Translater

01 جنوری 2013

چلئے مل کر سنکلپ لیں کہ دامنی کی قربانی ضائع نہیں جائے گی

آج جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں گے تو نیا سال شروع ہوچکا ہوگا۔ اس نئے سال2013ء کی شروعات پر ہم سب مل کر ایک عہد کریں۔ دہلی آبروریزی کی وہ بدقسمت23 سالہ طالبہ نام اس کا چاہے ہم دامنی لیں، نربھایا لیں یا انامکا کہیں، اس کا بے رحمانہ قتل ضائع نہیں جائے گا اور اس کی قربانی سے ہم سب مل کر سماج کی ذہنیت اور سرکار، انتظامیہ، عدلیہ سبھی میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے تاکہ ایسی گھناؤنی حرکت کوئی درندہ پھر سے کرنے کی ہمت نہ کرے۔ چلئے میرے ساتھ سبھی یہ عہد کریں آج پورا دیش غمزدہ ہے۔ انڈیا گیٹ سے لیکر گیٹ وے آف انڈیا کے نامعلوم بہادروں نے اربن انڈیا پارٹی کا نظریہ ہی بدل دیا ہے۔ سبھی میں نئے سال کو لیکر اب تک کوئی خوشی ہے اور نہ کوئی جزبہ۔ دہلی میں جہاں پارٹی والوں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے وہیں ممبئی کے تین بڑے پانچ ستارہ ہوٹلوں نے اپنے نئے سال کی پارٹی منسوخ کردی ہے۔ سارے دیش میں ایک طرف غم کی لہر تو دوسری طرف ناراضگی اور درد ہے۔ سوشل سائٹوں سے لیکر گلی گلی اور محلہ درمحلہ شردھانجلی دی جارہی ہے لیکن کیا اس شردھانجلی سے سماج جاگے گا اور آگے ایسے واقعات رکیں گے؟ کیا آنسوؤں کے اس سیلاب سے سماج اس طرح کے درندوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا قدم اٹھائے گا۔ کم سے کم ماضی کے تجربوں سے تو اس پر یقین کرنا آسان نہیں ہے۔ سرکار یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ عوام کا غصہ اور واردات اور مظاہرے دوچار دن کا غصہ ہیں اور پھر حالات ویسے ہی ہوجائیں گے۔ یہ ہی ہمیں نہیں ہونے دینا ہے۔ بدفعلی کی شکار لڑکی کے جسم میں ایسے زخم تھے اس سے کہیں زیادہ گہرے زخم ہمارے سماجی اور قانونی نظام پر چھوڑ گئی ہے۔ جنہیں بھرنے میں پتا نہیں کتنا وقت لگے گا۔ دیش کی بٹیا نے تو دم توڑدیا لیکن دمدار قانون بنانے کے لئے وہ سب کو جگا گئی۔ تحریکوں کو تاریخ میں دیش میں یہ پہلا موقعہ تھا جب بغیر کسی لیڈر شپ یا گروپ یا اپیل کے لوگ سڑکوں پر اترا کرتے تھے۔ 17 دسمبر تھے ایک انجان لڑکی کے لئے شروع ہوئی تحریک کو انجام تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ 10دنوں تک دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں گم سم پڑی رہی لڑکی کو انصاف دلانے کے لئے لوگ پولیس کی لاٹھیاں، آنسو گیس کے گولے اور ٹھنڈمیں پانی کی بوچھاروں کے آگے بھی نہیں جھکتے دکھائی دئے۔ پہلی بار مظاہرین بغیر کسی جھجک کے راشٹرپتی کا دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی نہیں ہچکچائے۔ دیش کی فوجی طاقت کی جھانکی دکھانے والے انڈیا گیٹ پر شاید پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لڑکوں نے اپنی طاقت دکھائی۔ اس طرح جب کسی لڑکی کی موت ہوتی ہے تو صرف لڑکی نہیں مرتی۔ ہمارے آپ کے گھروں میں رہنے والی ہر لڑکی کے اندر کا ایک حصہ مرتا ہے کیونکہ کوئی بھی لڑکی یا عورت صرف ایک جسم نہیں ہوتا۔ وہ ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور ایک شہری بھی ہوتی ہے۔ اس طرح اب کوئی آبروریزی ہوتی ہے تو وہ صرف ایک شخص کی گھناؤنی حرکت نہیں ہوتی ہم سب مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ رشوت خور پولیس کانسٹیبل جو یہ نہیں جاننا چاہتا کہ کوئی بس کالے شیشے لگاکر غلط روٹ پر کیوں چل رہی ہے یا غلط جگہ پر کیوں کھڑی ہے۔ ایک بے ایمانی افسر جو اس بات کی جانچ نہیں کرتا کہ کوئی عدالت سے ضمانت لے کر نکلے جرائم پیشہ افراد بس اسٹاف کی شکل میں کیسے رکھے گئے ہیں۔ ایک لچر قانونی سسٹم جو دیکھنا ضروری نہیں سمجھتا کہ بغیر سرکاری ایجنسیوں کو مطلع کئے ،بغیر منظوری لئے کوئی ٹرانسپورٹر اپنا آفس کیسے بدل سکتا ہے۔ ایک سرکاری محکمے کی لیپا پوتی، ایک لیڈر کا بیان اور ایک دقیانوسی نظریئے والا مرد کا دماغ، ایک صدر جو پانچ جانوروں کو پھانسی کی سزا کم کردیتا ہے، یہ سب مل کر آبروریزی کے لئے زمین تیار کرتے ہیں کیونکہ عورتوں کے ساتھ ایسا صرف دہلی میں نہیں دیش کے کونے کونے میں ہورہا ہے۔ عوام کا غصہ جائز ہے اس کانڈ سے پیدا ناراضگی کی بنیادی آواز یہ ہی ہے کہ ہمیں محفوظ زندگی جینے کا حق ملے۔ ایسے کرپٹ سسٹم کو بدلا جائے جو جرائم کے لئے نرسری کا کام کررہا ہے۔ احتجاجی مظاہروں سے سرکار پر دباؤ بنایا جاسکتا ہے لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ ذمہ داری سماج کی ہے۔ سماج کو جگانے کا وقت آگیا ہے۔ خاموشی توڑنے کا وقت آگیا ہے۔ دیش غصے میں ہے لیکن ان کے ضمیر کو غصے سے خاموشی نہیں ملنے والی ہے۔ اسے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیش کا نوجوان عہد کرے کے ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ 16 دسمبر کی رات کو ہوئے اس حادثے کے بعد بھی آبروریزی اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات رکے نہیں ہیں۔ اس حادثے کے بعد سے پچھلے16 دنوں میں آبروریزی کے تقریباً دو درجن سے زیادہ واقعات دیش کے مختلف حصوں میں ہوئے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ حکمراں طبقہ ہی نہیں سماج بھی ابھی تک جاگا نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ سکتے میں آنے والی حقیقت یہ ہے کہ دیش کی راجدھانی میں جب مسلسل غصے میں لوگ ہیں وہیں وحشی درندے این سی آر میں مسلسل اس طرح کی حیوانی حرکتوں کو تابڑ توڑ طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ اب نیند سے جاگنے کا وقت آگیا ہے۔ اپنے فرض کو لیکر کنبے تک ہر سطح پر شروعات میں ہی ان واقعات کی مخالفت سے ہی یہ سلسلہ رک سکے گا۔ دیش کا جو جذبہ پچھلے14 دنوں میں دکھائی پڑا اسے جگائے رکھنا ہی اس لڑکی کو سچی شردھانجلی ہوگی۔ وہیں دیش کی دیگر بہو بیٹیوں کی سلامتی کی گارنٹی۔ دامنی ایک بہادر لڑکی تھی جس کا جذبہ دیکھ صفدرجنگ ہسپتال کے ڈاکٹر تک حیران تھے۔ وہ جینا چاہتی تھی، وہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں ، ماں باپ کا اکیلا سہارا تھی۔ اترپردیش کے بلیا کے اس کے آبائی گاؤں میڑوڑا کلا میں ماتم چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے گھروں میں چولہے نہیں جلے۔ اترپردیش ۔بہار کی سرحد سے لگے گاؤں میں آبروریزی کی متاثرہ لڑکی کے ایک رشتے دار نے بتایا متاثرہ دور کی زندگی گزار رہے اپنے خاندان کے لئے ایک امید کی کرن تھی۔ بیحد غریب خاندان میں پیدا ان کی بھتیجے بہت ذہین اور جدوجہد والی تھی۔ اس کی اہلیت اور لگن کو دیکھتے ہوئے اس کے والد نے اسے اعلی تعلیم دلانے کے لئے اپنا پشتینی کھیت بیچ دیا تھا۔ اس کے باپ کو یقین تھا ایک دن ان کی بیٹی خاندان کو نہ صرف غریبی سے نجات دلائے گی بلکہ اسے ترقی کی راہ پر بھی لے جائے گی۔ لیکن وقت کے ظالم ہاتھوں نے سبھی امیدوں کو چکنا چور کردیا ہے۔ میری پوتی بیحد بہادر تھی اور اس نے آخرتک ہار نہیں مانیں۔ بٹیا کی پڑھائی پوری ہوگئی تھی اور اسے 35 ہزار روپے تنخواہ بھی ملنے لگی تھی لیکن بٹیا ہم سے دور جاچکی ہے۔ بس ہم یہ ہی چاہتے ہیں کہ سرکار کچھ ایساکرے کے ہماری پوتی جیسا واقعہ کسی اور لڑکی کے ساتھ نہ ہو یہ کہنا ہے لڑکی کے دادا کا۔ چلئے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم دامنی کانڈ کو اس بات تب تک لوگوں کو بھولنے نہیں دیں گے جب تک حکومت ، سماج ایسے کانڈدوبارہ روکنے کے لئے ٹھوس قدم نہیں اٹھاتا۔ سب کو جگا کر خود سو گئی بٹیا۔ سبھی پاٹھکوں کو نئے سال کی شبھ کامنائیں۔
(انل نریندر)


30 دسمبر 2012

13 دن۔رات جدوجہد کے بعد بدقسمت طالبہ نے دم توڑا

دہلی گینگ ریپ کی بدقسمت طالبہ نے 13 دن کی زندگی اور موت کی لڑائی لڑنے کے بعد سنیچر کی صبح آخر کار اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ سنگاپور کے مشہور ایلزبتھ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود اس بیچاری کو بچایا نہیں جاسکا۔ جمعہ سے ہی اس کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی تھی۔ سنیچر کی رات کو اس کے ضروری اعضاء فیل ہونے کے اشارے ملنے لگے تھے۔ ماؤنٹ ایلزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو چیئرمین کیلوین لوہ نے ایک بیان میں کہا کہ رات کو 9 بجے ،ہندوستانی وقت کے مطابق شام6.30 بجے مریضہ کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور اس کے اہم ترین اعضا معمول کے مطابق نازک دور میں تھے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس بیچاری کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ تکنیکی نقطہ نظر سے تو اس بیچاری کی موت تو صفدرجنگ ہسپتال میں ہی ہوگئی تھی۔ یہ سارا ڈرامہ تو حکومت نے غصے کو کنٹرول کرنے کی غرض سے رچا تھا۔ اب جب اس طالبہ کی موت ہوگئی ہے تویکا یک سنگاپور بھیجنے کے سرکار کے فیصلے پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ خود ڈاکٹروں نے سرکار کے اس فیصلے پر انگلی اٹھانی شروع کردی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق صفدرجنگ ہسپتال میں بھرتی23 سالہ متاثرہ لڑکی کو علاج کے لئے سنگاپور بھیجنے کے پیچھے طبی وجوہات کم سیاسی وجوہات زیادہ نظر آرہی تھیں۔ اخبار کے مطابق جب اجتماعی آبروریزی کی شکار متاثرہ کو سنگاپور منتقل کرنے کا فیصلہ لیا تو علاج کررہے ڈاکٹروں سے بس اتنا پوچھا گیا کیا متاثرہ لڑکی سنگاپور لے جانے کی حالت میں ہے؟ حکومت نے علاج کررہے ڈاکٹروں کی اسپیشل ٹیم سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ سنگاپور شفٹ کیا جائے یا نہیں؟ یا پھر سنگاپور میں علاج ہوگا جو بھارت میں نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹروں کی ماہرین کی ٹیم میں ایمس ، جی بی پنت ہاسپٹل اور صفدرجنگ ہسپتال کے ڈاکٹر شامل تھے۔ڈاکٹروں نے الزام لگایا کہ سرکار فیصلہ لے چکی تھی۔ متاثرہ کو سنگاپور بھیجا جائے؟ ڈاکٹروں کا دعوی ہے کہ ہم پچھلے 11 دنوں سے مریض کو بہتر طبی مدد دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ کو سنگاپور بھیجنے کا فیصلہ ڈاکٹروں کا نہیں تھا بلکہ سرکار کی طرف سے لیا گیا فیصلہ تھا۔ دہلی کے سرگنگارام ہسپتال نے تو آنت کے ٹرانسپلانٹ کی بھی پیشکش کی تھی۔
بھارت کے ڈاکٹردنیا بھر میں مشہور ہیں اور ہزاروں غیر ملکی بھارت آکر اپنا علاج کراتے ہیں۔ سنگاپور منتقل کرنے کا فیصلہ سیاسی تھا۔ سرکار احتجاجوں سے بری طرح ڈر گئی تھی۔ اگر متاثرہ نے صفدر جنگ ہسپتال میں دم توڑا تو جنتا کے غصے کو قابو کرنا مشکل ہوجائے گا اور اس کا ردعمل اب بھی ہوگا۔ ہاں ایک فرق ضرور آگیا ہے کہ اب جب طالبہ کی موت ہوچکی ہے اس نکمی اور غیر ذمہ دار حکومت کو ملزمان کو پھانسی پر نہ لٹکانے کا کوئی بہانہ نہیں بچا۔ ہم متاثرہ لڑکی کے کنبے کو بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ آج آپ کے دکھ میں سارا دیش شریک ہے اور ہم بھی پرارتھنا کرتے ہیں کہ متاثرہ لڑکی کی آتما کو شانتی ملے۔
(انل نریندر)

خواتین کے تئیں غیر سنجیدہ ہوتا سیاسی طبقہ

خواتین کے خلاف بھدے تبصرے کرنا سیاستدانوں کی عادت بن گئی ہے۔ آئے دن یہ نیتا کچھ نہ کچھ بکواس کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس طویل سیریز میں تازہ نام صدر پرنب مکھرجی کے بیٹے و کانگریس ایم پی ابھیجیت مکھرجی کا جڑ گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھدا تبصرہ ایسے وقت کیا جب پورا دیش دہلی میں ایک متاثرہ لڑکی کے واقعے کے خلاف ناراضگی سے بھرا ہوا ہے۔ سنئے ابھیجیت صاحب کیا فرماتے ہیں ’’دہلی میں گینگ ریپ کے خلاف مظاہرہ کررہیں عورتیں میک اپ سے رنگی پتی ہوتی ہیں، وہ پہلے کینڈل مارچ نکالتی ہیں اور رات میں ڈسکو میں پہنچ جاتی ہیں، وہ کہیں سے بھی لڑکیاں نظر نہیں آتیں۔‘‘ حالانکہ ابھیجیت کی بہن شرمشٹھا نے ان کے بیان کے لئے معافی مانگ لی ہے اور خود ابھیجیت نے بھی اپنی رائے زنی پر افسوس ظاہر کیا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور پورے دیش میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ خواتین کی انجمنوں نے ان کے اس تبصرے پر سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ابھیجیت نے ایک ٹی وی چینل پر کہا تھا کہ دہلی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مصر یا دوسری جگہوں پر ہوئے واقعات کی طرح ہے جسے ارب بسنت کہا گیا ہے لیکن بھارت کے بنیادی حالات کچھ اور ہیں ۔ کینڈل مارچ اور ڈسکو میں جانا ایک ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ہم نے بھی طالبعلمی کی زندگی میں ایسا کیا ہے۔ لیکن فی الحال تو ڈینٹڈ پینٹڈ عورتیں ٹی وی انٹرویو دیتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی دکھانے کے لئے ساتھ لاتی ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ یہ طالبہ ہوں گی کیونکہ اس عمر کی عورتیں سڑکوں پر نہیں آتیں۔ اس پر مارکسوادی لیڈر برندا کرات نے فوراً کہا کہ ایسے بیان دینے والے ممبران اور ممبر اسمبلی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس سے ان کے دماغ اور گندی ذہنیت کا پتا چلتا ہے۔ بھاجپا کے شاہنواز حسین اور اسمرتی ایرانی نے کہا کہ بیان دینے سے پہلے کیوں نہیں سوچا سمجھا جاتا؟ اس طرح کے بیان دینے کی کوئی ہمت کیسے کرسکتا ہے۔ صدر کی بیٹی ابھیجیت کی بہن شرمشٹھامکھر جی نے کہا کہ میں بہت حیران ہوں کہ ایک بہن ہونے کے ناطے ساری عورتوں سے شرمندہ محسوس کررہی ہوگی اتنا طے ہے کہ وہ اس سے قطعی متفق نہیں ہوسکتے۔ ہمارا خاندان ایسا نہیں ہے۔ وہ سیاسی طبقے میں عورتوں کے تئیں غیر سنجیدہ بیانوں کاسلسلہ بھی نیا نہیں ہے۔ 
نریندر مودی ، سری پرکاش جیسوال، سنجے نروپم، ملائم سنگھ یادو وغیرہ جیسے لوگوں کی ایسے بیان دینے والوں کی فہرست لمبی ہے۔ مودی نے تو انسانی وسائل وزیر مملکت ششی تھرور کی بیوی سنندہ کو50 کروڑ روپے کی گرل فرینڈ کہہ ڈالا تھا۔ حال ہی میں کانگریس ایم پی سنجے نروپم نے ایک ٹی وی مباحثے میں بھاجپا نیتا اسمرتی ایرانی کو کہہ دیا تھا کل تک ٹی وی پر ٹھمکے لگا تھی تھی آج چناؤ مبصر بن گئی ہے۔ مہلا ریزرویشن بل کی مخالفت کرتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے ایک ریلی میں کہہ ڈالا تھا کہ بڑے بڑے گھروں کی لڑکیاں اور عورتیں صرف اوپر جاسکتی ہیں۔ یاد رکھنا آپ کو موقعہ نہیں ملے گا۔ ہمارے گاؤں کی عورتوں کی کشش اتنی نہیں ہے۔ کوئلہ وزیر سری پرکاش جیسوال نے کانپور کی ایک ریلی میں کہا تھا پرانی جیت پرانی بیوی کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے۔ تو کیا سیاسی طبقہ عورتوں کے تئیں مسلسل غیر سنجیدہ ہوتا جارہا ہے یا پھر وہ اپنا اصلی رنگ دکھا رہا ہے۔
(انل نریندر)

29 دسمبر 2012

ملازمین کی معطلی کو لیکر دوردرشن اور پی ایم او میں ٹھنی

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرکار اور ان کا پی ایم او کی ان دنوں بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے واقعے پر دوردرشن کے پانچ ملازمین کے خلاف کارروائی کے احکامات دے دئے گئے ہیں۔ معاملہ کچھ ایسا ہے وزیر اعظم نے گذشتہ پیر کو ٹیلی ویژن پر دیش کی عوام کو خطاب کرنا تھا۔ اس کیلئے پی ایم او ہاؤس پر صبح9.30 بجے ریکارڈنگ کی جانی تھی۔ الزام ہے کہ دوردشن کے کیمرہ مین 9.40 پر جبکہ انجینئرنگ محکمے کے سبھی ملازمین 10 بجے کے بعد پردھان منتری ہاؤس پہنچے۔ اس وجہ سے پی ایم ہاؤس میں پہلے سے موجودہ ٹی وی خبررساں ایجنسی اے این آئی نے پی ایم کی تقریر کی ریکارڈنگ کی بعد میں اسے ایڈٹ کئے بغیر کی نشر کردیا گیا اور پی ایم کے پیغام کے آخر میں’سب ٹھیک ہے‘ کہتے سنا گیا۔ دوردرشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کے خلاف معطلی کی کارروائی کا پی ایم کی تقریر کابنا ایڈٹ ہی نشر ہوجانے کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہیں وزیر اعظم ہاؤس دیر سے پہنچنے کے سبب معطل کیا گیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ 7 ریس کورس روڈ جانے والے راستوں پر ٹریفک پابندی کے چلتے دوردرشن کی ریکارڈنگ ٹیم وقت پر نہیں پہنچ سکی۔ انہیں پی ایم او نے کچھ ہی وقت پہلے ریکارڈنگ کے لئے آنے کے لئے کہا تھا۔ دوردرشن کے پانچ ملازمین کے خلاف کی گئی کارروائی کو لیکر پی ایم او اور دوردرشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دوردرشن کے افسروں کا صاف کہنا ہے جس غلطی کے لئے 5 ملازم معطل کئے گئے ہیں ان کے لئے پی ایم او کے افسر ذمہ دار ہیں۔ دوردرشن کے ان افسروں کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کی ریکارڈنگ کے لئے مقرر پروٹوکال کی تعمیل ہوتی تو اس طرح کی گڑ بڑی نہیں ہوتی۔ اس کے لئے وہ خاص طور پر وزیر اعظم کے رابطہ مشیر یعنی کمیونی کیشن ایڈوائزر کے رویئے سے ناراض ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ پی ایم او کے ایک افسر کی جلد بازی سے سب کچھ گڑ بڑ ہوگئی۔ مگر دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پی ایم او میں بھی اس طرح کی ریکارڈنگ کے لئے ذمہ دار افسروں کو اس مرتبہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ روایت ہے صدر و وزیر اعظم کی تقریر دوردرشن ہی ریکارڈکرتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اس بار پیغام کی ریکارڈنگ ایک پرائیویٹ ایجنسی سے کیوں کروائی گئی؟ ساتھ ہی یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ اگر پیغام کو ٹھیک سے سن کر و ایڈٹ کرکے دکھایا جاتا تو اس طرح کی گڑ بڑی کی گنجائش نہیں رہتی۔ دوسری جانب پی ایم او کے افسر اس کے لئے دوردرشن ملازمین کی لیٹ لطفی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ غفلت کہاں ہوئی یہ تو پتہ نہیں اس کا خمیازہ ضرور ان پانچ دوردرشن ملازمین کوبھگتنا پڑ رہا ہے۔ ویسے اس واقعہ سے پی ایم او کی بوکھلاہٹ بھی سامنے آتی ہے۔ دراصل آبروریزی کے معاملے میں یہ سرکار اتنی کنفیوز چل رہی ہے کہ ہمیں تعجب نہیں ہوا کہ یہ بوکھلاہٹ ان پانچ دوردرشن ملازمین پر کیوں دکھائی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

’فاسٹ ٹریک‘ عدالت یعنی جلد انصاف کی زمینی حقیقت

پچھلے دنوں چلتی بس میں آبروریزی کے واقعہ کے بعدحکومت نے آبروریزی کے معاملوں کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کا جہاں ہم خیر مقدم کرتے ہیں وہیں یہ بھی ضرور بتانا چاہیں گے کہ اس کو عمل میں لانا اتنا آسان نہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کی سبھی 6 عدالتوں (ضلع کورٹ) میں ان گینگ ریپ معاملوں کی تفصیل بھی تیار کرلی ہے جس سے ان معاملوں کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں یومیہ بنیاد پر شروع کرائی جاسکے۔اس کی خاص وجہ متاثرین کو جلدی انصاف دلانا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ سے مراد ایسی کورٹ سے ہے جس میں ایک خاص طرح کے مقدمات کی سماعت ہوگی۔ اس وقت منشیات اسمگلنگ سے جڑے کیسوں کے نپٹارے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی گئی ہے لیکن اب بدقسمتی یہ ہے کہ اب ان سبھی فاسٹ ٹریک عدالتوں میں ان کے علاوہ دوسرے معاملات کی بھی سماعت ہوتی ہے اس سے یہ محض نام کی ہی فاسٹ ٹریک کورٹ رہ گئی ہے۔ ان عدالتوں میں اسپیشل معاملوں کے فیصلے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ آبروریزی کے معاملے کے بعد دیش بھر میں پیدا ناراضگی سے حکومت فاسٹ ٹریک کورٹ بنا کر بدفعلی کے معاملوں کو جلدی سے جلدی نپٹارہ کرنے کی بات کہہ رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کے محض پانچ فاسٹ ٹریک عدالتیں بنا دینے سے بدفعلی کے معاملوں کا نپٹارہ ممکن نہیں ہوگا۔دہلی کی عدالتوں میں ایسے دس ہزار سے بھی زیادہ معاملے زیر التوا ہیں۔ وہیں قائم کی جارہی پانچ فاسٹ ٹریک کورٹ کے پاس کم سے کم دو دو ہزار معاملوں کو نپٹانے کی چنوتی ہوگی جو آسان نہیں ہے۔ اس لئے عدلیہ کی کارروائی سے وابستہ لوگ دہلی میں کم سے کم 20 فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کی بات کررہے ہیں۔ بدفعلی معاملوں کو جلدی نپٹانے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تعداد بڑھانی ہوگی۔ ان عدالتوں کو دہلی کی عدالتوں میں التوا میں پڑے 10 ہزار سے زائد ایسے معاملوں کا نپٹارہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ جائے گا۔ ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل سیشن جج پریم کمار کا کہنا ہے کہ بدفعلی کے ہر معاملے کی روز بروز سماعت ممکن نہیں ہے۔ اگر ملزم ایک سے زیادہ ہیں تو ان کے وکیل بھی زیادہ ہوں گے اور جنتا کی ناراضگی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سرکار بھی فاسٹ ٹریک عدالت یا خصوصی عدالت بنانے کی تسلی دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر بیٹھی ہے لیکن اگر حکومت ججوں کے منظور عہدوں کو بھرنے کے ٹھوس قدم اٹھائے تو وہ جلد اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرسکتی ہے۔ ججوں کی خالی جگہوں اور لمبے پڑے مقدموں کی تعداد دیش کے عدلیہ نظام کی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ نچلی عدالتوں میں ستمبر 2011 تک 2 کروڑ73 لاکھ مقدمے التوا میں تھے۔ ان میں سے 1 کروڑ95 لاکھ کرائم کے کیس تھے۔ دیش بھر میں ضلع عدالتوں میں ججوں کی18 ہزار 123 عہدے منظور ہیں لیکن اس وقت 14 ہزار 287 جج کام کررہے ہیں۔ یعنی 3836 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ضلع عدالتوں میں دو سطح پر جج مقرر کئے جاتے ہیں جوڈیشیل سروس، ہائر جوڈیشیل سروس ۔ جوڈیشیل سروس میں مجسٹریٹ اور سول جج کی بھرتی مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ ایڈیشنل سیشن و ضلع جج ہائر جوڈیشیری کے ممبر ہوتے ہیں۔ ججوں کی بھاری کمی کے سبب عدالتیں مقدموں کے بوجھ سے بھری پڑی ہیں۔ اگر آبروریزی کے معاملوں میں ہمیں ٹھوس فاسٹ ٹریک انصاف دینا ہے تو پہلے موجودہ کمیوں کو پورا کرنا ہوگا تبھی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ صرف اعلان سے کام نہیں ہونے والا۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2012

نریندر مودی کی چوتھی پاری شروع

گجرات میں تیسری بار جیت کا پرچم لہرا کر بدھ کے روز نریندر مودی کھچا کھچ بھرے احمد آباد کے سردار پٹیل اسٹیڈیم میں پھر سے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لینے پہنچے تو پوری بھاجپا ہی نہیں بلکہ پورا این ڈی اے بھی ان کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ حلف لینے سے پہلے نرمی سے انہوں نے مختلف مذاہب کے پیشواؤں ،مولوی، مہاتما و عیسائی پادریوں سے آشیرواد لیا اور اپنی ماں ہیرا بین کے پاؤں چھوئے۔ حلفب برداری تقریب میں یوں تو لیڈروں کا آنا ایک خانہ پوری ہوتی ہے لیکن مودی کے اس گرانڈ شو کے سیاسی مطلب نکالے جاسکتے ہیں۔ ایک دو لیڈروں کو چھوڑدیا جائے تو بھاجپا کے سبھی سرکردہ لیڈروں کے ساتھ دوسری لائن کے لیڈر وہاں موجود تھے۔ وہیں این ڈی اے میں جنتا دل (یو ) کو چھوڑ کر دوسرے ساتھی ہی نہیں بلکہ پرانے اتحادی بھی ایک ساتھ نظر آئے۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا ،انڈین نیشنل لوک دل کے صدر اوم پرکاش چوٹالہ کی موجودگی کو بھی خاص دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے۔ قابل غور ہے کہ ہریانہ میں بھاجپا نے مفاد عامہ کی خاطر کانگریس کا ہاتھ تھاما ہے۔ پھر بھی چوٹالہ مودی کا جوش بڑھانے پہنچے تھے۔ اتنا ہی نہیں ساتھی پارٹی شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے آئے تو تقریب میں ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے بھی موجود تھے۔ بھاجپا کے سارے وزرائے اعلی موجود تھے۔ 
بھاجپا سے لال کرشن اڈوانی، پارٹی صدر نتن گڈکری، سشما سوراج، ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ سمیت شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی وغیرہ وغیرہ سبھی موجود تھے۔ سیاسی پارٹیوں کا یہ مجموعہ اس لئے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پچھلے دنوں مودی کے وزیر اعظم امیدواری کی دعویداری کی بات اٹھتی رہی ہے۔ عام طور پر مودی کی ساکھ کٹر ہندوتو نیتا کی رہی ہے۔ ایسے میں کسی مسلم دانشور سے مودی کی تعریف ہو، کوئی نئی بات ضرور ہے۔ دارالعلوم دیو بند کی مجلس شورہ کے ممبر اور سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی نے کہا کہ گجرات میں مسلم حمایت کے سبب بھاجپا کو 20 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ گجرات کے سورت میں پیدا اور دینی جدید تعلیمی ادارے چلانے والے 61 سالہ دیو بندی عالم غلام محمد وستانوی نے کہا کہ نریندر مودی کی جیت سے گجرات کے مسلمانوں میں کوئی عدم سلامتی کا احساس نہیں ہے۔ گجرات کے مسلمان پچھلے10 سالوں سے سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اپنے کاروبار چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایک دہائی کے دوران گجرات فساد سے پاک رہا۔ اس دوران مسلمانوں کی حق تلفی نہیں ہوئی، اس کا سہرہ وزیر اعلی نریندر مودی کو جاتا ہے۔ مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں پروجیکٹ کئے جانے کے سوال کوانہوں نے یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ ابھی اس کا جواب دینے کا وقت نہیں آیا۔ بھاجپامیں اس عہدے کے لئے بڑے نیتاؤں کی طویل فہرست ہے۔ ہم مسٹر مودی کو گجرات کا تیسری بار وزیر اعلی بننے پر مبارکباددیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس جیت سے مغرور نہیں ہوں گے اور عوام کی سبھی طرح کی سیوا کرتے رہیں گے اور ترقی کا راستہ آگے بڑھاتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

سپاہی سبھاش تومر کی موت لوگوں کی پٹائی سے یا ہارٹ اٹیک سے ؟

پچھلے دو دنوں سے ایک نیا تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ دہلی پولیس کے بدقسمت کانسٹیبل سبھاش چندر تومر کی موت کیسے ہوئی؟ قابل ذکر ہے کہ ایتوار کو اجتماعی بدفعلی کے معاملے کے خلاف جاری مظاہرے کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں زخمی ہوئے سبھاش تومر نے منگلوار کی صبح ہسپتال میں دم توڑدیا۔ پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد اس کا پورے سنمان کے ساتھ انتم سنسکار کیا گیا۔ کانسٹیبل سبھاش چندر تومر کی موت بھیڑ کی پٹائی سے ہوئی یا دھوئیں یا لاٹھی چارج سے یا بھگدڑ سے لگے صدمے سے؟ دہلی پولیس کمشنر نیرج کمار فرماتے ہیں کہ چھاتی اور گردن میں چوٹ کے نشان پائے گئے۔ وہ ایتوار کو انڈیا گیٹ پر بھیڑ کار شکارہوئے۔ دوسری طرف رام منوہر لوہیا ہسپتال جہاں سپاہی کی موت ہوئی وہاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ٹی ۔ ایس سدھو کہتے ہیں کہ صدمے سے سپاہی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ جسم پر کوئی سنگین چوٹ کے نشان نہیں تھے۔
اس درمیان 47 سالہ سپاہی تومر کی پوسٹ مارٹم کے بعد آئی رپورٹ میں ان کی موت کی ایک وجہ نہیں بتائی گئی۔ رام منوہر لوہیا ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے جب تومر کو لایا گیا تھا اس وقت وہ مرنے حال تھا اور ہمارے ڈاکٹر اسے ہوش میں لائے۔ کیونکہ اس کی حالت بہت خراب تھی اس لئے ہم نے اسے آئی سی یو میں شفٹ کردیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت کسی چیز کے سینے اور گردن پر لگنے سے آئی چوٹوں کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ڈاکٹر سدھو کے اس بیان کے برعکس ہے کچھ معمولی چوٹوں کے علاوہ تومر کو ئی بڑی چوٹ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی گہرے زخم تھے۔
ادھر تومر کے لڑکے ادتیہ کا کہنا ہے میرے والد کی موت انڈیا گیٹ پر مظاہروں کے دوران مچی بھگدڑ کے سبب ہوئی۔ مظاہرین نے انہیں دھکا دیا۔ انہیں کچل دیا۔ انہیں اندرونی چوٹیں آئیں، انہیں دل سے متعلق کوئی بیماری نہیں تھی۔ اس پورے واقعے میں ایک نیا موڑ تب آیا جب واردات کے دو چشم دید گواہوں نے دعوی کیا کہ تومر کو چوٹ نہیں تھی۔ جرنلزم کے طالبعلم و چشم دید گواہ جوگیندر نے دعوی کیا ’’میں اپنی ایک مہلا دوست کے ساتھ انڈیا گیٹ پر تھا جو زخمی ہوگئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ مظاہرین کے پیچھے ایک پولیس والا بھاگ رہا ہے اور وہ اچانک گر گیا، اس کے بعد قریب میں پڑی پی سی آر وین اسے ہسپتال لے گئی۔ میں بھی اسی گاڑی میں گیا تھا، میں نے اسے ہسپتال میں دیکھا اور اس کے جسم پر چوٹ کا کوئی نشان نہیں تھا، وہ بھیڑ کے ذریعے کچلا نہیں گیا اور نہ ہی اسے کوئی چوٹ آئی تھی۔‘ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کونسی بات اور واردات کو سچ مانا جائے؟ حالانکہ اس سے جانے والے کو فرق نہیں پڑے گا وجہ کوئی بھی رہی ہو وہ اپنی ڈیوٹی پر شہید ہوا ہے۔
(انل نریندر)

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ...