Translater

08 جولائی 2025

پاکستان تو محض مہرا ،سرحد پر کئی دشمن تھے !

آپریشن سندور کے دوران بھارتیہ سینا کو کن کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا یہ معمہ ابھی بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہا ہے ۔آپریشن سندور کی پرتیں کھلنے لگی ہیں ۔بھارت کی فوجی حکمت عملی میں ایک میل کا پتھر بن کر آپریشن سندور ابھرا ہے ۔جو خفیہ جانکاری سے چلے جنگ اور اضافہ پر کنٹرول اور تکنیکی صلاحیت کے بارے میں بیش قیمت سبق دیتا ہے۔یہ بات ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل راہل آر سنگھ نے کہی ہے۔جمعہ کو امریکی ملیٹری ٹیکنالوجی پر فکی کے ایک پروگرام میں اپنے خیالات میں جنرل سنگھ نے اس آپریشن کو بھارت کی یونیفائیڈ فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحیح وقت پر لڑائی کو روکنے کے لئے تیار کیا گیا ۔ایک ماسٹر لی اسٹروک بتایا ۔پوز میوٹ باقی وقت 9.44 مکمل پیمانہ پر جنگ کے بغیر حکمت عملی فروغ جنگ شروع کرنا آسان ہے ۔لیکن اسے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے ۔فکی پروگرام سے خطاب میں بھارت اور پاکستان لڑائی کے دوران چین کے رول پر بھی بات کی ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے پانچ سال میں پاکستان کو ملنے والا 81 فیصد فوجی ہارڈ ویئر چین سے ہی آیا ۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی میں پاکستان کے ساتھ چین کا تو بڑا رول تھا ہی لیکن اس دوران ترکی پاکستان کو دی گئی فوجی مدد کا بھی تذکرہ کیا ۔انہوں نے کہا جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے کئی درون استعمال کئے گئے جو ترکیہ سے آئے تھے ۔وہ کہتے ہیں آپریشن سندور کے بارے میں جو سبق ہے جو ہمیں ضروری سمجھتا ہوں بتانا ۔سب سے پہلے ایک سرحد پر دو دشمن نہیں تھے ۔ہم نے صرف پاکستان کوتو سامنے دیکھا لیکن دشمن اصل میں دو تھے بلکہ اگر کہیں تو تین یا چار تھے ۔پاکستان تو صرف سامنے دکھائی دینے والا مہرہ تھا ۔۔۔ ہمیں چین سے (پاکستان) کو ہر طرح کی مدد ملتی نظر آئی ۔اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے چونکہ چین پچھلے پانچ برسوں سے پاکستان کی ہر سیکٹر میں مدد کرتا رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک بہت جو چین نے دیکھی وہ یہ کہ اپنے ہتھیاروں کو الگ الگ سسٹم کے خلاف آزما سکتا ہے جیسے ایک طرح سے لیب سے مل گئی ہو ۔اس کے علاوہ ترکیہ نے بھی بہت اہم رول نبھایا جو پاکستان کو ہر طرح سے مدد کررہا تھا ۔ہم نے دیکھا کہ کئی طرح کے درون بھی وہاں پہنچے اور اس کے ساتھ ان کے ٹرینر لوگ بھی تھے ۔جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ کمیونیکیشن نگرانی اور فوج اور شہری تال میل اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں جب ڈی جی ایم او لیول کی بات چیت ہو رہی تھی تب پاکستان کہہ رہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی ایک یونٹ پوری طرح تیار ہے ۔برائے کرم اسے پیچھے کر لیں یعنی چین انہیں لائیو ان پٹ دے رہا تھا اس معاملے میں ہمیں بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا ۔میں نے جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک طرف بڑا سبق ملا ہے کہ ہمارے پاس مضبوط اور سیف سپلائی چین ہونی چاہیے اسے فوج کے نظریہ سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ جو آلات ہمیں اس سال جنوری یا پچھلے سال اکتوبر نومبر تک ملنے چاہیے تھے وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے ۔میں نے ڈرون بنانے والی کمپنیوں کو بلایا تھا اور پوچھا تھا کہ کتنے لوگ طے میعاد پر ساز وسامان دے سکتے ہیں تو کئی لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے لیکن ایک ہفتہ بعد جب پھر سے بات ہوئی تھی تب بھی کوئی سامنے نہیں آیا ۔اس درمیان کانگریس نیتا جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل راوت آر سنگھ پبلک اسٹیج سے وہی بات صاف کر دی ہے جو لمبے وقت سے موضوع بحث تھی ۔انہوں نے اپنے ایکس پر لکھا اور بتایا کہ کس طرح چین نے پاکستان ایئر فور س کی غیرمعمولی طریقہ سے مدد کی تھی ۔یہ وہی چین ہے جس نے پانچ سال پہلے لداخ میں پوزیشن کو پوری طرح بدل دیا تھا ۔جنرل سنگھ نے دیش کو آگاہ کیا کہ اگلی لڑائی میں بھارت کو کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گاجس کے لئے ہمیں تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی ۔ (انل نریندر)

05 جولائی 2025

ایران کا موساد سے بدلہ!

اسرائیل کے ایران پر حملے کی شروعات کے بعد سامنے آئی رپورٹوں سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ جنگ کا مورچہ آسمان نہیں ،بلکہ زمین میں بھی پہلے سے ہی کھل چکا تھا۔کافی ثبوت سے ایران نے گہری خفیہ اور آپریشنل گھس پیٹھ کے ذریعے اسرائیل میں تیاری کررہا تھا ۔حالانکہ ایرانی حکام پہلے بھی یہ اندیشہ جتا چکے ہیں کہ اسرائیل ایرانی سیکورٹی فورسز میں دراندازی کر سکتا ہے ۔لیکن اس پورے واقعہ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا رول اہم ترین رہا ۔اسرائیل عام طور پر موساد کے کام کاج پر رائے زنی نہیں کرتا اور ایران میں کررہی کاروائیوں میں دوسری خفیہ ایجنسی بھی شامل ہوسکتی ہیں ۔پھر بھی ایسا ماناجاتا ہے کہ موساد نے ایرانی زمین پر حقاق کی پہچان اور کاروائیوں کو انجام دینے میں اہم رول نبھایا ۔کئی میڈیا رپورٹوں اور کچھ اسرائیلی حکام کی رائے زنیوں سے صاف ہوتاہے کہ ایران کے اندر اینٹی - سب مرین سسٹم میزائل گودام ،کمانڈ سنٹرس اور چنندہ ٹاپ ملیٹری اور سائٹس کو نشانہ بنا کر ایک ساتھ اور بے حد ٹھیک حملے کئے گئے۔یہ حملے ان خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے ممکن ہو پائے جو لمبے عرصے سے ایران کے اندر سرگرم تھیں ۔اسرائیلی حملوں میں نہ صرف ایران کے فوجی اور نیوکلیائی پلانٹس کو نشانہ بنایا بلکہ دیش کے اندر ان کی خفیہ صلاحیتوں کو بھی سنگین نقصان پہنچایا ۔ادھر ،اسرائیل کے ساتھ زبردست لڑائی کے بعد ایران نے گرفتاریوں اور موت کی سزا دینے کا موساد سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایجنوں نے ایرانی خفیہ سروسز میں بہت ہی پختہ ڈھنگ سے دراندازی کر لی ہے ۔ان حکام کو اس بات کا پتہ ہے کہ ایران کے ہائی پروفائل لیڈروں کا جس طرح سے قتل ہوا ہے اس میں اسرائیلی فوج کو دی خفیہ ایجنٹوں سے ملی جانکاریوں کا ہاتھ رہا ہوگا ۔اسرائیل نے حالانکہ لڑائی میں ایران کی اسلامی ریوولوشنری گارڈ کور کے کئی سینئر کمانڈروں اور نیوکلیائی سائنس دانوں کو مارڈالاتھا ۔ایرانی حکام نے اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں تین لوگوں کو پھانسی دے دی ہے ۔تہران نے جنگ بندی کے ایک دن بعد جہاں تین موساد جاسوسوں کو پھانسی دی وہیں فوج نے 700 سے زیادہ ایراقی تعلق رکھنے والے جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے ۔اس کے علاوہ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوںنے حالیہ ہفتوں میں تہران اور دیگر شہروں میں موساد کے ایجنٹوں کے ذڑیعے کنٹرول کئی زیر زمین ڈرون سروسز کو بھی تباہ کر دیا ہے ۔ان تین موساد ایجنٹوں کی ایرانی شہر ارمیا میں پھانسی دی گئی ۔ایرانی سپریم کورٹ نے ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے یہ لمبی قانونی کاروائی کے بعد ہوا تھا ۔تین لوگوں کی پہچان ادریس علی ،آزاد رضائی اور رسول احمد کی شکل میں ہوئی ہے ۔ان پر الزام تھا کہ تینوں لوگوں نے اسرائیل کی ایجنسی موساد کو مدد کرکے اہم ترین ایرانی ہستیوں کے لئے ایران کے اندر ہی بم اور تباہ کاری اور سامان کی اسمگلنگ کی تھی ۔زمین پر کرپشن فیضاد فل اینرجی اللہ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ چھیڑنے کا الزام لگایا تھا ۔ایرانی ٹی وی رپورٹس کے مطابق عدلیہ ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ان افراد نے پڑوسی دیش میں ایک اہم موساد ایجنٹ کے ذریعے سے پینے والی چیزوں کی اسمگلنگ اور اسی کو پلا کر کسی ایرانی شخص کو مار سکتے تھے ۔جیسا میں نے کہا کہ ایران میں موساد سے بدلا لینا شروع کر دیا ہے اور گھر کے اندر دشمنوں کی صفائی شروع کر دی ہے ۔ (انل نریندر)

03 جولائی 2025

ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ٹکراو

ایران اور متحدہ کی نےوکلےائی نگرانی اےجنسی کے درمیان ٹکراو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔درمیان کے وزیر خارجہ عباس ارگرامی نے بھروسے کی کمی اور بڑھے کشےدگی کی حوالہ دیتے ہوئے انٹر نیشنل اٹامک اینرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائرکٹر جنرل رفال گروسی کے امکانی دورے سے صاف انکار کر دیا ہے۔انہوں نے بھی صاف کر دیا کہ ایران ایک نیا قانون نافذ کرنے جا رہا ہے،جس میں خاص شرطیں پوری ہونےتک آئی اے ای اے سے اشتراک روکنے کی بات ہے۔ادھر ایران آئی اے ای اے کے چیف کے خلاف ناراضگی کو دیکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسکی مذمت کی ہے اور آئی اے ای اے کے کام کی کھل کر حمایت کی ہے آئی اے ای اے کےلئے ایران کا یہ سخت موقح اسکے نیوکلیئر ہوئے اسرائل اور امریکہ کے حملوں کا ردعمل مانا جا رہا ہے۔جس سے ایران کے آگے کے نیوکلیئر ہونے وابثتہ نگران اور زےادہ پچےدہ ہو سکتی ہے۔آئی اے ای اے چےف رفاعل گروسی نے 24جون کو اےران اور اسرائل کے درمےان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عباس اراگامی سے ملنے اور آئی اے ای اے ایران کی بات چےت کی تجوےز دی تھی ۔لےکن اےران کے وزےر خارجہ عباس اراگامی نے 26جون کو سرکاری ٹی بی چےنل اور آر آئی اےن اےن کو دےئے گئے نٹروےو میں کہا کے اس وقت ہمارا بلکل کوئی ارادہ نہیں ہے کہ ہم گروسی کو بلائیں۔ وہ ہمارے نےوکلےائی سسٹموں پر امرےکہ اور اسرائل کے حملوں سے ہوئے نقصان کا اندازہ کرنا چاہتے ہےں۔ انہو ں نے کہا گروسی نے اپنی رپورٹ مےں اےمانداری سے کام نہےں لےا جب ہمارے نےوکلےائی حملہ ہوا تب اےجنسی نے اس حملے کی مذمت تک نہےں کی ۔اراگامی نے یہ بھی بتایا کہ اےران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعون روکنے کےلئے نےا قانون پاس کےا ہے۔ اس معاملے پر اےک بل پارلےمنٹ مےں پاس ہوا ۔گارجن کونسل سے منظوری بھی مل گئی ہے اور اب یہ قانون بن چکا ہے جسے ہمےں قبول کرنا ہوگا۔امرےکہ نے اےران مےں آئی اے ای اے چیف کے خلاف اٹھ رہی آوازوں پر سخت روپ اپناےا ہے وزےر خارجہ مارکو روبےو نے کہا کہ ایران میں آئی اے ای اے کے ڈائرےکٹر جنرل رفال گروسی کی گرفتاری اورپھانسی کے مطالبات نا قابل قبول ہے اور انکی کی مذمت کی جانی چاہئے ہم اےران مےں اےجنسی کی اہم جانچ اور نگرانی کام کی حماےت کرتے ہےں۔بتا دےں بین الا قوامی اےٹمی اینرجی ایجنسی اقوام متحدہ کا اےک ادارہ ہے جسے دنےا مےں آئیٹم فار پےس اےنڈ ڈولپمنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ےہ نےوکلےائی سےکٹر مےں عالمی اشتراک کا اہم مرکز ہے جو اپنے ممبروں اور پوری دنےا مےں کئی ساجھےداروں کے ساتھ ملکر اےٹمی تکنےکوں کو محفوض ،بھروسے مند اور پورامند استعمال کو فروغ دےتا ہے ۔2018مےں امریکہ کی اس تنظےم سے باہر ہونے کے بعد اور نئی پابندیوں کے بعد ایران نے شرطوں کی تعمےل کم کر دی تھی ۔اس نے ےورےنےم پروسےسنگ کی معاد بڑھا دی امریکہ کے ایران کے نےوکلےائی پلانٹس پر بم باری کے بعد اب ےہ امکان ےقےنی ہے کہ اےران اپنے نےو کلےائی پرورگرام کو آگے بڑھائے گا اور جلد ہی ہمےں ےہ اطلاع مل سکتی ہے کہ ایران اب نیو کلےائی پاور بن گےا ہے اور جس دن یہ اعلان ہوا اسی دن سے پوری دنےا کی سےاست بدل سکتی ہے۔ انل نرےندر

01 جولائی 2025

بھارت میں ایف - 35 بی کا اترنا پراسرار !

کیرل کے ترواننت پورم ہوائی اڈے پر کچھ دن پہلے سنیچر کے روز رات ایک انتہائی جدید ترین برتانوی اسٹیلف فائٹر جیٹ ایف - 35 بی کی ایمرجنسی لینڈنگ نے نہ صرف ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا ،بلکہ سوشل میڈیا پرقیاس آرائیوں کا بازار بھی گرم کر دیا ۔یہ وہی ایف 35 بی ہے جسے امریکہ کی لاک ہیڈ مارٹن کمپنی نے بنایا ہے اور جو نیٹو ممالک کا حکمت عملی ہتھیار مانا جاتا ہے ۔یہ امریکہ کا سب سے جدید ترین 5ویں جنریشن کا اڈوانس جیٹ جنگی جہاز ہے ،جسے امریکہ بھارت کو بیچنے کی کوشش و دباﺅ ڈال رہا ہے ۔لینڈنگ کی وجہ :اندھن یا تکنیکی گڑبڑی یا پھر بھارت کی جاسوسی ؟شروعاتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کے جہاز کی اندھن ختم ہونے کے سبب اسے لینڈنگ کرنی پڑی۔لیکن بعد میں سامنے آیا کے ہائیڈرولک سسٹم میں سنگین خرابی آ گئی تھی ۔اور یہ تکنیکی گڑبڑی اتنی سنگین تھی کے جہاز نہیں اڑ سکا ہے ۔اور ابھی بھی ترواننت پورن ہوائی اڈے پر کھڑا ہے رائل نیوی کے جنگی بیڑے ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز سے راتوں رات ماہرین کو ہلیکاپٹر کے ذریعہ بھیجا گیا تاکہ مرمت کے بعد فورن اڑان بھر سکے ۔لینڈنگ کے بعد جہاز سے ایک پل کے لئے بھی دور نہیں ہونا چاہتا پائیلٹ جب تکنیکی ٹیم نہیں پہنچی وہ ائر رائڈ پر ہی جہاز کے پا س ایک کرسی پر بیٹھا رہا اس دوران ائر فورس کے انٹی گریٹیڈ ائر کمانڈ اینڈ کنڑرول سسٹم میں جہاز کو ٹریک کرکے اس کی پہچان کر لی ۔اس ایف - 35 بی کو لیکر سوشل میڈیا پر طرح طرح کی سازش کی کہانیاں چلتی رہی کچھ ڈیفنس ماہرین اور ویری فائڈ اکاﺅنڈس کا کہنا ہے کے یہ انڈین ائر فورس سیکیورٹی سسٹم کی پرخ بھی ہو سکتی ہے ۔جیسے یہ دیکھنا کے بھارت کے راڈار کس اسٹیلتھ جہاز کو پکڑ سکتے ہیں یا نہیں؟خاص کر جب تک بھارت میں حال ہی میں آپریشن سندور کے تحت چین اور پاکستان کے پاس آئے ڈرون اور میزائلوں کو روک کر اپنی ائر ڈفینس صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔کیا ایمرجنسی تھی یا ؟اسلی یا کوئی حکمت عملی پلان؟ اس سوال کا کوئی سرکاری جواب اب تک نہیں ملا ہے لیکن بھارت کی چاکسی نے ایک بات تو صاف کی کر دی ہے کی انڈین ائر فورس اور اے ٹی سی کی کارروائی تیز اور پختہ اور پیشہ ور تھی ۔برتانوی باہریا پہلے جیٹ کو ہینگر میں نہیں لے جا نا چاہتی تھی انہیں ڈر تھا کے جیٹ کی تکنیکی جانکاری دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں ۔دو ہفتہ انکار کے بعد برتانیا نے آخر کا ر پھنسے جہاز کو ترواننت پورم ائر پورٹ کے ہینگر میں لے جانے کی راضامندی دے دی ۔برتانوی نیوی کا ڈر ہے کے کہیں بھارت یا دوسرے دوست ملک (روس)جیٹ کی خاص تکنیک کو نہ دیکھ سکیں اور اسے انالئز کرکے کاپی نہ کرلیں ایف - 35 بی 5 ویں پیڑھی کا امریکی بنایا گیا اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ہے اور سب سے ڈولپ ہے ۔تاریخ کا سب سے مہنگا فائٹر جیٹ پروگرام ہے ۔ایف - 35 بی ملٹی رول والا جہاز ہے اس میں ہوائی اور زمینی جنگ میں مدد اور الیکٹرانک جنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔یہ الیکٹرنک جنگ خفیہ جانکاری لینے ہوا سے زمین اور ہوا سے ہوا میں ایک ساتھ مشن چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اس کے سینسیکس سے جمع ہوئی جانکاری اپنی کمان سینٹر کو محفوظ طریقہ سے بھیج سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

28 جون 2025

اسرائیل ایران جنگ کے کیا نکلے نتیجے !

اسرائیل اورایران کے درمیان 12 دنوں کی جنگ کے کیا نتیجے نکل سکتے ہیں ؟ ہم اس جنگ میں تین بڑے دیش شامل تھے ۔اسرائیل ،ایران اور امریکہ اور تین ہی بڑے کردار تھے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای ،بنجامن نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ ،اگر ہم کرداروں کی بات کریں تو سب سے پہلے سب سے بڑے ہیرو رہے آیت اللہ علی خامنہ ای نہ صرف انہوں نے اسرائیل کو ان کی تاریخ میں پہلی بار ایسی مار ماری کہ اسے اپنے وجود کو بچانے کیلئے ٹرمپ کے آگے بھیک مانگنی پڑی ۔بتادیں کہ اسرائیل نے 12 روزہ اس جنگ کو دو مقاصد سے شروع کیا تھا ۔پہلا ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو ختم کرایاجائے اوردوسرا مقصد تھا ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو ختم کرکے اپنے پٹھوو¿ں کو بٹھانا ۔اسرائیل دونوں مقاصد میں ناکام رہا ۔ایرا ن نے اسرائیل پر ایسا تابڑ توڑ جوابی حملہ کیا کہ اس کے وجود پر ہی خطرہ منڈراگیا اور اپنے وجود کو بچانے کے لئے ٹرمپ کی پناہ میں جانا پڑا ۔رہا سوال تبدیلی اقتدار کو تو وہ ایران سے کہیں زیادہ متحد ہوگیا اور مضبوط ہو گیا ۔اسرائیل کے مشرقی وسطیٰ میں بادشاہت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ۔اور جہاں تک نیوکلیائی پروگرام روکنے کا سوال ہے بیشک امریکہ نے ایران کے کچھ نیوکلیائی ٹھکانوں پر زبردست حملے کئے لیکن وہ ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو ختم نہیں کر سکے ۔زیادہ سے زیادہ کچھ مہینہ پیچھے دھکیل دیا ہے ۔امریکی پنٹاگون سے جو رپورٹ آرہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے ایران کا نیوکلیائی پروگرام پوری طرح تباہ نہیں ہو پایا ۔حالانکہ ٹرمپ اسے فیک نیوز کہتے ہیں ۔اب بات کرتے ہیں اسرائیل اور نیتن یاہو کی نیتن یاہو نے اسرائیل کو اتنا بھاری نقصان پہنچوایا ہے کہ جتنا اس کو 70/75 سالوں کی تاریخ میں کسی نے نہیں پہنچایا ۔اس نے اسرائیل کو مشرقی وسطیٰ میں نہ صرف دھونس کو ہی ختم کر دیا بلکہ دنیا کو یہ ثابت کردیا کہ وہ ایک کمزور دیش نہیں ہے ۔اس پر بھی حملے ہوسکتے ہیں ۔اسرائیل کی چودراہٹ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے ۔نیتن یاہو چلے تو خامنہ ای کو ہٹانے کے لئے لیکن ان کو خود کو نہ ہٹنا پڑ جائے ؟ اب بات کرتے ہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ باربار جھوٹے تو ثابت ہو چکے ہیں لیکن ان کی سیز فائروں کے اعلانات بھی مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔قابل غور ہے کہ لڑائی کے 12 ویں دن ٹرمپ کے سیز فائر کے اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں میں اسرائیل اور ایران میں پھر سے حملے کرنے شروع کردیے ہیں ۔یہ خوشی کی بات ہے کہ فی الحال جنگ بندی لاگو ہے ۔کتنے دنوں تک رہتی ہے یہ کہنا مشکل ہے ۔جہاں تک ٹرمپ کے سیز فائر کی بات ہے تو آپریشن سندور کو رکوانے کا سہرہ اب تک 17 بار لے چکے ہیں جبکہ یہ سچ نہیں ہے ۔ایسے ہی ٹرمپ نے روس ،یوکرین جنگ بندی کی پھرتی میں اعلان کیا تھا اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ اپنی سیز فائر اعلانات کو بھی نابل ایوارڈ کے لئے مضبوط دعویداری کی شکل میں پیش کرنا چاہتے ہیں حالانکہ سچائی یہ ہے کہ ناول ایوارڈ یہ فوری کارناموں کے لئے نہیں بلکہ قلیل مدت امن کی کوششوں کے لئے دیے جاتے ہیں کل ملا کر ایران اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو پلڑا سب سے بھاری رہا ۔میں نے لکھا تھا کہ ایران بڑی طاقت بن کر ابھرے گا اور یہ سچ ہوتاجارہا ہے ۔ (انل نریندر)

26 جون 2025

ایران کے پاس پلٹ وار کے متبادل!

اتوار صبح اسرائیل - ایران لڑائی میں امریکہ کے سیدھے کودنے سے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔اعلانیہ طور سے امریکہ نے ایران کے نیوکلیائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔اور اس کا اندیشہ لڑائی کی شروعات سے جتایا جارہا تھا ۔امریکہ نے اپنے سب سے دوسرے بڑے بم بلاسٹر بم جو کہ بی 2- بمبار سے پھینکا گیا تھا استعمال کرکے اب ایران کے لئے جوابی کاروائی اپنی پوری طاقت کے ساتھ کرنے کا راستہ کھول دیا ہے۔اسرائیل امریکہ دوبڑے اہم نشانہ کے ساتھ اس لڑائی میں اترے ۔ایران کا نیوکلیائی پروگرام کا پوری طرح سے خاتمہ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کا خاتمہ ۔ہمیں نہیں لگتا امریکی بمباری کے بعد بھی وہ اپنے ان نشانون میں کوئی بھی مقصد پورا ہونے کے قریب پہنچا ۔اب ایران کو امریکہ کو بھی منھ توڑ جوا ب دینے کا موقع مل گیا ہے ۔جب سے اسرائیل میں ایران کے فوجی اور نیوکلیائی اڈوں پر بم پھینکے ہیں اور جنگ کی شروعات کی ہے تب سے ایران کے سپریم لیڈر سے لے کر کئی حکام نے امریکہ کی اس جنگ سے دور رہنے کو کہا تھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے پاس جوابی کاروائی کرنے کے متبادل کیا ہیں ؟ ایران ہرموز آبی سمندر کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ایران خلیج فارس کو عمان کی خلیج سے جوڑنے والے دنیا کے سب سے اہم ترین آئل کوریڈور ہرمز کو تباہ کر سکتا ہے ۔بتادیں کہ عالمی سطح پر ہونے والے کل تیل تجارت کا تقریبا ً 20 فیصد اسی ہرموز کے ذریعے ہی ہوتا ہے ۔اس کا دنیا پر کیا نتیجہ ہوگا تصور کرنا بھی مشکل ہے ۔دوسرا امریکی ٹھکانوں اور ساتھیوں پر حملہ کرسکتا ہے ۔ایران امریکہ نے اس خطہ میں دوجنگی بیڑے تعینات کررکھے ہیں ان سے کوئیت ،بحرین ،قطر ،متحدہ عرب امارات میں ایشیائی اڈے شامل ہیں ۔ان ٹھکانوں پر اسرائیل جیسی ہی جدید ترین سیکورٹی اتنظام ہیں ۔لیکن میزائلوں کی بوچھار یا مسلح ڈرون کے جھنڈ سے پہلے الرٹ کے لئے بہت کم وقت ہوگا ۔ایران ان دیشوں میں بڑا تیل اور گیس پلانٹ پر بھی حملہ کر سکتاہے ۔ایسا کرکے ایران جنگ میں امریکہ کی ساجھیداری کے لئے ان دیشوں کو سبق سکھانا چاہے گا۔ اسرائیل اپنی پراکسی تنظیموں حزب اللہ ،حماس ،حوثی سے بھی امریکہ اور اسرائیل پر حملے کروا سکتا ہے ۔ایران نے امریکی حملوں کی بڑی مذمت کی ہے ۔اور اسے توہین آمیز بتایا ہے ۔ایران نے دور رس نتیجوں کی وارننگ بھی دی ہے ۔ایران کو بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دینے کا حق ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔اول تو ٹرمپ کے لڑائی میں کودنے کی امریکہ میںبھی مذمت ہو رہی ہے۔اپوزیشن پارٹی جنگ بھڑکانے والے اس ایک طرفہ قدم کی تلخ نکتہ چینی کررہے ہیں آنے والے دنوں میں اسرائیل میں نیتن یاہو کی اور امریکہ میں ٹرمپ کے اقتدار کو ہی چنوتی مل سکتی ہے ۔رہا سوال ایران کا اور آیت اللہ علی خامنہ کو ایران کے اقتدار سے ہٹانے کا ہے تو آج ایران متحد ہو گیا ہے ۔اور پوری طاقت سے آیت اللہ علی خامنہ ای کے پیچھے کھڑا ہے ۔ایک بعد ایک وبا اور جنگوں سے لڑرہی دنیا کو سب سے زیادہ مضبوطی اور امن کی ضرورت تھی لیکن ڈر ہے کہ امریکی حملے میںایسی کسی امید پر پانی پھیر دیا ہے ۔یہی نہیں پوری دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دروازہ پر لاکر کھڑاکردیا ہے ۔ (انل نریندر)

19 جون 2025

کیا ایران وسطی ایشیا کا نیا سپر پاور بنے گا؟

جمعہ کو اسرائیل نے ایران کیخلاف یہ کہتے ہوئے بڑے حملوں کو انجام دیا کہ ایران اس کے لئے اور دنیا کیلئے وجود کیلئے سنکٹ کھڑا ہو گیا ہے ۔اسی مقصد کو ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل نے تہران پر تابڑ توڑ حملہ کیا ۔اسرائیل اور اس کے حمایتی ملکوں نے سوچا تھا کہ اس حملے کے بعد جس میں اس نے ایران کی ٹاپ ملیٹری لیڈر شپ اور نیوکلیائی سائنسدانوں کو مار ڈالاتھا سوچا کہ ایران اب ڈر کر چپ بیٹھ جائے گا لیکن اتنی بربادی کے 24 گھنٹے کے اندر اندر ایران نے اسرائیل پر اتنا زبردست جوابی حملہ کیا کہ اسرائیل ،امریکہ تمام اس کے ساتھی تلملا گئے ہیں۔اسرائیل کے جمعہ کو کئے گئے حملے کے جواب میں سنیچروار کو ہی جوابی حملہ کر دیا ۔اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایران نے سنیچروار کی دیر رات قریب 24 گھنٹے میں 150 سے زیادہ اسرائیلی محاذوں کو نشانہ بنایا اور تب سے لے کر اس آرٹیکل کے لکھنے تک اسرائیل پر اپنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔ایرا ن نے اسرائیل کے کئی اہم ترین فوجی اڈوں کو سیدھا نشانہ بنایا ہے ۔ان میں فوج کا ہیڈکوارٹرسے لے کر وائز مین سنٹر جہاں سے اسرائیل ساری فوجی کاروائی طے کرتا ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ تک کو نہیں چھوڑا ۔اسرائیل دراصل ایرانی میزائل اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو گچا دے کر اپنے نشانہ پر پہنچ گئے ۔اس سے ساری دنیا چونک گئی ۔ایران نے ثابت کر دکھایا کے اس کی ٹیکنالوجی امریکہ روس اورچین کے تقریباً برابر پہنچ گئی ہے ۔اسی سے اسرائیل اور امریکہ میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے ۔یہی نہیں دیگر فوجی عرب ممالک میں بھی دہشت پیدا ہو گئی ہے۔ایران دراصل پچھلے 20-25 برس سے اس لمحہ کی تیاری کررہا تھا ۔اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کے پیچھے کئی مقصد تھے ۔دراصل وہ چاہتے ہیں کہ ایران میں آیت اللہ عہد کا تختہ پلٹ کر اپنی من پسند ہمدردر دسرکار کو سونپ دیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای اس مقصدمیں ایران کے اندر سے بھی اس کو مدد مل رہی ہے ۔موساد نے ایران کے اندر کئی سلیپر سیل تیار کر لئے ہیں جو آیت اللہ علی خامنہ ای سرکار کے خلاف اسرائیل کے لئے کام کرتے ہیں ۔پھر شاہ رضا پہلووی کے حمایتی ابھی بھی ایران میں موجود ہیں ۔جمعہ کو جب اسرائیل نے پہلی بار جب ایران پر حملہ کیا تھا تو ان میں ایران کے اندر سے ہی ڈرونوں سے حملہ کیا گیا ۔اس کا مطلب ہے کہ موساد نے ایران کے اندر ہی ڈرون فیکٹری تیار کر لی تھی ۔ایران کے ٹاپ ملیٹری لیڈر شپ کی پختہ جانکاری بھی ایران موساد ایجنٹوں نے اسرائیل کو دی ہوگی ۔اور تبھی موساد نے ٹھیک نشانوں پر حملہ کیا ۔اس درمیان اسرائیل سرکار نے ایرانی لوگوں سے خامنہ ای کو اقتدار کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے ۔اس کے لئے اسرائیل کی جانب سے فارسی زبان میں پیغام میں جاری کئے جارہے ہیں ۔اس درمیان یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کرنے کی اسرائیلی اسکیم پر روک لگا دی ہے ۔کل ملا کر جس طریقہ سے ایران اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے کررہا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مڈل ایسٹ میں ایک نیا پاور سنٹر ایران بننے جارہاہے ۔ (انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...