Translater

15 اپریل 2017

راجوری گارڈن ضمنی چناؤ کے نتیجہ کا مطلب کیا ہے

دہلی کی راجوری گارڈن اسمبلی سیٹ کیلئے ہوئے ضمنی چناؤ کا نتیجہ بی جے پی کے حق میں آنا تو اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم عام آدمی پارٹی کا اس بری طرح ہارنازیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ پچھلے چناؤ میں ساڑھے دس ہزار سے زیادہ ووٹ کے فرق سے یہ سیٹ جیتنے والی عام آدمی پارٹی کا امیدوار اس بات اپنی ضمانت تک نہیں بچا سکا۔ انہیں صرف 10243 ووٹ ملے۔ اس جیت سے اسمبلی میں ا ب بھاجپا ممبران کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ عاپ امیدوار ہرجیت سنگھ تیسرے نمبر پر رہے۔ کل جائز ووٹ کے چھٹے حصے سے کم ووٹ ملنے کے سبب ان کی ضمانت ضبط ہوگئی ہے۔ انہیں کل 13.11 فیصد ووٹ ملے۔ 2015 کے چناؤ میں یہیں سے کانگریس امیدوار کی ضمانت ضبط ہوئی تھی۔ بھاجپا ۔ اکالی دل کے امیدوار منجندر سنگھ سرسہ 10 ہزار ووٹ سے ہارے تھے۔ پنجاب میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں یہاں کے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی جرنیل سنگھ نے استعفیٰ دیا تھا جس وجہ سے یہاں ضمنی چناؤ ہوا۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس بار کانگریس کو 25950 ووٹ ملے اور عام آدمی پارٹی کو 102431 ووٹ ملے۔ اگر ان دونوں کے ووٹ جوڑ بھی دئے جائیں تب بھی بھاجپا امیدوار کے ووٹ زیادہ ہے۔ جیت کے بعد بی جے پی ۔ اکالی دل کے امیدوار منجندر سنگھ سرسہ نے کہا کہ جنتا نے عاپ کو مسترد کردیا ہے۔ یہ عاپ پارٹی کی سرکار کا زوال ہے۔ کیجریوال کرسی چھوڑ کر پھر سے چناؤ کرائیں۔ عام آدمی پارٹی کی ہار پر سوراج انڈیا کے قومی ترجمان انوپم نے کہا کہ عاپ نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ وہ جنتا کے من سے بہت جلد اتر گئی ہے۔ عاپ دیش میں تبدیلی کی سیاست کے مقصد سے آئی تھی لیکن خود بدل گئی۔ انہوں نے کہا پنجاب میں اکالیوں کو جنتا نے 10 سال بعد اپنے دلوں سے نکال دیا تو وہیں دہلی کی جنتا نے محض 2 سال کے بعد ہی عاپ کے تئیں یہ رخ دکھا دیا ہے۔انہوں نے کہا راجوری گارڈن ضمنی چناؤ کا نتیجہ صرف ایک سیٹ کیلئے نہیں بلکہ پوری دہلی کی جنتا کے دل کا رجحان ہے۔ بی جے پی۔ اکالی امیدوار کی جیت نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ یہاں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کا جلوہ برقرار ہے۔ چناؤ میں کانگریس دوسرے نمبر پر رہی۔ ہار کے بعد بھی یہ سوچ کر خوش ہوسکتی ہے کہ اس کا ووٹ بینک واپس لوٹنے لگا ہے۔ ضمنی چناؤ کے نتیجہ نے عام آدمی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اس ہار کا سیدھا اثر دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پر پڑے گا۔ کانگریس نے اپنا ووٹ فیصد بڑھایا ہے جو ووٹ پچھلے چناؤ میں کانگریس سے نکل کر عاپ کی طرف آگیا تھا وہ واپس چلا آیا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایم سی ڈی چناؤ میں لڑائی بھاجپا۔ کانگریس کے درمیان ہوگی۔عام آدمی پارٹی امیدوارہرجیت سنگھ کی بری طرح ہوئی ہار بتاتی ہے لوگوں کو پارٹی نیتاؤں کے ذریعے مودی و سرکاری اداروں و دیگر پارٹیوں پر لگائے گئے الزامات راس نہیں آئے اور انہوں نے عاپ کو سبق سکھانے کی ٹھان لی ہے۔ کیا ایک طرح سے یہ نتیجہ عام آدمی پارٹی کے دو سال کی میعاد پر ریفرنڈم مانا جائے؟ اروند کیجریوال کو اس ہار کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ وعدہ کر کے نہ پورا کرنا ، بھاگ جانا، الٹے سیدھے الزام لگانا، دہلی کی جنتا کو راس نہیں آرہا ہے۔ اس ضمنی چناؤ کا اثر ایم سی ڈی چناؤ پر پڑنا طے ہے۔ بھاجپا پچھلے 10 سالوں سے ایم سی ڈی میں اقتدار میں ہے۔ تمام طرح کے کرپشن کے الزامات سے گھرنے کے بعد بھی مودی لہرکی بدولت وہ پھر سے اقتدار میں لوٹ سکتی ہے لیکن اگر بھاجپا اقتدار میں آئی تو اس بار وزیر اعظم کی ذمہ داری ہوگی کہ ایم سی ڈی میں کرپشن سے پاک صاف ستھرا انتظامیہ دیں۔ فی الحال تو عام آدمی پارٹی بری طرح سے بے نقاب ہوگئی ہے۔ پانی۔ بجلی معاف کرنے کا اثر اگر راجوری گارڈن کے ووٹروں پر نہیں پڑا تو کس اشو پر پارٹی ایم سی ڈی چناؤ لڑے گا؟ہاں ای وی ایم کا اشو تو ہے ہی۔
(انل نریندر)

کلبھوشن جادھو کو ابھی بھی بچایا جاسکتا ہے

ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کا اشو منگل کے روز لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اٹھا۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں کہا کہ جادھو کے پاس جائز پاسپورٹ کا ملنا اس بات کا ثبوت کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہندوستانی جاسوس ہیں۔ یہ واقعہ پاکستان کو بے نقاب کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا جادھو بھارتیہ بحریہ کے سابق افسر رہے ہیں جو ایران کے چابہار میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔ اس میں ایک مقامی ایرانی شہری ان کا سانجھے دار بھی تھا۔ کاروبار کے سلسلہ میں ان کا چابہار میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ابھی بھی کلبھوشن جادھو کی جان بچائی جاسکتی ہے۔اگر تاوقت پاکستانی فوج چاہے تو پاکستان کے آرمی ایجنٹ 1952 کے تقاضہ 7.2.3 کے مطابق فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف شہری عدالتوں میں اپیل نہیں کی جاسکتی لہٰذا جادھو کو اعلی فوجی ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خاں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ جادھو کی پھانسی کی سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے دی ہے لہٰذا اس کے پاس پہلا متبادل میجر جنرل کی آرمی ٹریبونل میں پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔ اگر یہ ٹریبونل سزا برقرار رکھتی ہے تو جادھو کے پاس فوج کے سربراہ کے سامنے اپیل کرنے کا موقعہ ہوگا۔ اگر وہ چاہیں تو معاملے میں آخری فیصلہ دے سکتے ہیں۔ اب فوجی کورٹ کے خلاف پاک سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ پھانسی کی سزا پائے 16 لوگوں نے سال2016ء میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی یہ کیس ابھی التوا میں ہے۔ فوج کے سربراہ سے اپیل خارج ہونے کے بعد جادھو پاک صدر کے سامنے رحم کی اپیل داخل کرسکتے ہیں یہ ان کے لئے آخری متبادل ہوگا۔ بھارت اقوام متحدہ کے ذریعے کلبھوشن جادھو کااشو بین الاقوامی عدالت میں اٹھا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ممبر ہونے کے ناطے پاکستان کو بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرنے کو کہا جاسکتا ہے۔ یہ ممبر ملکوں کے درمیان کسی تنازعہ کے حل کا ذریعہ ہے۔ بین الاقوامی عدالت میں پھانسی کی سزا کو لیکر تین معاملوں میں متاثرہ دیشوں کو راحت دی ہے۔پہلا گووا، جرمنی اور میکسیکو نے امریکہ میں پھانسی کی سزا پائے اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے عرضیاں داخل کی تھیں۔1998ء میں پہلا گووا،1999ء میں جرمنی اور 2003ء میں میکسیکو کے شہریوں کو پھانسی کی سزا سے راحت ملی۔ویانا معاہدہ کسی شہری کو دوسرے دیش میں حراست میں لئے جانے پر اپنے سفارتخانے یا دوسرے شہریوں کو رابطہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ملزم کو قانونی مدد پانے کا بھی حق ہے۔ کلبھوشن کو بچانے کیلئے کئی متبادل کھلے ہیں۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2017

سرینگرمیں اب تک سب سے کم ووٹنگ

دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کے چلتے ایتوار کو سرینگر میں ہوئے ضمنی چناؤ میں اب تک کی سب سے کم 7.14 فیصد ووٹنگ سبھی کیلئے باعث تشویش ہے۔تشدد کے واقعات میں 8 لوگوں کی جان جانا اور محض 7.14 فیصدی پولنگ ہونا ہماری کئی ناکامیوں کی طرف ایک ساتھ اشارہ کرتا ہے۔ یہ وہی لوک سبھا سیٹ کی بات ہے جہاں پچھلی بار تقریباً 60 فیصدی ووٹ پڑے تھے۔ چناؤ بائیکاٹ کا تو تب بھی علیحدگی پسندوں نے اعلان کیا تھا خطرہ تب بھی تھا۔ جو لوگ بائیکاٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ووٹ ڈالیں گے انہیں دہشت گردوں کی زیادتیوں کا شکار بننا پڑسکتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے تھے اور ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ 2014ء اسمبلی چناؤ میں تو ریکارڈ پولنگ ہوئی تھی۔ 2004ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھی جموں و کشمیر میں قریب 50 فیصد زیادہ ووٹ پڑے تھے۔ سرینگر میں بھی تمام شرپسندوں کی کرتوت کے باوجود 26 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخرضمنی چناؤ میں ایسا کیا ہوا کہ پولنگ فیصد بڑھنے کے بجائے اتنے نیچے چلا گیا جسے پولنگ کہنے میں بھی قباحت ہورہی ہے۔ حقیقت میں پوری حالت خوف پیدا کرنے والی ہے۔ جگہ جگہ پتھر بازوں کا دستہ پولنگ روکنے کے لئے دنگا پھیلا رہاتھا۔ سکیورٹی فورس پر حملے کئے گئے، کہیں پولنگ مرکز میں ای وی ایم توڑی گئی تو کہیں پولنگ مرکز کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس بار جس طرح سے پتھراؤ اور تشدد ہوا اور لوگوں کی جان گئی اس نے بتایاکہ ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نہ نکلنے والوں کو یہ احساس شاید پہلے ہی سے تھا یا پھر جو ماحول تھا اس نے انہیں سکیورٹی فورس کی کوئی یقین دہانی نہیں دکھائی دی۔ حریفوں کے لئے یہ کہنا آسان ہے کہ یہ ریاستی سرکار و چناؤ کمیشن دونوں کی ناکامی ہے لیکن جب فاروق عبداللہ جیسے سرکردہ نیتا پتھر بازوں کو وطن پرست کہہ رہے تھے یا یہ بتا رہے تھے کہ وہ بھوکے رہ جائیں گے لیکن پتھر چلائیں گے کیونکہ وہ کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے ایسا کررہے ہیں تب فاروق کو احساس نہیں تھا کہ اس سے شرپسندوں کو حوصلہ اور بڑھے گا۔ تھوڑی غلطی چناؤ کمیشن نے بھی کی۔ وزارت داخلہ کے سینئر افسر کے مطابق وزارت کی طرف سے 10 مارچ کو ضمنی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے کے فوراً بعد سخت الفاظ میں چناؤ کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں صلاح دی گئی تھی کہ کشمیر وادی میں ماحول ٹھیک نہیں ہے اس لئے ووٹنگ ٹالی جانی چاہئے۔ چناؤ کمیشن نے اب اننت ناگ لوک سبھا سیٹ پر 12 اپریل کو ہونے والے چناؤ کو 25 مارچ تک ٹال دیا ہے لیکن نقصان تو ہوچکا ہے۔
(انل نریندر)

ایک چپڑاسی کا بیٹا25 سال میں 500کروڑ کا مالک بن گیا

راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو اور ان کے کنبے کا تنازعوں سے پرانا رشتہ رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً ان پر گھوٹالوں کے الزام لگتے رہتے ہیں۔ تازہ الزام ہے کہ ایک نئی کمپنی اور زمین کو لیکر الزام لگایا گیا ہے۔ اس بار زمین بیئر فیکٹری سے جڑی ہے جس کا مالکانہ حق فوری خاندان کی آئس برگ پرائیویٹ لمیٹڈ کا ہے۔ بی جے پی نیتا اور سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے منگلوار کو آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو پر الزام لگایا ہے آئس برگ فیکٹری لگوانے کے بدلے اس کے مالک سے پٹنہ میں 60 کروڑ کی زمین لے لی۔ اسے اپنے خاندان کے نام کروا لیا۔ دراصل لالو جی کی باقاعدہ پالیسی رہی ہے ’تم مجھے زمین دو میں تمہارا کام کروں گا‘ سشیل مودی نے آگے کہا کہ وہ لگاتار ایسے خلاصے کرتے رہیں گے۔ مودی کے مطابق رابڑی دیوی کے وزیر اعلی کے عہد 2000-2005 کے دوران اوم پرکاش کتیال و امت کتیال کی کمپنی آئس برگ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کو بھی وہیٹا میں بیئر فیکٹری کھلوانے کے بدلے کتیال بھائیوں کی زمین لالو نے اپنے کنبے کے نام کروا لی۔28 ستمبر 2006ء کو اے ۔ کے انفوسسٹم کمپنی میں امت کتیال، راجیش کتیال و دیگر ڈائریکٹر تھے۔ جون2014ء میں اس کمپنی میں تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، چندرا یادو اور راگنی لالو کو ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ امت کتیال نے اپنے سارے شیئر تیجسوی یادو و رابڑی دیوی کو دے دئے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ کے نتیجوں کے بعد لالو یادو کی بیٹی کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹ گئی اور اب ان کی دوسری بیٹی چندا اور راگنی یادو اس کی ڈائریکٹر ہیں۔ بی جے پی نیتا سشیل مودی کا الزام ہے کہ اس سے صاف ہے کہ یہ پوری طرح سے کرپشن کا معاملہ ہے۔ لالو جی نے سشیل مودی کے ذریعے لگائے گئے مٹی و زمین گھوٹالے کے سبھی الزامات کو من گھڑت بتایا اور اپنی ساکھ کو خراب کرنے کی سازش قراردیا۔ لالو نے یہ ضرور مانا مال کی زمین انہی کی ہے۔جہاں میریڈین کمپنی پارٹنر شپ میں مال بنا رہی ہے۔ ایتوار کو پریس کانفرنس کر آر جے ڈی چیف نے کہا اور الزام لگانے والے خود گھوٹالے باز ہیں۔ لالو نے کہا میرے بچوں و بیوی کو بدنام کیا جارہا ہے۔ لالو یادو کی وضاحت کے بعد سشیل مودی نے کہا پانچ دن کی خاموشی کے بعد آخر کار لالو نے اعتراف کرلیا کہ 500 کروڑ کا مال انہی کا ہے۔ مودی نے کہا کہ بغیر ٹنڈر کے اپنے مال سے وہ90 لاکھ روپے کی مٹی سنجے گاندھی جیوک پارک کو دینے کا معاملہ اس کے آگے اب چھوٹاپڑ گیا ہے۔ سشیل مودی نے ایتوار کو لالو یادو کو مبارکباد دی کہ ایک چپڑاسی کا بیٹا 25 سال میں 500 کروڑ روپے کا مالک بن گیا۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2017

انصاف کے عالمی تاثر کو درکنار کر کلبھوش کو موت کی سزا

160پاکستان کی فوج عدالت نے پیر کو بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوش جادھو کو جاسوسی اور بدامنی پھیلانے میں موت کی سزا دے کر دونوں ملک میں نہ صرف ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا ہے بلکہ پاک بھارت تعلقات میں بہت بھاری کشیدگی پیدا کر دیا ہے. بھارت میں اس کے خلاف غم و غصہ فطری ہے. ہمارے کسی معصوم شہری کو کوئی ملک اغوا کر موت کی سزا سنا دے تو پھر ملک کے پرسکون رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے. پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کلبھوش جادھو کو موت کی سزا سنا کر یہ صاف کر دیا ہے کہ اس ملک میں مہذب زندگی اقدار کی آج بھی کوئی قدر نہیں ہے. انصاف کی عالمی تاثر کو درکنار کر بغیر کسی ثبوت کے بند کمرے میں کسی کو اس طرح سزا سنانے کا تو یہی مطلب نکلتا ہے. پاکستان کی فوجی عدالت نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ کس طرح اس نے بین الاقوامی معیار کے مذاق اڑایا ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوجی عدالت کے فیصلے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھایا ہے. ایمنسٹی کے ساؤتھ ایشیا ڈائریکٹر پٹنائک نے کہا کہ کلبھوش جادھو کو موت کی سزا دینا عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پاکستان کی فوجی عدالت نے بین الاقوامی معیار کی دھجیاں اڑائی ہے. انہوں نے بیان جاری کر کہا کہ عرضی گذار کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اور خطرناک خفیہ طریقے سے کام کر فوجی عدالتیں انصاف نہیں کرتی بلکہ اس کا مذاق اڑاتی ہیں. ان غلط کافی بندوبست جنہیں صرف فوجی نظم و ضبط کے مسائل سے نمٹنا چاہئے نہ کہ دوسرے جرائم سے. معاملہ کچھ یوں ہیں ۔ پاکستان نے پیر کو کہا کہ را کے ایجنٹ اور نیوی افسر کمانڈر کلبھوش جادھو ارف حسین مبارک پٹیل کو موت کی سزا سنائی گئی ہے. ان پر پاکستان کے خلاف ناپسندیدہ سرگرمیاں چلانے کی اور جاسوسی کرنے کا الزام ہے. گزشتہ سال کلبھوش کی گرفتاری کے بعد ہی حکومت ہند چھ بار وہاں کے وزارت خارجہ کو لکھ کر دے چکی ہے کہ وہ فوج کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور ایران سے اپنا کاروبار کرتے تھے. را سے ان کا کوئی کنکشن نہیں ہے، انہیں چھوڑ دیا جائے. منگل کو پارلیمنٹ میں بھی تمام ممبران پارلیمنٹ کی یہ رائے تھی. اتنا ہی نہیں، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ جادھو کے ہندوستانی جاسوس ثابت کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت ان کی حکومت کے پاس نہیں ہے. بھارت جب ثبوت مانگتا ہے تو پاکستان جادھو کی چند منٹو کی ایک ریکارڈنگ دکھاتا ہے، جسے کم سے کم پچاس جگہوں پر ایڈٹ کیا گیا ہے. اس ڈھیلاپن کے باوجود پاکستان کی فوجی عدالت کو جادھو کے لئے سزائے موت ہی مناسب لگا تو اس کی نیت کو سمجھنا ہوگا. پاکستانی سپریم کورٹ میں اس عدالت کے خلاف پہلے ہی مقدمہ چل رہا ہے. جنوبی ایشیا میں پاکستان اکلوتا ملک ہے جس کی فوج سڑک چلتے لوگوں کو اٹھا کر بند کمرے میں ان پر مقدمہ چلاتی ہے. مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں منتخب حکومت کی عما اتنی نہیں ہے کہ وہ فوج کے کسی فیصلے کو روک سکے یا اسے فیصلہ تبدیل کرنے کو کہے. وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت اس وقت ایک ساتھ کئی قسم کے دباؤ سے گھری ہوئی ہے اور وہ فوج کی ہاں میں ہاں ملانے کی حالت میں ہے. ویسے بھی نواز شریف کہتے ہیں کہ ہر صورت سے نمٹنے کے لیے پاکستان تیار ہے. لیکن اس معاملے میں پاکستان کو دنیا کے کسی ملک کا شاید ہی حمایت ملے. ساری دنیا جانتی ہے کلبھوش کیس انصاف کے کم از کم جو فالو بھی پاکستان نے نہیں کیا. ویانا معاہدے کے مطابق کسی غیر ملکی شہری کو پکڑ کر وہاں کے ہائی کمیشن یا سفارت خانے کو باضابطہ اس کی اطلاع دی جاتی ہے. پھر ہائی کمیشن یا سفارت خانے اپنے شہری پر مشتمل اس قانونی امداد پہنچانا چاہتا ہے تو اس کی اجازت اس ملتی ہے. پاکستان سے 13 بار زور دیا گیا کہ بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوش سے ملنے دیا جائے پر اجازت نہیں ملی. یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس پر کہاں اور کس جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے. دوسری طرف بھارت میں تو ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد اجمل قصاب پر دو سال مقدمہ چلا، سارے ثبوت کھلی عدالت میں پیش ہوئے اور پاکستان کو ان میں سے ایک پر بھی اعتراض نہیں ہوا. اتنا ہی نہیں، پاک بھارت تقسیم کے بعد سے ہندوستان نے جتنے بھی پاک جاسوس پکڑے، ایک کو بھی سزائے موت نہیں دی. پاکستان کو سوچنا ہوگا کہ بے بنیاد الزام کے تحت ایک بھارتی کو سب سے بڑی سزا سنا کر وہ وہ دونوں ملک کے رشتوں کو اتنا خراب کر لے گا کہ وہاں سے واپسی بہت مشکل ہو جائے گی.
 ( انل نریندر)

ایودھیا مسلئے کو گنگا جمنی تہذیب سے سلجھاؤ

ہمارے ملک میں عدالتی نظام اتنی ڈھیلی ہے کہ اہم سے اہم کیس میں بھی کرنے میں بھی سالوں لٹک جاتے ہیں. کیس قانونی داؤ پیچ میں ایسے الجھنے ہیں کہ کسی بھی اجام تک پہنچنا مشکل لگنے لگتاہے. ایسا ہی کیس ایودھیا میں رام مندر بابری مسجد ڈھانچے کا ہے.سپریم کورٹ نے ایودھیا کے متنازعہ ڈھانچے تباہی کے مقدمے کی سماعت گزشتہ 25 سال سے زیر التوا رہنے پر تشویش جتانا فطری ہی ہے. عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت روزانہ کرے تو سال میں نمٹنا چاہئے. سپریم کورٹ کی یہ صرف بیشک تبصرہ ہے پر اشارہ اہم ہیں.کورٹ نے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت کئی بی جے پی لیڈروں کا مقدمہ رائے بریلی عدالت میں لکھنؤ منتقل کرنے اور مشترکہ چارج شیٹ کی بنیاد پر ایک سال مقدمہ چلانے کے بھی اشارے دیے ہیں. اس معاملے کو تقریبا 25 سال ہونے والے ہیں لیکن اس سے جڑے معاملے ابھی تک عدالت میں چل رہے ہیں۔ ان میں ایک معاملہ وہ ہے جس 49 لوگوں کے خلاف بابری مسجد ڈھانچہ گرانے کا الزام ہے جبکہ دوسرا معاملہ بابری مسجد ڈھانچے کی انہدام کے لئے رچے گئے مجرمانہ سازش کا ہے. سی بی آئی نے ایک ایس ایل پی داخل کر ڈھانچہ ٹوٹ کے معاملے میں ملزم اڈوانی جوشی سمیت دیگر رہنماؤں پر مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے. سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 کے حکم کو چیلنج کیا ہے. اس میں ہائی کورٹ نے 21 رہنماؤں پر رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے، لیکن اس میں سازش کے الزام نہیں ہے. باقی کے 13 افرادمکمل طور چھوٹ گئے تھے. ان 13 میں سے 7 کی موت ہو چکی ہے. باقی لوگوں میں کلیان سنگھ سربراہ ہیں جو ڈھانچہ ٹوٹنے کے وقت پردیش کے وزیر اعلی تھے اور اس وقت راجستھان کے گورنر ہیں.اس درمیان معاملے میں 183 گواہیاں بھی پیش ہو چکی ہے. سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ایسے معاملے کو صرف تکنیکی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا. ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کی اس تبصرہ مدعی یا مدعا علیہ کسی کے حق میں نہیں، بلکہ معاملے کو مناسب طریقے سے چلائے جانے کے بارے میں ہے. اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح کے معاملات میں سیاسی دباؤ سے بھی گزرنا پڑتاہے.کئی مواقع پر یہ کہا گیا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو دبا رہی ہے تو بہت سے دوسرے مواقع پر اس کے برعکس الزام بھی سامنے آئے. دلچسپ پہل یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ جب اس معاملے کو پھر سے چلانے کی بات کر دی تھی تب زیادہ تر لوگوں کو امید تھی کہ سی بی آئی اس کی مخالفت کرے گی، لیکن عدالت میں سی بی آئی نے کہا کہ وہ اس سازش کے معاملے کو دوبارہ چلانے کے حق میں ہے. اگرچہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ معاملے کو دوبارہ آگے کس طرح بڑھا جائے گا؟ جو گواہیاں پہلے ہو چکی ہیں، کیا وہ دوبارہ ہوگی؟ اس کافیصلہ کب آئے گا ہمیں پتہ نہیں لیکن گزشتہ 25 سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے. رامنومی میلے گزرنے کے ساتھ ہی رام نگری ایودھیا میں سپریم کورٹ کا احساس کی ظاہری باہمی رضامندی سے اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئے ہیں. بابری مسجد کے مدعی مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے ہنومان گڑھی سے منسلک سب سے اوپر مہنت گیانداس سے بھینٹ کی. اس میں باہمی رضامندی سے مسئلے کے حل کی کوششوں پر غور کیا گیا. باہمی رضامندی کے لئے حمایت حاصل کرنے کی ہی گرج سے مہنت گیان داس سے ٹیلی فون پر ہندو مہاسبھا کے مالک سوامی چکروین نے بھی حمایت کا یقین دہانی کرائی ہے. جلد ہی تاریخ مقرر کر تنازعہ سے منسلک اطراف میٹنگ کر باہمی رضامندی کا مسودہ تیار کیا جائے گا. کورٹ کا آرڈر آنے کے بعد ملک بھر پہلے سے باہمی رضامندی کے لئے کوشاں یہاں گیان داس کے مطابق مندر مسجد تنازعہ میں بنیادی طور چار طرف ہیں. ان میں سے مالک چکروین اور محمد. اقبال سمیت نرموہی اکھاڑا ان ساتھ باہمی رضامندی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آنے کو تیار بھی ہے. موقع طرف رام للا کے سکھا کا ہے. مہنت گیان داس کے مطابق باہمی رضامندی کی سمت میں آگے بڑھنے پر رام للا کے سکھا بھی ٹٹولا جائے گا. دونوں کمیونٹی ایودھیا کیس قانونی طریقے سے حل چاہتے ہیں. ہر فرم کے سوداگر نہیں ہے، سیاست داں نہیں ہے، ہمیں کرسی کا لالچ نہیں ہونا چاہئے. ایودھیا معاملہ کروڑوں ہندوؤں کی ایمان کا مرکز ہے. ہم سپریم کورٹ کی منشا کے مطابق اس معاملے حل مل بیٹھ کر کرنے کے حق میں ہے. یہی بات لکھنؤ سے مولاناکے وفد کی قیادت کر رہے ندوۃ العلماء کے مہتمم اسلامک انٹرنیشنل کالج کے لیکچررطاہر عالم ندوی نے کہا کہ ہم گنگا جمنی تہذیب تہذیب کے حامی ہے. سپریم کورٹ کی تجویز قابل ستائش ہے اور ایودھیا مسئلہ کا حال باہمی بات چیت سے ہی ممکن ہے. خود ملک کے وزیر یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ معاملے کو بات چیت سے حل بہتر راستہ ہے. انہوں نے سپریم کورٹ کی مدھ?ستھا کی تجویز بھی دیا ہے. امید کی جا رہی ہے کہ برسوں سے زیر التواء اس تنازعہ کو تمام پارٹی مل بیٹھ کر حل کرنے کا سنجیدہ کوشش کریں گے.
 ( انل نریندر)

12 اپریل 2017

مایاوتی کے بھائی آنند کمار کا کروڑوں کا مایا جال

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں. اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے صدمے سے بہن جی نے ابھر نہیں سکیں. اب شکست سے ابھری نہیں کہ ان کے بھائی اور نوئیڈا اتھارٹی کے سابق کلرک آنند کمار کی املاک کی جانچ شروع ہو گئی ہے. محکمہ انکم ٹیکس نے گزشتہ ہفتے آنند کمار سے منسلک تقریبا درجن بھر کاروباری عمارتوں پر سروے آپریشن شروع کیا. محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپے سارا دن چلے. محکمہ انکم ٹیکس نے کچھ بلڈرز اور آنند و ان کے ساتھیوں سے قریبی کاروباری رشتہ رکھنے والی کچھ کاروباری اداروں کے سروے کئے اور ریکارڈ کی پڑتال کی. سمجھا جاتا ہے کہ اس پڑتال کے دوران آنند کمار اور ان کے ساتھیوں کی کئی کمپنیوں شیئر کا پتہ لگایا جا رہا ہے. انکم ٹیکس قوانین کے مطابق سروے کے دوران انکم ٹیکس حکام نے کاروباریوں یا کمپنیوں کے مالکان کی تنصیبات کا دورہ کرتے ہیں. اس کے تحت کاروباری ادارے کے مالکان کی رہائشی عمارتوں پر چھاپے نہیں مارے جاتے. سروے آپریشن کے تحت انکم ٹیکس افسر کمار اور ان کے ساتھیوں کی کمپنیوں کی جانب سے کئے گئے مالیاتی لین دین کی صداقت بھی تحقیقات کر رہے ہیں. ساتھ ہی ان کمپنیوں میں ان سرمایہ شیئر کے اسٹرکچر، انس??ورڈ لون اور لیندار? کی بھی جانچ چل رہی ہے. افسر اس بات کا بھی ثبوت کی تلاش کر رہے ہیں کہ کچھ سازوں کے یہاں تو آنند کمار نے سرمایہ کاری نہیں کیا؟ بھاجپا ایم پی کریٹ سومیا کا کہنا ہے کہ کمار کی املاک کی جانچ میں بہت چونکانے والے حقائق اجاگر ہوں گے. سومیا نے اپنی ویب سائٹ پر آنند کمار اور ان کی بیوی 51 کمپنیوں سے منسلک ہونے کا دعوی کر رکھا ہے. گزشتہ سال دسمبر میں ڈائریکٹوریٹ نے نوٹبد? کے دوران آنند کمار اور بہوجن سماج پارٹی کے اکاؤنٹ میں بڑی رقم جمع کرنے کا انکشاف کیا تھا. سومیا کی جانب سے فراہم کی حقائق کی بنیاد پر آنند کمار، ان کے خاندان اور جاننے والوں نے 125 کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھا ہے. وہ 50 سے زائد چھوٹی بڑی کمپنیوں میں شیئر ہیں. بہت سے میں وہ ڈائریکٹر جیسے بڑے عہدوں پر ہیں. سومیا کا سوال ہے کہ جونیئر اسسٹنٹ کلرک سے کئی کمپنیوں کے ڈائریکٹر اور ہزار کروڑ روپے کی املاک کس طرح حاصل کر لی. ایسے میں جانچ ہونی چاہئے. انہوں نے سال 2011 میں ہی جانچ کی مانگ کی تھی. رہنما کی ویب سائٹ پر آنند کمار اور ان کی بیوی کو کمپنیوں اور اس کا حساب کتاب دستیاب بنایا گیا ہے. آنند کمار نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر 100 سے زائد کمپنیاں بنائیں۔ 
انل نریندر

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...