Translater

24 جولائی 2025

ساری حدیں پار کرتا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ!

ای ڈی یعنی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے کام کے طریقہ کار کو لیکر اپنے اختیارات کا بیجا استعمال بغیر شفافیت اپنائیت اور سیاسی بیجا استعمال جیسے سوالوں پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیںاور کئی بار عدلیہ اس کو خبردار بھی کرچکی ہے لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں اور بغیر سوچے سمجھے صحیح جانچ کرے کہیں بھی پہنچ جاتے ہیں ۔ای ڈی پر اپوزیشن پارٹیوں پر ناجائز دباو¿ ڈالر کر یہاں تک کہ الزامات لگے ہیں کہ وہ چنی ہوئی حکومتوں کو بھی گرانے میں مدد کرتی ہے ۔اور ایک بار ای ڈی کو عدالت میں کتنے کیسز میں الزام ثابت کرنے کا ٹریک ریکارڈ نہایت خراب ہے۔درج معاملوں میں قصوروار کی شرح ہونے پر بھی سوال اٹھتا ہے ۔یہ سوال تب اور سنگین ہو جاتے ہیں ،جب کچھ معاملوں میں عدلیہ کی جانب سے بھی ایجنسیوں کے طریقہ کار کو شبہہ سے دیکھا جاتا ہے ۔تازہ مثال وکیلوں کو طلب کرنے کا معاملہ ہے ۔سپریم کورٹ نے جانچ کے دوران قانونی صلاح دینے یا موکلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کو ای ڈی کے ذریعے طلب کرنے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ ای ڈی ساری حدیں پارکررہا ہے۔چیف جسٹس وی آر گوائی اور جسٹس ونود چندن کی ڈویژن بنچ عدلیہ پیشہ کی آزادی پر پوری طرح کی کاروائیوں کے اثرات پر دھیان دینے کے لئے عدالت کے ذریعے خود نوٹس لیتے ہوئے شروع کی گئی ہے ۔غور طلب ہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران یہ سخت رائے زنی کی تھی کہ ای ڈی کوئی ڈان نہیں ہے جو مجرمانہ سرگرمیوں کا پتہ چلتے ہی حملے کر دے ۔ساتھ ہی کہاکہ جانچ ایجنسی ایک زیادہ موقف پولیس افسر کی طرح نہیں ہے جو اس کے نوٹس میں آنے والی ہر چیز کی جانچ کرے ۔ہر جانچ ایجنسی میں بیشک کچھ نہ کچھ کمیان ہوتی ہیں لیکن جب سلسلے وار طریقہ سے سوال اٹھنے لگیں تو یہ دامن پر داغ لگنے جیسا ہوتا ہے ۔ای ڈی کے اختیارات سے جڑے ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے رائے زنی کی تھی کہ اگر جانچ ایجنسی پاس بنیادی اختیار ہے تو اسے لوگوں کے اختیارات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جانچ کے دوران قانونی صلاح دینے یا مو¿کلوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کو ای ڈی کے ذریعے طلب کئے جانے پر جڑے ایک معاملے میں پیر کو بڑی عدالت نے کہا کہ ای ڈی ساری حدیں پارکررہی ہے اس کے علاوہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدا رمیا کی بیو ی سے متعلق زمین پلاٹ الاٹمنٹ معاملے میں عدالت نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی لڑائی ووٹروں کے سامنے لڑی جانی چاہیے ،اس میں ای ڈی جیسی نام کی ایجنسیوں ہتھیار کی شکل میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ظاہر ہے لگاتا اٹھنے والے سوالوں کے درمیان ای ڈی کا اپنا طریقہ کار میں شفافیت اور غیر جانبداری کے معیارات یقینی کر سیاسی دباو¿ سے آزاد ہو کر کام کرنا چاہیے تاکہ اس کی ساکھ پر کوئی بٹہ نا لگے ۔بنچ نے ای ڈی کی عرضی کو خارج کر دیا ہے اور کرناٹک ہائی کورٹ کا حکم برقرا ر رکھا ہے عرضی میں ای ڈی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں ہائی کورٹ نے کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی بیوی کاویری کے خلاف ایم ڈی یو گھوٹالے میں کاروائی کرنے پر روک لگا دی تھی ۔ای ڈی کی جانب سے ایڈیشنل شالی سیٹر جنرل ایس وی راجو عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ برائے کرم ہمیں اپنا منھ کھولنے کے لئے مجبور نہ کریں ورنہ ہمیں ای ڈی کے خلاف کچھ سخت الفاظ کا استعمال کرنا پڑے گا ۔بدقسمتی سے مجھے مہاراشٹرمیں اسے لے کر کچھ تجربہ ہے اسے پورے دیش میں مت پھیلائیں ۔سیاسی لڑائی تو ووٹروں کے سامنے لڑنا چاہیے ہمیں اس میں آپ کیوں استعمال ہو رہے ہیں ۔سپریم کورٹ کی یہ رائے زنیاں صاف نشاندہی کرتی ہیں کہ کس طرح حکمراں پارٹی جانچ ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتی ہے اور سیاسی کھیل کھیلتی ہیں ۔ان جانچ ایجنسیوں کو چاہیے کہ یہ ہر حکم کو آنکھیں بند کرکے عمل نہ کریں بلکہ تھوڑی جانچ پہلے کریں کہ الزامات میں کتنا دم ہے ۔یا نہیں ؟ یا صرف سیاسی حریفوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ؟ امید کی جاتی ہے کہ ای ڈی سمیت تمام جانچ ایجنسیوں کے لئے کوئی پیمانہ ضرور ہونا چاہیے ۔ (انل نریندر)

22 جولائی 2025

مانسون سیشن ٹکراو کے پورے آثار!

پیر سے پارلیمنٹ کا مانسون سیشن شروع ہو گیا ہے ۔21 جولائی سے 21 اگست تک چلے گا اس ایک ماہ کے طویل عرصہ سیشن کی شروعات سے ہی حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان صاف ٹکراو¿ دکھائی دیتا نظر آرہا ہے ۔تیاری دونوں طرف سے پوری ہے ۔اپوزیشن نے جہاں سرکار کو مختلف برننگ اشوز پر گھیرنے کی تیاری کر لی ہے ۔وہیں حکمراں فریق نے بھی اپوزیشن کی حکمت عملی کو کند کرنے کی تیاری پوری کر لی ہے ۔پارلیمنٹ کے سیشن سے عین پہلے انڈیا اتحاد کی ورچوئل میٹنگ سنیچر کی دیر شام منعقد کی گئی جس میں مانسون سیشن کو لے کر پوری اپوزیشن نے مشترکہ حکمت عملی اور سرکار کے کورے ایجنڈے پر مفصل غور وخوض کیا ۔میٹنگ کے بعد سینئر کانگریس نیتا اور اراجیہ سبھا میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پرمود تیواری نے میڈیا کو بتایا کہ اپوزیشن نے طے کیا ہے کہ آنے والے سیشن میں وہ آٹھ اہم مسئلوں پر پی ایم مودی اور ان کی سرکار کو گھیریں گے ان سے سوالوں کے جواب مانگے جائیں گے ان میں پہلگام آتنکی حملہ ،آپریشن سندور ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت پاک سیزفائر کے 24 سے زیادہ بار دعوے ،بہار میں ایس آئی آر کی قواعد ،پولنگ ،حقوق پر سنکٹ ،حد بندی ،ایس سی ایس ٹی اور عورتوں کے خلاف ظلم احمد آباد میں پلین حادثہ ،غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا دور ،سرکار کی خارجہ پالیسی جیسے اشوز کو مضبوطی سے اٹھایا جائے گا ۔اس ورچوئل میٹنگ میں 24 پارٹیوں کے نمائندوں نے حصہ لیامیٹنگ بہت ہی خوشگوار ماحول میں ہوئی ،جلد ہی انڈیا اتحاد کے نیتا آپس میں مل کر ایک میٹنگ کریں گے جس میں وہ اپنی آنے والی حکمت عملی کو دھار دیں گے۔کانگریس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ٹھیک سے چلے لیکن اس کے لئے سرکار کو اپوزیشن کے ذریعے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دینا ہوگا ۔وزیراعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں موجود رہنا چاہیے اور خود ان سوالوں کا جواب دینا چاہیے ۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ دیش میں جمہوریت اور آئینی اختیارات پر خطرہ منڈرا رہا ہے ۔اور ایسے میں اپوزیشن کا رول اور ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے ۔خارجہ پالیسی پر بھی بحث ہوگی ۔وہیں پہلگام آتنکی حملہ ،آپریشن سندور و ٹرمپ سے لے کر بہار میں ووٹر لسٹ رویژن جیسے اشوز پر حکمراں فریق بھی اپنی حکمت عملی پر کام کیا ہے۔جمعہ کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے گھر پر ہوئی میٹنگ میں اس پر بات ہوئی جس میں سرکار کے سینئر وزراءکو مسلح افواج کی طرف سے بھی بریف کیا گیا ۔ماناجارہا ہے کہ آپریشن سندور کے الگ الگ پہلوو¿ں کے بارے میں پوزیشن صاف کی گئی ہے ۔راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر بیان د ے سکتے ہیں ۔اتوار کو حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بھی بلائی تھی جس میں سرکار کی طرف سے صاف کیا گیا کہ وزیر دفاع آپریشن سندور پر بیان دیں گے ۔بہار ووٹر لسٹ رویژن کو لے کر آپریشن کے حملے کا جواب دینے کے لئے بھی سرکار کی طرف سے پوری تیاری ہے ۔معاملہ کورٹ میں ہے ۔ساتھ ہی حکمراں فریق کی طرف سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ چناو¿ کمیشن کا فیصلہ ہے کہ اس مسئلے کے بہانے بی جے پی بنگلہ دیشی دراندازوں کے معاملے پر اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کرے گی ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ چلے گی ؟ کدھر وزیر اعظم بیچ میں ہی غیر ملکی دورہ پر جارہے ہیں تو وہ جواب نہیں دیں گے ۔تو پھر یا تو راجناتھ سنگھ یا پھر امت شاہ کو بھی مورچہ سنبھالنا پڑے گا ۔پورے سیشن میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کا رول بھی اہم ہوگا ۔دیکھنا ہوگا کہ یہ اس سیشن میں اپوزیشن کو کتنا ایکومیڈیٹ کرتے ہیں ؟ اگر پچھلے اجلاسوں کو دیکھا جائے تو ان کے رویہ سے زیادہ نرمی کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ویسے سرکار اس وقت چوطرفہ دباو¿ میں ہے ایک طرف اپوزیشن حاوی ہونے کی کوشش کررہا ہے ۔تو دوسری طرف بھاجپا اور این ڈی اے کے اندر بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔آر ایس ایس سرسنگ چالک موہن بھاگوت،ڈاکٹر سبرا منیم سوامی اور نتن گڈکری بار بار برننگ اشوز اٹھا رہے ہیں ۔سرکار ہر طرف سے دباو¿ میں ہے ایسے میں یہ مانسون سیشن (اگر چلا) بہت اہم ترین ہو جاتاہے ۔دیکھیں کیا کیا ہوتا ہے ؟ (انل نریندر)

19 جولائی 2025

بہار میں نظرثانی مہم بنی ایک مذاق

بہار میں ووٹر لسٹ (ایس آئی آر) کی خصوصی نظر ثانی میں لاپرواہی، بدنظمی اور گڑبڑ کے واقعات اب منظر عام پر آ گئے ہیں۔ اب یہ ساری مشق ایک مذاق بن گئی ہے۔ اس مہم میں کئی سطحوں پر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں۔ صحافیوں سے لے کر اپوزیشن جماعتوں تک سبھی نے ان بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بھاسکر کی زمینی جانچ میں بی ایل او کھیتوں میں بیٹھ کر فارم بھرتے ہوئے پائے گئے اور کچھ جگہوں پر وہ واٹس ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ مانگ رہے تھے۔ پٹنہ میں دو طرح کے فارم بہت سے ووٹروں کے گھر پہنچے۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اور بی ایل او مختلف فارم دے رہے ہیں۔ اعترافی فارم نہیں دیے گئے ، حالانکہ قواعد کے مطابق یہ ضروری ہے۔ دوسری طرف، تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، جو این ڈی اے حکومت کا حصہ ہے، نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ایس آئی آر سے متعلق کئی سوالات پوچھے ہیں۔ ٹی ڈی پی کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور اس میں شمولیت کے تصور کی حمایت کی کہ ووٹر پہلے سے ہی تازہ ترین تصدیق شدہ ووٹر لسٹ میں درج ہیں۔ انہیں اپنی اہلیت کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ جب تک کہ مخصوص اور قابل تصدیق وجوہات درج نہ کی جائیں۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، اس نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں کسی شخص کا نام شامل کرنے سے اس کی درستگی کا اندازہ ہوتا ہے اور نام ہٹانے سے پہلے اس کی درست جانچ کی جانی چاہیے۔ ٹی ڈی پی نے کہا کہ ثبوت کا بوجھ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا اعتراض کرنے والے پر ہے۔ ووٹر پر نہیں، خاص طور پر جب نام سرکاری فہرست میں موجود ہو۔ ٹی ڈی پی کے اس وفد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی سے ملاقات کی۔ دریں اثنا، الیکشن کمیشن نے بدھ کو کہا کہ بہار میں 7.9 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 6.85 فیصد نے ابھی تک اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم نہیں بھرے ہیں۔ یعنی کمیشن نے آخری تاریخ سے نو دن پہلے 93 فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔ دوسری جانب انڈیا الائنس میں شامل جماعتوں کے رہنماو¿ں راہل گاندھی، ممتا بنرجی اور تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔ آسام کے گوہاٹی میں کانگریس کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت ہے۔ یہ اس حقیقت سے ثابت ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے چار ماہ بعد ہوئے اسمبلی انتخابات میں تقریباً ایک کروڑ نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا اور بی جے پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اپوزیشن کے مطالبے پر بھی الیکشن کمیشن نے ووٹرز کی فہرست اور پولنگ اسٹیشنز کی ویڈیو گرافی دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی طرح اب بہار میں بھی الیکشن چرانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ بہار میں ووٹر لسٹ سے غریبوں، مزدوروں اور کانگریس-آر جے ڈی کے حامیوں کے نام ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کھلے عام بی جے پی کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں، بی جے پی ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا شروع کر دیتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے بہار میں 30.5 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی نے مہاراشٹر، ہریانہ اور دہلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ وہ اسی منصوبہ کو بہار اور بنگال کے لیے نافذ کر رہے ہیں۔ اسی طرح راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر تیجسوی یادو نے ایکس پر لکھا کہ بہار میں کل 7 کروڑ 90 لاکھ ووٹر ہیں۔ سوچیں، اگر بی جے پی کی ہدایت پر ایک فیصد ووٹروں کو بھی ہٹا دیا جائے تو تقریباً 7 لاکھ 90 ہزار ووٹروں کے نام کٹ جائیں گے۔ یہاں ہم نے صرف ایک فیصد کی بات کی ہے جبکہ ان کی نیت اس سے بھی زیادہ ہے، چار پانچ فیصد۔ اس کے مطابق ہر اسمبلی میں 3200 سے زائد ووٹروں کے نام کاٹے جائیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں ووٹ بڑھے تھے، اس بار کم کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی نے کہا، اگر ہم گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں جیت کے کم مارجن والی سیٹوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2015 کے اسمبلی انتخابات میں 3000 سے کم ووٹوں والی کل 15 سیٹیں تھیں، جب کہ 2020 میں یہ 35 سیٹیں ہو گئی تھیں۔ الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر ایسے سنگین الزامات لگنا شروع ہو جائیں تو اس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگنا فطری امر ہے۔الیکشن کمیشن پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب سپریم کورٹ نے وقت کی کمی اور نظرثانی کے عمل کی درستگی پر سوال اٹھائے اور اگلی سماعت کی تاریخ 28 جولائی مقرر کی ہے۔آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ اسے درست کرے، اس میں ترمیم کرے، غلط حکم کو واپس لے۔ -انل نریندر

17 جولائی 2025

اقتدار کےلئے لمبی کھینچی گئی غزہ جنگ !

اسرائیل میں سب سے زیادہ وقت اقتدار میں رہنے کا ریکارڈ بنجامن نیتن یاہو کے نام ہے ۔وہ 17 سال 9 مہینے سے اسرائیل کے وزیراعظم ہیں ۔دسمبر 2022 کے بعد نیتن یاہو کے تیسرے عہد کے تیس ماہ میں سے اکیس ماہ تک اسرائیل جنگ میں گھرا رہا۔نیویارک ٹائمس میں شائع رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے گھٹتی مقبولیت اور کرپشن کے الزامات سے اور عدالتوں میں چل رہی ان کے خلاف کرپشن کے مقدموں سے بچنے و توجہ ہٹانے کے لئے غزہ جنگ کو لمبا کھینچا گیا ۔الزام ہے کہ انہوں نے قطر کے ذریعے حماس کی باقاعدہ فنڈنگ بھی کی تھی ۔جانیے کیسے نیتن یاہو نے پی ایم کے عہدے پر بنے رہنے اور اپنے فائدے کے لئے باقاعدہ جنگ کا استعمال کیا ۔نیتن یا ہو نے خفیہ جانکاری کو نظر انداز کیا جس سے حماس مضبوط ہوا اور اسے تیاریوںکا موقع ملا ۔بنجامن نیتن یاہو 2020 سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہے تھے ۔جس سے ان کی سیاسی پکڑ کمزور ہوئی اور اقتدار میںبنے رہنے کے لئے ساو¿تھ پنتھی اور علیحدگی پسند پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔نیتن یاہو نے قطر کے ذریعے سے غزہ کو اقتصادی مدد دینے کی پالیسی اپنائی جسے وہ امن خریدنے کا طریقہ مانتے تھے ۔لیکن اس سے حماس کو فوجی تیاریوں کے لئے وسائل جمع کرنے کا موقع مل گیا ۔جولائی 2023فوجی خفیہ یونٹ نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی عدلیہ اصلاح ٹیم نے دیش کو کمزور کر دیا ہے ۔جس سے حماس ،حزب اللہ اور ایران کو حملے کا موقع مل سکتا ہے ۔سنبیٹ شون نے حکمت عملی جنگ کی وارننگ دی لیکن نیتن یاہو نے اسے مسترد کردیا اور مظاہرین کو کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ۔اس سے حماس کو فائدہ ملا ۔نتین یاہو کا دہرا کھیل علاقائیت کے لئے جنگ کا اعلان ،ناکامی کا ٹھیکرا فوج اور ایجنسیوں کے سرپر پھوڑ دیا ۔7اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے نے اسرائیل کو چونکا دیا ۔حملے میں 1195 اسرائیلی شہری مارے گئے ۔اور 25 کا اغوا کیا گیا اس کے بعد بنجامن نیتن یاہو نے حماس لیڈر شپ کو ختم کرنے کے احکامات دیے ۔خفیہ ناکامی کی ذمہ داری سے بچنے کے لئے انہوں نے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دارامانا ۔ان کی پہلی حکمت عملی تھی فوجی کاروائی کو تیز کرنا ۔جس میں غزہ پر وسیع پیمانہ پر حملے شامل تھے ۔درمیانی مارگی بینی گینٹس اور گادی اور جین کورٹ کو سرکار نے شامل کیا ۔اس قدم نے اتحادی سرکار کو مضبوطی دی اور جنگ کو لمبا کھینچنے کی ان کی حکمت عملی کی حمایت کی ۔پی ایم نے دہرا کھیل کھیلتے ہوئے حماس حملے کے لئے کھلے طور پر دعویٰ کیا کہ انہیں حماس کے ارادوں کے بارے میں کوئی وارننگ نہیں ملی تھی جس سے ان کی ساکھ کو بچانے کی کوشش کی ۔نیتن یاہو نے اپنی سیاسی ساکھ کو چمکانے اوراقتدار میں بنے رہنے کے لئے جنگ کا استعمال کیا ۔ستمبر 2024 میں یرغمالوں کے قتل کے بعد احتجاجی مظاہرے بڑھے ان کے ترجمان نے ایک حماس دستاویز کو جرمن اخبار ورلڈ میں لیگ کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا مظاہرین حماس کے ایجنڈے کوبڑھاوا دے رہے تھے اور اس حکمت عملی نے جنتا کی توجہ جنگ بندی کی مانگ سے ہٹاکر حماس کے خلاف اتحاد اور حزب اللہ وایران کے خلاف فوجی کامیابیوں نے نیتن یاہو کی مقبولیت بڑھا دی ۔حماس نیتا یحیٰ سنوار اور حزب اللہ چیف نصر اللہ کی موت او رلبنان پر واکی ٹاکی حملے اور ایران پر نیوکلیائی پلانٹ پر حملے نے نیتن یا ہو کی پوزیشن کو اور مضبوط کیا ۔اپریل 2024 میں نیتن یاہو نے جنگ بندی اسکیم کو منظوری دی ۔جس سے ستر سے زیادہ اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی اور سعودی عرب کے ساتھ امن سمجھوتہ کا امکان شامل تھا ۔کابینہ میٹنگ میں کٹر ساو¿تھ پنتھی اور وزیر مالیات ایموٹرتھ نے دھمکی دی کہ اگر یہ اسکیم آگے بڑھی تو سرکار گر جائے گی ۔نیتن یاہو نے فوراً اقتدار کو ترجیح دیتے ہوئے اس اسکیم کو منسوخ کردیا ۔جولائی 2024 میں ایک اور جنگ بندی معاہدے کے قریب تھا لیکن نیشنل سیکورٹی وزیر بین گروٹ کے دباو¿ نے نیتن یاہو نے غزہ ،مصر سرحد پر نئی شرطیں جوڑ دیں جس سے بات فیل ہو گئی ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو¿ میں نیتن یاہو نے جنوری 2025 میں غزہ جنگ بندی لاگو تو کیا لیکن اپنااقتدار بچانے کے لئے معاہدہ بیچ میں ہی توڑ دیا ۔الٹرا آرتھو ڈکس کے ممبران پارلیمنٹ کے احتجاج جس کی شرط تھی کہ غزہ میں بمباری جاری رہے ۔18 مارچ کو حملے شروع ہوئے اور 19 کو اتحاد بحال ہوا اور بجٹ پاس ہو گیا ۔نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لئے منا لیا ۔ٹرمپ نے فوجی ایکشن کی حمایت کی اور اسرائیل کا ساتھ دے کر ایران کے نیوکلیائی اڈوں پر زبردست بمباری کی تھی ۔اسی کے بعد نتین یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل ایوارڈ کے لئے نامزد کیا ۔صاف ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے اپنااقتدار بچانے کے لئے غزہ جنگ جاری رکھی ہے ۔تیس ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں جن میں 20 ہزار بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ۔اقتدار کی خاطر یہ تاناشاہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔اوپر والا سب دیکھ رہا ہے ۔اور صحیح وقت پر ان کے کوکرموں کی سزا دے گا ۔ (انل نریندر)

15 جولائی 2025

کیا ٹرمپ اور نیتن یاہو نے پھر حملے کی تیاری کر لی ہے ؟

نیتن یاہو کے حالیہ امریکی دورہ کے بعد ایران پر پھر حملے کا اندیشہ منڈگیا ہے۔وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا وہ مقصد پورا ہوگیا ہے لگتا ہے جس کے لئے وہ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے امریکہ گئے تھے ۔مانا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر پھر سے حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔سوال یہی ہے کہ کیا نیتن یاہو ایران پر حملے کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جارہے ہیں ؟ ایران پر حملے کا خطرہ اس لئے بڑھ گیا ہے کیوں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران پر حملہ کرنے کا بلو پرنٹ تیار کر چکے ہیں ۔ایسا امریکی میڈیا بھی دعویٰ کررہا ہے ۔نیتن یاہو جب واشنگٹن گئے تھے تبھی صاف ہو گیا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ایران پر حملے کی اجازت لیں گے ۔اب جبکہ نیتن یاہو کا دورہ پورا ہو گیا ہے تو ماناجارہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران پر حملے کے لئے ہری جھنڈی دے دی ہے ۔اس کے اشارے اس بات سے بھی مل رہے ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں میں واشنگٹن میں سب کچھ ویسا ہی ہورہا ہے جیسا پچھلی بار حملے سے پہلے ہوا تھا ۔ٹرمپ اور نیتن یاہو میں واشنگٹن دورہ کے دوران دو ایمرجنسی میٹنگیں ہوئیں ایک میں تو ٹرمپ کے ساتھ تمام امریکی فوج کے سربراہ بھی شامل ہوئے تھے ۔یعنی فوجی نظریہ سے بھی حملے کے سارے پہلوو¿ں پر غور ہواہوگا ۔نیتن یاہو کے دورہ کے بعد ٹرمپ نے خفیہ ایجنسیوںکے سربراہوں سے ملے تھے ۔ٹرمپ پچھلی بار ایران پر ہوئے حملے سے پہلے اسی طرح کے پروگرام پر تھے ۔اسرائیل نے جس دن ایران پر حملہ کیا تھا اس دن بھی ٹرمپ نے انٹیلی جینس بریفنگ دی تھی ۔نیتن یاہو کے حملے کا رخ تو اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ ایران پر حملے کا دوسرا دور کبھی بھی شروع ہو سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ہمیں دوربارہ جنگ چھڑنے کے پیچھے دو مقصد نظر آتے ہیں ۔پہلا ایران کو ہر حملے میں نیوکلیائی طاقت بننے سے روکنا ہے ۔اور اسی راو¿نڈ میں جب امریکہ B-2 اسٹیلتھ بامبر سے بینکر واٹر بم گرائے تھے تو ایران کے نیوکلیائی کارخانوں کو اتنا نقصان نہیں ہواتھا ماہرین کا دعویٰ تھا کہ ایران نیوکلیائی بم بنانے میں صرف دو تین مہینے پیچھے ہی رہ گیا ۔کہاتو یہ بھی جارہا ہے کہ ایران نے اپنے 400 کلو اینرچ یورونیم کو امریکی حملے سے پہلے ہی کسی محفوظ جگہ پہنچا دیا تھا۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جب تک چاہے کم سے کم 10 نیوکلیائی بم بنا سکتا ہے ۔ٹرمپ نیتن یاہو اس بات ایران کے نیوکلیائی پلانٹس کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔دوسر ا مقصد ایران کو اتنا کمزور کر دیں کہ وہ مشرقی وسطیٰ میں محض ایک بڑا بیج کا اثر دار دیش بن کر رہ جائے ۔تیسرا مقصد ایران سے آیت اللہ علی خامنہ ای عہد کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ۔اس میں خامنہ ای کا قتل بھی پلان ہے ۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کے زیادہ تر یورینیم کا پتہ لگا لیا ہے۔ماناجارہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد موساد نے اس لوکیشن کا بھی پتہ لگا لیا ہے جہاں ایران نے اپنا سب سے زیادہ یورینیم چھپایا ہوا ہے ۔ادھر امریکہ اس بات سے بھی بھڑکا ہوا ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی مشن کا معائنہ نہیں کرنے دے رہا ہے۔انٹرنیشنل ایٹامک اینرجی (آئی اے ای اے ) کے چیف رافال گروسی نے ایران کے سبھی ایٹمی مشن کو لے کر کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں ۔ اس بات کے ثبوت تو نہیں ہیں لیکن خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتاجارہا ہے ۔گروسی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایران اتنا اہل ہو چکا ہے کہ وہ بہت جلد نیوکلیائی تجربہ کر سکتا ہے ۔غیر مصدقہ دعووں میں تو یہاں تک کہاجارہا ہے کہ ایران نے نیوکلیائی بم تیار کر لئے ہیں ۔ادھر ایران بھی اگلے راو¿نڈ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔وہ چنوتی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اگر اس بار امریکہ اسرائیل نے پھر ایران پر حملہ کیا تو انہیں ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ نہیں بھولیں گے۔ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔پچھلے 12 دن چلی لڑائی میں ہم نے ثابت کر دیا تھا کہ ہم کتنی تباہی مچا سکتے ہیں ۔اس بار تو ایران زیادہ مضبوط حالت میں نظر آرہا ہے کیوںکہ چین ،روس اور نارتھ کوریا کا بھی اس کو پوری کھلی حمایت مل چکی ہے ۔کل ملا کر صورتحال بہت کشیدہ ہے ۔ہم امید کرتے ہیں اوپر والے سبھی فریقین کو عقل دے تاکہ کہیں تیسری جنگ کی شروعات نہ ہو جائے ۔ (انل نریندر)

12 جولائی 2025

پلوامہ حملہ : ٹیرر فنڈنگ بھی آن لائن!

آتنکوادی پچھلے کچھ برسوں سے اپنی ناپاک سازشوں کو انجام دینے کے لئے روایتی طریقے کے بجائے جدید تکنیک کا سہارا لے رہے ہیں ۔خاص کر انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف طرح کی مدد حاصل کرنا ان کے لئے آسان اور اچھا طریقہ بن گیا ہے ۔عالمی دہشت گردی نگرانی ادارہ ایف اے ٹی ایف نے فروری 2019 کے پلوامہ آتنکی حملے اور گورکھ ناتھ مندر میں ہوئی 2020 کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ای - کامر س اور آن لائن پیمنٹ سیواو¿ں کا بیجا استعمال دہشت گردی کو مالی مدد کے لئے کیا جارہا ہے ۔اپنے تجزیہ میں ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردی کو سرکار کے ذریعے اسپانسر کئے جانے کی بھی نشاندہی کی ہے ۔اور کہا کہ کھلے طور سے دستیاب اطلاع کے مختلف ذرائع اور اس رپورٹ سے نمائندہ وفود کے غور سے اشارہ ملتا ہے ۔ٹیرر فنڈنگ پر نظر رکھنے والی اس عالمی انجمن کی حالیہ رپورٹ نے دہشت گردی کے الگ الگ پہلوو¿ں کی جانب توجہ مرکوز کائی ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی تک دہشت گرد تنظیموں کو آسانی سے پہنچ رہے ہیں ۔انہیں خطرناک بنا رہی ہیں ۔اس سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر نئی حکمت عملی کی ضرورت ہو گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2019 میں پلوامہ اور 2022 میں گورکھ ناتھ مندر میں ہوئے آتنکی حملے کے لئے آن لائن پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔پلوامہ میں دہشت گردوں نے آئی ای ڈی کا استعمال کیا تھا ۔اور اسے بنانے کے لئے الیومیونیم پاو¿ڈر دیگر جگہ سے خریدا ۔گورکھپور کے گورکھ ناتھ مندر میں ہوئے حملے میں پیسے کا لین دین بھی آن لائن کے ذریعے پہنچایا گیا ۔یہ ہی نہیں آتنکی بچ پانے کا طریقہ بھی انٹرنیٹ سے سیکھ رہے ہیں جو سنگین تشویش کا باعث ہے ۔حالیہ برسوں میں ہوئے کئی آتنکی حملوں کی جانچ میں اس کے ثبوت ملے ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آن لائن سروسز کا بیجا استعمال کس قدر خطرناک شکل لے چکا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پلوامہ حملے میں الیومونیم پاو¿ڈر کا استعمال دھماکہ کے اثر کو بڑھانے کے لئے کیا گیا تھا ۔جیش محمد آتنکی تنظیم نے فروری 2019 میں سیکورٹی فورس کے قافلے پر فدائی حملہ کیا تھا ۔لوک سبھا چناو¿ سے کچھ مہینے پہلے ہوئے دھماکے نے سی آر پی ایف کے 40 جوان بلیدان ہوئے تھے۔ایف اے ٹی ایف نے کچھ دن پہلے پہلگام کو لے کر کہا تھا کہ اتنا بڑا آتنکی حملے باہری مالی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوسکے گا ۔اس کی حالیہ رپورٹ اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔دہشت گردوں نے اپنے کام کا طریقہ بدل لیا ہے اب وہ انٹرنیٹ کی دنیا کی طرف جارہے ہیں ۔ایف اے ٹی ایف کی اس اپڈیٹ رپورٹ نے سرکاری اسپانسر دہشت گردی کے دعوے پر بھی درپردہ طور سے مہر لگا دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد اپنے تشدد کے لئے ذمہ دارہیں ۔اور آپریشنس کے لئے ساز وسامان ہتھیار اور یہاں تک کہ تھری ڈی پرنٹنگ ساز وسامان کی خریداری تھی آن لائن سروسز کے ذریعے کررہے ہیں ۔یہ بات صحیح ہے کہ آن لائن خریدار ی کے سسٹم سے لوگوںکو کافی سہولیت ہوئی ہے لیکن اس سہولت کا استعمال خطرناک منصوبوں کو انجام دینے کے لئے نہ ہو اس پر سرکار کی گہری نگاہ رکھنی ہوگی اور ایسے قاعدے بنانے ہوں گے جن سے یہ آ ن لائن سائٹ کی سہولت کا بیجا استعمال نہ کر سکیں ۔اور دہشت گردی پھیلانے میں مدد نہ کر پائیں ۔ساتھ ہی آن لائن سیلس انتظام کرنے والے اسٹیجز کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے سامان کی باقاعدہ طور پر نگرانی کریں تاکہ اس کے بیجا استعمال پر روک یقینی ہو سکے ۔ایف اے ٹی ایف کا یہ انکشاف بھی اہم ہے کہ آتنکی تنظیموں کو کچھ دیشوں کی حکومتوں سے مالی اور دیگر مدد ملتی رہی ہے ۔جن میں ساز وسامان سے متعلق مدد و ٹریننگ بھی شامل ہے ۔بھارت سمیت کئی دیش دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متحدہ کوششوں پر زور دے رہے ہیں لیکن کچھ چنندہ ملکوں کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی کفالت سے اس پر پلیتا لگ رہا ہے ۔دہشت گردی کی اس چنوتی سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر کوششیں کرنی ہوں گی اس سے پہلے بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح پاک اسپانسر آتنکی واقعات ہمارے خلاف کئے جارہے ہیں ۔یہ بات چھپی نہیں ہے پاکستان دہشت گردوں کی کفالت کرکے انہیں ہتھیار کی طرح استعمال کرتا ہے ۔سرکار کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیسے ای کامرس کمپنیوں پر پابندی لگائی جائے تاکہ وہ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والی سرگرمیوں کو بند کریں ۔ (انل نریندر)

10 جولائی 2025

رفال گرنے پر چین نے پھیلاہا بھرم!

آپ کو یاد ہوگا کہ بھارت ،پاکستان لڑائی میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارت کے کئی جہازوں کو مار گرایا ہے ۔ان میں رفال سخوئی ،اور مگ شامل تھے ۔آپریشن سندور کے دوران کیوں بھارت کے رفال جنگی جیڈ گرے تھے ؟ ایک انٹرویو میں ڈیفنس سکریٹری آر کے سنگھ نے سی این وی سی ٹی وی 18 کو دیے انٹرویو میں کہا آپ نے رفال لفظ بہووچن میں استعمال کیا ہے ۔میں بھروسہ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے ۔پاکستان کو ہیومن اور فوجی ساز وسامان دونوں سطحوں پر بھارت کا موازنہ میں کئی گنا زیادہ نقصان ہوا ہے اور 100 سے زیادہ دہشت گردمارے گئے ۔وہیں پاکستان کے فوجی چیف جنرل منیر نے کہا بھارت سے فوجی لڑائی کے دوران باہری حمایت ملنے کا دعویٰ حقائق طور سے غلط ہے ۔اب خبر آئی ہے کہ آپریشن سندور کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے بعد تیار رفال جیٹ جہازوں کے سلسلے میں غلط فہمی پھیلائی گئی تھی ۔چین نے اس کام پر اپنے سفیر کو تعینات کیا تھا ۔فرانسیسی فوجی حکام اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نکالے گئے نتیجہ کی بنیاد پر بتایاجارہا ہے کہ فرانس کے چیف جنگی جہاز کے ساتھ اور فروخت کو نقصان پہنچانے کا بیجنگ پروپیگنڈہ کررہا تھا ۔لگاتار کہہ بھی رہا ہے فرانسیسی خفیہ سروس کی بنیاد پر بتایا کہ چین کے سفارتخانوں میں ڈیفنس حکام نے رفال کی بکری کو متاثر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم چلائی گئی ۔اس کا مقصد ان ملکوں کور اضی کرنا تھا جنہوں نے پہلے بھی فرانس سے تیار جنگی جہاز کا آرڈر دے رکھا ہے ۔خاص طور سے انڈونیشیا رفال جہاز نہ خریدنے اور دیگر امکانی خریداروں کو چین میں تیار ایف 10 اور ایف 15- وغیرہ یا ایف 33- جنگی جہاز انتخاب کرنے کے لئے ترغیب دی ۔رافیل سمیت دیگر تمام ہتھیاروں کی بکری فرانس کی ڈیفنس انڈسٹری کا اہم کاروبار ہے ۔جس سے پیرس کے دنیابھر کے دیشوں سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں ۔ان میں کیوں کہ ایشیائی ملک بھی شامل ہیں جہاں چین بڑی طاقت بن چکا ہے ۔چین کے مشرقی ایشیا میں مسلسل بڑھتا اثر ہے ۔بھارت پاک لڑائی کے دوران پڑوسی ملک کی ایئر فورس کے ذریعے ہندوستنانی جہازوں کو مار گرانے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا جن میں چین رافیل جہاز گرائے بتائے گئے ۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس گمراہ کن پروپیگنڈہ سے رافیل کی پرفارمنس پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش چین نے کی ہے ۔فرانسیسی ایئر فورس کے چیف جنرل ویروم بیلنگر نے کہا کہ انہوں نے صرف تین ہندوستانی جہازوں کو نقصان ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ثبوت دیکھے ہیں ۔ان کے مطابق ان میں ایک رافیل ،ایک سخوئی اور ایک فرانس میں تیار چراغ 2000- جنگی جہاز شامل ہیں ۔فرانس میں آٹھ دیشوں کو رافیل جنگی جہاز بیچے ہیں جن میں سے بھارت پاک لڑائی میں ان جہاز کے گرنے کا پہلا نقصان کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔شوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ مبینہ طور پر رافیل کے ملبہ سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔تصویر اے آئی سے بنائے کنٹینٹ اور جنگ کا تجزیہ کرنے والے ویڈیو وغیرہ کی مہم کا حصہ تھا ۔ہماری رائے میں تو بھارت سرکار کو دیش کو اب بتا دینا چاہیے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کے کتنے جہاز وں کو نقصان ہوا تھا اور یہ کون کون سے جہاز تھے ؟ چھپانے سے افواہ اور پھیلتی ہے اور دشمنوں کو بھرم پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے ۔ (انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...