح سے کٹ جائے۔ اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ جائز طریقے سے پیسہ کمایا جاتا ہے دراصل اس کے سبب کالی کمائی کے کاروبار پر روک لگانے کے لئے منموہن سرکار کوئی ٹھوس پہل نہیں کررہی ہے۔ چناوی عمل کو کالی کمائی سے آزاد کرنے کے لئے طرح طرح کی تجاویز سامنے آچکی ہیں۔ ان میں سے ایک تجویز یہ ہے چناؤ کا خرچ سرکاری خزانے سے ہو۔ابھی حال میں راہل گاندھی نے بھی یہ تجویز رکھی تھی کہ چناؤ کمیشن اس سے متفق نہیں ہے۔ اسے یہ خطرہ ہے کہ اس سے مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہوجائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر اس تجویز کو اس لئے خطرناک نظریہ مانتے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ امیدوار سرکاری خزانے سے ملے پیسے کے ساتھ ساتھ اپنے پیسے کا بھی استعمال کریں گے۔ سیاسی پارٹیوں کو چناؤ اصلاحات کی مخالفت کرنے کی جگہ موجودہ ماحول کو سمجھتے ہوئے چناؤ اصلاحات کی سمت میں آگے بڑھیں۔ کیونکہ بدعنوانی کی طرح سے عام جنتا اسے بھی طویل عرصے تک اب برداشت کرنے والی نہیں ہے۔ دیش کو سمت دینے والی سیاست نامناسب وسائل پر ٹکی ہو جب سیاست کی ساکھ صاف ستھری نہیں ہوگی تو پھر وہ دیش کا بھلا کیسے کر سکے گی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Elections, Right to Recall, Right to Reject, Vir Arjun

15 ستمبر سے دہلی میں سٹی زن چارٹر نافذ ہونے والا ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 3rd September 2011
انل نریندر
دیش بھر میں کرپشن کے خلاف تحریک چلانے والے گاندھی وادی سماجی کارکن انا ہزارے کی تحریک رنگ لانے لگی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کی حکومت نے دہلی میں سٹی زن چارٹر کو15 ستمبر سے نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح دہلی پہلی ریاست ہوگی جہاں یہ لاگو ہوگا۔ اگر یہ سٹی زن چارٹر صحیح طور پر نافذ ہوتا ہے تو دہلی والوں کو روز مرہ کے درپیش مسائلمیں کمی ضرور آئے گی۔چھوٹے چھوٹے کام پراہم کاموں میں جو کرپشن چلتا ہے اس پر لگام ضرور لگے گی۔ دہلی والوں کو راشن کارڈ ،جیون مرن سرٹیفکیٹ، محکمہ محصول سے وابستہ سرٹیفکیٹ طے وقت پر ملیں گے۔ متعلقہ محکموں کو طے شدہ وقت پر یہ کام کرنا ہوگا۔ ایسا نہ کئے جانے پر افسروں پر جرمانہ ہوسکتا ہے۔وزیراعلی شیلا دیکشت کا کہنا ہے 15 ستمبر سے اس قانون کو سختی سے لاگو کیا جارہا ہے۔ دہلی حکومت نے 28 مارچ کو دہلی سٹی زن بل 2011ء (Right of Citizens to time-bound delivery of services Act 2011) وقت پر شہریوں کو خدمات کی فراہمی کا قانون2011ء کا حق۔ اس بل سے وابستہ سارے قاعدے بنا دئے گئے ہیں ویسے تو حکومت نے مختلف محکموں میں کئی سرٹیفکیٹ، لائسنس وغیرہ دینے کے لئے وقت اور میعاد طے کررکھی ہے لیکن یہ قاعدہ حکومت کے علاوہ نئی دہلی میونسپل کونسل ،دہلی میونسپل کارپوریشن پر بھی نافذ العمل ہوگا۔ لیکن ان کا فائدہ لوگوں کو اس لئے نہیں مل رہا تھا کیونکہ اس کام کو کرنے والے افسر کے خلاف کوئی کارروائی کی تجویز نہیں تھی۔ نئے قانون بن جانے سے متعلقہ محکمے کے افسر کو مقررہ میعاد میں کام کرنا ہوگا ورنہ اس پر جرمانہ ہوگا۔
نئے قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو محکمہ محصول وغیرہ سے کوئی سرٹیفکیٹ لینا ہے تو وہ درخواست دے گا۔ اگر طے وقت کے اندر سرٹیفکیٹ نہیں ملا تو افسر سے شکایت کرے گا۔ شکایت صحیح پائے جانے پر اس محکمے کے سرٹیفکیٹ بنانے والے افسر پر جرمانہ لگایا جائے گا۔ جرمانے سے بچنے کے لئے افسر طے وقت میں سرٹیفکیٹ بنانے کی کوشش کرے گا۔ اگر سرٹیفکیٹ بنانے میں کوئی تکنیکی پہلو یا پیچ آتا ہے تو نوڈل افسر اس کی جانچ کرے گا لیکن سب کچھ صحیح پائے جانے کے بعد سرٹیفکیٹ نہیں بنا تو متعلقہ افسر کی عدم صلاحیت کے بارے میں اے سی آر (سالانہ خفیہ رپورٹ) میں بھی ا س کی کارکردگی درج کرا دی جائے گی جس سے اس کا پرموشن اور ترقی متاثر ہوگی۔ محکمے کا کہنا ہے کہ ہم سارا کام آن لائن سے بھی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ شکایت بھی آن لائن کی جاسکے گی اور بعد میں سرٹیفکیٹ بھی آن لائن دیا جا سکے گا۔ ان خدمات میں اے پی ایل، بی پی ایل راشن کارڈوں کو بنوانا اور تصدیق اور ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی سرٹیفکیٹ بنانا، رہائشی سرٹیفکیٹ بنانا، لرننگ لائسنس بنانا، گاڑی رجسٹریشن، جیون مرن سرٹیفکیٹ بنانے کے علاوہ دیگر سبھی ضروری اہم خدمات شامل ہیں۔ اگر طے وقت میں کام نہیں ہوتا تو متعلقہ قصور وار ملازم پر 10 روپے سے200 روپے تک تک جرمانہ لگایا جاسکے گا۔ ہم سمجھتے ہیں ایسا سٹی زن چارٹر جہاں تک ہوسکے سبھی سروسز پر لگایا جانا چاہئے۔ لیکن شکایت اور اپیل کے سسٹم پر خاص طور پر غورکئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ معاملے کہیں بھی لٹک سکتے ہیں۔10 روپے کا جرمانہ بھی آج کے زمانے میں بہت کم ہے۔ بیشک انا ہزارے کی ایک مانگ پوری ہوگئی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کیسا ہوتا ہے؟ قانون تو اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اگر اس کو صحیح سے لاگو نہیں کیا گیا تو نتیجہ پھر وہی صفر ہوگا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Citizen Charter, Corruption, Daily Pratap, Delhi Government, Vir Arjun

01 ستمبر 2011

کھیل تنظیموں پر لگام والے بل کا یہی حشر ہونا تھا


Published On 2nd September 2011
انل نریندر
جب بات سیاستدانوں پر لگام کسنے کی ہو تو بھلا بات کیسے بن سکتی ہے؟ جی ہاں منگل کے روز وزیر اعظم کی موجودگی میں ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں قومی کھیل ڈیولپمنٹ بل کا جو حال ہوا اس سے تو یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی سرگرمیوں پر یہ کھیل مٹھادھیش کسی بھی طرح کی روک لگانے کی مخالفت جم کر کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ کیبنٹ میٹنگ کا چیئرمین کون ہے۔ غالباً یہ پہلی بار ہوا ہوگا جب وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی ہی کیبنٹ میں ایک سیاسی چیلنج ملا ہو۔ وزیر کھیل اجے ماکن نے ماہ فروری میں اعلان کیا تھا کہ بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) سمیت تمام کھیل فیڈریشنوں کو ایک نئے ضابطے کے تحت لانے کیلئے وزیر ایک بل لائے گی۔ منگل کے روز کیبنٹ میں اجے ماکن نے یہ بل رکھا تھا۔ اس میں یہ تجویز بھی تھی کہ بی سی سی آئی بھی آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں آئے تاکہ اس میں زیادہ شفافیت دکھائی پڑے۔ وزارت نے کھیل فیڈریشنوں کے وابستہ عہدیداران کے لئے زیادہ تر عمر اور میعار کے کنٹرول کے بھی قواعدرکھے۔ دیش کی کھیل کی حالت اور سمت طے کرنے کیلئے تنظیموں کی لگام کسنے کے مقصد سے لائے گئے اس بل کی یہ بری حالت طے ہی تھی کیونکہ کھیل تنظیموں کو بے لگام دوڑارہے کئی سیاسی دھرندروں کو یہ اپنا کھیل بگاڑنے کا اوزار نظر آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں کیبنٹ کی میٹنگ میں اس بل کے مستقبل طے کررہے سیاسی کھلاڑیو ں کے ہاتھ سے اسے ہری جھنڈی کیسے مل جاتی۔ بل کو لیکر سب سے زیادہ ناراض وزیر زراعت شرد پوار تھے۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین ہیں۔ وہ اس تجویز سے خاصے خفا تھے کہ کھیل فیڈریشنوں کو عہدیداران کے لئے70 سال سے زائد عمر طے کردی گئی ہے۔ بزرگ ہوگئے پوار نے عمر کی حد کی اس تجویز پر وزیر کھیل کے طریقے پر سوال اٹھائے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر 70 سال کی عمر کے بعد مانا جاتا ہے کہ کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوسکتا تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کمرے میں 70 سال کی عمر پار کر گئے کسی شخص کو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے تنقید کی کہ وہ تو70 پارکرچکے ہیں۔ وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم کی جانب دیکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔فاروق عبداللہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ کیبنٹ میں اس بل کو لیکر شرد پوار ، پرفل پٹیل، کملناتھ اور ولاس راؤ دیشمکھ نے بھی اپنا احتجاج ظاہر کیا اس لئے وزیر اعظم کو وزیر کھیل سے یہ کہنا پڑا کہ اس بل کا ڈرافٹ دوبارہ لائیں اور اس میں سے وہ تجویز ہٹا دیں جن کولیکر ساتھی وزیر ناراض ہیں۔ وزیر کھیل اجے ماکن نے شفافیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بل کی حمایت کی لیکن پوار،کملناتھ، سی پی جوشی ،ولاس راؤ دیشمکھ ، پرفل پٹیل جیسے کئی نیتاؤں کے احتجاج نے راستہ روک دیا۔ خیال رہے سی پی جوشی راجستھان کرکٹ بورڈ کے ولاس راؤ دیشمکھ ممبئی کرکٹ بورڈ کے جبکہ پٹیل بھارتیہ فٹ بال فیڈریشن میں بطور چیئرمین قابض ہیں۔ اس سے پہلے وزیر پارلیمانی امور و بی سی سی آئی کے ڈپٹی چیئرمین راجیو شکلا نے بھی اس پر اعتراض ظاہر کیا۔ اپوزیشن کے انوراگ ٹھاکر و وجے کمار ملہوترہ بھی احتجاج میں شامل تھے۔ اس واقعے کے سلسلے میں کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں جو بل وزیر اعظم، وزیر مالیات ، وزیر خزانہ کی خاص پہل پر لایا گیا ہو اس پر کیبنٹ کے پانچ وزیروں نے بلڈوزر چلا دیا ہو، یہ معمولی بات نہیں مانی جاسکتی۔ اس سے وزیر اعظم کی اپنی کیبنٹ پر پکڑ کے سوال بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کیبنٹ میں شرد پوار کا یہ کہنا کہ اس کمرے میں بھی تو70 سال کے بزرگ بیٹھے ہیں ، سیدھے طور پر وزیر اعظم کو چیلنج تھا۔ پوار یہاں تک نہیں رکے انہوں نے یہ بھی دھمکی دے دی کہ اگر کیبنٹ میںیہ پرستاؤ منظور ہوگیا تو وہ اس معاملے کی شکایت یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے پاس لے جائیں گے۔ پوار کے تیور دیکھ کر پرنب مکرجی بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مجوزہ بل کے خلاف بھاجپا کے ارون جیٹلی، وجے کمار ملہوترہ، یشونت سنہا، انوراگ ٹھاکر جیسے سرکردہ نیتا بھی ہیں کیونکہ یہ لوگ بھی کئی کھیل تنظیموں میں دہائیوں سے گھس پیٹھ بنائے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم کے لئے اتنا ہی غنیمت رہا کہ اپوزیشن اس معاملے میں حکومت کو گھیرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جو گنے چنے نیتا اس کی حمایت کررہے تھے ان میں لالو پرساد یادو، کیرتی آزاد۔ کھیل ڈولپمنٹ بل کی کئی شقیں ایسی ہیں جو برسوں سے کھیل تنظیم کی کرسی سنبھال کر ملائی کھا رہے سیاسی دھرندروں کا پتا صاف کرسکتی ہیں۔ مجوزہ بل نے کھیل کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ خاص کر کرکٹ کی دنیا میں۔ سنیل گواسکر جیسے سرکردہ کرکٹر نے کہا کہ اگر بی سی سی آئی کو کچھ چھپانا نہیں ہے تو وہ آر ٹی آئی کے دائرے میں آنے سے اتنا کیوں گھبراتی ہے۔ کپل دیو کا کہنا ہے جب بی سی سی آئی سرکار سے کوئی گرانٹ نہیں لیتی تو اسے آر ٹی آئی میں کیسے لیا جاسکتا ہے؟ دراصل مجوزہ بل میں سی بی سی آئی کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کرکٹرز کو بھی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے تحت لانے کی سہولت ہے۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے حکومت اسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہی ہے جبکہ حکومت کی دلیل ہے کہ وہ اسے جوابدہی اور شفاف بنانا چاہتی ہے۔ غور طلب ہے کہ بی سی سی آئی اپنے آپ میں ایک مختار ادارہ ہے جو اپنا فنڈ خود ہی اکٹھا کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سرکار سے وہ ٹیکس میں چھوٹ یا دیگر دوسری سہولتیں لیتی رہتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے اس تنظیم پر کئی طرح کے الزام لگ رہے ہیں۔ خاص طور پر آئی پی ایل انعقاد میں وہ سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے۔ اس لئے کئی لوگ مانگ کرنے لگے ہیں کہ کرکٹ جیسے سب سے مقبول کھیل کو چلانے والی اس تنظیم کے کام کاج میں شفافیت لائی جائے تاکہ پورا دیش اس پر نظر رکھ سکے۔ ہندوستان کا کرکٹ محض ایک کھیل نہیں ، یہ دیش کی سوشل لائف کے ساتھ دیش کی معیشت کو بھی اچھی طرح سے متاثر کرتا ہے۔ اس لئے اس سیکٹر کو بغیر کسی ریگولیشن کے چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ اگر نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ بل پاس ہوا تو بی سی سی آئی کا درجہ بھی دیش کی دیگر کھیل فیڈریشنوں کے برابر ہوجائے گا اور اسکا کنٹرول بھی انہیں کی طرح ہوگا۔ لیکن کرکٹروں کے ایک طبقے کی دلیل ہے کہ بی سی سی آئی کو اور فیڈریشنوں کی طرح بنانا ہوگا۔یہ سمجھداری والا قدم نہیں ہوگا۔ فیڈریشنوں میں بیشک کچھ خامیاں ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہوں نے کھیلوں کو کہاں تک پہنچایا ہے۔ آج کھیل کی دنیا میں بھارت کا نام ہے یہ کچھ حد تک اس لئے بھی ممکن ہوا کیونکہ بی سی سی آئی نے بغیر کسی مداخلت کے اپنے طریقے سے کام کرکے انعام دیکر بھارتیہ کرکٹ کو دنیا کی اول ٹیموں میں سے ایک بنایا ہے۔ اسی طرح اور کھیل بھی ہیں جن کی کارکردگی پچھلے ایشیائی کھیلوں میں دیکھنے کو ملی ،مگر اس پر کنٹرول لگانے کی کوشش کی تو ہو سکتا ہے اس کا بھی منفی اثر کھیلوں پر پڑے۔ دراصل دونوں فریق اپنے اپنے مضبوط دلائل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لئے ہڑبڑی میں کچھ کرنا خطرنا ک ہوسکتا ہے۔ اگر بی سی سی آئی جیسے ادارے کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانا ہے تو پہلے اس قانون میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی۔ اس مسئلے پر مزید بحث درکار ہے۔ سبھی فریقین کی رائے جان کر ہی کوئی فیصلہ لینا بہتر ہوگا۔

30 اگست 2011

انا کیلئے عوامی ہجوم کیوں اترا یہ سمجھناچاہئے





Published On 31st August 2011
انل نریندر
انا ہزارے کی تحریک سے کئی سبق ملتے ہیں۔ یہ ایک عجب تحریک تھی جس نے سارے دیش کو ایک بار ہلا کر رکھ دیا۔ سارے طبقوں ،مذاہب، فرقوں سبھی کو ملادیا۔ برسوں کے بعد مڈل کلاس کے لوگ سڑکوں پر اترے۔ اپنی گاڑیوں سے اترپر رام لیلا میدان میں صفائی کررہے ، کھانا کھلا رہے ، ان لوگوں نے شاید اس سے پہلے کبھی بھی یہ سب نہیں کیا ہوگا۔ وہ مڈل کلاس جو ووٹ نہیں دیتا وہ12 دن تک رام لیلا میدان میں انا کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔ اس تحریک میں دیش کا ہر طبقہ شامل تھا۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ موم بتی مارچ کرنے والے لوگ وہ ہیں جوکبھی ووٹ ڈالنے بھی نہیں جاتے۔ مگر یہ سب کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ دیش کا یہ ہی طبقہ انتخابات میں آپ کو نظرانداز محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح چناؤ ذات پات اور علاقائیت جیسے مسئلوں پر جیتے جاتے ہیں وہاں دیش کا یہ شہری طبقہ اپنے آپ کو اقلیت میں محسوس کرتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی تعداد مٹھی بھر ہے اور وہ چناؤ میں اپنا کوئی کردار ہی نہیں مانتے۔ مگر اب انہیں لگ رہا ہے کہ کم سے کم ہمارا کردار اس قانون کو بنانے میں تو ہے جو کرپشن پر لگام لگا سکے۔ وہی بدعنوانی جو دیش کو پوری طرح سے گھن کی طرح کھا گئی ہے، اس تحریک نے ان میں ایک سنجیدگی پیدا کی ہے۔
دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں کو بھی یہ بات حیرت میں ڈال رہی ہے کہ جو جنتا یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کو ایک چھٹی کے دن کی طرح سے دیکھتی ہے اسے اس تحریک میں ایسا کیا نظر آیا کہ وہ بغیر بلائے رام لیلا میدان کی طرف دوڑ پڑی۔ آج بیشک بھاجپا اس بات کا سہرہ لینے کی کوشش کررہی ہے کہ انا تحریک آخر کامیاب کرانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ بیشک رہا بھی، اگر بھاجپا کھلے عام اعلان نہیں کرتی کہ وہ انا کی تینوں شرطوں کو بغیر کسی قباحت کے قبول کرتی ہے اور حمایت کرتی ہے تو شاید حکومت اب بھی اتنی آسانی سے ہار نہیں ماننے والی تھی۔ بھاجپا کے قدم نے انا کا پلڑا بھاری کردیا لیکن بھاجپا کو یہ سوال اپنے سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ اتنے برسوں سے وہ کرپشن کو اشو کیوں نہیں بنا پائی۔ آخر انا اسے اشو بنا لے گئے؟ حکومت نے بھی جنتا کی پکار و جنتا میں بے چینی کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ کرپشن اور مہنگائی سے دبی ہندوستان کی جنتا چیخ چیخ کر پکارتی رہی کہ کچھ کرو، کچھ کرو۔ لیکن کانگریس پارٹی اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمارے سیاستداں اپنے کو تسلی دینے کے لئے یہ دلیل دینی شروع کردی کہ کرپشن اب کوئی اشو نہیں رہا ہے۔
سیاستدانوں کا یہی خیال تھا کہ جنتا نے ترقی کے نام پر کانگریس کو ووٹ دیا اور کرپشن اب جنتا میں قابل قبول ہوچکا ہے۔ یعنی کرپشن اب نہ اشو بنایا جاسکے گا اور نہ ہی کرپشن کے خلاف بھارت میں کوئی تحریک چل سکتی ہے لیکن محض ساتویں کلاس پاس رائے گن کے ایک سنت نے سیاسی پانڈتوں کی ساری تھیوریوں کو ناکام کردیا۔ انا کی اپنی صاف ستھری ساکھ اور سیدھی آواز نے لوگوں کے دل کو چھولیا اور وہ سڑکوں پر آگئے۔ انا کی تحریک کامیاب ہونے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ تھا ان کا اپنا بھروسہ ۔ اور اس کے پیچھے سبب تھا انا کا اخلاقی قد اور ان کی بے غرضی اور انا کی غیر جانبدار شخصیت۔ انا ہزارے کو دیکھ کر عام آدمی کو یہ لگا کہ یہ 73 سالہ شخص اپنے لئے جدوجہد نہیں کررہا ہے بلکہ یہ ان کے لئے محاذ آرا ہے جب کوئی سیاستداں انہی باتوں کو کہتا ہے تو جنتا اس کا مطلب دوسرا نکال لیتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ موقعہ پڑنے پر یہ پارٹی یا ستداں بھی وہی برتاؤ کرے گا جس کے خلاف وہ تقریر کررہا ہے۔ سیاستدانوں پر سے جنتا کے اٹھتے بھروسے کا ہی نتیجہ ہے سیاسی پارٹیوں کو اپنی ریلیوں میں 10-20 ہزار کی بھیڑ اکٹھے کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔ پارٹی چھٹ بھیا نیتاؤں پر بھی بھاری بھیڑ اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ چائے ،ناشتے اور گاڑیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان نیتاؤں کا قد پارٹی میں ان کے ذریعے اکٹھے کردہ بھیڑ سے ہی طے ہوتا ہے۔ اور انا کی تحریک میں جنتا خود اپنے خرچ پر اپنا کھانا پینا لیکر خدمت کے جذبے سے آئی، اسے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ سیاستدانوں کو اس تحریک سے سبق لینا چاہئے اور انا کی کامیابی کوسنجیدگی سے بلاغرض سمجھنا چاہئے۔ پتہ نہیں اب بھی ان کو سمجھ آئی ہے یا نہیں؟

انا کی تحریک! سنسد میں نوجوان برگیڈچھائی رہی




Published On 31st August 2011
انل نریندر
سنیچر کو لوک سبھا میں جب انا کی تین شرطوں پر بحث چل رہی تھی تو ایک بات خاص طور پر سامنے آئی۔ وہ یہ تھی کہ دونوں کانگریس اور بھاجپا نے اپنی نوجوان پیڑھی کو آگے کرکے انہیں بولنے کا اور اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا۔ وہ اتنی اہم بحث میں اپنا ہنر دکھا سکیں۔ کانگریس کے نوجوان ممبر پارلیمنٹ سندیپ دیکشت اپنی والدہ محترمہ شیلا دیکشت کی چھایا سے بھی باہر نکل آئے۔ انہوں نے اپنے دم خم پر آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔ سندیپ دیکشت نے نہ صرف اپنی پارٹی میں اپنا قد بڑھایا ہے بلکہ اپوزیشن نے بھی کئی بار ان کی دلیلوں سے اتفاق ظاہر کیا۔ جب انا کو گرفتار کیا گیا تھا تو سندیپ پہلے ممبر پارلیمنٹ تھے جنہوں نے کھلے طور پر کہا تھا یہ غلط ہوا ہے۔ پہلے دن سے ہی وہ صلاح صفائی میں لگ گئے تھے۔ جب ایتوار کو ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعظم کا خط لیکر رام لیلا میدان پہنچے تو ان کے ساتھ پارٹی اور حکومت نے سندیپ دیکشت کو بھیج کر یہ واضح کردیا کہ اب ان پر کتنا بھروسہ ہے۔ سندیپ دیکشت کے تئیں سب کی نظروں میں عزت بڑھی ہے اور یہ ان کے آگے کام آئے گی۔ ادھر ورون گاندھی کو اتارنے کے پیچھے بھاجپا کا خاص مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کا گاندھی انا ہزارے کی تحریک اور عوامی جذبے کے زیادہ قریب ہے۔ اس سے پہلے ورون گاندھی نے ٹیم انا کے عوامی لوکپال کو بطور پرائیویٹ ممبر بل لوک سبھا میں لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ رام لیلا میدان بھی گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ورون گاندھی نے سشما سوراج کے ساتھ پارٹی کے دوسرے مقرر کے طور پر بحث کی دفعہ کے برعکس بیان دے ڈالا۔ جہاں سبھی مقررین نے بار بار پارلیمنٹ کی سرداری اور پارلیمانی جمہوریت کی اپیل دوہرائی وہیں ورون گاندھی نے ٹیم انا کے نمائندوں کی زبان بولتے ہوئے کہا کہ بیشک قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اور ممبران پارلیمنٹ کا مخصوص اختیار ہے مگر عوام بالاتر ہے۔ اس سے پہلے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن کی لیڈرمحترمہ سشما سوراج نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی تقریر پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے جو کہا اس سے انا ہزارے کا انشن ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی اپیل کے لئے کئے کرائے پر پانی پھر گیا ہے۔ کانگریس کے دوسرے مقررین تھے نوجوان وزیر جوترادتیہ سندیہ۔
انہوں نے سول سوسائٹی کو اہمیت دینے کیلئے سونیا گاندھی کو سہرہ دیا ہے۔ اور ان کوششوں میں بھاجپا کے کردارپر بھی سوال اٹھایا۔ راشٹریہ لوک دل کی جانب سے متھرا کے ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری نے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے ٹیم انا کے تمام مطالبات کی حمایت کی ہے۔ اس سے کئی دیگر پارٹیوں کے نوجوان ممبران پارلیمنٹ میں بھی جوش پیدا ہوگیا۔ انہوں نے بھی اسپیکر صاحبہ سے موقعہ دینے کیلئے پرزور درخواست کی تھی۔ ان میں سپا کے نیرج شیکھر و دھرمیندر یادو اور بسپا کے دھننجے سنگھ قابل ذکر ہیں۔ پروین سنگھ سرن نے اناکا جن لوکپال بل پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ پریہ دت، سنجے نروپم، ملند دیوڑا، سچن پائلٹ وغیرہ نوجوان ممبران نے انا کی حمایت کی اور حکومت اور پارٹی پر دباؤ بنایا۔ کل ملاکر انا کی تحریک پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں نوجوان برگیڈ ہی چھائی رہی۔

ووٹ چھیننا آئین کے خلاف!

پچھلے تین چار مہینے سے پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعے ووٹ چوری کو لیکر تحریکیں چل رہی ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا آ...