Translater
23 اگست 2025
بل پر اپوزیشن کا ہنگامہ !
سنگین جرائم الزامات میں گرفتار اور مسلسل 30 دین حراست میں رہنے پر وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ،وزرا کو عہدے سے ہٹانے والے بل کو بدھوار کو پیش کیا گیا حالانکہ اس بل کو جے پی سی کو بھیج دیا گیا ہے جو اگلے سیشن کے پہلے دن پیش کرے گی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کے جے پی سی کے سامنے اپنے اعترازات درج کرانے کا موقع ملے گا ۔ابھی جو قانون اس کے مطابق ،جب تک قصور ثابت نا ہو جائے جب تک یہ وزیر استعفیٰ دینے کےلئے مجبور نہیں ہے ۔اس بل کے ذریعہ آئین کی دفعہ 75 میں ترمیم کرنی ہوگی ۔جس میں وزیراعظم کے ساتھ وزرا کی تقرری اور ذمہ داریوں کی باتیں ہیں ۔مسودہ بل کے مطابق ،اگر کسی وزیر کے عہدے پر عہدے پر رہتے ہوئے مستقل 30 دن کےلئے کسی قانون کے تحت کرائم کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور حراست میں لیا جاتا ہے ۔جس میں 5 سال یا اس سے زیادہ کی سہولت ہے،اسے صدر کی صلاح وزیراعظم کی صلاح پر عہدے سے ہٹا دیا جائے گا ۔ایسا حراست میں لئے جانے کے 31 ویں دن ہو جانا چاہئے ۔سرکار اس بل کو کرپشن مخالف بتا رہی ہے ،وزیر داخلہ امت شاہ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کے سیاسی کرپشن کے خلاف مودی سرکار کے عزم اور جنتا کی ناراضگی کو دیکھ کر میں نے آئین ترمیمی بل پیش کیا ہے تاکہ پی ایم ،سی ایم اور وزیر جیل میں رہتے ہوئے سرکار نہ چلا سکے ۔اس کا مقصد سیاست میں صاف ستھرا پن لانا ہے ،حال ہی میں ایسی حالت بنی کے سی ایم یا وزیر کے بغیر استعفیٰ دئے جیل سے سرکار چلاتے رہے ۔ادھر اپوزیشن نے اس بل کی زبردست مخالفت کی ہے ۔اپوزیشن کی جانب سے ایم پی اسدالدین اویسی ،کانگریس کے منیش تواری ،کے سی وینو گوپال ،آر ایس پی کے این کے پریم چند و سپا کے دھرمندر یادو نے جم کر احتجاج کیا ۔پریم چندرن نے کہا کے تینوں بلوں کو ایوان میں پیش کرنے کےلئے اتنی ہڑ بڑی کیوں ہے ؟اس پر امت شاہ نے کہا کہ پریم چندرن جلد بازی کی بات کر رہے ہیں تو لیکن اس کا سوال اس لئے نہیں اٹھتا کیوں کے میں نے ان بلوں کو جے پی سی کو سونپنے کی بات بتاتا ہوں اس کے بعد کانگریس کے سی وینو گوپا نے کہا کہ بھاجپا کے لوگ کہہ رہے ہیں یہ بل سیاست میں شفافیت لانے کے لئے لایا گیا ہے انہوںنے کہا کیا میں وزیر داخلہ سے پوچھ سکتا ہوں کے جب گجرات میں وہ وزیرداخلہ تھے انہیں گرفتار کیا گیا تھا تب کیا انہوںنے اخلاقیت کا خیال رکھا تھا ؟وزیر داخلہ نے وینو گوپال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ریکارڈ بتانا چاہتا ہوں میں نے گرفتار ہونے سے پہلے اخلاقیاتی اصولوں کا حوالہ دیکر استعفیٰ بھی دیا تھا ۔اور جب تک عدالت سے بے قصور ثابت نہیں ہوا تب تک میں نے کوئی آئینی عہدہ قبول نہیں کیا انہوںنے کہا ہمیں کیا یہ اخلاقیت سکھائےں گے ؟کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بل کو غیر جمہوری بتایا اور مرکزی سرکار پر نقطہ چینی کی کہ ایسے بل لاکر بھاجپا سرکار لوگوں کی آنکھوں میں دھول چھونکنے کا کام کر رہی ہے ۔یہ پوری طرح کچلنے والا قدم ہے ۔یہ ہر چیز کے خلاف ہے اور اسے کرپشن مخالف کی شکل میں پیش کرکے لوگوں کی آنکھوں میں دھول چھونکنے جیسا ہے سوشل میڈیا میں بھی اس بل پر خوب رائے زنی ہو رہی ہے ۔کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ بل دو مونھ ہی تلوار ہے جہاں اس سے سنی ہوئی ریاست کی اپوزیشن حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔وہیں یہ این ڈی اے اتحادیوں کے لئے بھی ایک نصیحت ہے کے آپ اگر لائن پر نہیں چلے تو آپ کا بھی کیا انجام ہو سکتا ہے ۔سمجھدار کو اشارہ ہی کافی ہے ویسے ہمیں لگتا ہے کے اس آئینی ترمیمی بل کو پاس کرانا اتنا آسان نہیں ہوگا اس کے لئے لوک سبھا اور اراجیہ سبھا میں دو تہائی اکثریت دونوں ایوانوں میں ہونی چاہئے ۔جو فی الحال تو ان کے پاس نہیں ہے ویسے بھی مانسون کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اب تو سرمائی اجلاس میں ہی غور ہوگا ۔مرکزی سرکار اس بل کو کرپشن مخالف بتا رہی ہے جب کے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے دونوں فریقین کو تال میل کے راستے پر چلنا ہوگا ۔خیال رہے کے ہماری آئینی سبھا میں شامل نیتاﺅ نے سوچا بھی نہیں تھا کے کبھی بھی سیاسی اخلاقیات کا اتنا اسٹنڈرڈ گر جائےگا آج تو کوئی داغی نیتا عہدہ چھوڑنا نہیں چاہتا ایسے میں آج یا کل ،کچھ قانونی قدم اٹھانے ہی پڑے گے تاکہ داغیوں کے لئے جگہ نہیں بچے ۔اور اس حمام میں سبھی ننگے ہیں ۔
(انل نریندر)
21 اگست 2025
چناوی سوالوں کا جواب نہیں ملا!
آخرکار بھارت کے چناو¿ کمیشن نے چناوی سوالوں کے مسئلے پر پریس کانفرنس کی تو جب برننگ سوالوںکے جوابات کو ٹالنے پر زیادہ زور دیا گیا ۔بہتر ہوتا کہ چناو¿ کمیشن یہ پریس کانفرنس نہ کرتا پریس کانفرنس بھی اس دن کی گئی جب اتوار تھا اسی دن دہلی میں پردھان منتری نریندر مودی کاروڈ شو چل رہا تھا اور بہار کے ساسا رام میں راہل گاندھی کی ووٹ چوری یاترا شروع ہورہی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ اس پریس کانفرنس نے نئے سوالوں کو جنم د ے دیا ۔جمہوریت میں چناو¿ صرف سرکار چلانے کی صلاحیت حاصل کرنا نہیں بلکہ چناو¿ کی بنیاد بھی ایک اہم ستون ہے جس پر دیش ریاست اور جمہوریت کا دارو مدار ٹکا ہوا ہے ۔اس کاروائی کو آزادانہ منصفانہ طور سے صاف ستھرے طریقہ سے مکمل کرانے کی ذمہ داری چناو¿ کمیشن پر اتوار کو چناو¿ کمیشن نے اپوزیشن پارٹیوں کے ووٹ چوری سے جڑے الزامات کے جواب دیے ۔پریس کانفرنس کے بعد چناو¿ کمیشن نے کہا پریس کانفرنس میں اپوزیشن کے اٹھائے گئے سوالوں کا سیدھا جواب نہیں دیاگیا ۔تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار چناو¿ سے ٹھیک پہلے بی جے پی چناو¿ کمیشن کے ساتھ مل کر ووٹ دینے کا حق چھین رہی ہے ۔آر جے ڈی نے یہ سوال اٹھایا کہ ایس آئی آر ایسے وقت کیوں کیا جارہا ہے جب بہار میں سیلاب آیا ہوا ہے ۔اخبار نویسوں نے چناو¿ کمیشن سے سوال پوچھا تھا س پر کمیشن نے کہا کہ بہار میں 2003 میں بھی ایس آئی آر ہوا تھا اس کی تاریخ 14 جولائی سے 14 اگست تھی تب بھی کامیابی کے ساتھ پورا ہوا ۔راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ 2004 کے لوک سبھا اور مہاراشٹر ،کرناٹک ،مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں وسیع گڑ بڑی ہوئی ۔مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹر اور کئی غیر تسلیم پتوں کا الزام لگایا تھا ۔راہل گاندھی نے ڈپلیکیٹ ووٹروں جیسے ایک ہی شخص کا کئی ریاستوں میں ووٹ کی شکل میں رجسٹریشن اور غلط پتوں جیسے ایک چھوٹے کمرے میں سینکڑوں ووٹر بنے ہونے کی مثالیں دی تھیں ۔چناو¿ کمیشن نے الزامات کو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بتاتے ہوئے کہا کہ ووٹ چوری جیسے الفاظ کا استعمال کروڑوں ووٹروں اور لاکھوں چناو¿ ملازمین کی ایمانداری پر حملہ ہے ۔کیا راہل گاندھی کے سوالوں کا یہی جواب تھا ۔راہل گاندھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ چناو¿ کمیشن ان سے حلف نامہ مانگ رہا ہے ، مجھ سے سرٹیفکیٹ مانگا ہے جبکہ کچھ دن پہلے ہی بی جے پی کے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں تو ان سے کوئی حلف نامہ نہیں مانگاجاتا انہیں ”چناو¿ کمیشن “ ڈیٹا دیتا ہے اورمجھ سے حلف نامہ مانگا جارہا ہے ۔الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے جواب دیا جہاں آپ گڑ بڑی کی بات کررہے ہیں اور آپ اسمبلی حلقہ کے ووٹرنہیں ہیں ۔تو قانون کے مطابق آپ کو حلف نامہ دینا ہوگا ۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلف نامہ دینا ہوگا یا دیش سے معافی مانگنی ہوگی ۔اگر سات دنوں کے اندر حلف نامہ نہیں ملتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سبھی الزام بے بنیاد ہیں ۔اس پر کانگریس نیتا پون کھیڑا نے کہا کہ چناو¿ کمیشن نے اپوزیشن کے سوالوں کا سیدھا کوئی جواب نہیں دیا ۔ان کا کہنا ہے کہ کیا گیانیش کمار نے ان لاکھوں ووٹرس کے بارے میں کوئی جواب دیا جنہیں ہم نے مہادیوو پورہ میں بے نقاب کیا تھا ؟ نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امید کی تھی کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہمارے سوالوں کا جواب دیں گے ۔۔۔ایسا ہوا ۔ایسا لگ رہا تھا کہ پریس کانفرنس میں بی جے پی کا کوئی نیتا بول رہا ہے ۔ایک سینئر صحافی پریجوائے ٹھاکر تا نے چناو¿ کمیشن کی اس پریس کانفرنس میں تھے ان کا خیال ہے کہ فی الحال جو صفائی چناو¿ کمیشن نے دی ہے اس سے یہ اشو ختم نہیں ہوتے دکھائی دے رہا ہے ۔پریس کانفرنس میں کچھ سوالوں کے واضح صاف جواب نہیں ملے ہیں جیسے میں نے پوچھا کہ کیا سچ ہوں کہ مہاراشٹر میں آپ نے 40 لاکھ نئے ووٹرس کو شامل کیا اس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ستر کی دہائی میں کسی نے کوئی اعتراض نہیں درج کرایا ۔میں نے ایک اور سوال پوچھا کہ کیا لوگوں سے زیادہ نام ووٹر لسٹ میں تھے تو اس کا جواب مجھے نہیں ملااس طرح سے کئی سوال ہیں جن کے جواب صاف نہیں ملے ۔چناو¿ کمیشن نے بہار ڈرافٹ لسٹ سے قریب 65 لاکھ ووٹر ہٹائے ہیں یہ بہت بڑی تعداد ہے اس کا کوئی جواب نہیں ملا ۔چناو¿ کمیشن آج سے پہلے اس طرح کبھی پریس کانفرنس کرنے کے لئے سامنے نہیں آیا تھا ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چناو¿ کمیشن کے جواب کو سیاسی پش منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ٹائمنگ کی بات کریں تو یقینی طور سے چناو¿ کمیشن کا جواب بھی سیاسی ہے ۔جیسے راہل گاندھی اسے بہار میں سیاسی اشو بنارہے ہیں تو ٹھیک اسی تاریخ کو سرکار کی جانب سے چناو¿ کمیشن نے اپنا موقف سامنے رکھا ہے۔
(انل نریندر)
19 اگست 2025
الاسکامیں نہیں بنی بات!
امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدرولادیمیر پوتن کی الاسکا ملاقات پر ساری دنیا کی نظریں لگی تھی ۔پچھلے 3 سال سے جاری روس یوکرین جنگ کی خاتمے پر امیدیں لگائی جا رہی تھی۔مستقل امن نا بھی ہوتا تو اتنا تو ہو سکتا تھا کے جنگ بندی تو ہو جائے لیکن ۔ساری امیدیں ٹوٹ گئیں ۔بیشک کچھ مسلوں پر ضرور دونوں ملکوں کے صدور میں رائے بنی لیکن مستقل حل نہیں نکلا ۔3 سال سے الگ تھلگ کئے گئے پوتن کو ٹرمپ نے نہ صرف کھلے دل سے خیر مقدم کیا بلکہ ریڈ کارپیٹ بچھاکر ان کا کھلے طور پر ان کی عزت افزائی بھی کی ۔حالانکہ جس مثلے کےلئے یہ اہم میٹنگ ہوئی تھی اس پر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ پایا ۔ٹرمپ - پوتم ملاقات سے یوکرین مثلے پر کوئی فوری حل نہیں نکلا باوجود ییہ ملاقات خاص رہی ۔روس کے یوکرین پر حملے اور جنگی جرائم کے الزامات کے چلتے پوتن مغربی دنیا سے الگ تھلگ پڑ گئے تھے ۔
اس ملاقات نے انہیں اچانک دنیا کے مرکز میں واپس لا دیا امریکہ کے فوجی اڈے پر دونوں لیڈروں کا ساتھ کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی تعریف کرنا ، بات چیت کرنا اور یہاں تک کے ٹرمپ کی لیوجن میں ساتھ بیٹھنا یہ سب ایسے منظر تھے جو امریکہ روس تعلقات کی تاریخ میں کم ہی دیکھے جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے میڈیا ایک پریس کا نفرنس کی امید کر رہی تھی لیکن دونوں لیڈروں نے صرف بیان ہی دیئے اور کسی سوال کا جواب نہیں دیا ۔ ٹرمپ نے امید جتائی تھی اور یہاں تک کے دعوی کیا تھا کے وہ روس یوکرین جنگ کو رکوا دیں گے ۔ حالانکہ پوتن نے بھی بھی اسے قبول نہیں کیا۔ پوتن کے لئے یہ ملاقات کسی چیت سے کم نہیں تھی ۔ بغیر کوئی ریاست دیئے انہیں دنیا کی سب سے طاقتور کرسی سے عزت اور اعزاز ملا۔ اس پوری کوشش میں یوکرین کا رول حاشیہ پر رہا اس میٹنگ کے لئے یوکرین کے صدر ولادیمیر ۔ ریلیکسی کو مدعو تک نہیں کیا گیا ۔ الاسکا میں ٹرمپ ۔ پوتن ملاقات کو عالمی میڈیا امن کی سمت میں بہت بھروسے کے ساتھ نہیں دیکھ رہا ہے ۔ روسی میڈیا نے پوتن کی حکمت عملی جیت کا ثبوت مانا یوروپی میڈیا نے امید اور خدشات دونوں جنائے ۔ وہیں عالمی ماہرین اور گھریلوں امریکہ سیاسی حلقوں میں بحث کا بڑا حصہ ٹرمپ کا شخصی کردار اور ان کا مسخری لیڈر جیسی ساخ پر مرکوز رہا۔ نیو یارک ٹائمس نے غیر متوقع شش و میچ کا رخ اپناتے ہوئے ساخ پر سوال مرکوز رہا۔ کیا بات چیت صرف فوٹو اور آپ اور طویل سرخیوں میں تھا حقیقت میں جنگ بندی کی سمت میں ٹھوس قدم ؟ امریکی خفیہ اور ڈفنس حلقوں میں خدشہ ہے کے پوتن نے میٹنگ کا استعمال عالمی اسٹیج پر اپنی ساکھ بہتر بنانے اور یہ دکھانے کے لئے کیا کے امریکہ دراصل روس سے بات چیت کرنے پر مجبور ہوا۔ واشنگٹن پوسٹ نے سیاسی دباؤ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کے ٹرمپ کا موڈ پر مبنی قیادت امریکہ کی طویل المدت سیاست حکمت عملی کو کمزور کر رہا ہے ۔ دونوں اخباروں نے لکھا کے ٹرمپ کے فیصلے ان کے موڈ پر منحصر ہیں ۔ آج خوش ہیں تو امن کی بات کریں گے کل غصہ میں ہو توں پلٹ جائے گے۔ ایم ایس این وی نے ٹرمپ کو ریلٹی شو کا میزبان استار قرار دیا کہا تو بل کی چاہ میں ایک بریکار لیڈر اور عالمی اسٹیج پر کوئی ڈرامہ کر سکتا ہے قرار دیا ٹرمپ عالمی اسٹیج پر عالمی سیاست کو شو مین شپ میں بدل رہے ہیں سی این این نے کہا ٹرمپ امن کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن ان کا غیر متوقع رکھ سب پر بھاری ہے و ہیں برطانوی اخبار دا گارجین نے بات چیت کو سیاسی بد سمتی بتایا ۔ لکھا بات چیت ایسے وقت ہوئی جب آرتھک خطہ میں روس امریکہ اور آرتک سیاست میں نرمی کا اشار و لگتا ہے۔ اخبار گارجن نے خبردار کیا ٹرمپ کی غیر متوقع ڈپلومیسی سے بات چیت نتیجہ بھرو سے مند نہیں مانے جا سکتے ۔ ادھر روس کے اختبار از دیسٹیا نے لکھا کے ٹرمپ کو ماننا پڑا کے پوتن بغیر یوکرین کا مستقبل طے نہیں ہو سکتا اور اسے کمزور نہ دیکھے روس کی ڈپلومیسی واپسی بتایا ۔ ٹی وی چینل کی بھی آرٹی نے دی میٹنگ کو پوتن کی مضبوطی اور صبر کا نتیجہ قرار دیا اتنا تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس میٹنگ میں بلا شبہ ولادیمیر پوتن کو عالمی سفارتی کا ایک منجھا ہوا کھلاڑی بنا دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کے روس یوکرین جنگ میں جو برف کھلنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے یا الگ ہے۔
(انل نریندر )
17 اگست 2025
ٹرمپ ٹیرف سے ایکسپورٹ پر سنکٹ!
مرکزی حکومت کے چیف اقتصادی مشیر اننت نگیشورن نے کہا ٹرمپ ٹیرف کا اثر 6مہینے سے زیادہ رہنے والا نہیں ہے۔انکا کہنا تھا لانگ ٹرم چیلینج کےلئے پرائیویٹ سیکٹر کو اہم تعاون دینا ہوگا۔ناگیشورن نے خبر دار کیا کہ 6مہینے کے اندر جیمس اینڈس جیولری ،کپڑا اور سی فوڈ انڈسٹری کوبڑے ہوئے ٹیرف کا مقابلہ کرنا ہوا۔ٹرمپ ٹیرف کا ہندوستان کی معشت پر خاص کر کچھ سیکٹروں میں توا بھی سے برا اثر پرنا شروع ہو گیا ہے۔دینک بھاسکر میں چھپی خبر کے مطابق ہندستانی چیزوں پر امریکہ کے بھاری بھرکم 25فیصد ٹیرف نے دیش کے کئی اہم درامدات صنعتوں کے سامنے نیا بحران کھڑا کر دیا ہے ۔اسکا اثر 55فےصد اکسپورٹ پر پڑے گا رےاستےوں کے سامنے بھی نئی چنوتےاں کھڑی ہو گئی ہےں۔ہالانکہ ٹےرف کا اثر سبھی سےکٹروں میں برابر نہےں ہے ،لےکن کہیں پورانے سودوں پر سنکٹ ہے تو کہیں مستقبل مےں آڈر کےنسل ہونے کا اندےسہ بڑھ گےا ہے۔چاول برآمدات کرنے والوں کی پرےشانی بڑھ گئی ہے بھارت تقرےبا 127ملکوں کو 60لاکھ ٹن بانسمتی چاول فروخت کرتا ہے۔اس مےں سے قرےب 2.70لاکھ ٹن ےعنی 4فےصدی چاول امرےکہ کو جاتا ہے۔اس برآمدات مےں قرےب 40فےصدی حصہ ہرےانہ کہ تراوڑی (کرنال)سے جاتا ہے۔آل انڈےا رائس ایکسپورٹ حکام کا کہنا ہے اگر امرےکہ کو بانسمتی چاول بھیجنا نہےں ہوتا تو بھی بڑا نقصان نہےں ہونے والا ہے۔2.70لاکھ ٹن چاول دوسرے ملکوں مےں کھپانہ مشکل نہےں ہوا۔ فی الحال چاول ایکسپورٹ وےٹ اےڈ واچ کی صورت حال مےں ہے کےوںکہ اس سال کا کوٹا پورا ہو چکا ہے۔وہی پانی پت نارتھ انڈےا کا بڑا ٹےکسٹائل حب ہے جہاں سے ہر سال قرےب 20ہزار کروڑ روپے کا کپڑا باہر جاتا ہے اور اس مےں سے ادھا 10ہزار کروڑ تک کا کاروبار اکےلے امرےکہ سے ہوتا ہے۔باہر بھےجنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ امرےکہ کے ٹےرف بڑھانے سے 500کروڑ روپے کے پرانے آرڈر پر مشکل آ گئی ہے۔نئے آرڈر نہےں مل رہے ہےں کچھ اےکسپورٹر پہلے سے بھانپ کئے ہےں ۔اےسے مےں نہوں نے امرےکہ سے بڑے آرڈر لےنا بند کر دےئے ہےں اور سامان مےں بھی کٹوتی کر دی ہے۔ سنگاپور کے ذرےعہ امریکہ سے تجارت کی گنجائش ہے۔برطانےہ سے باہمی تجارت محاہدے سے کچھ فائدہ مل سکتا ہے۔پانی پت مےں3500ہزار کپڑا کارخانے ہےںجن مےں 500سو ایکسپورٹ ہاو ¿س ہےں اور ان مےں 2.5لاکھ لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔ نئے آرڈر نہ ملنے پر مزدوروں کی روزی روٹی پر برا اثر بڑے گا۔جمو کشمےر مےں ہےنڈ لوم و دستکاری( خاص کر شال )نے گزشتہ 3برسوں مےں اےکسپورٹ مےں قابل قدر ترقی کی ہے۔ٹےرف کے بعد کارو باری چوکس ہو گئے ہےں۔جمو کشمےر شال اےکسپورٹ اسوسی اےشن نے کہا امرےکہ مال مہنگا ہوگا لےکن کوئی آرڈر ابھی تک کےنسل نہےں ہو ا ہے۔ ہمارے لئے دوسرے ملکوں کے بازار کھلے ہوئے ہےں اگر امرےکہ مےں مانگ گھٹی تو اےکسپورٹ کو دوسرے ملکوں کے بازاروں مےں موڑ دےنگےں۔کمرشےئل خفیہ و ٹےلی محکمہ و جمو کشمےر اقتصادی سروے سے کل اےکسپورٹ 3سال مےں بڑ کر 2023-24مےں 1162کروڑ پہنچ گےا اس مےں سال کا کروبار 477.24کروڑ تھا ادھر روہتک کا نےٹ برسلےٹ صنعت سالانہ 5000کروڑ کا کاروبار کرتی ہے اس مےں سے 70فےصد تجارت امرےکہ سے ہوتی ہے۔اگر نےا ٹےرف لاگو ہوتا ہے تو نا صرف سپلائی متاثر ہوگی بلکہ کاروبار بھی سنکٹ مےں آ جائے گا۔پرےشانی کی بات ہے کہ کچھ کمپنےوںکو 2مہےنوںسے کوئی آرڈر نہےں ملاہے۔مستقبل مےں جو آرڈر ملنے ہےں انکی سپلائی پر ٹےرف کا آثر نظر آئے گا۔زےادہ ٹےرف سے صنعتی کارخانوں کےلئے دنےا کے بڑے بازاروں مےں مال بےچنا مشکل ہو جائے گا۔کےوں کہ پروڈکشن سامان 25فےصد تک مہنگا ہو جائے گا۔اس کا اثر کمپنی پر سےدھا نہ پڑ کرگراہک پر پڑے گا اےک تاجر جسمےر لاٹھا نے بتاےا کہ ہم امرےکہ ،برطانےہ ،ےوروپ مےں نئے بولٹ کی سپلائی کرتے ہےں۔ٹےرف کے سبب قرےب 50کروڑ روپے کے آرڈر بک ہوئے ہےں۔ہمارا 70فےصدی نٹ بولٹ امرےکہ کو جاتا ہے اس پر پہلے کسٹم ڈےوٹی 3فےصد تھی جو اب بڑھ کر اب 25فےصدی ہو گئی ہے ےہ پچھلے 40-50برسوں مےں بہت زےادہ ہے اسکے علاوہ 25فےصد ٹےرف بھی ہے اس سے ہماری چےزےں کافی مہنگی ہو جائے گی ۔ےہاں کے صنعت کاوروں کا کہنا کہ مےں نے تو ےہ صرف ہرےانہ کی صنعتوں اور اےکسپورٹوںکی بات کی ہے ۔باقی دےش مےں بھی صنعتےں مطاثر ہوگی اور لاکھوں کام کرنے والے بے روزگار ہونے کے دہانے پر کھڑے ہےں پہلے سے ہی بے روز گاری انتہا پر ہے اس نئے دھماکہ کا کا اثر پڑے گا جلد پتہ چل جائے گا۔
(انل نرےندر)
14 اگست 2025
عاصم منیر کی کھلی دھمکی!
امریکہ کے شہر فلوریڈہ میں پاکستانی فوج کے چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی سرزمین سے بھارت کو دھمکی بھرا بیان دیا ہے ۔کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں اس لڑائی کے تین مہینے بعد اب پاکستانی فوج کے چیف کا بیان سامنے آیا ہے ۔منیر نے دعویٰ کیا ہے کہ مئی میں ہوئی لڑائی میں پاکستان کو کامیابی ملی تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بھارت ورلڈ گرو بننے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے ۔عاصم منیر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سنیچر اور اتوار کو آپریشن سندھور پر ہندوستانی زمینی فوج اور ایئر فورس سربراہوں کے الگ الگ بیان سامنے آئے ہیں ۔پہلے بتادیں کہ ہندوستانی تھل سینا کے چیف جنرل اوپندر دویدی جی نے کیا کہا تھا ان کا کہنا تھا پہلگام حملے کے جواب میں بھاجپا میں چلائی گئی آپریشن سندھور کسی روایتی مشن سے الگ تھا ۔سنیچر کو انڈین ایئر فورس کے چیف ایئر مارشل اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ مئی میں ہوئی لڑائی کے دوران بھارت نے چھ پاکستانی جہازوں کو مار گرایا تھا ۔حالانکہ اسی روز پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ عاصف نے بیان جاری کر اس کی تردید کی تھی۔10 مئی کو جنگ بندی پر رضامندی بننے کے بعد فائرنگ تھم گئی تھی اس وقت پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی جہاز گرانے کا دعویٰ کیا تھا جسے بھارت نے سرے سے مسترد کر دیا تھا۔فلوریڈہ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک پرائیویٹ پروگرام میں دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بھارت کے امتیازی اور دہرے برتاو¿ والی پالیسیوں کے خلاف ایک کامیاب ڈپلومیٹک جنگ لڑی ہے ۔انہوںنے الزام لگایا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را بین الاقوامی دہشت گردی میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کنیڈا میں ایک سکھ نیتا کے قتل ،قطر میں آٹھ بحری حکام کا معاملہ اور کلبھوشن جادھو جیسے واقعات کی مثال دی ۔غور طلب ہے کہ بھارت پہلے ہی سبھی الزامات کی تردید کر چکا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بے حد مشکورہے جن کی سیاسی لیڈر شپ نے نہ صرف بھارت پاک جنگ کو روکا بلکہ دنیا میں کئی مسئلوں کو بھی روکا۔فیلڈ مارشل منیر نے اپنی تقریر میں کشمیر کو ایک ادھورا یجنڈہ بتایا ۔منیر یہیں نہیں رکے انہوں نے بھارت کو کھلی دھمکی دے ڈالی ۔منیر نے کہا اگر بھارت نے سندھو ندی کا پانی روکنے کے لئے باندھ بنایا تو ہمارے پاس میزائلوں کی کمی نہیں ہے ہم دس میزائل مار کر باندھ کو اڑا دیں گے۔منیر نے کہا ہم بھارت کے سندھو ندی پر ڈیم بنانے کا انتظار کریں گے اور جب وہ ایسا کریں گے تو ہم دس میزائلوں سے اسے تباہ کر دیں گے ۔پاکستان کے فیلڈ مارشل منیر یہ گیدڑ بھپکی بھی دینے سے نہیں چوکے کہ اگر مستقبل میں بھارت کے ساتھ جنگ میں ان کے دیش کے وجود کو خطرہ ہوا تو وہ اس پورے خطہ کو نیوکلیائی جنگ میں جھونک دیں گے۔منیر نے کہا کہ ہم نیوکلیائی کفیل ملک ہیں اور اگر ہمیں لگتاہے کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو ہم آپ کی دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے ۔منیر کا یہ بیان اس لحاظ سے سنسنی خیز ہے کہ پہلی بار امریکی سرزمین سے کسی تیسرے دیش کو نیوکلیائی جنگ کی دھمکی دی گئی ہے ۔پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر نے جس طرح کھل کر نیوکلیائی جنگ کی دھمکی دی ہے اسے سنجیدگی سے لیاجانا چاہیے اس پر اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے بہرحال اس سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہی ہے کہ پاکستان کے پاس نیوکلیائی پاور ہونا صرف بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔یہ تکلیف دہ ہے کہ منیر کا یہ بیان امریکی سرزمین سے آیا ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب کسی نے امریکی سرزمین سے لے کر کسی تیسرے دیش کے لئے اس طرح کی دھمکی بھرے لفظوں کا استعمال کیا ہے ۔یہ بھی پہلی بار ہے جب کسی فوجی سربراہ نے کہا کہ ضرورت پڑھنے پر نیوکلیائی ہتھیار کا بھی استعمال کر سکتا ہے ۔منیر کے بیان کا ہندوستانی وزارت خارجہ نے صحیح جواب دیا کہ جس دیش میں فوج دہشت گردی گروپوں کے ساتھ ملی ہو وہاں نیوکلیائی کمان اور کنٹرول کے بھروسہ پر شبہہ ہونا فطری ہے ۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کسی نیوکلیئر بلیک میل کے آگے نہیں جھکے گا ۔آپریشن سندھور کے دوران بھی سرکار کا یہی رخ تھا ۔منیر کے بیان کا استعمال بھارت کو پاکستان پر بین الاقوامی دباو¿ بڑھانے اور اس کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے لئے کرنا چاہیے ۔بھارت کو امریکی سرکار سے یہ پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی سرزمین کا ایسے بیہودہ ،دھماکو ،بھڑکاو¿ بیان دینے کی اجازت کیسے دی؟
(انل نریندر)
12 اگست 2025
ووٹ چوری پر آر پار کی لڑائی!
لوک سبھا چناو¿ کے 14 ماہ بعد ایس آئی آر اور ووٹ بندی کے مسئلے پر اپوزیشن کو متحد کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔بھارت میں سیاست اس وقت ٹاپ گیئر پر ہے ۔یہ صحیح ہے کہ بھارت جیسے بڑے دیش میں چناو¿ کروانا آسان نہیں ہے ۔یہی نہیں بھارت میں اتنے چناو¿ ہوتے ہیں جو چناو¿ کمیشن کی صلاحیت کو چنوتی ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت کاچناو¿ کمیشن کافی حد تک ایک آزاد اور منصفانہ چناو¿ کرانے میں کامیاب رہا ہے ۔ووٹ کرنا ہر ووٹر کا آئینی اور جمہوری حق ہے ۔یہ بھی ضروری ہے اس کا ووٹ اسے ہی ملے جسے اس نے ووٹ دیا ہے ۔جب یہ اندیشہ پیدا ہو جائے کہ اس کا ووٹ دیا کسی کو اور گیا کہیں اور تو بڑا شبہ اور مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔کسی بھی دیش میں جمہوریت کی مضبوطی اور بھروسہ مندی اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ اس میں سرکار کو چنے جانے کی کھاناپوری کتنی صاف اور آزادانہ اور شفاف پر مبنی ہے اس کے لئے چناو¿ منعقد کرنے والے ادارے کو یہ یقینی کرتا ہوتا ہے کہ کوئی بھی شہری ووٹ دینے کے حق سے محروم نہ رہے ۔پولنگ کی پوری کاروائی شفاف و چناو¿ میں حصہ داری لینے والی سبھی پارٹیوں کے لئے بھروسہ مند ہو اور نتیجوں کو لے کر سبھی فریق مطمئن ہوں ۔کانگریس نیتا اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے حال ہی میں کرناٹک کے ایک اسمبلی حلقہ کا ڈیٹا رکھتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ میں گڑ بڑی ہوئی ہے ۔دستاویز کا ڈھیر میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ میں فہرست چناو¿ کمیشن کے ذریعے دستیاب ووٹر لسٹ کے ڈھیر سے نکلی ہے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی چوری ہوئی ہے ۔پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے چناو¿ کمیشن پر سنگین الزام لگائے اور دعویٰ کیا کہ لوک سبھا چناو¿ مہاراشٹرا ور ہریانہ اسمبلی کے چناو¿ میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانہ پر دھاندلی کی گئی ۔ثبوتوں کے ساتھ راہل گاندھی نے ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ووٹر لسٹ میں گڑ بڑی ،فرضی ووٹر ،غلط پتے ،ایک پتے پر کئی ووٹر ایک ووٹر کا نام کئی جگہ فہرست میں ہونے جیسے کچھ خاص طریقوں پر مبنی ووٹ چوری کرنے کے اس ماڈل کو کئی چناوی حلقوں میں عمل میں لایا گیا تھا تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ مل سکے ۔حالانکہ چناوی گڑ بڑیاں ای وی ایم میں کھیلے کی شکایتیں توپہلے بھی آتی رہی ہیں لیکن عام طور پر وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکیں یا پھر الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں بے بنیاد قراد دیاجاتا رہا ہے ۔اب اس بار جس سنگین شکل میں اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے اس کے بعد دیش بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے اگر ان الزاما ت کا مضبوط بنیاد ہے تو اس سے ایک طرح سے پورے چناوی عمل کے جواز کو کٹھگرے میں کھڑا ہوتا ہے ۔اس مسئلے پر چناو¿ کمیشن نے فی الحال کوئی تشفی بخش جواب دینے کے بجائے راہل گاندھی سے حلف نامہ پر دستخط کر دینے کی ہدایت دینے یا پھر دیش کی عوام کو گمراہ نہ کرنے کو کہا ہے مگر راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا دعویٰ کرتے ہوئے جس طرح اپنے الزامات کو ثبوتوں کی بنیاد پر رکھا ہے اس کے بعد چناو¿ کمیشن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ پورے چناوی عمل پر بھروسہ کو بحال رکھنے کے لئے شفافیت کے ساتھ اس سلسلے میں اٹھے سوالوں کا جواب سامنے رکھے ۔بہرحال اس الزام کی سنجیدگی کو سمجھنا ضروری ہے ۔دو کمروں میں 80/46 لوگ کیسے رہ سکتے ہیں ۔ان میں تمام ووٹروں کی تصوروں کے سائز میں کتنے چھوٹے ہیں پہچان کرنا مشکل ہے ان الزامات کی تصدیق بغیر کسی الزام یا نکتہ چینی کے کرنی چاہیے ۔ووٹر لسٹ کے تئیں کمیشن کااپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا ۔جو بھی کمیاں سامنے آتی ہیں ان کے بارے میں صاف طور سے پبلک طور پر جواب دینا چاہیے ۔سوال الزمات در الزامات کا نہیں ہے سوال دیش میں آئین کی حفاظت کا ہے جس کی حفاظت تبھی ہو سکتی ہے جب ہر شہری کو اپنے ووٹ دینے کاحق اور اس کے ووٹ اسے ہی جائے جسے اس نے دیا ہے ۔ہماری جمہوریت کی جڑیں آزاد اور منصفانہ اور شفاف چناو¿ ہے مگر اس میں بھی ہیر پھیر ہوتا ہے تو ہمارے آئین و جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔امید ہے کہ چناو¿ کمیشن اٹھے سوالوں کا تسلی بخش جواب دے گا اور چناوی عمل کو مضبوط اور شفاف بنائے گا ۔
(انل نریندر)
09 اگست 2025
بہار ووٹر لسٹ پر ٹکراو!
بہار ووٹر لسٹ جانچ یعنی ایس آئی آر کا معاملہ پارلیمنٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک فطری طور پر گرمایاہوا ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے بہار میں جاری ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لے کر پارلیمنٹ میں اسے ووٹوں کی چوری قرار دیا ہے ۔اور کہا کہ اس موضوع پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کرانا ملک کے مفاد کے لئے ہے۔اور اگر سرکار ایس آئی آر پر بحث کرانے کے لئے تیارنہیں ہوتی تو سمجھا جائے گا کہ وہ جمہوریت اور آئین میں یقین نہیں رکھتی ۔وہیں وزیرپارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا کہ بہار میں ووٹرلسٹوں کے خاص طریقہ پر جانچ (ایس آئی آر) کا اشو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لوک سبھا کے کام چلانے اور کاروائیوں کے قواعد و اس کی حکمت عملی کے تحت اس مسئلے پر بحث نہیں ہوسکتی ۔ادھر سپریم کورٹ نے خود ووٹر لسٹ کی جانچ کے اشارے دیے ہیں ۔بہار میں نئی ووٹر لسٹ میں قریب 65 لاکھ لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں اور سپریم کورٹ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں کے نام صحیح ڈھنگ سے کٹے ہیں یا نہیں ؟ بتادیں کہ اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی جانب سے دائر عرضی میں ووٹر نظر ثانی کو چیلنج کیا گیا تھا ۔اسی عرضی کے تحت سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھوار کو چناو¿ کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ تین دن کے اندر چناو¿ کمیشن کو ہٹائے گئے ناموں کی تفصیل پیش کرنی ہے ۔اس کے لئے 9 اگست تاریخ طے کی گئی ہے ۔جسٹس سوریہ کانت ،جسٹس اجول بھوئیاں اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ووٹر لسٹ میں ہٹائے گئے ووٹروں کی تفصیل دیں ۔ایک این جی او کو بھی دیں ۔بہار میں گہری جانچ پڑتال کے احکامات کو چنوتی دینے والی این جی او اے ڈی آر نے ایک نئی درخواست دائر کی ہے اس میں چناو¿ کمیشن کو ہٹائے گئے 65 لاکھ ووٹروں کے نام شائع کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے ۔اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ تفصیل میں یہ بھی ذکر ہو کہ ہٹائے گئے ووٹر مرچکے ہیں یا مستقل طور پر کہیں اور چلے گئے یا کسی دیگر وجہ سے ان کے نام پر غور نہیں کیا گیا ہے ۔بنچ نے این جی او کی جانب سے پیش وکیل پرشانت بھوشن سے کہا نام ہٹانے کی وجہ بعدمیں پتہ چلے کیوں کہ یہ ابھی مسودہ لسٹ ہے ۔اس پر وکیل بھوشن نے دلیل دی کچھ پارٹیوں کو ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست دی گئی ہے لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ ووٹر کی موت ہو گئی یا وہ کہیں اور چلے گئے ہیں ۔چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کہا یہ ریکارڈ پر لائیں گے ۔یہ جانکاری سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ شیئر کی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا بی ایل او نے جن کے نام ہٹانے یا نہ ہٹانے کی سفارش کی ان کی فہرست صرف دو چناو¿ حلقوں میں ہی جاری ہوئی ہے ۔ہم اس میں شفافیت چاہتے ہیں اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ کمیشن کے قواعد کے مطابق ہر سیاسی پارٹی کو یہ جانکاری دی جاتی ہے کہ کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کی فہرست مانگی ۔جنہیں لسٹ دی گئی ہے بھوشن نے کہا جن لوگوں کے فارم ملے اس میں زیادہ تر نے فارم ہی نہیں بھرے ہیں اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم یہ یقینی کریں گے کہ جن ووٹروں پر اثر پڑ سکتا ہے انہیں ضروری جانکاری دی جائے ۔اس کے بعد کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس بارے میں سنیچر تک جواب دینے کی ہدایت دی ۔ساتھ ہی کہا کہ وکیل بھوشن (اے ڈی آر)اسے دیکھیں اور پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا خلاصہ کیا گیا ہے اور کیا نہیں کیا گیا ۔کورٹ نے کہا کہ اے ڈی آر 12 اگست کو ہونے والی سماعت میں دلیلیں دے سکتا ہے بتادیں کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر وسیع پیمانہ پر نام ہٹائے گئے تو وہ مداخلت کرے گی ۔سیاسی پارٹیوں کی تشویش جائز ہے لیکن یہ تشویش ہر پارٹی کو ہونی چاہیے ،صرف اپوزیشن پارٹیوں کو ہی نہیں اس میں کوئی دورائے نہیں کہ چناو¿ کمیشن کی جلد بازی کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہو گیا اگر درکار وقت لے کر نظر ثانی کا کام کیا جاتا تو ممکن ہے تنازعہ کی گنجائش نہ ہوتی ۔بہرحال جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ چناو¿ کمیشن سب سچ سامنے رکھے اور ووٹ کا حق ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا ۔اسی حق پر جمہوریت ٹکی ہوئی ہے ۔اگر کوئی سیاسی پارٹی کسی بھی طرح سے بے ایمانی کرکے چناو¿ نتیجہ کو اپنے حق میں کراتی ہے تو دیش کی جمہوریت کی جڑیں کھود رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ عزت مآب سپریم کورٹ جو بھارت کے آئین کی سب سے بڑی سرپرست ہے وہ انصاف کرے گی اور غیر جانبدار ہو کر دلائل کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...