Translater

26 اگست 2015

حریت کو دعوت دے کر پاک نے توڑی بات چیت:امریکہ

بھارت پاک این ایس اے سطح کی بات چیت منسوخ ہونے کو لیکر بھلے ہی الزام تراشیوں کادور جاری ہو لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں بھی ہندوستان کی جیت ہوئی ہیں۔ شاید ایسا پہلے کبھی ایساہوا ہو۔ کہ جموں وکشمیر کے علیحدگی پسندوں کو لیکر بھارت پاک بات چیت ٹوٹ گئی ہو۔ اس سے پاکستان اور بیرونی ممالک تک یہ پیغام گیا ہے کہ بات چیت سمت اور صورت بھارت طے کرے گا۔ ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل کے لئے بھی یہ طے ہوگیا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ مٹھی بھر پاک پرست علیحدگی پسند لیڈر نہیں کریں گے۔ ضروری ہوا تھا تو حکومت ہند سخت قدم اٹھا کر اس کا بھی اظہار کرسکتی ہیں۔ امریکی ماہرین نے مذاکرات منسوخ ہونے کا ذمہ بھی پاکستان کے سر ڈالا ہے۔ ووڈروولسن انٹر نیشنل سینٹر جیسا نامور ادارہ کے ساؤتھ ایشیا کے اسویسیٹڈ کے نمائندے گیل مین نے کہا کہ پاکستان میں حریت لیڈر شپ کو دعوت نامہ بھیج کر بات چیت کے پل کو ہی مسمار کردیا ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حقانی نے کہا کہ پاکستان کا رویہ کشمیر کی طرف بین الاقوامی توجہ مرکوز کرنے کی پرانی کوشش کے مطابق کی تھا۔ نیویارک ٹائمز کا عنوان کہتا ہے کہ پاکستان نے روک کاحوالہ دیتے ہوئے بھارت سے بات چیت منسوخی کی خبر میں لکھا ہے کہ پاکستان کی بھارت میں کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملنے کا منصوبہ کو لے کر دونوں ملکوں میں تنازعے کے چلتے یہ فیصلہ ہوا اوردونوں میں نہ اتفاقی فریقین پر بھاری پڑی۔ کیونکہ دونوں ہی کی مذاکرات منسوخ ہونے پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی حالت میں ہے ۔ ایل اے ٹائمز کا رد عمل تھا کہ ’’پاکستان کی طاقتور فوج وزیراعظم نواز شریف کو درکنار کئے جانے کااشارہ دیا اس سے نریندر مودی کی سرکارنے مذاکرات کو لیکر شش وپنچ کی صورت حال کھڑی ہوئی مودی سرکار کی ایک بڑی کامیابی کا اشارہ یہ ہے کہ خود جموں کشمیر میں علیحدگی پسند ان پارٹیوں کے بھی نشانے پر آگئے ہیں جن کا رخ ان کے تئیں نرم مانا جاتا تھا۔ کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ سرکار کی کے قیام کے بعد سے ہی کچھ اشوز کو لیکر اٹھ رہے سوالات میں بھاجپا اور مرکزی سرکار بھی گھیرتی آرہی تھی۔ خاص کر علیحدگی پسند اشوز پر۔بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر پاکستان بے نقاب ہوا۔ ویسے مذاکرات کی مخالفت خودبھاجپا کے اندر بھی کم نہیں تھی۔ خاص کر دہشت گرد نوید کے پکڑے جانے کے بعد کچھ لیڈر کھل کر بات چیت منسوخ کرنے کی مانگ کرنے لگے تھے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھلے ہی بات چیت منسوخ ہونے پر سرکار کچھ بھی الزام لگائے لیکن ہماری رائے میں بھارت سرکار کی ڈپلومیٹک چالیں کامیاب رہیں۔ بھارت سرکار کی چال میں پاکستان خود مات کھا گیا۔ مودی سرکار نے سانپ بھی مار دیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی اس کا سہرا وزیراعظم نریندر مودی، وزیرخارجہ محترمہ سشما سوراج اور این ایس اے کے مشیر اجیت دوبھال کو جاتا ہے۔
(انل نریندر)

جام سے ہر سال 600ارب روپےکا نقصان ہوتا ہے

راجدھانی دہلی کی بھاگ دوڑ بھری زندگی سڑکوں پر ٹھہرتی نظر آتی ہیں۔ دہلی کی زیادہ تر شاہراہوں پر گاری چلاتے وقت تو آپ کے صبر کا امتحان ہوتا ہے جام نہ صرف لٹین زون( راشٹرپتی بھون) بلکہ دہلی کے تقریبا سبھی علاقوں میں گھنٹوں سڑک پر کبھی کبھی رک کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ حالت درسال در بڑھتی جارہی ہیں۔ جس سے مستقبل قریب میں کوئی راحت نظر نہیں آتی۔ سال 1982میں ایشیائی کھیلوں کے انعقاد کے وقت دہلی میں فلائی اوور کی تعمیر ہوئی تھیں۔ اس کے بعد جام سے نجات سے ملنے کے لئے ان فلائی اوور بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک کے بعد ایک فلائی اوور بنتے گئے۔ سال 2010میں کامن ویلتھ کھیلوں کے آس پاس یہاں فلائی اوور کی تعداد 75 تک پہنچ گئی تھی۔ امید تھی کہ اس سے جام سے پریشان حال دہلی والوں کو کچھ راحت ملے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 96 لاکھ سے زائد گاڑیوں کا بوجھ سہہ رہی دہلی ٹریفک جام کے دلدل میں پھنستی جارہی ہیں۔ گاڑیوں کا یہ بوجھ سال در سال بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سڑکوں کا ڈیزائن وہی برسوں پرانا ہے سڑکیں توقع سے کم چوڑی ہے ہر علاقے میں لگنے والے سڑک جام کے پیچھے وجہ بھی الگ الگ سامنے آئی ہیں۔ دھرنامظاہروں سے بھی جام لگنے لگے ہیں۔ گزشتہ برس میں 2409 مظاہرے، 361 ریلیاں اور 4170 دھرنے وہڑتال، 342 تہواروں کے متعلق پروگرام ہوئے۔ اس وجہ سے بھی جام لگتا ہے۔ایک ٹی سی بس بریک ڈاؤن ہوتی ہے تو4 گھنٹے تک ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ بسیں ہائیڈرولک ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے بریک ڈاؤن کے بعد بس ایک انچ بھی نہیں ہل پاتی اگر وہ ٹریفک لائٹ یا سڑک کے بالکل بیچ میں خراب ہوجائے تو وہ کہاں تک وہ وہاں گھنٹوں کھڑی رہتی ہے اور ٹریفک کی ایسی حالات ہوجاتی ہے کہ آنے جانے والوں کو جام سے پریشان ہوناپڑتا ہے۔ اگر اندر دیو جب زیادہ خوش ہوجائے تو بارش سے پانی بھرجانے کی پریشانی کھڑی ہوجاتی ہیں۔ بارش کے موسم میں کل 152 مقامات پر پانی بھرجاتا ہے۔ ٹریفک پولیس نے اس بارے میں بلدیاتی ایجنسیوں کو بھی آگاہ کیا ہے کہ پانی بھرنے اور تیز بارش کے سبب ٹریفک سنگل بھی کام نہ کرنے سے گاڑیوں کی لمبی لائن سڑکوں پر لگ جاتی ہیں۔ دہلی میں گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ پہلے نکلنے کے چکر میں یہ بیچیدہ صورت حال کردیتے ہیں اور انہی اسباب سے سڑک پر مار پیٹ کے معاملے بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان ٹریفک جام سے مالیاتی نقصان بھی بہت زبردست ہورہا ہے۔ انڈین ٹریفک کارپوریشن اور آئی آئی ایم کی ایک رپورٹ کے مطابق میٹروپولٹین شہرو ں میں یومیہ کسی گاڑی کو 20% سے زیادہ ایندھن جام میں پھنسنے پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہرسال ٹریفک جام کی وجہ سے دیش کو قریب 600 ارب رو پے کے ایندھن کا برباد ہونا سہنا پڑتا ہے۔ دہلی میں 96.34 لاکھ گاڑیاں ہیں۔ جب کہ چنئی میں 44.90 لاکھ گاڑیاں، ممبئی میں 25.02لاکھ، اور کولکتہ میں 4.45 لاکھ گاڑیاں ہیں۔
(انل نریندر)

25 اگست 2015

داؤد ابراہیم کے کراچی میں ہونے کے پختہ ثبوت

ایک بار پھر اس کی تصدیق ہوگئی ہے کہ انڈر ورلڈ ڈان اور 1993کے ممبئی بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم پاکستان کے شہر کراچی میں ہی قیام پذیر ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے پاس اس کہ خفیہ ثبوت ہیں۔ کراچی میں کلفٹن روڈ سمیت دیگر علاقوں میں اس کے گھروں کے پتے اور اس کی بیوی مہ جبیں شیخ کا اپریل 2015 ء کا ٹیلی فون بل، دوبئی اور پاکستان کے درمیان سفر کی تفصیلات کے ساتھ ہی ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے پاس 59 سالہ داؤد کی سال2012ء کی تازہ تصویر اور پاکستانی پاسپورٹ کی کافی ہے۔ ممبئی دھماکوں میں 257 ہندوستانیوں کی موت کے ذمہ دار داؤد کے پاس 3 پاسپورٹ(پاکستانی) ہیں۔ داؤد ابراہیم کی22 سال بعد نئی تصویر سامنے آئی ہے ۔ ساتھ ہی ایک نیوز چینل نے داؤد کی بیوی مہ جبیں سے بات چیت کا دعوی کیا ہے۔ اس میں مہ جبیں نے بتایا کہ وہ کراچی سے بول رہی ہے ساتھ ہی داؤد کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ وہ ابھی سورہا ہے۔ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے پاکستانی قومی سلامتی مشیر (این ایس اے) کو سونپنے کے لئے جو ثبوت اکھٹے کئے ہیں ان میں داؤد کے کراچی میں واقع گھر کے فون کا بل بھی ہے۔ اس فون نمبر پر ایک انگریزی چینل نے سنیچر کو دوبار بات چیت کی۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو داؤد کے گھر کا جو ٹیلیفون بل ملا ہے اس میں پتہ D13، بلاک 4، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی اسکیم۔5 کلفٹن روڈ۔ کراچی لکھا ہے اس پر نمبر+9223587 درج ہے۔اس میں کسٹومر آئی ڈی نمبر 1215871639 ہے۔ فون نمبر کے آخری پانچ ڈیجٹ انگریزی چینل و انگریزی نیوز پیپر نے شائع نہیں کئے ہیں۔ داؤد شیخ ابراہیم نام سے جاری پاسپورٹ کے ذریعے وہ کئی بار پاکستان اور دوبئی کے دورہ پر جاچکا ہے۔ اس کے رشتے دار بھی پاکستانی پاسپورٹ سے ہی سفر کرتے ہیں۔ داؤد کراچی کے عالیشان کلفٹن علاقے میں بیوی مہ جبیوں شیخ ، بیٹے معین نواز اور تین بیٹیوں ماہ رخ، مہرین اور شازیہ کے ساتھ رہتا ہے۔ داؤد اکثر پاکستان میں اپنی جگہ اور پتہ بدلتا رہتا ہے۔ داؤد کی بیٹی ماہ رخ کی شادی سابق پاکستانی کرکٹر جاوید میاں داد کے بیٹے جنید سے ہوئی ہے۔ ہندوستانی ایجنسیوں کے پاس داؤد کے خاندان کے سبھی لوگوں کے پاسپورٹ نمبر اور دیگر ہوائی ٹکٹ کی جانکاری بھی ہے۔ ساتھ ہی آئی پی ایل کرکٹ میچ فکسنگ میں ڈی کمپنی کی بات چیت اور کچھ ہندوستانی تاجروں کے ساتھ دوبئی اور دیگر ملکوں میں سانٹھ گانٹھ کی مفصل تفصیلات بھی ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ تمام پختہ ثبوت کے باوجود پاکستان پچھلی دو دہائی سے یہ کہتا آرہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار داؤد پاکستان میں نہیں ہے۔ ویسے اس طرح کے ثبوت پچھلی ہندوستانی حکومتیں پاکستان سرکار کو کئی بار سونپ چکی ہیں اور تازہ جانکاری سے شاید پوزیشن بدلے۔ اب بھارت کے لئے ایک پختہ فیصلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ پچھلے دنوں ٹائیگر میمن اس کی ماں سے فون پر بات چیت ہونے کی رپورٹ ہندوستانی میڈیا میں شائع ہوئی تھی۔ بتا دیں کہ ایک انگریزی اخبار نے چھاپا تھا کہ ٹائیگر نے اپنی ماں حنیف میمن کو فون کیا اور اپنے بھائی یعقوب میمن کی پھانسی کا بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ اس بار چیت کے دوران حنیفہ نے کہا تھا کہ بس ہوگیا۔ اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹائیگر نے 30 جولائی کو یعقوب کو پھانسی پر لٹکائے جانے سے1 گھنٹے پہلے فون کیا تھا۔ ٹائیگر نے یہ فون وائس انٹرنیشنل پروٹوکال سے کیا تھا تاکہ ممبئی پولیس اس کا فون ٹیپ نہ کرسکے۔ حالانکہ مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ نے اس بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ممبئی پولیس کے پاس ایسی کسی بات چیت کی تردید نہیں ہے اور نہ ہی ممبئی پولیس نے اس طرح کی بات چیت کی کوئی تفصیل جاری کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی اس کی تردید کی ہے کہ داؤد پاکستان میں ہی ہے۔ کیا مودی سرکار داؤد کو بھارت لانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالے گی؟
(انل نریندر)

جنسی جرائم پر تبصرہ کرکے پھر نیتا جی تنازعوں میں گھرے

سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو وقتاً فوقتاً بے موقعہ محل ایسے متنازعہ اور بے تکے بیان دیتے رہتے ہیں جس سے خود ان کے بیٹے اکھلیش کی سرکار اور پارٹی مشکل حالت سے دوچار ہوجاتی ہے۔ ایک بار جب پورے دیش میں خواتین کے تئیں تشدد اور آبروریزی کو لیکر ہائے توبہ مچی ہوئی تھی تب نیتا جی نے اسے لڑکوں سے ہو جانے والی چھوٹی بھول بتا کر تقریباً معافی نامہ سا جاری کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔ ان کے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان پر ملک گیر سطح پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور پورے مہذب سماج اور خاص طور سے خواتین انجمنوں نے انہیں زور دار طریقے پرنشانے پر لیا تھا۔اب ملائم نے کہہ دیا کئی بار آبروریزی ایک آدمی کرتا ہے اور اس میں چار لوگوں کو نامزد کردیا جاتا ہے۔ ایسا بدلے کے جذبے سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے آگے یہ بھی کہا کہ ایسی مثال بھی ہے کہ جس میں بے قصوروں کو پھنسا دیا جاتا ہے۔ اب اجتماعی آبروریزی کو غیر مہذب اور غیرمعمولی بتا کر پھر سے تنازعوں میں پھنس گئے ہیں۔ اجتماعی آبروریزی کے بڑھتے واقعات کو سپریم کورٹ نے نہ صرف وقتاً فوقتاً باعث تشویش بتایا ہے بلکہ اسی سال اجتماعی گینگ ریپ کے کچھ ویڈیو پر خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرنے کا حکم تک دے دیا۔لیکن ملائم سنگھ کی اگر مانیں تو قومی راجدھانی دہلی کو ہلا دینے والے نربھیا گینگ ریپ سمیت اجتماعی آبروریزی کے تمام معاملے ہی جھوٹے کہلائیں گے۔ جب جنسی جرائم کے خلاف سخت سزا پر غور ہورہا تھا تب بھی یہ کہہ کر کہ لڑکوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اس کے لئے کیا انہیں پھانسی دے دی جائے گی۔ سینئر سوشلسٹ لیڈر نے اجتماعی آبروریزی کو ایک معمولی واقعہ بتانے کی کوشش کی تھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے دیش میں خاص کر شمالی ہندوستان کے مرد بالادستی سماج میں عورتوں کے تئیں غلط اور قابل اعتراض رائے بنی ہوئی ہے۔یہاں تک کہ عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کیلئے بھی چھوٹے اور عریانی کپڑوں اور لڑکی کے دیر رات باہر رہنے اور کوئی جینس اور موبائل کو تو کوئی لبھانے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے لیکن اترپردیش جیسے صوبے کا وزیر اعلی رہ چکے حکمراں پارٹی کا چیف اگر ایسی رائے زنی کرتاہے تو یہ سنگین اور باعث تشویش ہے۔ ملائم کے اس بیان کے بعد اجتماعی اور سلسلہ وار آبروریزی کے واقعات کے جو معاملے سامنے آرہے ہیں اس سے پردیش سہما اورشرمسار ہے۔ چراغ تلے اندھیرے کی صورت تو صوبے کی راجدھانی لکھنؤ کی ہے جہاں اسکول سے لوٹتی نابالغ طالبہ کو دن دھاڑے کار میں اغوا کر اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے اس طالبہ کی حالت نازک ہے۔ لکھنؤ پولیس صرف اس بات کو ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ یہ آبروریزی کی واردات ہے لیکن اجتماعی آبروریزی کی نہیں۔ مطلب صاف ہے اسے ملزمان کو پکڑنے کے بجائے نیتا جی کی آبروریزی سے متعلق غیر ذمہ دارانہ خیالات کو صحیح ثابت کرنے کی فکر ہے اور نیتا جی کے ذریعہ حوصلہ افزائی سے حوصلہ پائے لڑکے (جرائم پیشہ) آبروریزی جیسی غلطی درغلطی کرتے جارہے ہیں۔ نیتا جی لگے ہوئے ہیں یہ ثابت کرنے میں کہ پردیش کے شہریوں کو مطمئن ہونا چاہئے کہ اترپردیش میں آبروریزی کے واقعات کے اعدادو شمار دیگر ریاستوں سے کم ہیں۔ حالانکہ قومی کرائم بیورو کچھ اور ہی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق 2014ء میں پورے دیش میں آبروریزی کے قریب2300 معاملے درک ہوئے تھے۔جس میں525 کے قریب صرف یوپی میں ہی تھے لہٰذا ذمہ دار لوگوں کوایسی اوچھی رائے زنی سے پرہیز کرنا چاہئے جن سے بالآخر جرائم پیشہ کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔
(انل نریندر)

23 اگست 2015

تو کیا آئی ایس چھیڑے گی تیسری عالمی جنگ؟ناسٹرا ڈومس صحیح ہوں گے

فرانس میں 16 ویں صدی کے دوران کئی پیشینگوئیاں کر چکے ناسٹرا ڈومس کی ایک اور پیشینگوئی کے سچ ہونے کا وقت آ چکا ہے۔ ناسٹرا ڈومس نے 16ویں صدی میں ہی پہلی جنگ عظیم ، دوسری جنگ عظیم، نیپولین کے سامراجیہ سمیت تمام پیشینگوئیا ں کی تھیں جو سچ ثابت ہوئی ہیں۔انہوں نے 21 ویں صدی میں تیسری عالمی جنگ کی پیشینگوئی کی تھی جس کی شروعات انہوں نے میسوپوٹامیا(حال کے عراق۔ ایران) کو کہا تھا۔ ناسٹراڈومس کی پیشینگوئیوں کے مطابق میسو پوٹامیا کی پاک زمین سے ایشو کے تیسرے مخالف کے ابھرنے کی بات کہی تھی جو اب تک آئی ایس آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) کے روپ میں سچ ہوتی نظر آرہی ہے۔یہ ناسٹرا ڈومس کی ہی پیشینگوئی تھی کہ نیپولین اور ہٹلر جیسے ایشو مخالف دنیا کے بڑے حصوں میں لاکھوں کا خون بہائیں گے، ہوا بھی یہی۔ نیپولین نے پورے یورپ میں مارکاٹ مچائی اور فرانس کے اقتدار کو بڑھایا۔ ایسے ہی ہٹلر نے دنیا کا ایسا حال کیا جس میں60 لاکھ یہودیوں کو گیس چیمبروں میں مارا۔ اب آئی ایس کی شکل میں تیسرے سب سے بڑے ایشو مخالف کا جنم ہوچکا ہے۔ناسٹراڈومس کی پیشینگوئی کو اگر تاریخ دانوں اور مبصرین کی نظر سے دیکھیں تو ناسٹرا ڈومس نے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کا وقت 2042 ء بتایا ہے جب کہ اس سے27 سال پہلے ایشور کے اس طاقتور مخالف (آئی ایس) کا بڑھنا ۔ ناسٹراڈومس کی پیشینگوئیوں کو لیکر چلنے والی ایک ویب سائٹ پر دعوی کیا گیا ہے کہ تیسری جنگ عظیم سے پوری دنیا میں زبردست مار کاٹ ہوگی جو27 سال تک چلے گی ۔ اس حساب سے 2015 ء ہی وہ وقت ہے اور اتفاق دیکھئے کہ آئی ایس نے اسی سال دنیا پر قبضہ کرنے کی اپنی سازش و پلان کو پیش کیا ہے جس میں یوروپ، ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر قبضے کی حکمت عملی کو بتایا گیا ہے۔ دنیا بھر میں اپنے وحشیانہ پن کے لئے مشہور آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی اب ایک اور وحشیانہ حرکت سامنے آئی ہے۔یہ خونخوار آتنکی تنظیم اگلے پانچ سالوں میں پورے بھارتیہ اپ مہادیپ سمیت پوری دنیا کے زیادہ تر حصے پر قبضہ جمانے کی فراق میں ہے۔ آتنکی تنظیم نے 2020ء تک بھارتیہ اپ مہادیپ کے علاوہ مدھیہ پورب، اتری افریقہ اور یوروپ کے کئی حصوں تک اپنی جڑ جمانے کی اسکیم بنائی ہے۔ جہاں وہ اپنی خلافت کا پرچم لہرانا چاہتا ہے۔ یہ خلاصہ ہوا ہے ایک کتاب سے ، جس میں آئی ایس کی اس یوجنا کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اس بارے میں نقشہ بھی دیا گیا ہے۔ برٹش ویب سائٹ مرر کی ایک رپورٹ کے مطابق ابھی عراق اور سیریا کے کئی حصوں میں قبضہ جما چکا آئی ایس ان دیشوں کی جانب رخ کرنے کی اسکیم بنا رہا ہے۔تاکہ اگلے پانچ سالوں میں خلافت کو توسیع دی جاسکے۔آتنکی تنظیموں کی یوجنا پشچم میں اسپین سے لیکر پورب میں چین تک کے علاقوں پر اپنا قبضہ جمانے کی ہے۔ بی بی سی رپورٹر انڈریو ہڈسن کی نئی کتاب ’’امپائر آف فائر: ان سائڈ دی اسلامک اسٹیٹ‘‘ میں آئی ایس کا یہ نقشہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس دنیا کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ جمانا چاہتا ہے تاکہ وہ اسلامی دنیا قائم کرسکے۔انڈریو نے کہا کہ خلافت کے پہلے مرحلے کے پورا ہونے پر آئی ایس کو دنیا کے باقی حصوں کی طرف رخ کرنا ہے۔ نقشے میں بھارتیہ اپ مہادیپ کا نام خراسان دیا گیا ہے۔جبکہ یورپ کے جن علاقوں میں آئی ایس اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے اس کا نام اندولس دیا گیا ہے جو ایک عربی لفظ ہے جسے آٹھویں سے پندرھویں صدی کے درمیان مسلم قبائلی لوگوں کے ذریعے قبضہ کرلیا گیا تھا۔ تو کیا آئی ایس چھیڑے گا عالمی جنگ؟ ناسٹراڈومس کی پیشینگوئی سچ ہوگی؟
(انل نریندر)

ڈینگو کی روک تھام کیلئے بیداری ضروری

برسات کے موسم میں مچھروں کے کاٹنے سے پیدا ہونے والے ڈینگو، جاپانی بخار، چکن گنیا اور ملیریا وغیرہ امراض ہونا سالانہ کا معمول بن گیا ہے۔ اکیلے دہلی میں ہیں اس سال اب تک ڈینگو متاثرین کی تعداد277 ہوچکی ہے۔ کئی موتیں بھی ہوچکی ہیں۔ ہر بار برسات شروع ہونے کے پہلے ان بیماریوں سے محتاط رہنے کے لئے کہا جاتا ہے مگر حالات میں کوئی سدھار نہیں ہورہا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جہاں عملی قدم اٹھائے جانے چاہئیں سیاسی دل ایک دوسرے پر الزام لگا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ ابھی کانگریس کے نیتا عام آدمی پارٹی سرکار پر الزام لگا رہے ہیں کہ مچھروں سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے مناسب اقدام نہیں کررہی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے کانگریس سرکار کے وقت اس مسئلے نے کم خطرناک رخ نہیں اختیار کیا تھا۔ دہلی سرکار کے مولانا آزاد میڈیکل کالج کے قریب ایک درجن ٹرینی ڈاکٹروں اور نیم فوجی دستوں کے کئی جوانوں کا ڈینگو کی چپیٹ میں آنا اور بھی فکر کا موضوع ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ تو مولانا آزاد میڈیکل کالج اور نہ ہی نیم فوجی دستوں کے کیمپوں میں صاف صفائی کا مناسب انتظام ہے۔ سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس ادارے کے پاس لوگوں کا علاج کرنے کی ذمہ داری ہے اسی کے احاطے میں ڈینگو کے مچھر پنپ رہے ہیں اور اسے اس کی بھنک تک نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ جانکاری نہیں ہے کہ ڈینگو مچھر سے بچاؤ ہوسکتا ہے۔ سفید کالے رنگ کے دھبو ں کا یہ مچھرنیچے اڑتا ہے اور عموماً ٹانگو پر ہی کاٹتا ہے اس لئے بچوں کو جب پارکوں وغیرہ میں بھیجیں تو ان کے پاؤں میں اوڈوماس اسپرے یا آج کل پیچ چل رہے ہیں وہ لگادیں۔ ان کی خوشبو سے ڈینگو، چکن گنیا مچھر نزدیک نہیں آسکیں گے۔ حالانکہ ڈینگو کا انفیکشن ہو بھی رہا ہے لیکن لوگوں میں گھبراہٹ زیادہ ہے جبکہ اس کے سنگین ہونے کی امید صرف ایک فیصد ہوتی ہے اور اگر لوگوں کو خطرے کی جانکاری ہو تو جان جانے سے بچائی جاسکتی ہے۔ اگر ڈینگو کے مریض کے پلیٹ لیٹ کاؤنٹ 10 ہزار سے زیادہ ہوں تو پلیٹ لیٹ چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ غیر ضروری پلیٹ لیٹ نقصان کر سکتے ہیں۔ ڈینگو بخار چار قسم کے ڈینگو وائرس کے انفیکشن سے ہوتے ہیں جو مادہ ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ ڈینگو بخار میں تیز بخار کے ساتھ ناک بہنا، کھانسی، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں میں درد اور کھال پر ہلکے رنگ دار دانے یا چکتے ہوتے ہیں۔ حالانکہ کچھ بچوں میں لال اور سفید نشانوں کے ساتھ پیٹ خراب ، جی مچلانا، الٹی بھی ہوسکتی ہے۔ آپ بھی سرکار کی مدد کریں آپ کے گھر میں کوئی گندگی نہ رہے، پانی اکھٹا نہ ہونے دیں، کولروں میں پانی بدلتے رہیں،محلے میں مچھر مار دواؤں کا مستقل چھڑکاؤ کریں۔ آنے والے دنوں میں جب تاپ مان میں تھوڑی کمی آئے گی اس وقت ڈینگو کے لئے ذمہ دار مچھروں کی پیدائش بڑھے گی اس لئے ضروری ہے کہ سبھی لوگ آج سے ہی ہوشیار ہوجائیں اور بچاؤ کی تیاری کریں۔ ساتھ ہی لوگوں کے درمیان بیداری پھیلائیں۔
(انل نریندر)

22 اگست 2015

الہ آباد ہائی کورٹ کا دور رس تاریخی فیصلہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز اترپردیش کے پرائمری اسکولوں کی بدحالی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے عوامی نمائندوں، حکام اور جج صاحبان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانا ضروری کردیا ہے۔ جو نہیں پڑھائیں گے اسے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کے برابر پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔ اتنا ہی نہیں عدالت نے کہا کہ جو لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں نہیں پڑھائیں گے ان کا پرموشن اور ترقی بھی روک دی جائے گی۔ فیصلہ اگلے سیشن سے لاگو ہوگا۔ عدالت نے اترپردیش کے چیف سکریٹری کو حکم دیا ہے کہ وہ طے کرے کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ یا دیگر مراعات یا کسی طریقے سے پیسہ لینے والوں کے بچے ضروری طور سے یوپی بورڈ کے اسکولوں میں ہی پڑھیں۔ عمل پر ریاستی سرکار کو چھ مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست میں تین طرح کا تعلیمی نظام ہے۔ انگریزی کانوینٹ اسکول، درمیانے طبقے کے پرائیویٹ اسکول اور سرکاری اسکول ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کے گرتے معیار کے بارے میں تو سب کو پتہ ہے لیکن اسے ناسور بننے سے روکنے کے لئے کوئی تیار دکھائی نہیں پڑتا۔ اس حکم کے جواز کو لیکر بحث ہوسکتی ہے کہ آخر یہ سب اتنی جلدی کیسے ممکن ہوگا۔ یا اس حکم کو بنیادی حق سمیت آئینی تقاضوں و اختیارات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ پانچ سال کی مکمل اکثریت والی سرکار چل رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی پر ذمہ داری ہے کہ وہ جوابدہی کا شکنجہ کستا ہے کیونکہ کوئی ووٹ بینک کی خاطر اس کے عہد میں تعلیمی سیکٹر میں ایسے تجربے کئے گئے ہیں، جنہوں نے کم سے کم بنیاد کہلانے والی ابتدائی تعلیم کا تو کچومر ہی نکال دیا ہے۔ 
ٹیچروں کی بھرتی میں لاپرواہی تو عام ہے ۔ سپا نے ووٹ بینک بنانے کیلئے نیم تعلیم یافتہ یا نااہل شکشا متروں کو ہی ٹیچر بنا دیا۔ بہت ممکن ہے کہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینے کے لئے قانونی متبادل پر بھی غور کیا جارہا ہو۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ عدالت میں پالیسی سازوں اور سرکاری ملازمین کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ آخر یہ جوابدہی کوئی لینے کو تیار کیو ں نہیں ہوتا کہ سرکاری اسکولوں کی حالت دن بدن خراب کیوں ہوتی جارہی ہے؟ اور یہ حالت صرف اترپردیش کی ہی نہیں بلکہ پورے دیش کے پرائمری اسکولوں کا یہی حال ہے۔2013-14 کی اس ڈائس (ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجو کیشن) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کس طرح دیش میں پرائمری اسکولوں کا ڈھانچہ چرمرار رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ دیش کے پرائمری اسکولوں کا ہر پانچواں ٹیچر صلاحیت نہیں رکھتا۔ باقی بنیادی سہولیات کی بات چھوڑ دی جائے تو یہ حکم میل کا پتھر ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیر، ایم ایل اے یا عوامی نمائندہ یا سرکاری ملازم کوئی بھی اپنے بچوں کو سرکاری اسکول بھیجنے کیلئے راضی نہیں ہے لہٰذا حالت بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔
(انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...