Translater

22 دسمبر 2021

خطرہ بن سکتے ہیں بے ادبی کے واقعات !

پنجاب کے گورودواروں میں 24گھنٹوں کے اندر بے ادبی کے دو واقعات کا ہونا شدید تشویش کا باعث ہے ۔ پنجاب میں اسمبلی چنا و¿ قریب ہیں ایسے میں امرتسر کے بعد کپور تھلا میں بے ادبی کے واقعات خوشحال پنجاب کیلئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں پہلے ہی پنجاب ماضی میں ایسے کالے دور جھیل چکا ہے جس سے نکلنے کیلئے پنجاب کو دہائیاں لگ گئیں ۔ اب چنا و¿ سے پہلے اچا نک بے ادبی کے واقعات ہونے کے پیچھے سیا ست یعنی پنجاب کے ہندو-سکھ بھائی چارے پر کالے داغ نہ چھوڑ دے اس پیچھے بھی کوئی وجہ رہی ہوگی لیکن سماج کے تئیں فکر مند لوگوں میں سوال اٹھنے لگا ہے کہ اتنی کٹر پسندی کہی سماج کیلئے خطرنا ک ثابت نہ ہو؟کچھ ایسے ہندو-سکھ بھائی چارے میں دراڑ ڈالنے کی کو شش ہو سکتی ہے ۔ لوگوں کے دلوں نا معلوم خوف بھی گھر کر نے لگا ہے جس کو اچھا اشارہ نہیں مانا جا سکتا ہے کیوں کہ ایسے واقعات پنجاب کے ماحول کو خراب کر سکتے ہیں اس کی گہری جانچ ہونی چاہئے تاکہ پتا چل سکے کہ لوگوں کے جذبات کو بھڑ کانے اور سماجی بھائی چارے کو نقصا ن پہونچانے والے یہ واقعات منظم سازش کا حصہ تو نہیں ہیں ۔ ایسے میں پتہ لگا نا ضروری ہے کہ اس طرح کے واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور ان کیلئے ذمہ دار کون ہے کیوں کہ چنا و¿ سے پہلے یہ خطرنا ک سازش دیش کے اندر رچی جارہی ہے یا سرحد پار پاکستان میں ۔ان لڑکوں کو زندہ ہونے پر اس سازش کا شاید راض کھل سکتا تھا لیکن وہ مر چکے ہیں کیوں کہ دونوں ہی جگہ ملزمان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ پوتر دھرم گرنتھ کی بے ادبی پنجاب میں ہمیشہ ایک جذباتی اشو رہا ہے ۔ کسان آندولن کے دوران میں بھی دہلی کے سنگھو بارڈر پر بھی مبینہ بے ادبی کے الزام میں ایک شخص کو مار ڈالا گیا تھا ۔ اگر شروع سے ہی ان معاملوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکتا تھا ایسے معاملے اس لئے بھی بڑھ رہے ہیں کیوں کہ ریا ستی سرکاریں قصور وار کو سزا دلانے میں ناکام رہیں پولیس کا رویہ بھی ٹھیک نہیں رہا پنجاب کی پچھلی سرکار کے دوران بھی بے ادبی کے کئی معاملے سامنے آئے تھے اور کئی جگہ بھاری مظاہرہ ہوا تھا ۔ قصوروار وں کے معاملے میں لاچاری اور کوٹک پورہ گولی کانڈ کی شری مونی اکالی دل نے پچھلے چنا و¿ میں بھاری قیمت چکائی اگر امرتسر اور کپور تھلا جیسے واقعات ہوں گے تو حکومت کا مزاق اڑے گا ۔ دیش دنیا میں کئی طرح کے سوال اب بھی اٹھے جن کا جواب دیش کو بھی دینا مشکل ہوگا ۔ بہر حال سارے معاملے کو پولیس کے حوالے کیا جانا چاہئے تھا نہ کہ خود قصورواروں کو سزا دیتے پولیس اور سرکار کے اس مانگ کو پورا کر نے کیلئے حرکت میں آنا چاہئے بلکہ ایسا بھی دکھا نا چاہیے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چینی نے دربار صاحب کا دورہ کیا اور بے ادبی معاملے کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی بنا دی لیکن اس کا مطلب تھی ہے جب معاملے کا کوئی ٹھو س نتیجہ ملے چوںکہ کچھ مہینے بعد پنجاب اسمبلی چنا و¿ ہونے ہیں ایسے میں چوکس رہنا ہوگا تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہونے پائیں یہ سماج کی بھی مانگ ہے کہ پنجاب سرکار یہ بھی دیکھے کہ جو کچھ امرتسر اور کپور تھلا میں ہوا وہ آگے نہ ہو پائے ۔ (انل نریندر)

21 دسمبر 2021

روہنی کورٹ دھماکہ ملزم نے ریموٹ سے کیا تھا!

دہلی کی روہنی کورٹ میں ہوئے بم دھماکہ کی جانچ کررہی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ایک سینئر سائنسداں کو گرفتار کیا ہے ۔اس کا نام بھوشن کٹاریہ ہے جو اشوک وہار کا باشندہ اور ڈی آر ڈی او میں کام کرتاہے ۔جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے ملزم نے پڑوسی وکیل سے رنجش کے چلتے اسے مارنے کے لے سازش رچی تھی ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانا نے اتوار کو بتایا کہ گرفتار ملزم بھار ت بھوش کٹاریہ سے پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ اس نے اپنے ایک پڑوسی وکیل سے شخصی دشمنی کے سبب عدالت میں اس کے بیٹھنے کی جگہ کے پاس آئی ڈی سے بھرا ایک بیگ رکھا تھا اور ریمورٹ کے ذریعہ دھماکہ کیا جانا تھا ۔دھماکہ کی جگہ آس پاس لگے سی سی ٹی وی کمیروں کی جانچ میں پتہ چلا جب سائنسداں عدالت میں داخل ہوا تھا اس کے پاس دو بیگ تھے جب باہر نکلا تو اس کے پاس صرف ایک ہی بیگ تھا اس کے پاس ملزم سے پوچھ تاچھ کی گئی اس نے واردات میں ملوث ہونا مان لیا ۔دونوں وکیل اور اس میں کافی عرصہ سے جھگڑا چل رہا ہے ۔اور ایک دوسرے کے خلاف چار پانچ مقدمہ بھی چل رہے ہیں ۔پولیس کمشنر نے بتایا جانچ کے دوران روہنی بم دھماکہ کی گتھی سلجھانے کے لئے عدالت کمپلیکس میں کھڑی ایک ہزار سے زیادہ کاروں کے مالکوںسے گہری پوچھ تاچھ کی گئی اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی کنگھالے گئے اور وہی سے سوراغ ملااور ملزم پکڑا گیا ۔دہلی پولیس کی تعریف کرنی ہوگی کہ اتنے کم وقت میں روہنی بم دھماکہ کی گتھی سلجھا لی ہے ۔ (انل نریندر)

اب 21برس ہوگی لڑکیوں کی شادی کی عمر!

دیش میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر اکیس سال ہونے جارہی ہے پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان مرکزی کیبنٹ نے لڑکیوں کی شادی آئینی عمر 18سال سے بڑھا کر لڑکوں کی طرح 21برس کرنے سے متعلق تجویز کو منظوری دے دی ہے ۔مرکزی سرکار اطفال وواہ انسداد قانون 2006میں سلسلے میں قانون میں ترمیم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اسی سیشن میں بل لاسکتی ہے ۔کم از کم عمر حد کی تبدیلی کا یہ فیصلہ جیا جیٹلی کی کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔پچھلے سال بنی اس کمیٹی کو یہ دیکھنا تھا کہ شادی اور زچگی کی عمر کا ماہ اور نوزائدہ بچے کی صحت اور مختلف ہیلتھ پیچیدگی جیسے نوزائدہ بچوں کی شرح اموات وغیرہ پر کیسا اور کتنا تعلق ہے ؟ جنسی برابری کی سمت میں واقف اہم قدم ہے ۔وزیراعظم مودی نے 2020میں یوم آزادی پر لال قلعہ سے اپنی تقریر میں اس کے بارے میں اعلان کیا تھا یہ قدم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کیوں کہ قریب 13برس پہلے آئینی کمیشن نے لڑکے لڑکیوں دونوں کے لئے شادی کی قانونی عمر 18سال کرنے کی سفارش کی تھی ۔اپنے آپ میں یہ تجویز ترقی پسند ہے ۔آج جب ہر سیکٹر میں لڑکے اور لڑکیوں کو لیبل پلینگ فیلڈ مہیا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔تب کوئی وجہ نہیں کہ شادی کی کم از کم عمر کو لیکر اختلاف کیا جائے ۔18سال کی عمر میں تو کالج کی پڑھائی بھی پوری نہیں ہوتی ایسے میں اگر لرکوںکو اپنی پڑھائی پور ی کر خودکو اچھی نوکری کیلئے تیار کرنے کا موقع ملتا ہے تو لڑکیوں کو تین سال پہلے شادی کے جھنجھٹ میں ڈال دینے کی وکالت بھلا کیسے کی جاسکتی ہے؟ بل قانون کی شکل دے کر لڑکیوں کے لئے شادی کی کم ازکم عمر 1929میں لڑکیوں کی 14سال لڑکوں کے لئے 19سال طے کی تھی ۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ قانون لمبے عرصہ تک لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی وجہ بنی ۔آخر کار 1978میں قانون میں ترمیم کے بعد لڑکیوں کی شادی کی عمر کم ازم کم 18برس اور لڑکوں کی عمر 21سال کی گئی آج جب لڑکیاں ہر سیکٹر میں لڑکوں سے کم نہیں ہیں تو شادی کی عمر میں فرق کیوں؟ (انل نریندر)

پروانچل میں وزیراعظم کے دوروں کی اہمیت!

کاشی وشوناتھ دھام کے کوریڈور کے افتتاح کے لئے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پارلیمانی حلقہ بنارس کے لئے دو دن کا وقت نکالا پچھلے دو مہینوں میں وزیراعظم نے پروانچل کا یہ چھٹا دورہ کیا ہے ۔بنارس میں کاشی وشوناتھ مندر ہندوو¿ں کی آستھا کا ایک بڑا مرکز رہا ہے ۔اس نظریہ سے کوریڈور کے سنگ بنیاد اور افتتاح دونوں ہی بھاجپا حکومت کے پورا ہونے کو یوگی سرکار کے ایک بڑے کارنامہ کے طور پر پیش کررہی ہے ۔وزیراعظم جس طرح سے بار باراترانچل کے دورے کررہے ہیں ۔وہ اس علاقہ کی مسلسل بڑھتی سیاسی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے ۔اتر پردیش پروانچل کے چار اہم سیاسی علاقوں جیسے بندیل کھنڈ ، اودھ اور مغربی اتر پردیش میں اسمبلی سیٹوں کے لحاظ سے پروانچل کافی اہم ہے ۔پچھلے دو مہینوں میں بی جے پی نے پروانچل میں پورا انتظامیہ اور سیاسی طاقت جھونک دی ہے ۔2022کے اسمبلی چناو¿کوڈ آف کنڈکٹ لگنے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے اس لئے بی جے پی اپنے تمام بڑے منصوبوں کا آغاز مودی سے کروا رہی ہے ۔ایسے پروجیکٹوں کی فہرست کافی لمبی ہے ۔وزیراعظم پہلے 20اکتوبر کو گورکھپور سے لگے کوشی نگر ضلع میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی نقاب کشائی کی تھی ۔اس کے بعد 25اکتوبر کو پروانچل کے نواضلاع میں میڈیکل کالجوں کا سنگ بنیاد کیا ۔پھر پی ایم نے 16نومبر کو سلطان پور میں لکھنو¿ سے غازی پور کو جوڑنے والے 341کلو میٹر لمبے پروانچل ایکسپریس وے کا افتتاح کیا ۔پھر سات دسمبر کو 96سو کروڑ کی کئی اسکیموں کا آغاز کیا ۔اس میں گورکھپور میں ایمس کے علاوہ ایک بڑا کھاد کارکھانہ لگانا بھی شامل ہے ۔11دسمبر کووزیراعظم نے گونڈا بلرامپور ،اور بہرائج ضلعوں میں 91600کروڑ روپے کے سریو کرنالپ پروجیکٹ کو لانچ کیا ۔اور سب سے تازہ پروگرام پیر کا رہا ۔جس میں انہوں نے اپنے پارلیمانی حلقہ بنارس میں 339کروڑروپے سے بنائے گئے کاشی کوریڈور کا آغاز کرتے ہوئے اس موقع پر ایک تہوار کی شکل میں فنکشن کیا گیا ۔دراصل بی جے اپنے حق میں سیاسی ماحول بنائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اس میں مودی اور یوگی دونوں کی شاکھ شامل ہے ۔اور اس کو برقرار رکھنا بڑا سوال ہے ۔آپ کو یاد ہوگا کہ 2008میں گورکھپور لوک سھبا چناو¿ میں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے بی جے پی یہ شیٹ ہار گئی تھی تب جگہ جگہ ان کی نکتہ چینی ہوتی تھی اور لوگ ان پر سوال کھڑے کرتے تھے ۔جی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پردیش کے تقریباً 26ضلعہ پروانچل میں اتے ہیں اور 2017کے اسمبلی چناو¿ میں یہاں کی 154میں سے 106شیٹوں پر بی جے پی کو جیت ملی تھی ۔بہرھال اور پروانچل میں 30میں سے 21شیٹوں پر بی جے پی کے ایم پی چنے گئے تھے اب 2022کے اسمبلی چناو¿ میں بھی پارٹی کی کوشش ہوگی کہ وہ کسی بھی طرح اس علاقہ میں اپنا دبدبہ قائم رکھے ۔حال ہی میں اے بی پی نیوز سی ووٹر سروے کے مطابق موجودہ حالات میں پروانچل میں بھاجپااور اس کی ساتھی پارٹیوں کو چالیس فیصدی سپا اور اس کے ساتھی پارٹیوں کو 34فیصدی بسپا کو 17فیصدی ووٹ ملنے کا اندازہ ہے ۔کسان آندولن ختم ہونے کے بعد مغربی اتردیش میں بی جے پی کے حق میں ماحول بدلنے میں ابھی تھوڑا وقت لگے گا ۔کسان آندولن سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی پروانچل سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ویسے وزیراعلیٰ کا علاقہ گورکھپور و بنارس دونوں پروانچل میں ہی ہیں اس لئے وزیراعظم کا بار بار اترانچل دورہ پر جانے کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

19 دسمبر 2021

ناسا کے اسپیس کرافٹ نے سو رج کو چھو ا!

امریکہ اسپیس ایجنسی نا ساکے خلائی شٹل پا رکرسولر پروب نے سورج کو چھونے کا حیر ت انگیز کارنامہ کر دکھا یا ۔ اس وقت تک نا ممکن مانا جانے والا یہ کارنامہ خلائی شٹل نے 8مہینے پہلے یعنی اپریل میں ہی حاصل کر لیا تھا لیکن خلا ءمیں کروڑوں کلو میٹر کی دوری پر واقع اس شٹل گاڑی سے جانکاری پہونچنے اور اس کے بعد اس معلومات کا تجزیہ کرنے میں سائنسدانوں کافی وقت لگ گیا ۔ ناسانے اپنا پارکر سولر پروب خلائی شٹل 20اگست 2018کو لانچ کیا تھا اس کا کہنا ہے کہ پارکر پروب سے جو جانکاری ملے گی اس سے سورج کے بارے ہماری نئی رائے قائم ہوگی ہارورڈ اسٹروفیزکس سینٹر کی ٹیم نے پروب میں ایک لگے ایک اہم آلہ سولر پروب کپ کو بنا یا ہے اس کپ سے سورج کے وایو منڈل سے ذرات کو اکٹھا کر نے کام ہو رہاہے ۔اسی سے پتا لگا نا ہے کہ اسپیس کرافٹ سورج کے وایو منڈل کے باہر ی سطح تک پہونچنے میں کامیا ب رہی سولر پروب کا یہ کارنامہ فیزیکل ریویو سینٹر میں ریسرچ کا ہے ۔ انل نریندر)

پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے !

پاکستان ایف بی آر کے سابق چیئر مین شبر زیدی عمران خان کی سر کار میں ہی 10مئی 2019سے 8اپریل ،2020تک ایف بی آر کے چیئر مین تھے۔پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو یعنی ایف بی آر کے سابق چیئر مین شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کا یہ دعوی ٰ سب کچھ ٹھیک ہے اور چیزیں اچھی ہو رہی ہیں یہ ساری باتین جھوٹ ہیں شبر زیدی نے یہ بات حال ہی میں ہمدرد یو نیورسیٹی میں ایک لیکچر میں کہی حا لاں کہ اب زیدی نے ٹویٹر پر اسے لیکر صفائی پیش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر کے تین منٹ کے کلپ پر ہی بات ہو رہی ہے اور نہوں نے صرف مسائل کے حل کی بات کہی تھی اور کس نے قرض لیا تھا اس پر طعنی دینے سے کوئی بات نہیں بنے گی یہ پاکستان کا قرض ہے سو د شرحوں پر فیصلہ دلائل کے طریقے سے ہو نا چاہئے ۔دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی اس کے برآمدات کے دم پر ہوتی ہے ہمیں برآمدات کو ٹھیک کر نا ہوگا اور ریمٹنس کے نظرئے سے باہر نکلنا ہو گا اس سے دیش نہیں چلے گا۔ ہمیں اپنی پروڈکٹس کو برآمد کرانا ہے نہ کہ کام کرنے والے لوگوں کو اکسپورٹ کر نا ہے ۔ افغانستان میں جب تک جمہوری سرکار نہیں آئے گی تب تک پاکستان پھنسا رہے گا۔پاکستان کا اکسپورٹ 20ارب ڈالر کا ہے اور ہمار ا کوئی خریدار ہے تو وہ مغربی ممالک ہیں اور ہمیں برآمدات کرنی ہے تو امریکہ سے دوستی کر نی ہوگی مجھے تو آج تک سی پی ای ایس سمجھ میں نہیں آیا اس میں صاف ستھرا پن لانا ہو گا اس سے ہماری معیشت تبا ہ ہورہی ہے بھارت سے ہم دوائیاں لے رہے ہیں یہ جو ڈرامہ بازی ہے کہ بھارت سے تجارتی تعلق نہیں رکھیں گے یہ بند ہونی چاہئے ۔ ملک میں ہر پرائمری اسکول میں انگریزی ہونی چاہیے جو بچہ انگریزی نہیں پڑھتا تو وہ نمبر دو درجے کا شہری بن جاتا ہے ۔ تمام مذہبی تعلیم گریجویشن کے بعد ہونی چاہئے ۔پاکستان کے دیوالیہ ہونے والی بات کو طول ملنے پر شبر زیدی نے ٹویٹر پر کہا کہ ہمدرد یونیورسیٹی میں غلط تشریح ہو رہی ہے وہاں آدھے گھنٹے کا پریزنٹیشن تھا اس میں سے صر ف تین منٹ کے کلپ پر بات ہورہی ہے میں نے کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور محصول خسارے کی بات اٹھا ئی گئی تھی اور یہ دیوالیہ کا اشو ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے ہمیں ا س کے حل کی طرف دیکھنا ہے میں نے اپنی بات کنوکشن کے ساتھ کہی ہے۔ (انل نریندر)

ایک ماہ میں 25لاکھ شادیاں!

گزشتہ ایک ماہ ہوئی زبردست شادیوں کے چلتے سونے کی ڈیمانڈ زبردست رہی اس لئے پہلے تہواروں کی سیزن میں بھی بھار ی سونے کی مانگ دیکھی گئی تھی ۔2021میں تقریبا 900ٹن سونا درآ مد کرنے کا اندازہ ہے جو مقدار کے لحاظ سے پچھلے سات سال میں سب سے زیا دہ ہے ۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 350ٹن اور 2019کے مقابلے میں 79ٹن زیادہ ہے وسط نومبر سے اب تک دیش میں 25لاکھ سے زیا دہ شادیاں ہوئی ہیں ۔ نتیجتاًسونے چاندی اور زیو رات کا بازار گراہکو ں سے گلزار ہے ڈھیڑ سال سے بھی زیا دہ عرصے تک زیا دہ شادی بیا ہ کی خریداری کیلئے ترس رہے زیورات کاروباری بڑی ڈیمانڈ پوری کر نے میں لگے ہوئے ہیں ۔دراصل پچھلے سال کووڈ وباءکے چلتے دھوم دھام سے ہونے والی شادیوں پر روک لگی ہوئی تھی اور کورونا کے خوف کی وجہ سے شادیا ں ٹل گئی تھیں اب شادیوں کی چھوٹ ملنے کے بعد شادیوں کی بکنگ اور شادیوں کی جھڑی لگی ہوئی ہے ۔ یلو میٹل پر نظر رکھنے والے ایک کنسلٹنٹ نے کہا کہ سونے کے دام گھٹنے کے علا وہ بڑھے ہیں اور اب ڈیما نڈ نے بھی بکری بڑھا دی ہے لیکن سونے کی مانگ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ پچھلے سال ٹلی شادیاں ہیں اس سال ریکارڈ سطح پر شادیاں ہو رہی ہیں ۔انڈیا بلین جویلر س ایسوسی ایشن کے ترجما ن کے مطابق ایک اس سال گراہک بھاری جویلری پسند کر رہے ہیں مشکل وقت میں سہارے کی شکل میں سونے پر بھروسہ لوٹ رہا ہے اور گراہکو ں کے جذبات میں بھی بہتری آئی ہے پچھلے سال کے مقابلے میں سونے کے دام گھٹنے سے بھی ڈیمانڈ بنی رہنے کی امید ہے ۔ (انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...