Translater

04 نومبر 2017

اب امریکہ میں بھی ٹرک سے آتنکی حملہ

امریکہ کے نیویارک شہر کے مین ہیٹن علاقہ میں ایک بار پھر آتنکی حملہ ہوا ہے۔ 9/11 کے بعد شہر میں یہ سب سے بڑا آتنکی حملہ بتایا جارہا ہے۔ منگلوار کو ازبیکستان نژاد ایک شخص نے نیویارک کے مین ہیٹن علاقہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پاس بھیڑ والے علاقہ میں ٹرک دوڑا دیا ، اس میں 8 لوگوں کی موت ہوگئی اور 11 دیگر زخمی ہوگئے۔ منگل کے روز ہوئی اس واردات کے بعد 29 سالہ حملہ آور کے پیر میں ایک بہادر پولیس افسر نے گولی ماردی، زخمی ہونے کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔حملہ آور کا نام سیف اللہ سیپوف بتایا جاتا ہے۔ وہ ایک پرواسی ہے جو 2010 میں آیا تھا۔ ٹرک چلانے سے پہلے وہ اوبر کمپنی کا کیب ڈرائیور تھا۔ آتنکی اب فوروہیلر گاڑیوں کو قتل کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ حالانکہ امریکہ میں پہلی بار آتنکیوں نے واردات کرنے کے لئے ٹرک کا استعمال کیا ہے۔ اس سال دنیا میں چھٹا آتنکی حملہ ہے جس میں ٹرک، وین یا کار کار استعمال ہوا ہے۔ باقی پانچ حملے یوروپ ملک برطانیہ،اسپین اور سویڈن میں ہوئے۔سب سے زیادہ تین حملے لندن میں ہوئے، اس طرح کا پہلا بڑا حملہ جولائی 2016 میں فرانس کے نیس شہر میں ہوا تھا۔ قریب تین بجکر پانچ منٹ پر حملہ آور ٹرک چلاتے ہوئے نیویارک کے علاقہ مین ہیٹن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرکے پاس ایک فٹ پاتھ پر چڑھا۔ ڈرائیور تیزی سے سائیکل والوں اور پیدل جانے والے لوگوں کو کچلتے ہوئے آگے بڑھا۔ قریب آدھا کلو میٹ بعد ٹرک ایک اسکول بس سے ٹکرایا جس میں دو بچے زخمی ہوگئے۔ ٹرک رک جانے کے بعد حملہ آور بندوق لیکر باہر بھاگا۔ پولیس افسر نے اسے پیر میں گولی مار کرزخمی کردیا۔ ٹرک کے اوپر نیلی تحریر میں لکھا تھا :یہ حملہ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) نے کروایا ہے۔ اگر 2014 سے حساب لگایا جائے تو یوروپ اور امریکہ میں ٹرکوں اور کاروں سے کچلنے والے 15 آتنکی حملے ہوچکے ہیں جن میں کل 142 لوگ مارے گئے ہیں کیونکہ سیکورٹی سسٹم بڑا ہونے کی وجہ سے آتنکی ہتھیاروں کا انتظام نہیں کرپاتے اس لئے آئی ایس جیسی تنظیم ٹرک کرائے پر لیکر لوگوں کو کچلنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اس بار آتنکی زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔ وہ بری طرح زخمی ہے پھر بھی امید ہے کہ اس سے پوچھ تاچھ میں کچھ اہم اطلاعات ملیں گی۔ تازہ حملہ سے ایک بار پھر اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ بیشک آئی ایس کا سب سے بڑا گڑھ بھلے ہی تبا ہ کردیا گیا ہو یا اس پر قبضہ کرلیا گیا ہو ، لیکن کٹر اسلامی نظریئے کی شکل میں یہ لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔وہ سب ایک ٹائم بم کی شکل میں ہمارے پاس اس طرح سے موجود ہے کہ ان کی پہچان پھٹنے پر ہی ہوپائے گی۔ اس حملہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ ساری دنیا آتنک واد کی زد میں ہے اور جب تک عالمی سطح پر ایمانداری سے اس کا مقابلہ نہیں کیا جاتا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

پی ایم بنام سی ایم لڑائی میں جیتے گاکون

بھاجپا ۔ کانگریس کے درمیان اگلے لوک سبھا چناؤ کی سیاست کے لحاظ سے ناک کی لڑائی بن چکا ہماچل اسمبلی چناؤ میں منظر کچھ ایسا بن گیا ہے کہ جس میں ایک طرف سیاسی یودھاؤں کی فوج میدان میں ہے تو مقابلہ میں اترا دوسرا یودھا اکیلے اپنی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ بھاجپا نے پولنگ سے عین پہلے 73 سالہ پریم کمار دھومل کو سی ایم امیدوار اعلان کردیا ہے۔ ان کے سامنے ہے موجودہ وزیر اعلی راجہ ویر بھدر سنگھ جو 83 برس کے ہیں۔ چناؤ مہم کے اس خاکہ سے صاف ہے کہ بھاجپا جہاں اپنی مرکزی لیڈر شپ اور پی ایم مودی کے چہرے پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے وہیں کانگریس ہائی کمان کو ہماچل چناؤ کی ایک واحد امید اور داؤں ویربھدر سنگھ ہی ہیں تبھی تو ان کے حلقہ پر ویربھدر سنگھ کے چناؤ انچارج ہرش مہاجن کہتے ہیں کہ بلا شبہ یہ چناؤ پی ایم بنام ویربھدر بن گیا ہے۔ اب اسے ویربھدر کی زبردست خود اعتمادی کہی جائے یا پھر کانگریس کی سیاسی نیا کے اکیلے پتوار ہونا ان کی مجبوری ہے، وجہ چاہے جو بھی ہو ان کا چناؤ بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ ویر بھدر پر ہی کانگریس کی پوری چناؤ مہم ٹکی ہونے کی وجہ کے بارے میں پردیش کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ مرکزی لیڈر دلچسپی نہیں لے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی امیدوار محض ویربھدر سنگھ کی ریلیوں کے لئے ہی اپیل کررہے ہیں۔ کانگریس سکریٹری جنرل سشیل کمار شنڈے ، آنند شرما، گورو گوگوئی شملہ میں پڑاؤ ڈالے ہیں مگر امیدوار ان میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ 
کانگریس کے مرکزی لیڈروں کی کمپین میں رول کے بارے میں پوچھے جانے پر شملہ گرامین سے چناؤ لڑ رہے ویر بھدر کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ کہتے ہیں کے ایسی بات نہیں ہے پنجاب میں کیبنٹ وزیر نوجوت سنگھ سدھو، راج ببر اور پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کے اگلے کچھ دنوں میں آنے کا پروگرام ہے۔ دیش کی نظریں بھلے ہی صرف گجرات اور ہماچل چناؤ تک محدود ہوں لیکن بھاجپا ڈیڑھ سال بعد ہونے والے لوک سبھا چناؤ تک 10 منزلوں کا خاکہ بنا کر چل رہی ہے۔ گجرات کے بعد لوک سبھا تک 8 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں بھاجپا کا ٹارگیٹ ہے ہر مورچہ پر فتح یعنی 10 میں سے10 ریاستوں میں سرکار کے ساتھ 2019 لوک سبھا چناؤ میں بڑی فتح ۔بھاجپا کا دعوی ہے کہ وہ گجرات اور ہماچل دونوں جگہ پر جیت حاصل کرے گی۔ تیاری اس کے آگے کی بھی شروع ہوچکی ہے۔ ہماچل پردیش میں سبھی 68 اسمبلی سیٹوں سے کانگریس اور بھاجپا کا زور دار مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ کانگریس کے لئے ہماچل کی اس روایت کو بدلنے کی بھی چنوتی ہوگی جس میں ہر پانچ سال بعد سرکاریں بدلتی ہیں۔ پی ایم مودی نے اپنی ریلیاں شروع کردی ہیں اور ان میں کافی بھیڑ بھی آرہی ہے۔ دیکھیں سی ایم بنام پی ایم اس لڑائی میں جیت کس کی ہوگی؟
(انل نریندر)

03 نومبر 2017

ایک بار پھر شری رام جنم بھومی کا اشو گرمایا

جیسے جیسے 2019 کے لوک سبھا چناؤ قریب آرہے ہیں ایودھیا میں رام مندر کا اشو گرمانے لگا ہے۔بھاجپا کی پھر کوشش ہوگی کہ ایک بار پھر رام مندر کا اشو اس کے لئے تشویشات کا برہماستر بنے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اشو کو سلجھانے کیلئے مختلف سطحوں پر کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ پہلے بھی کئی کوششیں ہوچکی ہیں تازہ کوشش شری شری روی شنکر کی ہے۔ آرٹ آف لونگ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اس کے بانی شری شری روی شنکر رام مندر تنازع کا کورٹ سے باہر حل تلاش کرنے میں ثالثی کرنے کو تیار ہیں۔ اس سلسلے میں شری شری روی شنکر نرموہی اکھاڑے ہے آچاریہ رام داس سمیت کئی اماموں اور ہندو دھرم گورووں کے رابطے میں ہیں۔ حالانکہ فاؤنڈیشن نے یہ بھی صاف کیا کہ اس بارے میں فی الحال کوئی نتیجہ نکالنا بہت جلد بازی ہوگی۔ پہلے یہ اشو سوامی اور بیچ بیچ میں کئی دیگر کوششوں کے بعداب شری شری روی شنکر بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ نپٹانے کے لئے آگے آئے ہیں لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ شری رام جنم بھومی نیاس کے سینئر ممبر ڈاکٹر رام ولاس ودیانتی نے کہا ہے کہ ایودھیا تنازعہ کے حل کے لئے شری شری روی شنکر کی ثالثی کسی بھی حالت میں قبول نہیں کی جائے گی۔ تنازعہ کو عدالت سے باہر بات چیت کے ذریعے سلجھانے کیلئے روحانی گورو شری شری روی شنکر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کئے جانے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایتوار کو کہا کوئی ٹھوس فارمولہ آنے پر ہی وہ اس معاملے پر بات چیت کی سمت میں آگے بڑھے گا۔ بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہا کئی بار بات چیت ہوچکی ہے، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، ہم ہوا میں کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔ اگر ہمارے سامنے سرکاری طور پر کوئی ٹھوس فارمولہ پیش کیا جاتا ہے تو بورڈ بات چیت کو لیکر غور کرے گا۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم بات چیت نہیں کرنا چاہتے، لیکن کوئی ٹھوس فارمولہ تو ہے تو ہم کچھ کہیں۔ آرٹ آف لونگ کے بانی شری شری روی شنکر کے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس انصاف پر مبنی اور ٹھوس فارمولہ ہے تو وہ بورڈ کے پاس بھیجے اس کے بعدہم غور کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی و سنگھ پریوار ایودھیا تنازعہ سلجھانے اور سریو ندی کے پاس مسجد تعمیر کی مہر لگوانے کی تجویز کا داؤ کھیلنے کے فراق میں ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں اگر مندر کا معاملہ پر امن طریقے سے سلجھانے میں مودی و یوگی کی ٹولی کامیاب رہی تو 2014 کی طرز پر 2019 کے چناؤ میں بھی بھاجپا، این ڈی اے نئی تاریخ رقم کرسکتی ہے۔ حال ہی میں دیوالی پر اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی کے ذریعے ایودھیا میں 183216 دیپ جلانے کا جو نیا ریکارڈ بنایا اس سے یوگی کے تئیں سنتوں میں امید بندھی ہے کہ رام للا کو پکی چھت و مضبوط چبوترے میں لے جانے میں اب زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ رام مندر ہندوؤں کے لئے آج بھی عقیدت کا بھرپور اشو تو ہے ہی یوگی آدتیہ ناتھ بھی رام مندر تحریک کے سپاہی بنے تھے۔ مرکز میں حکمراں وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر تعمیر کے رتھ یاتری رہے ہیں۔ عام جنتا کا اگر مندر تعمیر کا وعدہ پورا نہیں ہوا تو مودی و یوگی دونوں سے عام آدمی روٹھ جائے گا اور تاج پر سنکٹ میں پڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے اس لئے مودی و یوگی مندروں میں جاکر پوجا ارچنا کے ذریعے ہندو سماج کے تئیں پیغام دے رہے ہیں کہ وہ ہندوتو کی لو کو مناسب جگہ دینے کو عہد بند ہیں۔ سنگھ و سنتوں کے درمیان دونوں نیتا ایودھیا کو ترجیح دیں گے۔ بیشک اس تنازعہ کو سلجھانے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں لیکن وزیر اعظم چندر شیکھر کے چھوٹے سے عہد میں بات چیت سے معاملہ سلجھانے کی سب سے زیادہ کوشش ہوئی لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ دونوں میں سے کوئی فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہواپھر کسی بات چیت کا راستہ کیسے نکل سکتا ہے؟ ہندو کی اکثریت مانتی ہے کہ ایودھیا میں شری رام کا جنم ہوا اور ان کا مندر وہیں بننا چاہئے جہاں مسلم بابری مسجد ہونے کا اسی جگہ پر دعوی کرتے ہیں۔ اس جذبے کے خلاف روی شنکر بھی شاید ہی جا سکیں اور نہ ہی سرکار یا کوئی دیگر جاسکتا ہے۔ اسی سبب تو الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی قبول نہیں ہوا۔ عدالت نے مانا کہ ہندو استھل کو توڑ کر مسجد بنوائی گئی تھی لیکن دونوں فرقوں کے درمیان بھائی چارگی بنائے رکھنے کیلئے تین حصوں میں سے ایک حصہ مسلمانوں کو بھی دے دیا جائے۔ رام جنم بھومی نیاس مقدمے میں فریق ہندو مہا سبھا اور رام للا بھی اپنا حصہ مانگیں گے۔ اس میں شبہ ہے کہ اب مرکز پہل کرے تو بات چیت ہوسکتی ہے لیکن معاملہ ایسی حالت میں پہنچ چکا ہے جہاں کورٹ کے فیصلے سے ہی اس بڑے تنازعہ کا ازالہ ہوگا۔ کم سے کم سپریم کورٹ کی غیر جانبداری پر کسی کو شبہ نہیں ہے۔ ہاں اس مسئلے کا نپٹارہ رام مندر تحریک سے جڑے سنتوں و مسلم سماج کے مذہبی پیشوا نپٹارہ کرسکتے ہیں۔ دیش کی ایکتا کے لئے یہ ضروری بھی ہے۔
(انل نریندر)

ٹیپو سلطان ہیرو یا ویلن

ٹیپو سلطان کی جینتی کو لیکر جہاں ایک طرف بھاجپا اور کانگریس آمنے سامنے ہے وہیں دوسری طرف اسے لیکر ادبی سماج بھی بٹا ہوا ہے۔ ادیب بھی اس معاملے میں الگ الگ رائے رکھ رہے ہیں۔ بتادیں کہ ٹیپو سلطان کون تھے؟ ٹیپو سلطان بھارت کے اس وقت کے میسور ریاست کے حکمراں تھے جن کی پیدائش20 نومبر 1750 کو کرناٹک کے ویدناہلی میں ہوئی تھی۔ ٹیپو سلطان کا پورا نام سلطان فتح علی خان شاہ تھا۔ ان کے والد حیدر علی میسور ریاست کے سینا پتی تھی جو اپنی طاقت سے 1761 میں میسور سلطنت کے حاکم بنے۔ اہل حکمراں کے علاوہ ٹیپو سلطان ایک دانشور ، لائق شخصیت اور شاعر بھی تھے۔ تازہ تنازعہ کیا ہے؟ دراصل کرناٹک حکومت 20 نومبر کو ٹیپو سلطان کی جینتی منانے جارہی ہے۔ اس پروگرام میں شامل ہونے کیلئے کرناٹک کے وزیر اعلی سدیرمیا نے مرکزی وزیر مملکت ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اننت کمار ہیگڑے کو مدعو کیا تھا۔ اس کے جواب میں ہیگڑے نے کہا کہ وہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ ٹیپو سلطان قاتل و بربریت کا حامل اور آبروریز تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان ہندو مخالف تھا۔ ہیگڑے کے اس بیان کو لیکر سیاست سے لیکر ادب تک سبھی میں ہلچل مچ گئی۔ مصنف ڈاکٹر ایچ بالدو برہماچاریہ فرماتے ہیں کہ ٹیپو سلطان بربر اور ظالم تھاوہ ہندوؤں پر بیحد ظلم ڈھایا کرتا تھا۔ اس نے اپنی اسٹیٹ میں ہندو مندروں کو بھلے ہی گرانڈ دی تو لیکن کیرل اور تاملناڈو کے مندروں کو اس نے توڑنے کا کام کیا۔ اتنا ہی نہیں کیرل اور تاملناڈو جیسی ریاستوں میں ٹیپوسلطان نے ہندوؤں کو تلوار کے زور پر مذہب تبدیل کروایا اور مسلمان بنوایا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی کیرل اور تاملناڈو کے لوگ ٹیپو سلطان کے خلاف ہیں۔ دوسری طرف ڈرامہ آرٹسٹ اروند گوڑ کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں سبھی چیزوں کو سیاسی رنگ میں رنگ دیتی ہیں۔ ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف مورچہ بندی کرنے میں سب سے آگے تھے انہوں نے ہمیشہ انگریزوں کی مخالفت کی۔ رہی بات ہمارے دیش کے لوگوں کی تو ہمارا دیش نظریات اور مذہب کا دیش ہے۔ یہاں سبھی لوگوں کو اپنی آزادانہ رائے رکھنے کا حق ہے۔ کوئی ٹیپو سلطان کو ہندو مخالف سمجھتا ہے تو کوئی آبروریز ، لیکن سچائی تو یہ ہے کہ دیش کو انگریزوں سے نجات دلانے میں سب سے آگے ٹیپو سلطان ہی تھے۔ اب جب ادیب ہی ٹیپو سلطان پر الگ الگ رائے رکھتے ہیں تو سیاسی پارٹیوں کا اس مسئلہ پر روٹیاں سینکنا لازمی ہی ہے۔
(انل نریندر)

02 نومبر 2017

یوگی حکومت کا پہلا چناوی امتحان

اترپردیش میں نگرپالیکا کے چناؤ کا اعلان ہوچکا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن پردیش میں تین مرحلوں 22، 26 و 29 نومبر کو چناؤ مکمل کرائے گا۔ ووٹوں کی گنتی یکم دسمبر کو ہوگی۔ میونسپل چناؤ میں کمیشن نے 10 برس کے بعد امیدواروں کے خرچ کی حد میں اضافہ کیا ہے۔ نگر پالیکا پریشد کے چیئرمین امیدواروں کے خرچ حد 4 لاکھ سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے تک کر دی گئی ہے جبکہ میئرکے امیدواروں کے خرچ کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ میونسپلٹیوں اورمیونسپل کارپوریشن کے چناؤ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کا اصلی امتحان ہوگا۔ پچھلی بار 12 میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤہوئے تھے جن میں سے بھاجپا کو10 میں میئر کی سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس بار میونسپل کارپوریشنوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہوگئی ہے۔ متھرا۔ برنداون اور فیض آباد نگر میونسپل کارپوریشنوں میں پہلی بار میئر کے لئے چناؤ ہوں گے۔ ایک بھگوان کرشن تو دوسری شری رام کی جنم بھومی ہے۔ بھاجپا اس سال مارچ میں بھاری اکثریت کے ساتھ اترپردیش میں اقتدار میں آئی تھی۔ ایسے میں آنے والے میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ ریاستی سرکار کا پہلا امتحان ہو گا۔ میونسپل چناؤ میں بھاجپا کو نوٹ بندی کے معاملے میں سماجوادی پارٹی ان چناؤ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سپا صدر اکھلیش یادو کہہ چکے ہیں کہ اگر لکھنؤ میٹرو، آگرہ۔ لکھنؤ ایکسپریس وے، سماجوادی پنشن یوجنا، سماجوادی آواس یوجنا سمیت ان کی پچھلی سرکار کی تمام ترقیاتی کاموں کو دیکھتے ہوئے ووٹ پڑے تو زیادہ تر میونسپلٹیوں میں پارٹی کے امیدوار چنے جائیں گے۔ سپا ۔ بھاجپا کو ان چناؤ میں چت کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ اپنانے پر آمادہ ہے۔ ادھر کانگریس ترجمان وریندر مدان نے بتایا کہ ان کی پارٹی میونسپل کارپوریشنوں میں نگر پالیکاؤں و نگرپنچایتوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے۔ اس بار یہ چناؤ بیحد اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس کے بعد صرف 2019ء کا لوک سبھا چناؤ ہوگا، لہٰذا میونسپل چناؤ سے پارٹی کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ چناؤ میں پارٹی کے ریاستی سطح کے لیڈر چناؤ کمپین کریں گے۔جہاں ضرورت پڑے گی وہاں مرکزی لیڈروں کی مدد لی جائے گی۔ یوں تو عام آدمی پارٹی بھی اترپردیش میں پہلی بار چناؤ میں تال ٹھوک رہی ہے۔ پارٹی ان مقامی چناؤ میں ریاست میں اپنی سیاسی پاری کا باقاعدہ آغاز مان رہی ہے۔ پردیش میں چار بار حکمراں رہ چکی بسپا پہلی بار اپنے چناؤ نشان پر ان چناؤ میں اترے گی۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں کراری ہار کے بعد بسپا کے لئے یہ چناؤ انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی یکم دسمبر کو ہوگی۔ میونسپل کارپوریشن کے میئر اور کونسل عہدوں کے چناؤ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کرائے جائیں گے جبکہ نگر پالیکا پریشد اور نگر پنچایت صدور و ممبروں کے چناؤ بیلٹ پیپروں کے ذریعے سے ہوگا؟ ویسے تو سبھی پارٹیوں کے لئے یہ چناؤ بہت اہم ہے لیکن سب سے زیادہ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کی ساکھ داؤ پرلگی ہے۔
(انل نریندر)

شی جن پنگ کا ماؤ اور ڈینگ کے زمرے میں شامل ہونا

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے 19 ویں کانگریس میں موجودہ صدر شی جن پنگ کو پھرسے اپنا لیڈر چن لیا ہے ساتھ ہی جن پنگ کی آئیڈیالوجی کو بھی پارٹی نے اپنے آئین میں شامل کردیا ہے۔ اس طرح پارٹی نے انہیں وہی قد اور عزت دی ہے جو پارٹی کے بانی ماؤ زے تنگ اور ان کے بعد ڈینگ زیاؤ پنگ کو ملی تھی۔ شی جن پنگ چین کے بڑے لیڈروں ماؤتیتسنگ اورڈ ینگ شوپنگ کی قطار میں شامل ہوگئے ہیں۔ شی کے ایک بیحد طاقتور لیڈر کی شکل میں ابھرنے کا واقعہ عالمی سطح پر بیحد اہم ہے۔ 64 سالہ شی پنگ کو ان لیڈروں کی قطارمیں ڈال دیا گیا ہے جس میں صرف ماؤ اور ڈینگ شامل ہوا کرتے تھے۔ ماؤ کی آئیڈیالوجی اورڈینگ زیاؤپنگ اصولاً اب بھی شی جن پنگ پرنسپل کو اب آئین میں شامل کیاہے۔ شی جن پنگ اصول کو آئین میں شامل کرنے کے بعد شی کے پاس اب حکمت عملی کے طور پر دو بڑے کام ہیں۔ پہلا چین کو سیاسی طاقت کی شکل میں ابھارنے کے علاوہ سال 2021 تک اسے اصلاح پسند دیش بنانا۔اس کا مطلب ہے کے2010 تک چین کا جو جی ڈی پی تھا اسے 2021 تک دوگنا کرنا۔ یعنی آسان لفظوں میں کہہ سکتے ہیں چین کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنانا۔ 2021 میں کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال پورے ہوجائیں گے اس کے بعد دوسری سطح پرانہیں 2035 تک چین کو اسی سطح پر یعنی اس ترقی کو بنائے رکھنے کی چنوتی ہوگی۔ اس کے بعد دو سال 2049 تک ایڈوانس سوشلسٹ دیش یعنی فوجی طاقت ، معیشت،کلچر میں سب سے بڑی طاقت کی شکل میں قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ تجزیہ نگار یہ امکان پہلے سے ہی ظاہرکررہے تھے کہ شی جن پنگ سب سے طاقتور بن کر ابھریں گے اور ڈینگ زیاؤپنگ کی طرح سب سے زیادہ طاقت حاصل کرسکتے ہیں، لیکن وہ کب اس مقصد تک پہنچیں گے اس کی پیشگوئی کسی نے نہیں کی تھی؟ سروشکتی مان نیتا بن کر ابھرے چی جن پنگ نے اپنے پہلے پیغام میں اپنی فوج یعنی پیپلز لبریشن آرمی سے کہا ہے کہ وہ جنگ کے لئے تیار رہیں۔ چین کی فوج میں 23 لاکھ جوان اور افسر شامل ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی آرمی ہے۔چین نے خارجہ پالیسی کے اشو پر جو جارحانہ رویہ اپنایا ہے ، اس سے پوری دنیا خدشے میں ہے۔ اس سے ایک نیتا کا سب سے طاقتور بننا سب کو پریشان کرنے کے لئے کافی ہے۔ کمیونسٹ عہدہوتے ہوئے بھی ایک اجتماعی لیڈرشپ کا کردار چین میں جاری ہے۔ چین کے ہمارے پڑوسی پاکستان سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ بھارت کے ساتھ معاہدے پر تنازعہ ہے۔ ایسے بھی شی جن پنگ کا یوں سروشکتی مان لیڈر کے طور پر ابھرنا بھارت کے لئے تشویش کا باعث ضرور ہے۔
(انل نریندر)

01 نومبر 2017

دہشت گردی اور گجرات کی سیاست

آزادی کے بعد جب ہماری جمہوریت قائم ہوئی تھی تب سیاست میں تھوڑی اخلاقیت تھی اقدار ہوتی تھیں لیکن وقت کے ساتھ نہ صرف ہماری اقدار گرتی گئی ہیں بلکہ سیاست میں الزام تراشیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کسی کو زیب نہیں دیتا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ آج ہماری سیاست کیسے اوچھے الزامات سے ہورہی ہے اور ایسا کرنے میں انہیں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ تازہ معاملہ گجرات میں سینئر کانگریسی لیڈر احمد پٹیل پرا لزام کا ہے۔ بھاجپا نے الزام لگایا کہ پکڑاگیا ایک مشتبہ دہشت گرد اس اسپتال میں کام کیا کرتا تھا جس کا تعلق کانگریس کے سینئر لیڈرا حمد پٹیل سے رہا ہے۔بھاجپا کے حکمراں گجرات کے وزیراعلی وجے روپانی نے پارٹی دفتر میں شری کملیم میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ خطرناک دہشت گرد اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ محمد قاسم ٹمبروالا بھڑوچ کے جس اسپتال میں بطور ٹکنیشن کام کررہا تھا اس کے ٹرسٹی خود احمد پٹیل رہ چکے ہیں۔ ان کا الزام کافی سنگین ہے۔ الزام لگاتے ہوئے روپانی کا کہنا تھا کہ جس اسپتال کے دو مشتبہ آتنک وادیوں کو گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ احمد پٹیل کا تعلق رہا ہے۔غور طلب ہے کہ ان مشتبہ دہشت گردوں میں سے ایک اس اسپتال کا ملازم رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ احمد پٹیل پہلے اس اسپتال کے کرتا دھرتا رہے۔ انہوں نے اسپتال کی تعمیر میں بھی مدد کی تھی وہ اسپتال کے ٹرسٹی بھی رہے تھے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ پٹیل نے 2014 میں اسپتال کے ٹرسٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب اس کی بنیاد پر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ احمد پٹیل کا مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ کسی بھی ایسے ادارے میں سینکڑوں ،ہزاروں ملازم ہوتے ہیں اور اس ادارے کا ذمہ دار یا مالک اس بات کا کیسے ویری فکیشن کر پائیں گے کہ اس کے یہاں کام کرنے والے ملازمین میں کون دہشت گرد ہے کون نہیں ؟ معاملہ گرماتا ہوا دیکھ کانگریس پارٹی احمد پٹیل کے بچاؤمیں اتر آئی ہے۔وہیں جس اسپتال میں نام نہاد دہشت گرد پکڑا گیا اس نے بھی احمد پٹیل کا بچاؤ کیا ہے۔ اس بیچ کانگریس نے بھی گڑھے مردے اکھاڑتے ہوئے بھاجپا کو قندھار سے لیکر کئی پرانے واقعات کی یاد دلا دی۔ ادھر اسپتال کا کہنا ہے کہ احمد پٹیل یا ان کے خاندان کا کوئی ممبر ٹرسٹی نہیں ہے۔ کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے ایک بیان میں کہا پٹیل یا ان کے خاندان کا اس اسپتال سے کوئی تعلق نہیں ہے جہاں پر کام کرچکے ایک شخص کو آتنکی کے طور پر گرفتار کیا گیا۔انہوں نے آگے کہا گجرات چاؤ میں ہوئی ہار کو دیکھتے ہوئے بھاجپا سازشیں رچ رہی ہے۔ قومی سلامتی کے اشو پر کھلواڑ نہیں ہونا چاہئے۔ کل ملاکر پہلی نظر میں یہ لگ رہا ہے کہ بھاجپا چناؤ میں بڑھت بانے کے لئے اس طرح کے غیر ضروری الزامات لگا رہی ہے۔ دیش کی سیکورٹی سے جڑے حساس ترین اشو پر توجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...