Translater
05 جولائی 2024
راہل گاندھی کا زندگی کا سب سے عمدہ بھاشن!
لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے پیر کے روز اپنی زندگی کا سب سے عمدہ بھاشن دیا انہوںنے اپنے تلخ تیور دکھاتے ہوئے بنا مشتعل حاضر جوابی سے سرکار اور وزیراعظم پر تلخ حملے کئے ۔سلسلے وار بولتے ہوئے تقریباً 1 گھنٹا 42 منٹ طویل تقریر میں انہوںنے مودی سرکار کو دھو ڈالا ۔انہوںنے کئی اہم ترین اشو اٹھائے سب سے پہلے ہم اس اشو کی بات کرتے ہیں جس پر وزیراعظم اور تمام بھاجپا نیتا تل ملا اٹھے ہیں اور کہہ رہے ہیں کے راہل گاندھی نے تمام ہندوﺅ کو ہنسک کہا ہے ۔جو برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔بھاجپا کا آئی ٹی سیل اس کو اچھال رہا ہے اور ہندو مخالف مہم چلائے ہوئے ہے ۔دراصل راہل گاندھی نے کیا کہا تھا ؟ہمارے بڑے مہاپرشوں نے یہ سندیش دیا ڈرو مت ڈرائے مت شواجی کہتے ہیں ڈرو مت ڈراﺅ مت ترشول کو زمین میں گاڑھ دیتے ہیں دوسری طرف جو لوگ بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں وہ24 گھنٹے ہنسا - ہنسا -ہنسا - نفرت - نفرت - نفرت- آپ ہندو ہو ہی نہیں ۔ہندو دھرم میں صاف لکھا ہے ،سچ کا ساتھ دینا چاہئے ۔راہل نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آگے کہا نریندر مودی اور آر ایس ایس پورا ہندو سماج نہیں ہے ۔ہندو دھرم میں صاف لکھا ہے کے سچ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے سچائی سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہئے ادم تشدد ہماری پہچان ہے ۔اس پر وزیراعظم کھڑے ہو گئے جو عام طور پر کبھی کھڑے نہیں ہوتے ۔بولے پورے ہندو سماج کو ہنسل کہنا یہ بہت سنگین اشو ہے ۔اس پر راہل گاندھی کی حاضر جوابی دیکھئے وہ بولے نہیں نہیں نہیں میں ہندو سماج کو ہنسل نہیں کہہ رہا ۔مودی جی بی جے پی آر ایس ایس پورا ہندو سماج نہیں ہے یہ ٹھیکہ بھاجپا کا نہیں ہے ۔راہل نے بھگوان شیو کی ابھئے مدرا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کے اسلام ،سکھ ایسائی ،بودھ،جین سبھی مذاہب میں یہ مدرا نظر آتی ہے ۔راہل گاندھی نے ایودھیا میں بھاجپا کی ہار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کے بھگوان شری رام نے بھاجپا کو ایک سندیش دیا ہے ۔انہوںنے ایودھیا سے سپا ایم پی اودھیش پرساد کے ساتھ ابھی بات چیت کا بھی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا نریندر مودی نے ایودھیا سے چناﺅ لڑنے کے لئے دو بار سروے کرایا سروے کرنے والوں نے ایودھیا سے چناﺅ لڑنے کے لئے انہیں منا کر دیا ۔اور کہا ایودھیا کی جنتا ہرا دے گی اس لئے نریندر مودی وارانسی چلے گئے اور وہا سے بھی بچ کر نکلے راہل نے اگنی ویر یوجنا کی اشو اٹھاتے ہوئے کہا ایک بارودی سرنگ سے ایک اگنی ویر شہید ہوا ۔میں اسے شہید کہہ رہا ہوں لیکن بھارت سرکار اور نریندر مودی سے اسے شہید نہیں کہتے اسے اگنی ویر کہتے ہیں ۔اسے پینشن نہیں ملے گی اسے معاﺅضہ نہیں ملے گا نا ہی اسے شہید کا درجہ ملے گا ۔اس پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کھڑے ہو کر کہا کے غلط بیانی سے پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔کسانوں کا اشو اٹھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کے سرکار کو اتنا غرور ہو گےا ہے کے کسانوں کو آتنک وادی تک کہہ دیا گیا ہم کسان آندولن میں شہید ہوئے لوگوں کو شردھانچلی دینے کے لئے ایک منٹ کی خاموشی رکھنا چاہتے تھے لیکن آپ نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کے وہ آتنک وادی ہیں ۔انہیں آج تک ایس پی کی گارنٹی نہیں دی گئی ۔اس پر شیوراج چوہان نے کھڑے ہوکر کہا پیداوار کی لاگت پر فیصد جوڑکر ایم ایس پی دی جا رہی ہے اور اگر نہیں دی جا رہی ہے تو اس کی تصدیق کریں یہ تو غلط بیانی کر رہے ہیں ۔راہل گاندھی نے نسلی تشدد بھڑکنے کے بعد منی پور کا دورہ نہیں کرنے کےلئے پی ایم پر نقطہ چینی کی اور پی ایم کے لئے منی پور بھارت کی ریاست نہیں ہے ہم نے پی ایم سے ایک سندیش دینے کے لئے منی پور جانے کی درخواست کی تھی انہوںنے جواب نہیں دیا ۔راہل گاندھی نے میڈیکل نیٹ یو جی کے مبینہ خامیوں کاذکر کتے ہوئے الزام لگایا کے اس سرکار نے ایک پیشیور امتحان کو کمرشیل ٹیسٹ میں بدل دیا ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کے اس طلبہ کو نیٹ امتحان پر بھروسہ نہیں رہا اور انہیں لگتا ہے کے اسے امیر گھروں کے طلبا کی مدد کے لئے تیار کیا ہے ۔راہل گاندھی نے مودی پر خوف کا انتظامیہ بھی جلانے کا الزام لگایا بھاجپا نے سبھی ایجنسیوں ،اداروں اور میڈیا پر قبضہ کرکے سماج کے ہر طبقہ میں ڈر پھیلانے کا کام کیا ہے۔جس نے اقتدار فنڈ کے سینٹرالائیزیشن و غریبوں دلتوں اقلیتوں جاریہانہ آئیڈیالوجی کی بھی مخالفت کی تو اسے کچل دیا گیا ۔راہل گاندھی اب فرنٹ فٹ پر کھےلے گے جس طرح سے راہل گاندھی پیش آئے یہ اشارہ ہے کے اب اپوزیشن لوک سبھا میں چپ نہیں بیٹھے گی ۔جس طرح سے انہوںنے بی جے پی پر حملہ کیا پردھان منتری اتنا بھڑک گئے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا وہ 2 بار کھڑے ہوئے امت شاہ 3 بار کھڑے ہوئے آخری بار تو انہوںنے غصہ کے لہجے میں اسپیکر اوم برلا سے درخواست کر ڈالی کے آپ قواعد کونظر انداز کرکے چھوٹ دے رہے ہیں ہماری سرپرستی کریں راج ناتھ سنگھ اٹھے ،شیو راج سنگھ چوہان اٹھے ،تمام ایم پی اٹھے اور ہنگامہ کیا لیکن راہل بنا آپا کھوئے لگاتار بولتے چلے گئے ۔راہل گاندھی کی تقریر کے کچھ حصوں کو لوک سبھا ریکارڈ سے پیشک ہٹا دیا گیا ہو ۔یہ اپوزیشن کے لئے بیشک اچھا اشارہ ہے کے انہوںنے راہل گاندھی کو بطور لیڈر اپوزیشن چنا جن کو پہلے بی جے پی پپو پپو کہہ کر چھیڑا کرتی تھی وہ اب فرنٹ فٹ پر بیٹنگ کر رہے ہیں اور پہلے ہی تقریر میں حکمرا فریک کو تارے دکھا دئے ۔(انل نریندر)
04 جولائی 2024
بہار میں دھڑا دھڑ گرتے پل !
بہار میں دھڑا دھڑ پل گررہے ہیں ۔پل ڈھنے کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے ۔بہار میں پہلی برسات میں ہی یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔تازہ معاملہ کشن گنج ضلع کے گوندھ ندی پر بنے پل کا واقعہ سامنے آیا ہے ۔یہ پل 30 میٹر لمبا اور 10 میٹر چوڑا ہے ۔ندی پر بنے پل کا ایک پایہ پانی کے تیز دباو¿ کے سبب اتوار کو تقریباً 2 فٹ نیچے تک دھنس گیا ۔یہ پل گشن گنج ضلع کے قومی شاہران این ایچ 327- کی ہوتے ہوئے بنگال سے جڑتا ہے ۔دیہی امور محکمہ کے ڈویژنل اسسٹنٹ انجینئر آلوک بھوشن نے جانچ کے بعد بتایا کہ پل کی تعمیر مالی سال 2010 میں قریب 35 لاکھ روپے کی لاگت سے ہوئی تھی ۔بہار میں 12 دنوں میں یہ چھٹا پل دھنسا ہے ۔بہار میں گزشتہ 18 جون کو سب سے پہلے ارریا ضلع میں سکی ڈویژن میں ایک پل گرا تھا ۔یہ پل ارریا کے ہی دو بلاک سکی کے اور گوندی کانٹا کو جوڑنے کے لئے بنایا گیا تھا ۔بارش کے دباو¿ سے ندی کی آبی سطح بڑھ گئی تھی اور پل اس کا دباو¿ جھیل نہیں پایا اور افتتاح سے پہلے ہی گر گیا ۔یہ پل اگر بن جائے تو لاکھوں کی آبادی کو فائدہ ہوگا ۔بہار میں اسی سال مارچ میں سفیل میں کوشی ندی کے اوپر بن رہے پل کا ایک حصہ گرا تھا اس میں کم سے کم ایک مزدور کی موت اور دیگر 10 زخمی ہو گئے تھے اس کے بعد 22 جون کو سیوان میں گندک نہر پر بنی پولیا ڈھہہ گئی ۔مہاراج گنج اور دروندا کو جوڑنے والی پلیا 34 سال پرانی تھی ۔یہ 20 فٹ لمبی تھی ۔گندق نہر میں پانی آیا اور یہ بھڑ بھڑا کر گر گئی اچھا یہی تھا کہ پولیس سے اس وقت کوئی گزر نہیں رہا تھا ۔22جون کی رات کو مشرقی چمپارن کے ڈھوڈا صحن ڈویژن کے امباءمیں زیر تعمیر پل گر گیا ۔1.60 کروڑ کی لاگت سے بن رہا یہ پل امبواءسے مین پور اسٹیشن جانے والی سڑک پر بن رہا تھا۔عالم یہ تھا کہ شام کو اس پل کے اوپری حصہ کی ڈھلائی ہوئی تھی اور رات ہوتے ہوتے یہ گر گیا ۔وزیراعظم گرام سڑک یوجنا کے تحت گرامین محکمہ نے اس پل کا ٹینڈر ایک پرائیویٹ تعمیراتی کمپنی کو دیا تھا ۔مقامی صحافی بتاتے ہیں کہ بہت خراب میٹریل سے یہ بن رہا تھا ۔مقامی لوگ لگاتار اس کی شکایت کررہے تھے لیکن کوئی سن نہیں رہا تھا آخر میں پل گر گیا ۔ڈھوڈا صحن کے بعد 26 جون کو کشن گنج ضلع میں ارریا ندی پر بنا 13 سال پرانا پل دھنس گیا ۔ضلع میں موسلہ دھار بارش کے چلتے دھنسا ہے ۔کشن گنج میں پل دھنسنے کے بعد مدھوبنی میں مطائی ندی کے اوپر پل بن رہا تھا اس کا گارڈر گر گیا۔12.98 کروڑ کی لاگت سے یہ بن رہا تھا ۔کل مدھے پور ڈویژن میں جو کوشی باندھ سے بھتیتیا جانے والی سڑک کو جوڑے گا ۔دلچسپ یہ ہے کہ اس معاملے میں پل میں تعمیر کا کام ہی مانسون کے وقت شروع ہوا ۔پل نا ہونے سے بہار میں کئی علاقوں میں بانس کے بنائے گئے پل سے لوگ ندی پار کرتے ہیں ۔ایک ساتھ 6 پل گرنے کی وجہ کیا ہے؟ ایک ریٹائرڈ افسر نے بتایاگزشتہ 10-15 سال میں بہار میں بہت پل بنے ہیں لیکن اس کی دیکھ بھال میں کمیاں رہی ہیں ۔جو مٹریل لگایا تھا وہ بھی گھٹیا تھا ۔کل ملا کر ہر محکمہ میں کرپشن انتہا پر ہے پل گریں گے نہیں تو اور کیا ہوگا؟
کیا ابدھیش ڈپٹی اسپیکر بن سکتے ہیں؟
پہلے لوک سبھا اسپیکر کو لیکر حکمراں اور اپوزیشن میں گھماسان دیکھنے کوملا۔اب ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کو لیکر ایک اور گھماسان دیکھنے کو ملا رہا ہے ۔اب ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لئے انڈیا اتحاد نے اپنی دعویداری تیز کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ تجویز ترنمول کانگریس صدر ممتا بنرجی کی طرف سے آئی ہے ۔انڈیا اتحاد کو ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لئے فیض آباد سے سپا ایم پی و ایودھیا کے ہیرو ابدھیش پرساد کو اپنا امیدوار بنایا جائے ۔بتا دیں کہ ابھی تک این ڈی اے نے ڈپٹی اسپیکر کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے ۔پچھلی لوک سبھا میں کوئی ڈپٹی اسپیکر نہیں بنایا گیا تھا ۔حالانکہ روایت رہی ہے کہ اسپیکر اگر حکمراں فریق کا ہوتا ہے تو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو جاتا ہے لیکن حکمراں فریق نے ابھی تک ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لئے اپنا کوئی فیصلہ نہیں بتایا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ مودی جی اس عہدے کو بھی اپنے پاس رکھیں یا پھر اپنے این ڈی اے کے کسی ساتھی کو دینا پسند کریں ۔اس درمیان وزیر دفاع راجناتھ سنگھ جو آج کل مودی جی کے خاص بڈبولے بنے ہوئے ہیں نے ممتا بنرجی سے ڈپٹی اسپیکر کو لیکر بات چیت کی تھی ۔پچھلے کچھ وقت سے دیکھا جارہا ہے کہ مودی جی ہر جگہ راجناتھ سنگھ کو آگے کررہے ہیں چاہے وہ اسپیکر کا معاملہ ہو ۔این ڈی اے کی میٹنگ ہو امت شاہ آج کل پیچھے کر دئیے گئے ہیں ساری بات چیت راجناتھ سنگھ ہی کررہے ہیں ۔بہرحال 78 سالہ ابدھیش پرساد دلت فرقہ سے آتے ہیں ۔فیض آباد جیسی اہم ترین سیٹ جس میں ایودھیا بھی آتا ہے جیتے ہیں پہلے خبریں تھی کہ کانگریس کیرل سے 8بار ایم پی رہے کے سریش کو اس عہدے کے لئے اپنا امیدوار بنانا چاہتی ہے ۔ٹی ایم سی ایس پی اور کانگریس میں بن رہی حکمت عملی کے مطابق ترنمول سیکریٹری جنرل ابھیشیک بنرجی سپا صدر اکھلیش یادو اور نیتا اپوزیشن راہل گاندھی پہلے ہی اس پر بات کر چکے ہیں ۔دیگر اتحادی پارٹیوں سے بھی اس پر بات چیت ہو سکتی ہے ۔اپوزیشن کو لگتا ہے کہ فیض آباد ایم پی ابدھیش پرساد مشترکہ امیدوار ہوں گے ان کی امیدواری ایک مضبوط پیغام دے گی ۔اپوزیشن کے ایک لیڈر نے کہا کہ ابدھیش پرساد کی جیت بھاجپا کے ہندوتو ایجنڈے کی ہار کی علامت ہے ۔ایک دلت نیتا کی شکل میں ایک عام سیٹ سے ان کی جیت بھی ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم ترین لمحہ تھا ۔ذرائع نے کہا کہ اگر سرکارپارلیمنٹ کا پہلا سیشن ختم ہونے سے پہلے ڈپٹی اسپیکر کی تقرری کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتی ہے تو اپوزیشن اس مسئلے پر لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھے گی ۔ابھدیش سابق وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے قریبیوں میں رہے ہیں ۔1977 میں ایودھیا شہر کی سوہاول اسمبلی سے چنے گئے تھے ۔اس کے بعد ابھدیش پرساد نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔1985-1989-1993-1996-2002-2007-2012 تک مسلسل چناو¿ جیت کر آرہے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی ابھدیش کو قبول کرتے ہیں یا نہیں؟ کیا اپنا امیدوار کھڑا کریں گے؟ ایک دلت نیتا کو وہ بھی جو فیض آبا د ایودھیا سے جیتا ہے اس کی مخالفت کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا اگر کرتے ہیں تو اس کا غلط پیغام جنتا میں جائے گا۔
(انل نریندر)
02 جولائی 2024
3 جرائم قوانین کا سوال!
یکم جولائی سے نافذ ہوئے تین اہم قوانین آئی پی سی 2023 اور ہندوستانی سیکورٹی ایکٹ 2023 اور انڈین پروف ایکٹ 2023 پر کچھ اپوزیشن لیڈروں کو اعتراض ہے انہوں نے انہیں ٹالنے کی بات کہی تھی ۔تملناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بعد اب مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی سرکار کو خط لکھ کر ہڑ بڑی میں پاس کئے گئے تین کرمنل ایکٹ پر عمل کو ٹالنے کی درخواست کی ہے یہ تینوں قوانین ایک جولائی سے لاگو ہو گئے ہیں ۔وہیں کانگریس نے منیش تیواری نے کہاکہ تینوں بلوں کو بغیر کسی اطلاع کے بحث کے بغیر پارلیمنٹ میں جلد بازی میں پاس کیا گیا تھا ۔نئی لوک سبھا میں انہیں لوگو ہونے سے پہلے ان کی جانچ کی اجازت دی جانی چاہیے تھی ۔ممتا بنرجی نے وزیراعظم نریندر مودی کو دئیے گئے خط میں تینوں قوانین کے پیش ہونے کے بعد عمل درآمد کو لیکر گہری تشویش جتائی ہے۔جنتا نے سینئر کانگریس نیتا پی چدمبرم سے بھی ملاقات کی تھی جو بلوں کی جانچ کرنے والی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور ان سے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا ۔ٹی ایم سی ایم پی ڈیرک اوبرائن خاص کر بڑے نیتا این آر اینگلو وغیرہ نے اپنی رپورٹ پر رضامندی جتائی ۔پی چدمبرم نے تینوں بلوں پر اپنی رپورٹ میں عدم اتفاق ظاہر کیا تھا ۔ممتا نے کہا کہ تینوں بل لوک سبھا میں ا یسے وقت میں پاس ہوئے جب 146 ایم پی پارلیمنٹ سے معطل تھے ۔ممتا نے لکھا کہ آپ کی پچھلی سرکار نے ان تینوں اہم ترین بلوں کو بغیر بحث صوتی ووٹ سے پاس کردیا تھا۔اس دن لوک سبھا کو تقریباً 100 ممبران کو معطل کرایا گیا تھا اور د ونوں ممبران کے کل 146 ممبران کو پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے اس کالے دور میں بلوں کو تاناشاہی طریقے سے پاس کرایا گیا ۔ممتا نے کہا کہ میں آپ کے دفتر سے درخواست کرتی ہوں کہ کم سے کم قانون پر عمل درآمد کی تاریخ بڑھانے پر غور کریں لیکن تازہ اطلاع کے مطابق اس کو مسترد کردیا۔لیکن سرکار نے لاگو کردیا۔انہوں نے کہا ان اہم ترین آئین سازیہ قانون میں نئے سرے سے غور خوض ہونا چاہیے اور جانچ کے لئے نئی پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جانا چاہیے ۔کانگریس نیتا منیش تیواری نے ان تینون بلوں پر عمل درآمد فوری طور پر کیا جانا چاہیے ۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ان تینوں قوانین کے خلاف اپیل دائرکی گئی ۔عرضی گزار نے اس کے عمل پر روک لگانے کی اپیل کی ہے اور درخواست کی ہے اور ماہرین کی کمیٹی کی بنا کر باقاعدہ اس پر غور کیا جاناچاہیے سپریم کورٹ کے وکیل آن ریکارڈ سدھارتھ کی جانب سے عرضی انجلی پٹیل اور چھایا کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئے قانون کا ٹائٹل ٹھیک نہیں ہے ۔نئے قانون کا جو نام رکھا گیا ہے وہ صاف نہیں ہے ساتھ ہی قانون کی دفعات میں تضاد ہے ۔عرضی میں کہا گیا ہے منظم جرائم کی تشیئع میں کہا گیا ہے کہ آپ منظم گروہ کی حرکت سے شہریوں میں عام طور پر یہ نظریہ قائم ہوگا کہ سرکار انہیں عدم تحفظ کا تصور دے رہی ہے ۔تو یہ جرم بنے گا اور عدم سلامتی کے جذبہ والی بات صاف طور سے تشریح نہیں ہے ۔ساتھ میں یہی کہا گیا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں میں بہت طاقت آجائے گی جس کا بیجا استعمال ہو سکتا ہے ۔دیکھیں سپریم کورٹ اس معاملے میں دخل دیتا ہے یا نہیں ۔
ایودھیا میں پہلی بارش سے کرپشن کے گڈھے !
ایودھیا میں رام للاکی مورتی کی پران پرتیشٹھا بہت زور شور سے کی گئی تھی اسے بنانے میں کروڑوں روپے کا خرچہ آیا تھا اور حالت ایودھیا کی یہ ہے کہ پہلی بارش میں کئی گڑ بڑئیاں اور بدعنوانی کی پول کھل گئی ہے ۔ابھی مانسون یوپی میں پوری طرح نہیں آیا ابھی سے ایودھیا کا یہ حال ہو گیا ۔ایودھیا کا نیا گھاٹ سے سعادت گنج تک بنے 12.94 کلو میٹر تک بنے رام پتھ پر پہلی بارش کے معاملے میں 13 گڈھے ہو گئے ۔رام پتھ سے ہی جنم بھومی پتھ اور دھرم پتھ بھی جڑا ہوا ہے ۔اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشن سمیت کئی جگہوں پر پانی بھر گیا ۔ملی اطلاع کے مطابق رام پتھ کی تعمیر پر 844 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ 22 جون 2024 کوایک معمولاتی بارش کے بعد ہی رام مندر کے بڑے پجاری ستیندر داس نے مندر کے گرو گرہ کی چھت سے پانی ٹپکنے کی بات کہی تھی ۔حالانکہ رام مندر کی تعمیر کا کام دیکھنے والے ٹرسٹ کے سیکریٹری جنرل چمپت رائے نے شوشل میڈیا پر رام مندر گرو گرہ میں پانی رساو¿ والے دعوے کو غلط بتایا ۔انہوں نے لکھا گرو گرہ میں جہاں بھگوان رام للا براجمان ہیں وہاں ایک بھی بوندپانی چھت سے نہیں ٹپکا ہے اور نا ہی کہیں سے پانی گروگرہ میں آیا ۔لیکن بات اگر کئی جگہ بنی سڑک دھسنے کی ہو تو ایودھیا ضلع کے مقامی انتظامیہ بھی مانتا ہے سڑکوں پر بارش سے گڈھے ہو گئے جو نہیں ہونے چاہیے تھے ۔ریاست میں حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی سے وابسطہ شہر کے میئر مہنت گریش پنت ترپاٹھی نے مانا ہے سڑک میں انجینئرنگ کے کام میں کچھ دشواریاں تھیں اس لئے کچھ گڈھے آئے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے وہ بھی آنے چاہیے تھے ۔تعمیر میں تکنیکی خامیاں رہ گئی ہوں گی جس کے سبب کچھ گڈھے ہو گئے ہو سکتا ہے جلدی بنانے کے چکر میں تکنیک کے استعمال کی کمی رہ گئی ہو ۔وجہ شروعاتی بارش میں وہ گڈھے دکھائی پڑ رہے ہیں ہم ان کمیوں کو دور کرلیں گے ۔رام جنم بھومی مندر کے چیف پجاری اچاریہ ستیندر دیو نے پیر کو بتایا کہ سنیچر کی آدھی رات کو ہی بارش میں گرو گرہ میں مندر کی چھت سے تیزی سے پانی ٹپک رہا تھا ۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر دو دن میں انتظام نہیں کیا گیا تو درشن پوجا بند کرنی پڑے گی ۔صبح جب پجاری بھگوان کی پوجا کرنے وہاں گئے تو دیکھا فرش پر پانی پانی تھا ۔اسے کافی مشقت کے بعد مندر کمپلیکس سے نکالاگیا ۔مندر میں پانی نکالنے کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔سب سے پریشانی ایودھیا نگرمیں دیکھنے کو ملی جہاں پوراپانی بھرا ہوا تھا اور ہنومان گڑھی شکتی پتھ اور ٹیڑھی بازار سے لیکر اندرونی علاقوں میں پانی بھرنے کی نازک صورتحال تھی ۔افتتاح سے پہلے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرکے ایودھیا کے وکاس کے دعوے کئے گئے تھے لیکن پانی بھرنے اور دھنستی سڑکوں نے سبھی پر سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رام مندر افتتاح میں جلد بازی ہوئی جس وجہ سے وکاس کا کا م پورا نہیں ہوا اور سڑکوں کی تعمیر مندر کی تعمیر کے پیمانوں کی بنیاد پر وکاس نہیں ہوا۔شہرکے ایک سماجی رضاکار کا کہنا تھا کہ فیض آباد کے شہر کبھی اودھ کی راجدھانی تھا لیکن 2 گھنٹے کی بارش میں ایودھیا کو بے حال کر دیا۔
(انل نریندر)
29 جون 2024
آکاش 47 دن میں کیسے سنجیدہ ہوگئے؟
بسپا چیف مایاوتی اپنے چوکانے والے فیصلوں کے لئے جانی جاتی ہیںسبھی حیران ہوئے تھے جب انہوں نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو لوک سبھا چناو¿ کے بیچ میں 7 مئی کو اپنے جانشین اور قومی کوآرڈینیٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا ۔تب انہوں نے سنجیدہ ہونے تک عہدے سے ہٹانے کی بات کہی تھی ۔اب ٹھیک 47 دن بعد اتوار کو بسپا کی قومی میٹنگ میں آکاش کو پھر سے آشیرواد دے دیا ۔اور وہ پہلے کی طرح عہدوں پر بحال ہو گئے ۔سیاسی گلیاروں میں یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر 47 دنوں میں ا ٓکاش آنند کیسے سنجیدہ ہو گئے ۔کیوں کہ ان کو ہٹاتھا اور پھر بحال کر دیا گیا ؟ایسا کرنے کے پیچھے سیاسی کہانی ہے یا کوئی مجبوری ۔لوک سبھا چناو¿ میں بسپا کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور وہ اپنے کیڈر بورڈ کوبھی نہیں بچا سکی ہیں ۔بسپا کے لئے یہ سب سے برا دور ہے ۔بہن جی نے آکاش آنند کو پھر سے کیوں بحال کیا ۔پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آکاش کی واپسی تو ہونی ہی تھی ۔لوک سبھا چناو¿ کے بعد اہم عہدیداران اور کوآرڈینیٹروں سے بہن جی نے جب فیڈ بیک لیا تو اس میں یہی بات سامنے آئی کہ آکاش کو چناو¿ کے بیچ ہٹانے سے کافی نقصان ہوا ہے کیوں کہ نوجوان ان کو پسند کرتے ہیں ۔بی ایس پی کے پاس اب خود مایاوتی کے علاوہ پہلے کی طرح بڑے چہرے نہیں ہیں ۔ایسے میں آکاش یہ چہرہ ہوسکتے ہیں خاص طور سے جب کانگریس میں راہل گاندھی وپرینکا گاندھی ہیں ۔سپا میں اکھلیش جیسے چہرے ہیں ایسے ہی آکاش کے ساتھ نوجوان جڑیں گے ادھر آزاد سماج پارٹی کے صدر چندرشیکھر خود بھاری اکثریت سے جیتے ہیں ۔ان کے ساتھ نوجوان جڑ رہے ہیں ایسے میں خطرہ یہ بھی ہے کہ کہیں بسپا کے کیڈر ووٹ اور نوجوان وہاں نہ چلے جائیں ۔ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کھستے ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے مایاوتی کو اور اپنے بھتیجے آنند سے چمتکار کی بڑی امید ہے ۔سال 2027 میں اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں ۔دو دہائی پرانے 2007 کے نتیجے دہرانے کے لئے مایاوتی نے آکاش پر بڑا داو¿ کھیلا ہے۔2006 میں کاشی رام کے نا رہنے کے بعد 2007 کے اسمبلی چناو¿ میں جس بسپا نے 30.45 فیصد ووٹ اور 206 ممبران اسمبلی کے ساتھ پہلی بار ریاست میں اکثریت کی حکومت بنائی تھی ۔اس کا اس وقت نا لوک سبھا میں اور نہ رہی ریاستی اسمبلی میں کوئی ممبر ہے ۔اسمبلی میں صرف ایک ممبر ہے جبکہ ودھان پریسد میں کوئی ممبرنہیں ہے ۔پارٹی کے تیزی سے کھسکتے ووٹ بینک کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اٹھارہویں لوک سبھا ان کو صرف 9.39 فیصد ووٹ ملے ۔اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ محروم سماج میں بھی اب بہن جی کا پہلے جیسا جادو نہیں چلا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ مانی جاتی ہے کہ مایاوتی نے غلط وقت پر غلط فیصلے کئے ۔بسپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں لوک سبھا چناو¿ میں ہار کے اسباب کا جائزہ لیا گیا ۔اس میں کہا گیا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے آئین بچاو¿ جیسے اشو کو زور شور سے اٹھایا اور وہ دلتوں کو بھا گیا ۔سپا کا پردے کے پیچھے بی جے پی کا ساتھ دینا اور انڈیا یادو کیساتھ نا آنا بھی بہن جی کو بہت بھاری پڑا ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا بسپا اب اپنے کھوئے ہوئے ووٹ بینک کو واپس لا سکے گی ؟
(انل نریندر)
راہل گاندھی اپوزیشن کے لیڈربنے!
کانگریس نے منگلوار کو اعلان کیا کہ راہل گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر بن گئے ہیں ۔2004 میں چناوی سیاست میں آئے راہل تبھی سے کوئی عہدہ لینے سے بچتے رہے ہیں یہاں تک کہ پارٹی چیف کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا ۔لیکن اب راہل گاندھی ایک سنجیدہ لیڈر کی ساکھ کی طرح ڈھل رہے ہیں پہلے نانا کرتے رہے اب عہدہ سنبھال لیا ہے ۔لوک سبھا میں اپنی بات رکھی د س سال بعد ان کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ملا ہے ۔بدھوار کو لوک سبھا میں بطور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پہلی بار بولے انہوں نے اسپیکر اوم برلا کے پھر سے اسپیکر بننے پر بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سرکار کے پاس سیاسی طاقت ہے لیکن اپوزیشن بھی بھارت کے لوگوں کی آواز کی نمائندگی کر رہی ہے ۔اپوزیشن آپ کو پارلیمنٹ چلانے میں مدد کرے گی یہ بات بہت اہم ہے کیوں کہ تعاون کے بھروسہ کے ساتھ ہونا چاہیے اپوزیشن کی آوازپارلیمنٹ میں سنائی دے یہ بہت ضروری ہے ۔ہمیں پوری امید ہے کہ اپوزیشن کی آواز پارلیمنٹ میں دبائی نہیں جائے گی ۔راہل گاندھی کو کروڑوں د یش واسیون نے اس امید کیساتھ چنا ہے کہ وہ جنتا کے اشو پارلیمنٹ میں زور وشور سے اٹھائیں گے اس سرکار کے تیور پہلے جیسے ہی ہیں ۔آج بھی یہ سرکار ویسے ہی چلانے کی کوشش کرر ہی ہے جیسے پچھلی لوک سبھا میں چلی تھی ۔تھوڑا سا دبنگی بیشک کم ہوئی ہے لیکن تیور وہیں کے وہیں ہیں ۔موصولہ اشاروں سے صاف ہے کہ ڈر کے سہارے ای ڈی کے سہارے اور سی بی آئی کے سہارے انکم ٹیکس کے سہارے یہ سب ویسے ہی چلیں گے ۔راہل گاندھی و تمام اپوزیشن اس کا کیسے مقابلہ کرے گی ؟اروند کیجریوال کی مثال ہمارے سامنے ہے ،ہیمنت سورین کا کیس کسی سے چھپا نہیں ہے ۔راہل اب اپوزیشن لیڈر ہیں ناکہ صرف کانگریس نیتا انہیں پورے اپوزیشن کا خیال رکھنا ہوگا ۔اروند کیجریوال ہیمنت سورین جیسے کیسوں کے خلاف بھی انہیں اب پوری طاقت سے احتجاج کرنا ہوگا۔ پارٹی مفاد سے بالا تر ہوکر آئین کی حفاظت کرنی ہوگی ۔یہ پھر سے ڈر وخوف کا جو ماحول پچھلی سرکار نے بنایا تھا اس کا سخت مقابلہ کرتے ہوئے انہیں فیل کرنا ہوگا ۔جن اشوآئین ،مہنگائی ،بے روزگاری،پیپر لیک ہونے ای ڈی اور دیگر ایجنسیوں کا بیجا استعمال روکنے کا پارلیمنٹ میں زور شور سے معاملہ اٹھانا ہوگا ۔اور دیش کو ڈر وخوف کے ماحول سے نجات دلائی جائے اس پر حکمت عملی تیار کرنی ہوگی ۔راہل گاندھی کے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بننے سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ان کا قدبڑھا ہے ۔انڈیا گٹھ بندھن کے اتحادی پارٹیوں کے بیچ لو ک سبھا میں تامل میل بٹھانا ہوگا۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن ایک حکمت عملی بنا کر چلے اور اس پر دھیان دینا ہوگا ۔اپوزیشن لیڈر شیڈو پردھان منتری ہوتاہے ۔اپوزیشن کی نہ صرف وہ قیادت کرتا ہے بلکہ کئی ضروری تقرریوں میں بھی پی ایم کے ساتھ بیٹھتا ہے ۔پی ایم کے نظریہ اور اپروچ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے ۔راہل کیسے ایڈجسٹ کریں گے وہ دیکھنا ہوگا ۔قائم کرپانا راہل گاندھی کے لئے چنوتی ہوگی ۔اپوزیشن کے لیڈر کی سب سے اہم رول پارلیمانی کمیٹیوں اور سلیکشن کمیٹیوں میں ہوتا ہے ۔سلیکشن کمیٹی ،انفوسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سی بی آئی ،سینٹرل ویجلنس کمیشن ،سینٹرل انفارمیشن کمیشن ،لوک پال ،ساتھ ہی چناو¿ کمشنروں ،قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئر مین جیسے کافی اہم عہدوں پر تقرری کرتی ہے ۔بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی نے میڈیا سے کہا تھا کہ میں نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے ۔اب میں وہ راہل گاندھی نہیں ہوں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...