امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔چونکہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔ایران نے اس مرتبہ صرف امریکی بیس پر موجود ہی ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے ۔بلکہ اگر خبر صحیح ہے تو ان حملوں میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی بات ایران کررہا ہے ۔ایران کی فوج نے فی الحال حملے روک دیے ہیں نہیں تو وہ مسلسل 12-13 دن سے ہر روز ایران پر بم باری کررہا تھا ۔امریکہ نے تو ایک بار پھر بھاری بی بمباروں کا بھی استعمال کیا ۔ایران نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملے کئے ۔جب امریکہ نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کاروائی روک دی۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا اسٹاک کم ہورہا ہے جس سے عرب خطہ میں موجود امریکی اڈوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔اس وجہ سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنا پڑاہے ۔دراصل ایران نے جنگ کی شروعات سے ہی سستے ڈرون سے لگاتارحملے کرنے کی حکومت عملی بنائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا پڑا اور چند دنوں میں ہی میزائلوں کا اسٹاک کم ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ، امریکہ پچھلے 13 دنوں سے اپنے تمام اڈوں کی حفاظٹ کے لئے پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال کررہا تھا ۔13 دنوں کی جنگ کے بعد اب کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صرف 900 سے ہزار کے بیچ میزائلیں ہی بچی ہیں ۔دوسری طرف امریکی کمپنیاں ہر ماہ صرف 20 میزائل ہی بنارہی ہیں ۔دوسری طرف ایران نے اپنی میزائلیں اور ڈرون کا اسٹاک مسلسل بڑھا لیا ہے ۔اور وہ نئی میزائلوں اور ڈرونوں کو بھی بہت تیزی سے بنا رہا ہے ۔اب اگر ایران کی جانب سے اور حملے ہوتے ہیں تو امریکہ کی بچی کچی میزائلیں بھی ختم ہو جائیں گی ۔یہ وارننگ امریکہ کی سینٹکام کمپنی نے بھی ٹرمپ کو دی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے بیس کی حفاظت کی فکر ہے ۔ایران کے حملوں سے بھی امریکی ایئر ڈیفنس کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ حملوں کے دوران امریکی بیس پر 7 کمانڈ اینڈ کنٹرو ل سنٹر تباہ ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 پیٹیئر ایئر ڈیفنس راڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔امریکی حملوں کی وجہ سے 3 ای پی ایس راڈار سسٹم گنوا چکا ہے ۔حملوں میں 5 لمبی دوری کے راڈار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ایک طرف ہتھیاروں کی کمی ہے دوسری طر ف نقصان کی وجہ سے جنگ کا بڑھتا خرچ بھی ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے حملوں کے دوران امریکہ کا ایک ایف -15 جہاز تباہ ہو چکا ہے ایک ایف پی -8 جہاز بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سی -17 کارگو جہاز جل گیا ہے ۔ہوا میں تیل بھرنے والے جہاز بھی تباہ ہو گئے ہیں حملوں کے دوران 4 ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔13 دنوں میں امریکہ کو اس لئے بھی بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران جارڈن اور عراق میں بھی حملے کرتا رہا ۔جس نے اس بار صرف امریکی بیس پر موجود ہتھیاروں جہاز وں کو نشانہ بنایا بلکہ دعویٰ کیاجارہا ہے زمین کی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران نے پختہ نشانے سے حملہ کیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ صرف ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہی حملے نہیں ہوئے بلکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی اڈوں پر بھی سیدھے حملے کئے تاکہ جو وہ خبریں دے رہے تھے ان کو روکا جاسکے ۔ایران کے حملوں میں امریکہ کے نقصان کا گراف بڑھتا گیا ۔ایران نے امریکی ایئرڈیفنس کو کھالی کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ایرا ن نے جہازوں کے کیمپ اور ہینگرس کو نشانہ بنایا ۔بحرین میں ہیلی کاپٹر مینٹننس سنٹر کو بھی تباہ کر دیا ۔ایران نے امریکی بیس پر 12 تیل ڈپو کو بھی تہس نہس کر دیا ۔سب سے بڑا دعویٰ تو ایران کے اربل بیس کو لے کر ہے ایرانی فوج کا دعویٰ ہے مسلسل حملوں کی وجہ سے عراق کے اربل میں امریکہ کا پورا ڈھانچہ ہی تباہ ہو چکا ہے اورا یران کے کئی جہازوں کی حملہ صلاحیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے ۔ یونہیں نہیں امریکہ کے صدر نے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر اب شاید کوئی یقین کرے ؟ اس جنگ روکنے کے پیچھے بھی کوئی نیا کھیل ہوسکتا ہے ۔لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں