Translater

09 اگست 2025

بہار ووٹر لسٹ پر ٹکراو!

بہار ووٹر لسٹ جانچ یعنی ایس آئی آر کا معاملہ پارلیمنٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک فطری طور پر گرمایاہوا ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے بہار میں جاری ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لے کر پارلیمنٹ میں اسے ووٹوں کی چوری قرار دیا ہے ۔اور کہا کہ اس موضوع پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کرانا ملک کے مفاد کے لئے ہے۔اور اگر سرکار ایس آئی آر پر بحث کرانے کے لئے تیارنہیں ہوتی تو سمجھا جائے گا کہ وہ جمہوریت اور آئین میں یقین نہیں رکھتی ۔وہیں وزیرپارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا کہ بہار میں ووٹرلسٹوں کے خاص طریقہ پر جانچ (ایس آئی آر) کا اشو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لوک سبھا کے کام چلانے اور کاروائیوں کے قواعد و اس کی حکمت عملی کے تحت اس مسئلے پر بحث نہیں ہوسکتی ۔ادھر سپریم کورٹ نے خود ووٹر لسٹ کی جانچ کے اشارے دیے ہیں ۔بہار میں نئی ووٹر لسٹ میں قریب 65 لاکھ لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں اور سپریم کورٹ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں کے نام صحیح ڈھنگ سے کٹے ہیں یا نہیں ؟ بتادیں کہ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی جانب سے دائر عرضی میں ووٹر نظر ثانی کو چیلنج کیا گیا تھا ۔اسی عرضی کے تحت سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھوار کو چناو¿ کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ تین دن کے اندر چناو¿ کمیشن کو ہٹائے گئے ناموں کی تفصیل پیش کرنی ہے ۔اس کے لئے 9 اگست تاریخ طے کی گئی ہے ۔جسٹس سوریہ کانت ،جسٹس اجول بھوئیاں اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ووٹر لسٹ میں ہٹائے گئے ووٹروں کی تفصیل دیں ۔ایک این جی او کو بھی دیں ۔بہار میں گہری جانچ پڑتال کے احکامات کو چنوتی دینے والی این جی او اے ڈی آر نے ایک نئی درخواست دائر کی ہے اس میں چناو¿ کمیشن کو ہٹائے گئے 65 لاکھ ووٹروں کے نام شائع کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے ۔اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ تفصیل میں یہ بھی ذکر ہو کہ ہٹائے گئے ووٹر مرچکے ہیں یا مستقل طور پر کہیں اور چلے گئے یا کسی دیگر وجہ سے ان کے نام پر غور نہیں کیا گیا ہے ۔بنچ نے این جی او کی جانب سے پیش وکیل پرشانت بھوشن سے کہا نام ہٹانے کی وجہ بعدمیں پتہ چلے کیوں کہ یہ ابھی مسودہ لسٹ ہے ۔اس پر وکیل بھوشن نے دلیل دی کچھ پارٹیوں کو ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست دی گئی ہے لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ ووٹر کی موت ہو گئی یا وہ کہیں اور چلے گئے ہیں ۔چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کہا یہ ریکارڈ پر لائیں گے ۔یہ جانکاری سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ شیئر کی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا بی ایل او نے جن کے نام ہٹانے یا نہ ہٹانے کی سفارش کی ان کی فہرست صرف دو چناو¿ حلقوں میں ہی جاری ہوئی ہے ۔ہم اس میں شفافیت چاہتے ہیں اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ کمیشن کے قواعد کے مطابق ہر سیاسی پارٹی کو یہ جانکاری دی جاتی ہے کہ کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کی فہرست مانگی ۔جنہیں لسٹ دی گئی ہے بھوشن نے کہا جن لوگوں کے فارم ملے اس میں زیادہ تر نے فارم ہی نہیں بھرے ہیں اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم یہ یقینی کریں گے کہ جن ووٹروں پر اثر پڑ سکتا ہے انہیں ضروری جانکاری دی جائے ۔اس کے بعد کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس بارے میں سنیچر تک جواب دینے کی ہدایت دی ۔ساتھ ہی کہا کہ وکیل بھوشن (اے ڈی آر)اسے دیکھیں اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا خلاصہ کیا گیا ہے اور کیا نہیں کیا گیا ۔کورٹ نے کہا کہ اے ڈی آر 12 اگست کو ہونے والی سماعت میں دلیلیں دے سکتا ہے بتادیں کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر وسیع پیمانہ پر نام ہٹائے گئے تو وہ مداخلت کرے گی ۔سیاسی پارٹیوں کی تشویش جائز ہے لیکن یہ تشویش ہر پارٹی کو ہونی چاہیے ،صرف اپوزیشن پارٹیوں کو ہی نہیں اس میں کوئی دورائے نہیں کہ چناو¿ کمیشن کی جلد بازی کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہو گیا اگر درکار وقت لے کر نظر ثانی کا کام کیا جاتا تو ممکن ہے تنازعہ کی گنجائش نہ ہوتی ۔بہرحال جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ چناو¿ کمیشن سب سچ سامنے رکھے اور ووٹ کا حق ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا ۔اسی حق پر جمہوریت ٹکی ہوئی ہے ۔اگر کوئی سیاسی پارٹی کسی بھی طرح سے بے ایمانی کرکے چناو¿ نتیجہ کو اپنے حق میں کراتی ہے تو دیش کی جمہوریت کی جڑیں کھود رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عزت مآب سپریم کورٹ جو بھارت کے آئین کی سب سے بڑی سرپرست ہے وہ انصاف کرے گی اور غیر جانبدار ہو کر دلائل کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گی ۔ (انل نریندر)

07 اگست 2025

بچھنے لگی سیاسی بساط!

نائب صدر جمہوریہ کے چناو¿ کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔پارلیمنٹ کے حالانکہ دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے پارٹی وائز تجزیہ میں حکمراں این ڈی اے کے پاس اپنے امیدوار کو جتانے کے لئے درکار نمبر تو ہے لیکن پھر بھی لگتا ہے اس بار یہ چناو¿ آسان نہیں ہوگا ۔اپوزیشن چیلنج دینے کی تیار میں لگی ہوئی ہے ۔بیشک اپوزیشن چیلنج تو دے سکتی ہے لیکن بغیر بڑی سیندھ کے الٹ پھیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں لگتی لیکن سیاسی بے یقینیوں کا کھیل ہے ۔کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نائب صدر کے چناو¿ میں پارٹی لائن پر کوئی وہپ جاری نہیں ہوگا۔ممبران پارلیمنٹ کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے اس لئے ایسے چناو¿ میں کراس ووٹنگ کا بڑا خطرہ بنا رہتا ہے ۔پہلے بات کرتے ہیں حکمراں فریق کی ۔بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں کی بھاجپا چاہے گی کہ نائب صدر کے عہدے کے لئے ایسا امیدوار چنا جائے جو ان کا حمایتی ہو ۔اور سرکار کی لائن پر چلے۔یہ کام جگدیپ دھنکھڑ نے شروع شروع میں بخوبی میں کیا تھا۔یہ بات اور ہے ان کا عہد کا خاتمہ اچھا نہیں ہوا ۔ادھر آر ایس ایس چاہتی ہے جو بھی امیدوار ہو وہ اس کی پسند اور حمایتی ہو وہ سرکار کی لائن پرچلنے والا نہیں ہو ۔ایک نیتا نے کہا کہ پچھلی بار جب دھنکھڑ کو نائب صدر بنایا گیا تھا اس وقت بھی سنگھ پریوا میں اسے لے کر بحث چھڑی ہوئی تھی ۔اس بار تقریباً سبھی مان رہے ہیں کہ آر ایس ایس اپنی آئیڈیا لوجی کو سمجھنے والا امیدوار چاہتا ہے ۔ساو¿تھ انڈیا کی سیاسی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ جب صدر نارتھ انڈیا سے ہے تو کم سے کم نائب صدر بھی ساو¿تھ انڈیا کا ہو ۔اس سے دیش میں اتحاد پیدا ہوگا۔ وہیں یہ جانتے ہوئے کہ بھاجپا کا پلڑا بھاری ہے پھر بھی کانگریس انڈیا اتحاد ایک مشترکہ امیدوار اتارنے کی حکمت عملی پر کام کررہا ہے ۔کانگریس نیتا راہل گاندھی 7 اگست کو ڈنر پر اپوزیشن اتحاد انڈیا اتحاد بلاک کے لیڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے ۔ذائع کا کہنا ہے پلان بہار یا آندھرا پردیش کے کسی نیتا کو امیدوار بنانے کا ہے جس میں بھاجپا کے دو سب سے بڑے اتحادیوں کی پی ڈی پی اور جے ڈی یو کو الجھن میں ڈالا جاسکے ۔اس چناو¿ کے بہانے کانگریس کی نظر اپوزیشن اتحاد پر قائم کر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اور این ڈی اے کو الجھن میں ڈالنے پر ہے ۔دراصل بھاجپا اپنے دم پر چناو¿ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اسے ہر حال میں اپنے دونوں سب سے بڑے اتحادیوں جے ڈی یو ،پی ڈی پی کی حمایت چاہیے ۔کانگریس کے حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ اگر اپوزیشن کا امیدوار آندھرا پردیش یا بہار سے ہوا تو علاقائی توقعات کے ساتھ توازن بٹھانے کے لئے نتیش کمار یا چندر بابو نائیڈو الجھن میں پڑ جائیں گے ۔آندھرا پردیش کے ہی وائی ایس آر سی پی جن کے راجیہ سبھا میں سات ممبر ہیں اپوزیشن کے ساتھ آسکتے ہیں ۔اگر اس چناو¿ میں ایک بھی اتحادی پارٹی ٹوٹتی ہے تو این ڈی اے میں پھوٹ کا سندیش جائے گا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ بھاجپا میں بھی اس مسئلے پر ایک رائے نہیں ہے ۔آر ایس ایس سے جڑی آئیڈیا لوجی والے بھاجپا ایم پی سنگھ کے کہنے پر اگر امیدوار ان پر بھاجپا ہائی کمان کے ذریعے تھوپا گیا تو وہ کراس ووٹنگ بھی کر سکتے ہیں ۔حالانکہ میری رائے میں یہ مشکل ہوگا ۔لیکن سیاست میں کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا یہ کسی سے چھپا نہیں کہ بھاجپا کے اندر ایک گروپ ایسا بھی ہے جو جس طرح سے جگدیپ دھنکھڑ کو بے عزت کرکے ہٹایاگیا اس سے وہ خوش نہیں ہے ۔سرکار میں اس وقت کانگریس کے جس طرح سے رشتے ہیں اسے دیکھ کر نہیں لگتا اپوزیشن سرکار کے امیدوار کو حمایت کرے گی ۔کانگریس کے ساتھ سرکار کے سینئر وزراءکے رشتے بہت بگڑے ہوئے ہیں ۔سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ سے کانگریس کی مبینہ قربتوں کو لے کر جس طرح سے کہانیاں بنائی گئیں اس سے بھی بھاجپا خوش نہیں ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے اپوزیشن انڈیا اتحاد نائب صدر کے لئے کسی او بی سی یا مسلم نام پر غور کررہا ہے ۔انڈیا اتحاد کے کچھ نیتاو¿ں کی تجویز ہے کہ اپوزیشن کو نائب صدر کاچناو¿ جمہوریت بچانے کی لڑائی کی شکل میں لڑنا چاہیے۔ (انل نریندر)

05 اگست 2025

ایک اور فرنٹ کھلتا نظر آرہا ہے!

امریکہ اور روس کے درمیان ٹکراو¿ بڑھتا جارہا ہے ۔لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب روس کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کی ٹھان لی ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف ٹرمپ زہر اگل رہے ہیں اور یوکرین کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے کیلئے دباو¿ ڈال رہے ہیں ۔لیکن پوتن ان کی ایک نہیں سن رہے ہیں ۔ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر سابق روسی صدر میداف پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پوتن اور روس کو دھمکایا ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سابق روسی صدر دمیتری میداف کی جانب سے بے حد اکسانے والے تبصرون کے بعد وہ نیوکلیائی آبدوزوں کو صحیح جگہ پر تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔بتادیں کہ میداف نے حال ہی میں امریکہ کے خلاف رائے زنی کی تھی یہ ٹرمپ کے اس الٹی میٹم کا جواب تھا جس میں انہوں نے روس سے یوکرین میں جنگ بندی کی مانگ کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس نے ایسا نہیں کیا تو اسے اور سخت پابندیاں جھیلنی ہوں گی۔ٹرمپ نے کہا میں نے یہ قدم اس لئے اٹھایا ہے کیوں کہ ہوسکتا ہے میداف کے تبصرے بیوقوفی بھرے اور بھڑکاو¿ بیان صرف باتیں بھر نہ ہوں الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے ۔اور کئی مرتبہ ان کے انجام ان چاہے ہوسکتے ہیں ۔میں امید کرتا ہوں کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا ۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی بحریہ کی یہ آبدوز کہاں بھیجی گئی ہیں ۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ ان حالات میں شامل نہیں ہوگا یہ فائنل الٹی میٹم ہے۔ روس اور امریکہ دنیا کے دو سب سے بڑے نیوکلیائی ہتھیار کفیل ملک ہیں۔اور دونوں کے پاس نیوکلیائی آبدوزوں کا وسیع بیڑا ہے ۔بتادیں کہ 29 جولائی کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر روس 10-12 دنوں میں یوکرین جنگ ختم نہیں کرتا تو اس پر سنگین اقتصادی پابندیاں اور ٹیرف لگائے جائیں گے ۔امریکہ امن چاہتا ہے لیکن وہ کمزور نہیں ہے ۔اس پر 29 جولائی کو روس کے سابق صدر میداف نے لکھا : نئی ڈیڈ لائن ایک دھمکی ہے اور جنگ کی طرف ایک قدم ہے ۔امریکہ کو انجام بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیے اگر وہ روس کو اس طرح دھمکاتا رہا ۔ 30 جولائی کو ٹرمپ نے میداف کو ناکام سابق صدر کہتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے الفاظ پر توجہ دینی چاہیے اب بہت خطرناک زون میںداخل ہو رہے ہیں ۔اگلے دن ہی انہوں نے پھر دھمکی دی کہا کہ سویئت دور کا ڈیڈ ہینڈ سسٹم آج بھی سرگرم ہے ۔اگر امریکہ سوچتا ہے کہ وہ ایک طرفہ حکم دے سکتا ہے تو وہ غلط فہمی ہے اس کے بعد ہی جمعہ کو ٹرمپ نے ایٹمی آبدوزوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ۔پچھلے کچھ دنوں سے جیسے میں نے بتایا ٹرمپ اور میداف سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف شخصی حملے کررہے ہیں ۔یہ سب تب ہورہا ہے جب ٹرمپ نے پوتن کو جنگ ختم کرنے کے لئے 9 اگست کی نئی میعاد حد طے کرکے دے دی ہے لیکن پوتن نے اس کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ ایسے کرنے والے ہیں ۔بتادیں کہ میداف 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے زبردست حمایتی رہے ہیں ۔وہ مغربی ممالک کے سخت تنقید نگار بھی ہیں صرف چھ دیشوں کے پاس ہی نیوکلیائی طاقت سے لیس آبدوز ہیں یہ دیش ہیں چین ،بھارت ،روس ،برطانیہ ،امریکہ ہیں ۔امید کرتے ہیں کہ امریکہ روس میں بڑھتے ٹکراو¿ رک جائے گا اور کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا ۔روس بھی بہت طاقتور دیش ہے وہ آسانی سے جھکنے والا نہیں ہے ۔روس یوکرین سے سمجھوتہ تو کرسکتا ہے لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس کی شرطیں یوکرین مانے جو بہت مشکل لگتا ہے ۔امریکہ کا یہاں دہرا کردار نظر آتا ہے ایک طرف تو ٹرمپ یوکرین کو ہتھیار اورپیسہ دے رہے ہیں ۔یوروپ کے دیشوں سے یوکرین کی مددکروا رہے ہیں ۔دوسر ی طرف جنگ بندی کی بات کرتے ہیں اگر دنیا میں کوئی آدمی بے نقاب ہوا ہے تو وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں پھر نوبل ایوارڈ لینے کی اتنی جلدی ہے کہ الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں ۔دھمکیوں پر اتر آئے ہیں لیکن اب دنیا انہیں سمجھ چکی ہے وہ جانتی ہے کہ اندر سے یہ کتنے کھوکھلے ہیں اور شاید ہی اب انہیں کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو لیکن روس یوکرین کی جنگ رکنا چاہیے ۔دونوں پوتن اور زیلنسکی کو سنجیدگی سے بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے ۔ہزاروں جانیں ضائع ہو رہی ہیں ، روس یوکرین جنگ رکنی چاہیے اگر ٹرمپ رکوا سکتے ہیں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

02 اگست 2025

بحث دو گھنٹے چلی ،مگر سوالوں کا جواب نہیں ملا!

پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر کئی گھنٹے بحث ہوئی بحث میں نہ صرف ہیلدی اور پائیدار اور اچھی رہی بلکہ اس نے حکمراں فریق اور اپوزیشن دونوں کو ان کے بہتر رنگ میں دیش کے سامنے رکھا ۔خاص کر وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت پاک لڑائی کے دوران سیز فائر کو لے کر ثالثی والے دعووں کو سرے سے مسترد کر دیا ۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت نے کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کی اور نہ ہی کرے گا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالانکہ تیس مرتبہ سے زیادہ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے جنگ بندی کرائی ۔پی ایم نے ٹرمپ کا نام لئے بغیر ان دعووں کو بے بنیاد بتایا ۔ان کی تقریر میں بہت سارے سوالوں کے جواب تو ملے لیکن بہت سے نہیں ملے ۔سرکار نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا کہ سیز فائر کو کیوں روکا گیا ؟ سوال ہے کہ جب پاکستان گھٹنوں کے بل کھڑا تھا تب سیز فائر کن شرائط اور کس کے کہنے پر روکی کی گئی ؟ دیش تو چاہتا تھا کہ جب بھارت کا پلڑا بھاری تھا تو ہمیں رکنانہیں چاہیے تھا اور پی او کے پر قبضہ کر لینا چاہیے تھا لیکن ہم اچانک رک گئے یہی نہیں ہم نے پاکستان کو یہ بھی بتادیا کہ ہمارے صرف آتنکی ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے ۔ہم نے پاکستانی فوج اور ڈیفنس سسٹم پر حملہ نہیں کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ہی زمین پر ہمارے ہی جہاز گرانے میں پاکستان کامیاب رہا ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن اور کانگریس صدر نے پہلگام حملے میں سیکورٹی کوتاہی کا سوال اٹھایاجاس کاکوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا ۔کھڑگے نے جموں وکشمیر کے ایل جی منوج سنہا کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سرکار پر تنقید کی ۔منوج سنہانے اعتراف کیا کہ آتنکی حملے کی وجہ ہماری کوتاہی تھی ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا سنہا کا بیان کسی کو بچانے کے لئے تھا ۔حملے کی کس نے ذمہ داری لی ؟ کس نے استعفیٰ دیا ۔کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے کہا پہلگام حملے کے بعد کسی دیش نے پاکستان کی مذمت نہیں کی یعنی پوری دنیا میں بھارت کو پاکستان کی برابری پر رکھا ۔سرکار نے جواب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ صرف تین دیش کھڑے تھے ۔دنیا کے کئی دیشوں نے آتنکی حملوں کی مذمت کی ۔بیشک لیکن کسی نے بھی پاکستان کو پہلگام حملے کا قصوروار نہیں مانا ۔کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کا پردہ فاش نہیں کرتی ؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاک لڑائی میں پاکستان تو محض ایک مکھوٹہ تھا اصل طاقت تو چین کی تھی ۔ہم پاکستان سے اکیلے نہیں لڑرہے تھے ہم پاک چین گٹھ جوڑ سے لڑرہے تھے ؟ تمام بحث میں سرکار نے ایک بار بھی چین کا نام نہیں لیا ۔جبکہ ہماری فوج نے صاف کہا کہ زمین پاکستان کو 810 فیصد ہتھیار دے رہا ہے اور چین کی فوجی ساز وسامان کے سبب بھی بھارت کے جہاز گرے ۔اس پر سرکار نے ایک لفظ بھی نہیں بولا اور نہ ہی ایک لفظ چین کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی مدد پر نہیں کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسی مہینے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت پاک لڑائی کے دوران پاک جنگی جہاز مارگرائے گئے تھے حالانکہ ٹرمپ نے یہ صاف نہیں کیا کہ کس دیش کے کتنے جہاز گرائے گئے ؟ اس سے پہلے پاکستان بھی بھارت کے پانچ جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے ۔حالانکہ بھارت نے ہمیشہ اسے مسترد کیا ہے ۔بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ زیادہ دیش کیوں ہیں؟ بھارت پاک لڑائی کے دوران ترکی ،آذر بائیجان اور چین نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی جبکہ بھارت کے حق میں صرف اسرائیل ہی کھلے طور سے نظر آیا ۔یہاں تک کہ روس نے بھی بھارت کی کھل کر حمایت نہیں کی ۔اس مسئلے پر بولتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی دیش میں بھار ت کو اپنی حفاظت میں کاروائی کرنے سے نہیں روکا ہے ۔اقوام متحدہ میں 193 دیش ہیں اور صر ف تین دیشوں نے ہی آپریشن سندورکے دوران پاکستان کی حمایت میں بیان دیا تھا ۔برکس ،فرانس ،روس اور جرمنی کو ئی بھی دیش کا نام لے لیجئے دنیا بھر سے بھارت کو حمایت ملی پوری بحث میں ایک اہم ترین اشو کپل سبل نے بھی اٹھایا ۔سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے دیش کی ڈیفنس تیاریوں پر سوال کھڑے کئے اور کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان سے جنگ لڑنے اور اسے برباد کرنے کے لئے درکار وسائل نہیں ہیں ۔جب ہم پاک سے جنگ کی بات کرتے ہیں تو چین کو بھی جوڑیں کیوں کہ دونوں الگ الگ نہیںہیں ۔پاکستان کے پاس چین کے جدید ترین جنگی جہاز اور فوجی سسٹم ہے ۔جبکہ بھارت کا رافیل آدھی صلاحیت والا جہاز ہے ۔پاک کے پاس 27 اسکوائیڈرن جہاز ہیں جبکہ چین کے پاس 138 اسکوائیڈرن ہیں وہیں ہندوستانی ایئر فورس کے کل 32 اسکوائیڈرن ہیں جو کسی بھی بھارت پاک جنگ کے دوران سب سے کم تعداد ہے۔حال ہی میں ایئر فورس چیف اور دیگر سینئر ملیٹری حکام نے اس کمی کو اجاگر کیا ہے ۔پچھلے گیارہ سالوں سے فوجی تیاری میں بھاری کمی آئی ہے ۔اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا اور نا ہی اس بحث میں اس کا کوئی جواب ملا۔ (انل نریندر)

31 جولائی 2025

آپریشن سندور : اپوزیشن کے سوال !

پیرکو آخر کار پہلگام کے آتنکی حملے کے واقعہ پر لوک سبھا میں زبردست بحث ہوئی ۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کو بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے تینوں ونگ کے تال میل کی بے مثال بتاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس مہم کو یہ کہنا کہ کسی دباو¿ میں آکر روکی گئی غلط اور بے بنیاد ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہار مان لی تھی اور کہا کہ اب کاروائی روک دیجئے مہاراج ۔بہت ہوگیا۔وزیر دفاع نے کہا دس مئی کی صبح جب انڈین ایئر فورس نے پاکستان کے کئی ایئر فیلڈ پر کرارا حملہ کیا تو پاکستان نے اسی وقت ہار مان لی تھی اور لڑائی روکنے کی پیشکش کی ۔بحث میں اپوزیشن نے مرکزی حکومت پر تلخ سوال داغے اپوزیشن نے ایک آواز میں کہا فوج کی طاقت پر انہیں فخر ہے ،لیکن سرکار کی حکمت عملی ،جوابدہی اور خارجہ پالیسی پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔کانگریس ایم پی گوروگوگوئی اور دیپندر ہڈا نے خاص طور پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ سرکار کو بتانا چاہیے کہ پہلگام حملے کے آتنکی اب تک گرفت سے باہر کیوں ہیں ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپریشن سندور کے دوران کتنے جنگی جہاز گرے تھے ؟ جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا رول تھا؟ انہوں نے پوچھا کہ جب ہم جیت رہے تھے تو کاروائی کیوں روکی گئی ؟ پاکستان کے قبضہ سے پی اوکے کیوں نہیں لیا گیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام آتنکی حملے میں سیکورٹی کوتاہی کی اخلاقی ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لینی چاہیے ۔امت شاہ جموں وکشمیر کے لیفٹننٹ گورنر کے پیچھے نہیںچھپ سکتے ۔یہ چوک ان کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پورا دیش اور اپوزیشن وزیراعظم کے ساتھ کھڑا تھا تو اچانک جنگ بندی کیسے ہوئی ؟ اگر پاکستان گھٹنوں پر تھا تو آپ کیوں جھوکے،آپ کس کے سامنے جھکے ۔کانگریس نیتا نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 بار کہا کہ انہوں نے تجارت کی بات کرکے جنگ رکوائی ۔ٹرمپ کا کیا رول تھا ؟ انہوں نے سرکار سے سوال کیا کہ پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے ) کو اب واپس نہیں لیں گے تو کب لیں گے ۔میں نے گورو گوگوئی کی تقریر کے اہم حصے اس لئے بتائے ہیں کیوں کہ میرا خیال ہے کہ آپریشن سندور پر اٹھائے گئے سوالوں پر یہ بہت صحیح اور زوردار تقریر تھی جس کا جواب ابھی تک حکمراں فریق کے اسپیکر سرکار سے ابھی تک جواب نہیں دلوا سکے ۔اور تالنے اور ادھر ادھر کی باتوں سے الجھائے رکھنا توجہ ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔کانگریس کے دیپندر ہڈا اور ٹی ایم سی ایم پی کلیان بنرجی کی تقریروں کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔کانگریس ایم پی دیپندر ہڈا نے کہا کہ ہماری فوج نے پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا ۔لیکن سرکار کی حکمت عملی میں بڑی خامی رہی ۔اپوزیشن نے آل پارٹی میٹنگ کی مانگ کی تھی لیکن سرکار نے نہیں بلائی ۔دیپندر نے سرکار کی امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بھی جم کر نکتہ چینی کی جبکہ ترکیہ نے پاکستان کی مدد کی تو وزیراعظم سائپرس چلے گئے ۔اچھا سندیش دیا لیکن اصلی دشمن چین کو سندیش دینا تھا تو وہ طائبان چلے جاتے ہیں خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ٹرمپ کے اس دعوے کو لے کر سوال پوچھے جاتے ہیں کہ انہوں نے بھارت پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی ۔ترنمول کانگریس نیتا کلیان بنرجی نے کہا کہ آپریشن سندور کا کریڈٹ فوج کو ہے وہ اس میں کوئی ٹال مٹول نہیں ہونا چاہیے ۔ہم نے خارجہ پالیسی کے معاملے میں پوری طرح سے سرکار کی حمایت کی بھارت کو پاکستان کو ایسی چوٹ دینی چاہیے تھی جسے پوری دنیا دیکھتی ۔انہوں نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں کبھی سنچوری کے قریب 90 رن پر پہنچنے پر ایننگ ودرا کرنے کی بات سنی ہے ؟ لیکن یہ کام مودی جی ہی کرسکتے ہیں اور کوئی نہیں ۔ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں 140 کروڑ دیش واسی کہہ رہے تھے کہ لڑائی جاری رکھیں ،جیتی ہوئی بازی نہ ہارو لیکن امریکہ کے صدر کے سامنے آپ کا قد اور چھاتی 56 انچ سے گھٹ کر 36 انچ رہ گئی ہے ۔وہیں اسد الدین اویسی نے کہا پاکستان کا مقصد ہمیشہ بھار ت کو کمزور کرنے کا ہی ہے ۔سرکار کا کہنا ہے خون پانی اور دہشت گردی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔پھر کس صورت میں آپ پاکستان سے کرکٹ میچ کھیلیں گے ۔جموں وکشمیر میں 7.5 لاکھ سی آر پی ایف پولیس فورس ہے ۔پہلگام آتنکی حملے کے لئے اس کی جوابدہی طے ہوگی ؟ ایل جی ،آئی بی ،پولیس جو بھی ذمہ دارہے اس پر ایکشن ہونا چاہیے ۔جموں وکشمیر سے 370 آرٹیکل ہٹا دیا لیکن دہشت گرد پھر بھی وہاں پہنچ گئے ۔انہوں نے کہا اگر پانچ جنگی جہاز نہیں گرے تو بولیے ۔اویسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کے اعلان کرنے پر بھی جواب مانگا ۔سیو سینا (یو بی ٹی ) ایم پی اروند ساونت نے سوال کیا کہ بھارت نے بغیر شرط جنگ بندی کیوں کی جبکہ پاکستان گڑ گڑارہا تھا کیا ایسے میں سخت شرطیں نہیں رکھنی چاہیے تھیں؟ پہلگام میں کوئی جوان تعینات کیون ہیں تھا ۔پہلے دن کی بحث میں ان نظریات سے اپوزیشن بہت بھاری پڑی اور سرکار جواب ٹالتی رہی۔لیکن کتنی دیر تک ؟ (انل نریندر)

29 جولائی 2025

چناو کمیشن کی ساکھ کا سوال!

بہار میں ووٹر لسٹوں کا ایس آئی آر یعنی اسپیشل انٹینسو رویژن کاروائی کو لے کر ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔پارلیمنٹ سے لے کر بہار کی سڑکوں پر جم کر احتجاج ہو رہا ہے ۔مانا ایک مہینے کی میعاد میں تقریباً آٹھ کروڑ ووٹروں کی گہری جانچ کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔یہی ایک سوال ہے جو اپوزیشن پارٹیوں و دیگر سماجی انجمنوں کو مرکزی چناو¿کمیشن کے ارادے پر شبہ پیدا کررہا ہے ۔اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں ووٹروں کے نام کاٹے جارہے ہیں ۔ادھر چناو¿ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف متوفی اور مائیگریٹ ووٹروں کے نام ہٹائے جارہے ہیں ۔کانگریس اور آر جے ڈی اسے چناوی حکمت عملی مانتی ہے ۔جبکہ بھاجپا نے احتجاج کو ایک سیاسی انسٹنٹ بتایا ہے ۔وہیں بی جے پی کے نیتا یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ چناو¿ میں اپنی ہار کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن بوکھلا گئی ہے اور وہ طرح طرح کے بہانے پیش کررہی ہے ۔قومی جنتا دل نیتا تیجسوی یادو نے کہا ہے کہ اگر اسپیشل ووٹر رویژن پروگرام یعنی ایس آئی آر پر ان کی باتیں نہیں سنی گئیں تو وہ چناو¿ کا بائیکاٹ کرنے پر غور کرسکتے ہیں ۔اگر مہا گٹھ بندھن سچ میں چناو¿ بائیکاٹ کرتا ہے تو حالات بے حد سنگین ہوں گے اس سے چناو¿ کمیشن کی ساکھ کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی ساکھ پر بھی آنچ آئے گی ۔حالانکہ ووٹر فہرستوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہا ہے ۔ایسا الگ الگ ریاستوں میں ضرورت پڑنے پر الگ الگ میعاد میں جانچ پڑتال ہوئی ہے ۔لیکن بہار میں اسپیشل رویژن فہرست کو لے کر چناو¿ کمیشن کی کاروائی سوالوں کے گھیرے میں آگئی ہے ۔حقیقت میں بہار جیسے پسماندہ اکثریتی دیہاتی اور مزدور آبادی والی ریاست کے شہریوں کی مجاز ووٹروں کی جانچ اتنے کم وقت میں ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ چناو¿ کمیشن نے پہچان کے لئے ووٹروں کے پاس دستیاب دستاویز آئی کارڈ ،آدھار کارڈ،ووٹر آئی ڈی راشن کارڈ کو ثبوت ماننے سے انکار کردیا ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے چناو¿ کمیشن کو صلاح دی تھی کہ وہ ان تینوں کو بھی پہچان کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔گہری جانچ پڑتال کاروائی کی بنیادی رپورٹ کے لئے کئی یوٹیوب چینل اور دیگر شوشل میڈیا کے صحافیوں نے رد عمل پر سوال کھڑے کئے ہیں ۔بہار کے بیگو سرائے ضلع میں یوٹیوبر اور سینئر صحافی اجیت انجم نے ثبوتوں کے ساتھ اس کاروائی میں ہو رہی دھاندلیوں کو اجاگر کیا ۔الٹے ان پر ایف آئی آر درج ہو گئی اور ان پر سرکاری کام میں خلل ڈالنے اور بنا اجازت سرکاری دفتر میں گھسنے کا الزام ہے ۔یہ معاملہ بلیا تھانے میںدرج ہے ۔بہار میںا نتہائی قلیل وقت میں ووٹروں کو اسپیشل جانچ کے کمیشن کے آرڈر کو لے کر اپنے اعتراضات درج کرانے جب اپوزیشن لیڈروں کی نمائندگی چناو¿ کمیشن سے ملنے گیا تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان سے ملنے کے لئے آئے بلکہ ملاقات پر نامناسب کاروائی اپنائی گئی جس سے مایوس اور ناراض ہو کر اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ں نے کہا کہ چناو¿ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشارے پر کام کررہا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 325 کے مطابق کسی بھی شخص کو صرف مذہب ،نسل ،ذات یا برادری کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے باہر نہیں کیاجاسکتا ۔قانون دیش کے ہر ایک شہری کا ہے جو اٹھارہ سال سے پچیس سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہے وہ ووٹر کے طور پر اپنا رجسٹریشن کرسکتا ہے اس میں صرف شہری یا غیر شہری کے نام درج کرنے کے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں صاف کر چکا ہے کہ ووٹ کا حق صرف آئینی حق ہے بنیادی اخلاقی حق نہیں ہے مگر ہندوستانی شہری ہونے کے باوجود اسے شرطیں پوری کرنی ہوتی ہیں اور ضروری دستاویز دینے ہوتے ہیں ۔چناو¿ کمیشن کی منشاءپر انگلی اٹھانے والوں کا الزام ہے کہ مردم شماری فارم میں مانگے گئے دستاویز میں آدھار ووٹر آئی ڈی و راشن کارڈ کا ناشامل ہونا یقینی طور سے چناو¿ کمیشن کے ارادے پر شبہ پیدا کرتا ہے چونکہ سرکار آدھار کو ہی صرف شناختی کارڈ مان رہی ہے ۔بینک کھاتے سے جوڑرہی ہے ۔چناو¿ ووٹر الیکشن کارڈ سے جوڑرہی ہے ۔جس کا مطلب ہے سرکار اسے شہریت کے ثبوت مان رہی ہے اس لئے چناو¿ کمیشن کے ذریعے انہیں ناقبول کرنا شبہ پیدا کرتا ہے ۔اگر جلد ہی کمیشن اس میں اصلاح کر لے تو شاید ان الزامات اور کرپشن سے بچا جاسکتا ہے ۔چناو¿ کمیشن نے اب یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ ایسی گہری جانچ اب پورے دیش میں ہوگی ۔سو معاملے اب صرف بہار تک محدود نہیں امید ہے کہ جلد اس پر اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا اور ایک آئینی بحران کو ٹالاجائے گا ۔ (انل نریندر)

26 جولائی 2025

استعفیٰ سے اٹھے درجنوں سوال!

پیر کی رات اچانک سیاسی دھماکہ ہو گیا ۔نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی حالانکہ صحت کے اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ کی وجہ بتائی گئی ہے ۔ان کے استعفیٰ سے اپوزیشن بھی حیران تھی ۔اس سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ۔ایسا نہیں کہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں پہلے کسی نائب صدر نے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا ہو۔جیسے شری وی وی گری ،وینکٹ رمن نے بھی استعفیٰ دیا تھا لیکن مرضی سے دیا تھا۔ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے بھی عہدے سے استعفیٰ دیا تھالیکن وہ سب مرضی سے صدر بننے کے لئے دیے گئے تھے ۔شری دھنکھڑ سے تو لگتا ہے کہ استعفیٰ زبردستی لیا گیا ۔انہوںنے اپنے استعفیٰ کا سبب خرابی صحت بتایا لیکن یہ بات کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے ۔مانسون سیشن کے پہلے دن انہوں نے پورے دن راجیہ سبھا کی کاروائی چلائی ۔کہیں بھی یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے بیمار ہیں کہ ایوان کو نہیںچلا سکتے ۔ان کے استعفیٰ کے پیچھے کئی طرح کے تجزیہ ہو رہے ہیں ۔میڈیا میں ان کے استعفیٰ کے پیچھے تبصرے چل رہے ہیں میں اس آرٹیکل میں کچھ اہم اخبارات کے اداریوں میں تجزیوںکا تذکرہ کررہا ہوں اس سے قارئین کو کچھ سمجھ میں آجائے گا امید کرتا ہوں بڑے اخباروں نے بھی استعفیٰ کی اصلی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے ۔اس اچانک اٹھائے گئے قدم کے پیچھے زیادہ تر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کے یہاں مبینہ نقدی برآمدگی کے چلتے مہا ابھیوگ پرستاو¿ لانے کو لے کر دو الگ الگ دستخطی مہم کی شروعات ہوئی ۔مانسون سیشن کی شروعات سے پہلے پہلے ہی سرکار نے صاف کردیا گیا تھا کہ وہ جسٹس ورما کو ہٹانے کے لئے پرستاو¿ لائے گی ۔تاکہ جسٹس کو ہٹانے کی کاروائی اتفاق رائے سے ہو ۔اور جانبدارنہ نہ سمجھا جائے ۔دی انڈین ایکسپریس نے ایک اپوزیشن ایم پی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ اس کاروائی سے این ڈی اے ممبران کو دور رکھنا چاہتے تھے کہ اس مسئلے پر سرکار اخلاق بلندیاں حاصل کر لے لیکن دھنکھڑ جی نے اپوزیشن کا پرستاو¿ قبول کر سرکار کو ناراض کر دیا ۔یہ پرستاو¿ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہر ی ونش نے خارج کر دیا تھا ۔ہوسکتا ہے کہ ایوان چلانے کے ان کے طریقے کو لے کر حکمراں فریق کی سینئر لیڈر شپ سے بھی ان کا اختلاف ہوا ہو ۔اسی برس اپریل میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو لے کر کہا تھا کہ عدالتیں صدر کو حکم نہیں دے سکتیں ۔یہی نہیں انہیں اس وقت کے چیف جسٹس سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ نیوکلیئر میزائل سنسد پر چلا رہے ہیں ۔کوئی بھی سرکار یہ نہیں چاہتی کہ ایگزیکٹوکا عدلیہ سے اتنا سیدھا ٹکراو¿ ہوا ۔یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔بھاجپا اعلیٰ کمان کے دھنکھڑ سے ناراض ہونے کی یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے ۔شری دھنکھڑ ایک واحد نائب صدر ہیں جن کے خلاف اپوزیشن نے مواخذہ تحریک لانے کا اہم ترین قدم اٹھایا ۔دھنکھڑ جس آئینی عہدے پر بیٹھ تھے ،وہاں ڈرامہ نہیں ،تحمل کی ضرورت تھی ۔یہ کہنا ناانصافی پر مبنی نہیںہوگا دھنکھڑ کئی بار نا تو تحمل میں نظر آئے اور نہ ہی اپوزیشن انہوں نے کئی بار ایسی زبان اور تیور اپنائے جو آئینی عہدے کے مطابق نہیں کہے جاسکتے ۔ہندوستان ٹائمس نے اپنے اداریہ میں لکھا ،جگدیپ دھنکھڑ نے کچھ ہی دن پہلے کہا تھا کہ میں صحیح وقت پر ریٹائر ہوں گا ۔اگست 2027 میں اگرا یشور کا کوئی دخل نہ ہو تو ۔لیکن انہوں نے کچھ ہی دنوں بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا ۔انہیں راجیہ سبھا میں کوئی باقاعدہ وداعی تک نہیں دی گئی ۔اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ اس کی وجہ بتائے تاکہ بغیر بنیاد والی قیاس آرائیاں اور سازش کی تھیوری کو درکنار کیا جاسکے ۔اخبار لکھتا ہے کہ کیا دھنکھڑ نے کوئی ریڈ لائن پار کرلی تھی ؟ اگرایسا ہے تو کیوں اور کیسے ؟ دیش کو اس بارے میں جاننے کا پورا حق ہے ۔نائب صدر کا عہدہ آئینی عہدہ ہے ،اس کا وقار اور پاکیزگی مشتبہ اور افواہوں کے دائرے میں نہیں آنی چاہیے ۔یہ صحیح ہے کہ ان کی صحت پچھلے کچھ دنوں سے خراب تھی لیکن وہ ٹھیک ہو کر عام زندگی میں لوٹ آئے تھے ۔ایک سینئر صحافی نے لکھا کہ دھنکھڑ جی نے پیر کو ایوان شروع ہوتے ہی اعلان کر دیا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن کی تجویز انہوں نے قبول کر لی ہے ۔دھنکھڑ جانتے تھے کہ سرکار لوک سبھا میں پہلے ہی نوٹس دے چکی ہے ۔انہوں نے سرکار کو مات دے دی دھنکھڑ کا استعفیٰ یہ تو ثابت کرتا ہے کہ بھاجپا میں اب بھی اعلیٰ کمان پوری طاقت سے کام کرتا ہے ۔ان کی خواہش کے خلاف کوئی بھی جانے کی کوشش کرے گا تو اسے دودھ میں سے مکھی نکالنے کا کام ہوگا ۔لیکن ہمارا خیال ہے کہ دھنکھڑ کا اس ڈھنگ سے استعفیٰ یا نکالنا ) بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ نہیں ماناجاسکتا ۔وہیں ایک دوسرا ستیہ پال ملک نہ کھڑا ہوجائے۔دھنکھڑ کے معاملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بھاجپا ایک کمزور پارٹی نہیں کہلانا چاہتی ۔جنتا یہ بھی نہیں بھولی کہ کس طرح سے جے پی نڈا نے کہا تھا ”نتھنگ ول گو آن ریکارڈ “آنلی واٹ آئی سے ول گو آن ریکارڈ ۔اشارہ صاف تھا کہ دھنکھڑ جی آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے ۔قیاس تو یہ بھی لگایاجارہا ہے کہ کسی بڑے نیتا کو مطمئن کرنے کے لئے دھنکھڑ جی کی قربانی دی گئی ہے ۔ (انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...