Translater
03 جولائی 2021
ایک دیش ایک راشن کارڈ!
سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکزی حکمراں پردیشوں کو 31جولائی تک ایک دیش ایک راشن کارڈ لاگو کرنے کا منگل کے روز حکم دیا ہے ساتھ ہی مرکز کو کوویڈ 19کی صورتحال جاری رہنے تک تاریکین مزدوروں کو مفت سوکھا راشن دستیاب کرانے کی ہدایت دی ہے جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایم آر شاہ کی ڈویژن بنچ نے تین ورکروں کی عرضی پر کئی حکم پاس کئے جن میں مرکز اور ریاستوں کی تاریکین مزدوروں کے لئے فوڈ سیکورٹی ، نقدی ٹرانسفر اوردیگر فلاحی اقدام اٹھانے کے لئے ہدایت دینے کی درخواست کی تھی ۔ بنچ نے مرکز کو 31جولائی تک غیر منظم سیکٹر کے رجسٹریشن کے لئے نیشنل انفارمیشن سائنس سینٹر کی مدد سے ایک پورٹل ڈبلیو کرنے کا بھی حکم دیا تاک فلاحی اسکیموں کا فائدہ انہیں دیا جاسکے ۔ اس نے ریاستوں اور مرکزی حکمراں کے پردیشوں سے متعلق ریاستوں میں عالمی وبا کی صورتحال جاری رہنے تک تاریکین مزدوروں کے لئے کمیونٹی رسوئی گھر کھولنے کی لئے ہدایت دی رضا کار انجلی بھردواج ، ہرش چندر، اور جگدیش چوکڑ نے تاریکین مزدوروں کے لئے فلاحی اقداموں کو نافذ کرنے کے لئے ایک عرضی دائر کی تھی مرکز نے عدالت کو بتایا کہ زیادہ تر ریاستیں تاریکین مزدوروں کے لئے فلاحی اسکیمیں لاگو کر رہی ہیں لیکن دہلی آسام ، چھتیس گڑھ ، مغربی بنگال ، ابھی تک حرکت میں نہیں آئی ہیں یہ ان کی تکنیکی دلچسپی پر منحصر ہے بنچ نے کہا کہ مرکزی سرکار 31جولائی تک غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کو رجسٹرڈ کرنے کے لئے پورٹل بنائے تاکہ فلاحی اسکیموں کا فائدہ دیا جا سکے ۔ مزدوروں کی زیادہ آبادی والی جگہوں پر کمیونٹی رسوئی چالو کی جائیں وباکی صورتحال تک تاریکین مزدوروں میں مفت راشن بانٹنے تک کا انتظام کیا جائے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں