Translater

14 اپریل 2016

بھاجپا کا یوپی میں مشن 265

کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی صدور کے انتخاب سے کچھ حدتک پتہ لگتا ہے کہ ریاستوں خاص کر اترپردیش ، کرناٹک، پنجاب میں پارٹی کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اترپردیش،پنجاب، کرناٹک، تلنگانہ، اروناچل پردیش کے نئے مقرر کردہ صدور کی تقرری سے دو باتوں کی اہمیت صاف نظر آرہی ہے۔ پہلی یہ کہ طویل عرصے سے آر ایس ایس سے وابستہ ہے اور دوسری یہ کہ پسماندہ طبقے سے ہیں۔ نئے ناموں میں 2 او بی سی سی ہیں اور1 دلت برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر ہم دیش کی سب سے اہم ریاست اترپردیش پر نظر ڈالیں تو صوبے میں پارٹی کی کمان جو لکشمی کانت باجپئی کے ہاتھ میں تھی اب وہ کیشو پرساد موریہ کے پاس ہوگی۔ پھولپور سے ایم پی چنے گئے موریہ ایک اوبی سی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائی سے اترپردیش کی سیاست میں یا تو سماجوادی پارٹی کا دبدبہ رہا یا پھر بہوجن سماج پارٹی ، بھاجپا تیسرے نمبر پر آگئی۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی نئے صدر کیشو موریہ نے کہا ہے کہ مرکزی لیڈر شپ میں مشن یوپی کے لئے265 سیٹوں سے زیادہ کا نشانہ طے کیا ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے اسمبلی چناؤ 2017 ء میں ترقی ہی اہم اشو بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا 2014ء کے چناؤ میں تو پریواروں کو کچھ سیٹیں مل گئی تھیں لیکن اسمبلی چناؤمیں ان دونوں پریواروں کو نہیں جیتنے دیا جائے گا۔ موریہ نے کہا کہ پریوار کی سیاست کرنے والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ یوپی کی عوام کیا چاہتی ہے۔ 
اترپردیش میں پسماندہ طبقے کو تنظیم کی کمان سونپنے کے بعد بھاجپا لیڈر شپ کو لگتا ہے کہ اب سی ایم کے عہدے کے لئے کسی بڑی ذات کے چہرے کو آگے کر سکتی ہے۔ پچھلی ڈیڑھ دہائی سے اترپردیش کی سیاست میں اسمبلی میں سپا اور بسپا کے سامراجیہ کو توڑنا آسان نہیں ہوگا۔ کیشو پرساد موریہ کو پردیش میں اپنا چہرہ بنانے کے پیچھے بھاجپا کا مقصد اسمبلی چناؤ کے پیش نظر سپا اور بسپا کے مقابلے طبقے کو راغب کرنا ہے۔ اسے امید ہوگی کہ غیر یادو پسماندہ کی بنیاد میں سیند لگانے میں موریہ مددگار ہوں گے۔ پھر آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد سے موریہ کی وابستگی ہندوتو کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے میں معاون ہوسکتی ہے۔ بھاجپا ہائی کمان لوک سبھا چناؤ میں ملے غیر یادو پسماندہ ذات اور اگڑی جاتی اور غیر جاٹوں دلت برادری کے ووٹ ہر حال میں اپنے ساتھ بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ اس کی پہلی کڑی میں انتہائی پسماندہ طبقے سے ممبر پارلیمنٹ کیشو پرساد موریہ کو ریاست کی تنظیم کی کمان دی گئی ہے۔ دیکھیں کیشو پرساد موریہ بھاجپا کے مش265 کو کتنا پورا کرسکیں گے؟
(انل نریندر)

8برس بعدڈی جی ونجارا کی گھر واپسی

سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گجرات لوٹ آئے۔ ان کے ریاست میں آنے پر قانونی روک لگی ہوئی تھی۔ سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے حال ہی میں ان کو اپریل میں گجرات میں پردیش جانے اور رہنے کی اجازت دی تھی۔ صبح احمد آباد کے ایئر پورٹ پر پہنچنے پر ان کا شاندار سواگت ایک ہیرو کی طرح ہوا۔ پرستارو نے ترنگا لہرا کر انہیں چاندی کی تلوار پیش کرگجرات پولیس کے اس سابق افسر کا استقبال کیا۔ مڈبھیڑ کے سلسلے میں 8 سال جیل میں رہنے کے بعد فروری 2015ء میں ممبئی کی عدالت نے جب ونجارا کو عشرت جہاں معاملے میں ضمانت دی تو شرط لگا دی تھی کہ وہ گجرات نہیں جا سکتے۔ اس کے بعد وہ ممبئی میں ہی رہ رہے تھے۔ احمد آباد لوٹتے ہی ونجارا نے جم کر بھڑاس نکالی اور کہا دیش کو پاک ۔ چین جیسے ملکوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا ملک دشمنوں سے ہے۔ گاندھی نگر ،ٹاؤن ہال میں ونجارا سماج کے ذریعے منعقدہ شہری اعزاز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہراب الدین اور عشرت جہاں مڈ بھیڑ اصلی تھی۔ ونجارا کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی سازش کے تحت فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں پھنسایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عشرت جہاں سمیت مڈ بھیڑ کے ایسے سبھی معاملوں میں جن میں انہیں گجرات پولیس کے دیگر افسران کو ملزم بنایا گیا ہے، پوری طرح صحیح ہے۔
مڈ بھیڑ کو دیش کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کی اطلاع پر انجام دیاگیا تھا۔ اس کی جانکاری دہلی سے لیکر احمد آباد تک کی مشینری کے اعلی عہدوں پر بیٹھے سبھی لوگوں کو تھی لیکن ملک دشمن نیتاؤں نے سیاسی مفاد کے لئے مجھے اور میرے ساتھیوں کو سازش کے تحت جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا۔ اگر یہ مڈ بھیڑ نہیں ہوتی تو دہشت گردوں نے گجرات کو دوسرا کشمیربنا دیا ہوتا۔ ونجارا کے مطابق گجرات پولیس کو ایک سازش کے تحت بدنام کیا گیا۔ ان پر فرضی مڈ بھیڑ کا داغ لگایا گیا جبکہ پولیس نے دیش کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرض کو انجام دیاتھا۔ انہوں نے کہا لشکر آتنکی ڈیوڈ ہیڈلی کے عدالت میں بیان کے بعد صاف ہوگیا ہے کہ ان کے خلاف کسی طرح سے سیاستدانوں نے سازش رچی۔ مڈبھیڑ میں ماری گئی عشرت جہاں اور اس کے ساتھی دہشت گرد تھے جن کے بارے میں گجرات پولیس کا دعوی بالکل صحیح تھا۔ یہ مڈ بھیڑ2004ء میں ہوئی تھی۔ ونجارا اس وقت ڈی آئی جی تھے۔ انہوں نے کہا دیش میں سچے سپاہی کی قدر نہیں ہے، فریبی سیاستدانوں نے انہیں و ان کے ساتھیوں کو جیل پہنچا دیا۔ ونجارا نے دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ اب بیٹنگ ان کے ہاتھ میں ہے لوگ فیلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2016

آئی پی ایل یعنی انڈین پیسہ لیگ کا آغاز

یہ کہانی اس بچے کی ہے جو اگلے سال 10 سال کا ہوجائے گا، یہ دو مہینے کے لئے آتا ہے اور دھوم مچاتا ہے۔ اس وقت اسٹیڈیم کی ہر ایک سیٹ اور گھروں میں صوفہ سیٹ تک ہاؤس فل ہوجاتے ہیں۔ میں بات کررہا ہوں آئی پی ایل کی۔ آئی پی ایل 9- سنیچر سے شروع ہوگیا ہے جسے کٹاش کی شکل میں انڈیا پیسہ لیگ بھی کہا جاتا ہے یعنی اس کھیل میں بھرپور پیسہ ہے۔ کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے۔ 2008 سے موازنہ کریں تو اس کی برانڈ ویلیو 242 فیصد بڑھ گئی ہے۔ پہلے آئی پی ایل میں جہاں اس کی کمائی 450 کروڑ روپئے رہی وہیں 2015 میں آٹھویں سیزن میں اس نے2650 کروڑ روپے کمائے تھے اور دیش کی جی ڈی پی میں آٹھویں سیزن کا اشتراک تقریباً 1150 کروڑ روپئے کا رہا۔ اکیلے اشتہارات سے ہی اس نے 1100 کروڑ روپے کما لئے تھے۔ اس کی کمیابی سے گد گد ہوکر دیش میں بعد میں انڈین ٹینس لیگ ،انڈین بیڈمنٹن لیگ، کبڈی لیگ، ہاکی لیگ جیسی کئی لیگ بن گئی ہیں۔ سبھی کی کمائی ریکارڈتوڑ رہی ہے لیکن ایسا صرف بھارت میں ہیں نہیں ہے۔ کھیلوں میں جتنا پیسہ ہے اس کا اندازہ دنیا بھر میں کھیلی جارہی لیگ کی بیلنس شیٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ آئیے پیسے کے اس کھیل کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔ اس بار آئی پی ایل کی ٹیموں میں تھوڑی تبدیلی ہوئی ہے۔ دو نئی ٹیم گجرات لائنس اور شائننگ پونے سپر جوائلس۔ چنئی سپر کنگ اور راجستھان رائلز نہیں ہوگی۔ تیسرے امپائر کا فیصلہ آنے سے پہلے ناظرین یس اور نو کے کارڈ دکھا کر اپنی رائے دے سکیں گے۔ سونی ٹی وی کے مطابق ناظرین کی تعداد 50 کروڑ پار کرے گی۔ ہندی انگریزی کے علاوہ تمل، تیلگو اور بنگالی میں بھی کمنٹری ہوگی۔ چھوٹے شہروں میں آئی پی ایل فین کلب بنائے جائیں گے۔ ان میں ایک بار میں 10 ہزار لوگ جمع ہوسکیں گے۔ پچھلے سال ایسے ہی 15 پارک بنائے گئے تھے۔ آئی پی ایل 8- کو دنیا بھر میں 50 کروڑ لوگوں نے دیکھاتھا۔ بتادیں کہ کھیلوں میں اب تک کتنا پیسہ آگیا ہے۔ مہیندر سنگھ دھونی کی سالانہ کمائی 207 کروڑ روپئے ہے۔ سچن کی 118.8 کروڑ۔ 
ویراٹ کوہلی کی 79.2 کروڑ ۔ گوتم گمبھیر کی 52 کروڑ اور روہت شرما کی 33 کروڑ۔ اگرہم ہندوستانی کھلاڑیوں کی کمائی غیر ملکی کھلاڑیوں سے ملائیں تو اب بھی بہت فرق ہے۔ کولائڈ مویدر کی سالانہ کمائی 1980 کروڑ مانی گئی ہے۔ مینی پینکیچاؤ کی 1056 کروڑ۔ کرستیانو رینالڈو 5225 کروڑ۔ لیونل میسی 487 کروڑ اور روجر فیڈرر 442 کروڑ ہے۔ آخر میں بتادیں آئی پی ایل کی کمائی 2650 کروڑ روپئے ہے۔ یہ بھارت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی لیگ ہے۔ وہیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی لیگ امریکہ کی نیشنل فٹبال لیگ ہے۔ اس کی کمائی 85 ہزار کروڑ روپئے ہے۔ این بی اے کی 31680 کروڑ روپئے ہے۔
(انل نریندر)

دہلی حکومت کی تعلیم سیکٹر میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی

کرپشن کے معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے دہلی حکومت کے ذریعے پانچ اسکولوں کے پرنسپلوں کو نوکری سے نکالنے کی ہدایت کاخیر مقدم ہونا چاہئے۔ یہ پرنسپل اسکول فنڈ اینڈ اسٹوڈنٹ ویلفیئر فنڈ، اسٹوڈنٹ وظیفہ فنڈ، تنخواہ ، داخلہ وغیرہ میں دھاندلی کررہے تھے۔ کم سے کم ایسا دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ کررہے ہیں۔ دہلی کے وزیر تعلیم مسٹرسسودیہ نے ایتوار کو اس کے احکامات جاری کئے۔ دہلی سرکار کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور منیش سسودیہ نے ٹوئٹ کر کارروائی کو کرپشن اور غیر ذمہ داری کے خلاف زیرو ٹالرینس بتایا ہے۔
پہلا معاملہ نٹھاری میں واقع گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل اشوک کمار سنگھ کا ہے جنہوں نے ایس سی ایس ٹی ، او بی سی، مائیناریٹی، میرٹ اسکولرشپ اور لال بہادر شاستری اسکیموں کے تحت آنے والے اسٹوڈنٹ وظیفے کے پیسے میں قریب 30 لاکھ روپئے کی دھاندلی کی۔ایسے ہی لاجپت نگر کے سرودیہ بال ودیالیہ کے پرنسپل رہتے ہوئے مکیش چندر نے 11 ویں سائنس اور کامرس کی کلاس کے12 ویں کے طلبا کو فرضی مارکس شیٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا تھا۔ ایک دوسرے معاملے میں ریلوے کالونی تغلق آباد کے گورنمنٹ بوائز اسکول کے پرنسپل کے عہدے پر کام کرتے ہوئے اشوک کمار نے 10 ویں میں فیل طلبا کو 11 ویں میں داخلہ دیا۔ہرنکودنا علاقہ کے کوئیڈ اسکول کے پرنسپل ہری پرساد مینا نے طلبا بہبودی فنڈ کا پیسہ نکال کر ایک آئی ٹی اسسٹنٹ کی جون کے مہینے کی سیلری میں دکھا دیا۔ اسسٹنٹ نے جولائی کے مہینے میں نوکری جوائن کی تھی۔ مینا پر مڈ ڈے میل کے سروس پرووائڈر سے سانٹھ گانٹھ کے ثبوت بھی پائے گئے ہیں۔ ایک دوسرے معاملے میں جنگپورہ کے گورنمنٹ بوائز اسکول کے پرنسپل رہتے ہوئے اوم پرکاش نے اسکول کی میگزین چھپوانے میں دھاندلی کی۔ ای ڈبلیو ایس کوٹے کے طلبا کو سہولیات نہ ملنے کی آرہی شکایتوں پر دہلی سرکار نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پبلک اسکولوں پر بھی چھاپہ ماری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے 24 ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ 
دہلی سرکار کی ٹیمیں اسکول میں جاکر جانچ کریں گی داخلہ صحیح طریقے سے کیا گیا ہے یا نہیں؟ کسی طرح کی چوری یا کرپشن تو نہیں ہے؟ واضح ہو کہ دہلی میں قریب 400 پبلک اسکول ہیں جنہوں نے سرکار سے سستی زمین لی ہوئی ہے۔ قاعدے کے مطابق ایسے اسکولوں کو 25 فیصدی غریب بچوں کو داخلہ دینا اور ان کے لئے سہولیات مفت میں دستیاب کرانا متعین ہے۔ ہم دہلی سرکار کے تعلیمی میدان میں آئے کرپشن اور بے قاعدگیوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔تعلیمی سیکٹر میں ان سے بہتری ہوگی۔
(انل نریندر)

12 اپریل 2016

خوشک سالی سے نمٹنے کیلئے پختہ قوت ارادی اور پلاننگ ضروری

ملک میں اگر ایک بڑا حصہ خوشک سالی سے بدحال ہے تو وہ سرخیوں میں عدالتی احکامات کی وجہ سے ہی کیوں آتا ہے؟ دیش پانی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ اس قدر کے بدھوار کو سپریم کور اور بمبئی ہائی کورٹ دونوں میں پانی کے اشو پر سماعت ہوئی ۔ اس دوران عدالت ہذا نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ 10 ریاستوں میں خوشک سالی کی مار سے وہاں کی عوام مشکلات سے دوچار ہے درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ لوگوں کے پاس پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔ حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، ایسے میں آپ آنکھیں کیسے بند کر سکتے ہیں؟ انہیں مدد پہنچانے کے لئے کچھ تو کیجئے۔ پچھلے دو برسوں سے کم بارش کی وجہ سے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر ، کرناٹک، اڑیسہ، اترپردیش، تلنگانہ، راجستھان اور آندھرا پردیش میں اپریل سے ہی خوشک سالی کے حالات ہیں اور خوشک سالی کی آگ سے جھلس رہے اترپردیش کے علاقے بندیل کھنڈ میں تمام دشواریاں کھڑی ہوگئی ہیں۔ پانی کیلئے بچوں کو پڑھائی چھوڑنا پڑ رہی ہے تووہیں تنگ حالی میں ماں باپ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ تک پیلے نہیں کر پارہے ہیں۔ کھیت ویران پڑے ہوئے ہیں۔ دیہات کے اندر اور مسائل کھڑے ہوگئے ہیں ۔پینے و دیگر گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پانی کا انتظام بندیل کھنڈ کے دیہی علاقوں میں بڑی چنوتی بنا ہوا ہے خاص طور پر خواتین کے لئے۔ انہیں پانی کے لئے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے۔ بچے بھی پانی کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیہات میں سائیکل پر پانی کے برتن ٹانگ کر میلوں سفر کرتے ہیں۔ ٹیکم گڑھ میں تو پینے کا پانی تھانے سے دیا جارہا ہے۔ بندیل کھنڈ میں پانی کی کمی بچوں کی پڑھائی تک کو متاثر کررہی ہے۔ بچے پڑھائی چھوڑ کر گھر کے لئے پانی کے انتظام میں لگے رہتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکیاں ۔ایک علاقہ چندر نگر کی لڑکیں مسکان اور روشنی بتاتی ہیں کہ وہ دیہات کے اسکول میں پڑھتی ہیں لیکن آج کل اسکول نہیں جا پارہی ہیں کیونکہ صبح سے ہی انہیں گاؤں کی دوسری طرف لگے ہینڈ پمپ پر پانی بھرنے جانا پڑتا ہے۔ دن میں کبھی کبھی تو 14 سے15 چکر لگانے پڑتے ہیں۔ دیش کے دو اہم ریزروائر میں صرف25 فیصدی پانی بچا ہے۔ متاثرہ ریاستوں میں90 فیصدی زمینی پانی کا استعمال ہوچکا ہے ۔ یعنی زمین صرف10 فیصد پانی بچا ہے۔ تبدیلی آب و ہوا کی وجہ سے بارش کم ہونے ، شہری علاقوں میں بارش کے پانی کے اکھٹا نہ ہونے اور رہن سہن میں آئی تبدیلی کی وجہ سے آبی وسائل کی لمبی توقعات سے یہ حالت پیدا ہوئی ہے، ایسے میں قومی سطح پر پانی بچانے زیرزمین پانی سطح کو بڑھا دینے کی اسکیموں کو مسلسل چلائے جانے کی سخت ضرورت ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا نتیجتاً ہر سال گرمی میں ایک کے بعد ایک ریاست میں پانی کی قلت کا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ نتیجے میں پانی کے لئے جھگڑا فساد ہونے ، آبی وسائل پر پہرہ بٹھانے لوگوں اور جانوروں کے مارے جانے اور گاؤں گاؤں خالی ہونے کی خبریں آنے لگتی ہیں۔ودربھ اور بندیل کھنڈ جیسے علاقوں میں پانی پر جھگڑے بھڑکنے کی نوبت آرہی ہے۔ کچھ علاقوں میں پانی پر جھگڑا اورمار پیٹ خون خرابے تک کے حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ جن علاقوں میں نہر نہیں ہے وہاں کا حال تو بہت برا ہے۔ زمینی پانی کی سطح کافی نیچے جا چکی ہے۔ کنویں ،تالاب، ٹیوب ویل سب سوکھ چکے ہیں۔ دیہی زندگی اس سے کتنی بد حال ہورہی ہوگی اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے مسلسل تیسرے برس اسے موسم کی یہ مار جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ایسے میں منریگا کی رقم جاری کرکے دیہات کو راحت پہنچانے کا حکم بھی عدالتوں کو دینا پڑ رہا ہے۔ کاش !یہ حالات بدلیں۔ پورا دیش جس خوفناک خوش سالی کا سامنا کررہا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے سیاسی الزام تراشی نہیں، بلکہ اجتماعی قوت ارادی، تیاری اور ہمدردی چاہئے۔
(انل نریندر)

شنی شنگنا پور مندر میں 400 سال پرانی روایت ٹوٹی

نوراترے کے پہلے دن خواتین کو پوجا کرنے کے حق میں چل رہی کئی دنوں سے جدوجہد میں آخر کار کامیابی حاصل ہوگئی۔ مہاراشٹر کے احمد نگر میں واقع شنی شنگنا پورمندر میں 400 سال پرانی روایت جمعہ کو ٹوٹ گئی۔ اب مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی چبوترے پر پوجا کرنے کی اجازت مل رہی ہے۔ پابندی کے باوجود مردوں کے چبوترے پر داخلے کے بعد ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل دیپک دادا صاحب نے کہا کہ ہم نے آئین کا احترام کرتے ہوئے سب کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ٹرسٹ کی چیئرمین انیتا شیٹے نے کہا کہ خواتین پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ لائق خیر مقدم ہے کہ نوراتر کے پہلے دن ہی شنی شنگنا پور مندر میں خواتین کو پوجا کرنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا ریتی رواج کے حساب سے پوجا ارچنا کر بھی لی۔ مندر ٹرسٹ نے سمجھداری بھرا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ہوسکتا ہے یہ فیصلہ اسے ان حالات کے دباؤ میں کرنا پڑا ہو۔ ہندوستانی نئے سال کو مہاراشٹر میں گڑی پاروا کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ مراٹھی معاشرے میں اس پرو کی خاص اہمیت ہے۔ اس دن عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی مرد اس چبوترے پر پہنچ گئے جہاں شنی کی مورتی ہے، اور انہوں نے مورتی کو دودھ و تیل سے نہلایا۔ گڑی پاروا کے دن یہ مقامی رسم رہی ہوگی، لیکن اس سے تنازعہ کھڑا ہونے کا اندیشہ تھا اس لئے مندر ٹرسٹ نے عورتوں کو بھی چبوترے پر چڑھنے کی اجازت دے دی۔ وجہ جو بھی ہو یہ فیصلہ پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ ویسے یہ اچھا نہیں ہوا کہ عورتوں کو مندر میں پوجا کرنے کی اجازت ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ملی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ نہیں تھا جس میں عدالت کو دخل دینے کی ضرورت پڑتی۔ جس طرح ہائی کورٹ کو عورتوں کو پوجا کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ یہ رائے زنی کرنی پڑی کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو عورتوں کو کسی بھی دھرم استھل میں جانے سے روکتا ہو۔ اس سے کل ملاکر سماج کو یہی پیغام گیا کہ اگر عدلیہ سرگرم نہیں ہوتی تو شاید شنی شنگنا پور مندر میں عورتوں کو مردوں کی طرح پوجا کرنے کی سہولت ملنے میں اور وقت لگتا۔ زیادہ تر دھارمک استھلوں پر لنگ، جاتی، دھرم وغیرہ کو لیکر جس طرح کی پابندیاں ہیں انہیں روایت اور شاستر ۔سمبج بتایا جاتا ہے، لیکن اگر تاریخ اور روایت کو ذہن میں رکھا جائے تو ایسا نہیں ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے اکثر شروع میں دھارمک مقامات پر سب کو جانے کی آزادی ہوتی ہے پھر آہستہ آہستہ کرم کانڈ زیادہ بڑھنے لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ طرح طرح کے قاعدے بھی بدلتے چلے جاتے ہیں۔ مندر یا ممبئی میں حاجی علی کی درگاہ کے منتظمین کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس معاملے میں انہیں خاص طور سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی وقت دلتوں کے مندر میں داخلے کو لیکر تحریک چلی تھی کیونکہ وہ وقت کی مانگ تھی ،ویسے ہی آج نہیں تو کل مذہب کے نام پر ، شاستروں کے نام پر سبھی مرد امتیاز کے خلاف آواز اٹھتی رہی۔ یہ ایک اتفاق مانا جانا چاہئے کہ شنی شنگنا پور مندر اس کی علامت بن گیا ہے۔ اچھا ہو کہ شنی شنگنا پور مسئلے پر سنت سماج بیدار ہو اور مرضی سے یہ دیکھے کہ مندروں میں پوجا ارچنا کے معاملے میں کسی طرح کا امتیاز نہ ہو۔ یہ وقت سماج کو متحد رکھنے اور بیچ میں نہ ذات ،خطہ یا جنس آئے اور جو آرٹیفیشل دیواریں کھڑی کی گئی ہیں انہیں ڈھا دیا جائے۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2016

پاکستان کی پرانی عادت چوری اور سینہ زوری

پٹھانکوٹ حملہ کی جانچ کے لئے پچھلے دنوں آئی پاکستانی ٹیم کے ذریعے وطن واپسی پر مبینہ رپورٹ سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت ہند نے آخر کیا سوچ کر اسے پٹھانکوٹ بلایا تھا؟ خبریں ہیں کہ پاک ٹیم نے اپنے یہاں جاکر رپورٹ دی ہے کہ پٹھانکوٹ حملہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے بھارت کا ڈرامہ تھا۔ ٹیم نے کہا کہ جانچ کے دوران بھارت ایسا کوئی ثبوت دینے میں ناکام رہا جس سے ثابت ہوسکے کہ واردات کی سازش پاکستان میں رچی گئی تھی۔پاکستان کی جانچ ٹیم نے اپنے ملک لوٹنے کے بعد ابھی تک این آئی اے سے بات چیت نہیں کی ہے اس لئے بھارت سرکار نے طے کیا ہے کہ جب تک پاکستان کا سرکاری طور پربیان نہیں آجاتا تب تک پاکستانی میڈیا میں چل رہی خبروں پر کوئی رائے زنی نہیں کرے گی۔ اگر میڈیا میں آئی باتیں صحیح ہیں تو یہ واقعی تشویش کی بات ہے۔ پٹھانکوٹ حملہ کو لیکر پاک حکومت نے کافی سنجیدہ رویہ دکھایاتھا۔ خود پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے باآور کیا تھا کہ وہ اس کی جانچ میں پوری مدد کریں گے اس لئے بھارت سرکار نے اپوزیشن کی نکتہ چینی کو درکنار کرکے پاکستانی جانچ ٹیم کو پہلی بار بھارت آنے دیا۔ پٹھانکوٹ ایئربیس کا دورہ کرایا لیکن اب جے آئی ٹی کا رخ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ لگ رہا ہے بلکہ اپنی دورنگی باتوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ وہیں حکومت کے ایک ذرائع نے بتایا کہ پاکستان حکومت کے ایک حمایتی روزنامہ کی خبر سے صرف یہی پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج دومنہ ہی باتیں کررہے ہیں۔ پاکستان خود ہی بے نقاب ہوگیا ہے۔ جے آئی ٹی کا رخ غیر ذمہ دارانہ لگ رہا ہے۔ کیا پاکستان نے جو ٹیم پٹھانکوٹ بھیجی تھی وہ سب ڈرامہ تھا، جو بین الاقوامی دباؤ میں آکر کیا تھا؟ کیا واقعی جانچ میں اس کی دلچسپی نہیں ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جان بوجھ کر جے آئی ٹی کی رپورٹ پاک میڈیا میں افشاں کرائی گئی تاکہ ماحول خراب ہو اور ہند۔ پاک امن مذاکرات میں رکاوٹ ہو؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ طے معاہدے کے تحت پاکستانی جانچ ٹیم کے بھارت آنے کے بعد ہندوستان کی جانچ ٹیم کو پاکستان جانا ہے اور پاکستان اسے روکنا چاہتا ہے، اس لئے یہ رپورٹ لیک کی گئی ہے۔ پاکستان ویسے تو دہشت گردی کو اپنی سرزمیں سے ختم کرنے اور اکھاڑ پھینکنے کی بات اکثر کرتا رہتا ہے لیکن جب ایسا کرنے کی باری آتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ خیر! پاکستان کی دوہری پالیسی ساری دنیا جانتی ہے لیکن سوال تو یہاں یہ ہے کہ حکومت ہند نے کیا سوچ کر پاک جانچ کمیٹی کو بلایا تھا؟
(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...