Translater

06 ستمبر 2015

ملائم کے دھوبی پاٹ داؤ سے نتیش۔ لالو چت

کشتی میں دھوبی پاٹ اور چرخہ داؤ کے ماؤ سماجوادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو نے اب کی سیاسی اکھاڑے میں اپنے ہی رشتے دار لالو یادو پر داؤ آزمایاہے۔بہار چناؤ کے ذریعے خود کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کررہے لالو سے الگ ہوکر ملائم نے ثابت کردیا کہ وہ سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ بہار میں مودی میجک و بھاجپا کو روکنے کے لئے پہلے الحاق اور پھر مہا گٹھ بندھن کی مہم چناؤ کے پہلے ہی دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ سیٹوں کے بٹوارے میں سپا کی اندیکھی سے نہ خوش چل رہے پارٹی کے سپریموں ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کی پارلیمانی دل کی بیٹھک بلا کر سپا کو مہا گٹھ بندھن سے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور یہ بھی اعلان کردیا کہ وہ ایک وچار دھارا والے (وام دلوں) کچھ دیگر دلوں کے ساتھ یا آزاد روپ سے راجیہ کی سبھی اسمبلی سیٹوں پر چناؤ لڑیں گے۔این سی پی کے بعد جس طرح سماج وادی پارٹی مہا گٹھ بندھن سے باہر نکلی ہے اسے بہار کا اقتدار بچانے میں لگے نتیش۔ لالو خیمے کیلئے خوش آئند اشارہ نہیں کہا جاسکتا۔ سماجوادی پارٹی نہ صرف جنتا پریوار کی ممبر تھی بلکہ اس کے چیف ملائم سنگھ یادو کو جنتا پریوارکا صدر بھی قرار دیا گیا تھا۔ بہار میں مہا گٹھ بندھن سے الگ ہونے کے فیصلے سے ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کو اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی کچھ خاص فائدہ نہ ہو لیکن اس سے نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو جھٹکا ضرور لگے گا۔ حقیقت میں بہار میں سپا کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود جنتادل (یو) راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے گٹھ بندھن نے اسے پانچ سیٹیں دی تھیں لیکن پارٹی کی ناراضگی واجب ہے کہ ٹکٹ بٹوارے پر ہونے والی بات چیت میں اسکے نیتا کو وشواس میں نہیں لیا گیا۔پھر بھولنا نہیں چاہئے کہ اسی سال اپریل میں ہی جنتا پارٹی کے 6 پرانے دھڑوں کو ملا کر جنتا پریوار کی ایکتا کا اعلان کیا گیا تھا اور بنا نام والی اس متوقعہ نئی پارٹی کا چیف بھی توملائم کو بنایا گیا تھا۔ جنتا دل (یو) کے نیتا شرد یادو نے نیتا جی کو منا لینے کی امید جتائی ہے لیکن سپا نیتا سیاست کے ایسے ماہر کھلاڑی ہیں کہ وہ کوئی بھی داؤ بنا سوچے سمجھے نہیں چلتے۔ یہ بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ ناطہ توڑنے والے ملائم سنگھ ایک وقت جنتا پریوار کی ایکتا کی کوششوں کے مرکز میں تھے۔ جنتا پریوار کی ایکتا اور بکھراؤ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن اس بار بہار سے تجربہ کر دیش بھر میں بھاجپا اور کانگریس مخالف گول بندی کی جو پہل ملائم سنگھ نے کی تھی اس میں ان کے ساتھیوں نے نجی مفاد اور اہنکار کا پہلا جھٹکا انہیں دے ہی ڈالا۔
بہار میں بھاجپا اور نریندر مودی کو ملتی دکھ رہی بڑھت سے بوکھلائے نتیش کمار ملائم سنگھ کی چوکھٹ چومتے چومتے جس طرح سونیا گاندھی کی گود میں جا بیٹھے وہ ناگوار تو آرجے ڈی چیف لالو یادو کو بھی لگا لیکن ملائم اسے پچا نہیں سکے۔ اندیکھی کی انتہا یہ ہوئی کہ مہا گٹھ بندھن کے محرک اور سوتر دھار نیتا جی سے سیٹوں کے بٹوارے سے پہلے بات تک کرنی ضروری نہیں سمجھی گئی اور سونیا کی پارٹی کو40 سیٹیں تھما دیں جبکہ پچھلے چناؤ میں اسے آدھا درجن سے بھی کم سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔کانٹے کی لڑائی میں ایک ایک ووٹ قیمتی ثابت ہونے والا ہے۔ یہ نوبت تب ہے جبکہ گٹھ بندھن کی پارٹیوں کو ٹکٹ بٹوارے کا کام ابھی کرنا باقی ہے۔ اندیشہ ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کیلئے ٹکٹ بٹوارہ کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ سالوں بعد دونوں اتنی کم سیٹوں پر لڑ رہے ہیں۔ اس سوال کو سلجھانے میں اگر اختلاف ابھرا یا کاریہ کرتاؤں میں ایکتا کی کمی آئی تو اس کا خمیازہ پہلے سے کمزور پڑے گٹھ بندھن کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال بھاجپا بہار کے ہورہے تماشے کو دیکھ رہی ہے اور من ہی من میں اس کے لڈو پھوٹ رہے ہوں گے۔
(انل نریندر)

3 سال کے معصوم کی لاش نے ہلا دی دنیا

ترکی کے ساحل پر ملے 3 سال کے سیریائی معصوم کی لاش کی دل دہلادینے والی تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تصویر کی وجہ سے دنیا کی توجہ عالمی مہاجرین کے مسئلے پر گئی ہے۔ ایک جانب جہاں پوری دنیا میں خاص طور پر یوروپ میں مہاجر سمسیاکو لیکر جگہ جگہ مظاہرے ہوئے ہیں تو وہیں دوسری جانب فرانس، جرمنی اور اٹلی نے یوروپی مہاجر ضوابط کے بارے میں دوبارہ سوچنے اور غور کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ 28 ممبری یوروپی ملکوں کے درمیان مہاجروں کا بوجھ اٹھانے کا صاف طور پر بٹوارہ ہوسکے۔اس سے پہلے بدھوار کو ترکی کے بورڈیم ساحل پر ملے معصوم بچے کی لاش کی پہچان3 سالہ ایان کردی کے طور پر ہوئی ہے۔ ترکی کی میڈیا ایجنسی ڈوگن کی رپورٹ کے مطابق ایان اور اس کے ساتھ کے لوگ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) سے بچنے کے لئے سیریا کے کوبانی سے بھاگ کر ترکی پہنچے تھے۔ اس بچے کے 5 سالہ بھائی گالپ اور ماں ریحان کی بھی کشتی ڈوبنے سے موت ہوگئی۔ ایان کی سوشل میڈیا میں وائر ل ہوئی اس تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ بچہ ان 12 سیریائی لوگوں میں سے ایک ہے جو گریس پہنچنے کی کوشش کررہے تھے مگر ناؤ ڈوب جانے سے بیچ راستے میں ہی ان کی موت ہوگئی۔دو ناؤ میں سوار23 لوگوں میں سے محض9 لوگ ہی زندہ بچ سکے جس میں اس کا باپ عبداللہ کردی بھی ہے۔ کشتی حادثے میں اپنے بیوی بچوں کو گنوانے والے اس بدقسمت عبداللہ نے بتایا کہ اس کی خواہش ہے کہ بیوی اور بچوں کی لاشوں کے ساتھ کوبین لوٹے جہاں وہ انہیں دفنانے کے بعد خود ان کی بغل میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ بی بی سی کے ایک ٹوئٹ کے مطابق عبداللہ کردی نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو پانی میں پکڑنے کی کوشش کی مگر کوئی امید نہیں تھی۔ یو این ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق سیریا میں 2011 ء سے جاری خانہ جنگی کے چلتے40 لاکھ سے زیادہ سیریائی شہری ہجرت کو مجبور ہوچکے ہیں۔ اس سال اب تک ترکی میں سب سے زیادہ قریب17 لاکھ مہاجر پہنچے ہیں۔ یوروپی یونین کے بڑے دیشوں نے اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں مگر ان ملکوں میں اختلاف بھی صاف طور پر ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔یوروپی دیشوں کا کہنا ہے کہ مہاجروں کا مسئلہ خطرناک تو ہے مگر مہاجروں کا بوجھ اٹھانے کے لئے یوروپی یونین کے28 دیشوں کے پاس کوئی طے پروگرام نہیں بن سکا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس انسانی آفت کے مسئلے کا جلد کوئی حل نکلے گا۔

(انل نریندر)



04 ستمبر 2015

Condemning the suppression cycle over Egyptian reporters

Egypt has started a suppression cycle on the media. An Egyptian court has punished three reporters of TV channel Al-Jazira with three years imprisonment. All these were punished for working without press license and telecasting news harmful for Egypt by the court of Judge Haroon Fareed.  Reporters having been punished in second hearing of the case are Mohd. Fahmi, Bahar Mohammed and Peter Grest. Mohd. Fahmi is presently a Canadian citizen quitting Egyptian citizenship, Bahar Mohammed belongs to Egypt and Peter Grest is an Australian citizen repatriated to Australia. Earlier all the three had been imprisoned for seven to ten years but now it has been reduced to three years. Judge Haroon Fareed said that they are neither members of Press Syndicate nor a telecaster syndicate.  They were working without a license. The trio have refuted the charges framed against them.  US has urged the Egyptian Government to stop this suppression and expressed its deep concern and despair.  External Affairs spokesperson John Kerry stated that US is deeply concerned and despaired by the judgement of the Egyptian court regarding the three reporters of Al Jazira. He said that we urge the Egyptian Government to take all possible steps to revise this judgement. He said that the judgement weakens the liberty to expression essential for stability and progress.

On the other hand, the Egyptian President Abdel Fateh Al Sisi has approved the controversial anti-terrorist law. Now no reporter or media will be able to report against the government stated release regarding the terrorist attacks. The reporter violating this law may be booked under the anti-terrorist law. Provisions have been made to save army and policemen from the legal fallout of their action. The new law has been implemented by publishing it in the gazette. According to this law, broadcasting of false information against the official statement may lead to two years’ imprisonment, besides fine of 2 to 5 lac Egyptian pound may be imposed. Media has strongly opposed it. Special courts have also been established. Legal provisions to save their judges, police and army personnel from strictness during judgements or while on duty have also been included in this law.  Moreover, provision has been made for death sentence for forming terrorist group or joining such group. We oppose the steps of Egyptian Government to suppress the reporters and condemn the efforts to ban the freedom of expression of speech.

ANIL NARENDRA

صرف دہشت گرداور ملکی بغاوت معاملوں میں موت کی سزا کی سفارش

پھانسی کی سزا کے معاملے میں آئینی کمیشن کی سفارش اس بحث کو لیکر اس حل کی طرف ہم جا سکتے ہیں جو محض اپنے ہی دیش میں ہی نہیں دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی چھڑی ہوئی ہے۔ سوال ہے’’ پھانسی دینے کی سزا‘‘؟ یہ کب دی جائے، کس کو دی جائے؟ آئینی کمیشن نے جو سفارش کی ہے اس کے مطابق صرف دہشت گردی اور ملکی بغاوت کے معاملوں میں پھانسی کی سزا دی جانے کی پیروی کی ہے۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے پی شاہ کا کہنا ہے کہ کمیشن کے9 میں سے6 ممبران رپورٹ سے متفق ہیں۔ 3 غیر متفق ممبران میں دو سرکار کے نمائندے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا اصول ہمارے آئین کے بنیادی جذبے کے منافی ہے۔بدلے کے جذبے سے جوڈیشیری نہیں چل سکتی۔ رپورٹ اس اشو پر مرکوز ہے کہ ہندوستان میں موت کی سزا ہونی چاہئے یا نہیں؟ رپورٹ کی ایک کاپی وزیر قانون کو سونپی جائے گی۔ پینل کے تقاضوں میں ترمیم کی مانگ پر پارلیمنٹ میں ہی غور ہوگا۔ یہ رپورٹ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ ممبئی سیریل بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کو پھانسی دئے جانے کے بعد اب اس بات پربحث شروع ہوگئی ہے کہ کمیشن کے کچھ اہم لب و لباب یہ ہیں قانون میں عمر قید کا مطلب عمر قید ہی ہوتا ہے۔ ایک طے وقت کے بعد رہائی ریاستی حکومت کرتی ہے۔ کئی ریاستوں میں الگ الگ طرح کے معاملوں میں عمر قید کی میعاد الگ الگ طے کی گئی ہے۔ سارا زور پھانسی پر ہونے کی وجہ سے پولیس اور جوڈیشیری اور خود جرائم کی اصلاحات جیسی باتوں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے ثابت معاملوں میں پھانسی دئے جانے کا فیصلہ دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ہی خود کئی بار نچلی عدالتوں میں منمانے طریقے سے دی گئی پھانسی کی سزا پر تشویش ظاہر کی ہے۔ صدر اور گورنر کو ملے معافی کے اختیار کے باوجود غلط شخص کو پھانسی دئے جانے کے اندیشات کو پوری طرح سے دور نہیں کیا جاتا۔ پھانسی کی سزا اکثر اقتصادی ، سماجی طور سے کمزور لوگوں کو ہی ملتی ہے۔ ہماری سفارش ہے کہ صرف دہشت گردی اور ملکی بغاوت کے معاملوں میں ہی پھانسی دی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں ایک دن ہر طرح کے جرائم کے لئے پھانسی کی سزا بند ہوجائے گی۔ یہ تو آئینی کمیشن کا کہنا ہے کہ حالانکہ پھانسی کی سزا کولیکر آئینی کمیشن نے جو سفارش کی ہے اس پر خود کمیشن کے ممبران بھی ایک رائے نہیں تھے لیکن یہ اہم ہے کہ پھانسی کی سزا کو پوری طرح سے ختم کرنے کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ دہشت گردی اور ملکی بغاوت معاملے میں پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کی جو سفارش کی گئی وہ اپنے آپ میں مناسب ہے۔ بھارت دہشت گردی جیسے خطرے کا سامنا کررہا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے اس سزا کو بالکل ختم کرنے سے دیش کی سلامتی کو نقصان ہوسکتا ہے۔ویسے یہ دلیل بھی ہے کہ پھانسی کی سزا ان دہشت گردوں کے لئے جو اس کے توڑ کا کام نہیں کرسکتی جو مارنے مرنے پر آمادہ ہے۔ یہ ایک حد تک صحیح نہیں ہے لیکن اس کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا جو دہشت گرد خون خرابے پر آمادہ ہو یا جنہوں نے خود کو فدائی حملہ آور کی شکل میں مان لیا ہو انہیں پھانسی کی سزا سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ریپ ریسٹ آف ریئر کے معاملوں میں بھی پھانسی دینا صحیح ہے۔ نربھیا کانڈ جیسے معاملوں میں جہاں بربریت اور بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا جائے وہاں پھانسی ہی دینا مناسب ہوگا۔ جرائم پیشہ میں خوف پیدا کرنا ضروری ہے۔ بغیر خوف کے قانون و حکومت نہیں چل سکتی کیونکہ پورا اشو ہی بحث کا ہے جو دیش میں چھڑی ہوئی ہے اس لئے دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
(انل نریندر)

ہرگھنٹے دیش میں 15 لوگ خودکشی کررہے ہیں

آل انڈیامیڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز(ایمس)میں زیر تعلیم طالبہ کا ہاسٹل میں خودکشی کرنا تشویش کا باعث ہے۔ دیش میں خودکشی کی واقعات کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ دیش میں ہر گھنٹے 15 لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ پچھلے سال(2014) میں 1 لاکھ31 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان دی۔ اس معاملے میں ریاستوں میں مہاراشٹر اور شہروں میں چنئی ٹاپ پر ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے جاری کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق سال2014 کے دوران جن لوگوں نے خودکشی ان میں سے 69.7 فیصدی کی سالانہ آمدنی 1 لاکھ روپے سے کم تھی۔ دوسرے لفظوں میں غریبی زندگی کو کس طرح سے متاثر کرتی ہے اسی سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال خودکشی کرنے والوں میں قریب70 فیصدی وہ لوگ تھے جن کی آمدنی 1 لاکھ روپے سالانہ سے کم تھی جبکہ اپنی زندگی ختم کرنے والے 26.9 فیصد افراد کی سالانہ آمدنی1 لاکھ سے5 لاکھ روپے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق پچھلے سال قومی سطح پر شہروں میں خودکشی کی شرح زیادہ تھی۔ یہ شرح 10.6 فیصدی کے مقابلے شہروں میں 12.8 فیصدی تھی جہاں تک خودکشی کے اسباب کی بات ہے تو اس میں گھریلو پریشانیاں (شادی سے لیکر طلاق) کے معاملوں کا اشتراک 21.7فیصدی رہا جبکہ جان دینے کے پیچھے18 فیصدی بیماری وجہ تھی۔ ان اعدادو شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خودکشی کے ہر ایک 6 معاملوں میں ایک گرہستن شامل تھی اور کل مرد اور عورتوں کا تناسب 68.32 تھا۔ 2014ء میں خودکشی کرنے والوں میں سب سے زیادہ19.7 فیصد اپنا کام کرنے والے لوگ تھے اس کے علاوہ12فیصد مزدور،7.4فیصد تنخواہ دار ،6.1 فیصد طالبعلم اور 0.7فیصد ریکائرڈ لوگ شامل ہیں۔ جہاں تک خودکشی کے طریقے کا سوال ہے تو 41.48 فیصدی لوگوں نے پھانسی لگا کر خودکشی کی تھی جبکہ26فیصدی نے زہریلی چیزیں کھا کر کی ۔6.9فیصد نے خودسوزی کی۔ 5.6فیصد نے ڈوب کر اور1.1 فیصد نے عمارتوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دی۔ خودکشی کرنے والوں میں 20.2فیصد میٹرک پاس تھے جبکہ19فیصد نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی۔ پچھلے سال خودکشی کرنے والوں میں 14.3فیصد جاہل اور11فیصد 12 ویں کلاس تک پڑھنے والے تھے۔ہوسٹل اور اسکولوں میں اس طرح کا ماحول بنانا ضروری ہے جس سے دیش کے کونے کونے سے آئے طالبعلم خودکو محفوظ اور ایک ہی خاندان کا حصہ سمجھیں۔ ہم ان خودکشیوں کو تو روکنے کی کوشش کریں جو بچوں میں ہورہی ہیں۔ بچوں سے وقتاً فوقتاً بات چیت کر ان کی پریشانیوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ ایمس انتظامیہ اور حیدر آباد کے کالج کو یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ان طالبعلموں کے ساتھ کچھ بھی غلط نہ ہو۔ طالبات کو بھی سمجھنا چاہئے خودکشی کی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2015

جٹے چار،مودی پر وار لڑائی آر پار کی

پٹنہ میں ہوئی ایتوار کو جنتا دل (یو) ، آر جے ڈی، کانگریس اور سپا مہا گٹھ بندھن نے سوابھیمان ریلی میں اپنی ہنکار بھری۔ اس میں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کے ساتھ ساتھ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی موجودگی خاص معنی رکھتی ہے۔ صاف ہے کہ بہار اسمبلی چناؤ اب محض ایک ریاست کا چناؤ نہیں رہ گیا ہے۔ اس میں مرکز کی بی جے پی سرکار اور اپوزیشن دونوں نے ہی اپنا سب کچھ جھونک دیا ہے۔ اب یہ دونوں کیلئے ہی آر پار کی لڑائی بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں سرکار کے تئیں نرم رویہ اپنانے والی سماج وادی پارٹی نے بھی شیو لال یادو کو اس میں شرکت کرنے کے لئے بھیجا۔ باوجود اس کے ٹکٹ بٹوارے میں پارٹی کو نظر انداز کیاگیا ہے۔ سبھی اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم نریندر مودی پرجم کر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے صرف جھوٹے وعدے کئے ہیں اور اب تک کچھ بھی نہیں کیا ہے جس کے سبب لوگوں کا ان پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ نتیش نے کہا کہ پہلے والے پی ایم کم بولتے تھے اور یہ(مودی) بولتے رہتے ہیں ، سنتے نہیں۔ مودی چلے تھے بہار کو للکارنے لیکن اراضی بل پر گھٹنے ٹیک دئے۔ جو ہمارے ڈی این اے پر سوال اٹھاتے ہیں وہ بتائیں کہ ان کے پوروجوں نے کیا کیا؟ لالو پرساد یادو نے اپنے منفرد انداز میں کہاکہ بہار میں جنگل راج پارٹII کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں منڈل راج پارٹII ہے۔ مودی جی نے دو ریلیوں میں صرف یہاں کے لوگوں کو گالیاں ہی دی ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی سرکار کا چوتھائی عہد پورا ہوچکا ہے۔ اب تک شوبازی کے علاوہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ آپ لوگ یہ بات مجھ سے بہتر جاتنے ہیں۔ سونیا گاندھی بولیں ، وزیر اعظم نے بار بار بہار کی بے عزتی کی ہے۔ وہ جب بھی موقعہ پاتے ہیں بہار کے ڈی این اے اور کلچر کے بارے میں رائے زنی کرتے ہیں۔لالو نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی کو بیوقوف نہ سمجھیں، ہم غریب ہیں لیکن ضمیر کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ سپا کے شیو پال سنگھ نے کہا کہ مودی کا جادو اب ختم ہوچکا ہے۔ بھاجپا نے بھی پلٹ وار کیا۔ اس کے لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا کہ ریلی میں سونیا سپورٹنگ موڈ میں تھیں۔ نتیش تو مکھوٹا ہیں اصلی سوتردھار لالو ہیں۔ لالو پہلے منڈل راج I کا حساب دیں پھر پارٹ II کی بات کریں۔ ریلی میں بھیڑ کے لحا ظ سے کافی لوگ پہنچے لیکن کچھ واقف کاروں کا خیال ہے کہ اس سوابھیمان ریلی کو لے کر جس طرح سے چار پارٹیوں کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو اور سپا نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے اڑی چوٹی کی کوشش کی وہ بھیڑ بہار کی راجدھانی کے تاریخی گاندھی میدان میں امید کے مطابق نہیں اکٹھے ہوپائی۔ نتیش کمار کی ادھیکار ریلی میں زیادہ بھیڑ تھی۔ بہار کی نظر سے دیکھیں تو ریلی کا پیغام وہ تھا جو لالو ۔نتیش نے دیا۔ تقریر کاسلسلہ چار گھنٹے سے زیادہ چلا۔ نتیش کمار کو عام ریلی سے پہلے ہی مودی مخالف سیاست کی کڑی بن گئے تھے۔ اس کا اگلا مرحلہ یہ رہا کہ اپنے سب سے مضبوط حریف لالو پرساد یادو سے ہاتھ ملا کر و کانگریس صدر سونیاگاندھی کو جوڑ کر مشترکہ اپوزیشن کیلئے ایک نئی زمین تیار کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اس سے دوسری پارٹیوں کو بھی تقویت ملی اور وہ بھی ساتھ آ کھڑی ہوئیں۔ ان کا یہ اتحاد پارلیمنٹ میں بھی دکھائی دیا۔ اتحاد کے لیڈروں کو اپنے اپنے ایجنڈے ضرور ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ اگر ابھی بھی وہ ایک ساتھ نہیں آ پاتے تو کل کو شاید کھڑے ہونے کی زمین نہیں بچے گی۔ دوسری طرف بی جے پی کے لئے بھی یہ چناؤ جینے اور مرنے کا سوال بن گیا ہے۔ بہار میں بی جے پی ایسے وقت میں اس چناؤ کا سامنا کرنے جارہی ہے جب اس کا ہنی مون پیریڈ گزر چکا ہے اور مودی کی مقبولیت کا گراف گرتا جارہا ہے اور جنتا نے ان کی پالیسیوں کا محاسبہ شروع کردیا ہے۔ بہار چناؤ اب سبھی فریقین کیلئے ساکھ اور سیاسی مستقبل کا سوال بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

مصر میں صحافیوں کو کچلنے کی کارروائی کیلئے مذمت کرتے ہیں

مصر میں صحافیوں پر زیادتیوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ مصر کی ایک عدالت نے الجزیرا چینل کے تین صحافیوں کو تین سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ تینوں کو بغیر پریس لائسنس کے کام کرنے اور مصر کیلئے مضر مواد کو ٹیلی کاسٹ کرنے کیلئے جج حسن فرید کی عدالت نے یہ سزا سنائی۔ معاملے کی دوبارہ سماعت میں سزا پانے والے صحافی محمد فہمی، بہر محمد اور پیٹر گریسٹ شامل ہیں۔ محمد فہمی مصر کی شہریت چھوڑ کر کینیڈا کے معزول شہری ہیں۔ بہر محمد مصر اور پیٹر گریسٹ آسٹریلیا کے شہری ہیں جن کی آسٹریلیا کو حوالگی ہوچکی تھی۔ تینوں کو پہلے سات سال کی سزا ملی تھی لیکن اب انہیں تین برس کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔جج حسن فرید نے کہا کہ تینوں افراد نہ تو پریس سینڈیکیٹ کے ممبر ہیں اور نہ ہی ایگریڈیٹڈ ہیں۔ تینوں بغیر لائسنس کے کام کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا ہے۔ امریکہ نے صحافیوں کی اس سزا پر گہری تشویش اور مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سرکار سے اس میں نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ الجزیرا ٹی وی کے تینوں صحافیوں کو لیکر مصر کی ایک عدالت کے ذریعے دئے گئے فیصلے سے امریکہ کو گہری مایوسی اور تشویش ہوئی ہے۔ ہم لوگ مصر کی سرکار سے اس فیصلے پر غور کرنے کے لئے سبھی ممکن قدم اٹھانے کی اپیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا یہ فیصلہ استحکام اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اظہار آزادی کو کمزور کرتا ہے۔ادھر مصر کے صدرعبدالفتح المیسی نے متنازعہ آتنک انسداد قانون کو منظوری دے دی ہے۔ اب کوئی صحافی یا میڈیا آتنکی حملے کے سلسلے میں سرکاری بیان کے خلاف خبر نہیں دے سکے گا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے صحافی پر بھی دہشت گردی انسداد قانون لگایا جاسکتا ہے۔ اس قانون میں فوج اور پولیس کے جوانوں کو قانونی تنازعوں سے بچانے کی بھی سہولت رکھی گئی ہے۔ نئے قانون کو گزٹ میں شائع کر نافذ کردیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سرکاری بیانوں سے برعکس کوئی جھوٹی معلومات شائع کرنے کے لئے دو سال تک کی جیل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ 2 سے5 لاکھ مصری پاؤنڈ تک کا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ میڈیا نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔خصوصی عدالتیں بھی بنائی گئی ہیں۔ ان کے ججوں ، پولیس اور فوج کے جوانوں کوجیوری کے دئے گئے فیصلوں یا جیوری پر کی گئی سختی سے بچانے کے قانونی انتظام بھی اسی قانون میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہشت گرد گروپ بنانے والے یا کسی دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے والے کو موت کی سزا کی سہولت ہے۔ مصر حکومت کے ذریعے صحافیوں پر کچلنے کی کارروائی کے اقدام کی ہم مخالفت کرتے ہیں اور صحافیوں کی آزادی پر پابندی لگانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...