Translater

30 مئی 2026

ابراہم سمجھوتے پر پھنسےعرب ممالک



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایران پر جو جنگ کررہا ہے وہ دراصل اس کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ٹرمپ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کہ کہنے پر کررہا ہے۔ یہ جنگ ٹرمپ نے امریکی مفادات کےلئے نہیں کی ہےبلکہ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کےلئے ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ٹرمپ کو نتن یاہو بلیک میل کر رہا ہے اور وہ سب کچھ کہنے اور کرنے پر کروا رہے ہیںجو وہ اور طاقتور یہودی لابی کروا رہی ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟ اس کے پیچھے ایپسٹن فائل کا بھوت ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ٹرمپ یہ نئی شرط کو کیوں ڈالتے؟ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب،قطر ، ترکی، مصر، جارڈن سے امریکی امن سمجھوتے میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے ان عرب ممالک سے کہا کہ ایران سے سمجھوتہ تبھی پورا ما نا جائے گا ، جب سعودی، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، جارڈن، بحرین جیسے عرب مسلم دیش ابراہم سمجھوتہ میں شامل ہوں۔ یعنی اسرائیل کو تسلیم کریں اور اس سے رشتے جوڑیں۔ ٹرمپ نے آگے خبردار کیا جو دیش ایسا نہیں کریںگے انہیں امریکہ ۔ایران ڈیل کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر سے فوراً اسرائیل سے رشتے جوڑنے کو کہا۔ انہوں نے آگے کہا سمجھوتے کے بعد ایران کو بھی ابراہم معاہدے میں شامل کرنا عزت کی بات ہوگی۔ ابراہم سمجھوتے کی شروعات ستمبر2020 میں ٹرمپ کے پہلے عہد کے دوران ہوئی تھی۔ یہ ایک ڈپلومیسی سمجھوتہ تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات بحرین نے سرکاری طور پر اسرائیل کے ساتھ رشتے بہتر بنائے تھے ۔ بعد میں مراقش اور سوڈان بھی اس خاکہ میں شامل ہوگئے۔ دہائیوں تک زیادہ تر عرب ملکوں کا رخ یہ تھا کہ جب تک فلسطین مسئلہ کا حل نہیں ہوگا ، تب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریںگے۔ لیکن اس سمجھوتے نے اس پالیسی کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ اس سمجھوتے کی سب سے بڑی نکتہ چینی یہ ہورہی ہے کہ اس میں فلسطین مسئلہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ نہ تو فلسطین ملک کو لیکر کوئی واضح روڈ میپ دیا گیا اور نہ ہی اسرائیلی بستیوں پر روک کی بات ہوئی۔اسے سبھی جانتے ہیں اسرائیل ایک گریٹر اسرائیل کی امید لگائے بیٹھا ہے جس میں وہ کچھ عرب ملکوں کی زمین لیکر ایک بڑا اسرائیل بنانا چاہتا ہے اور اس میں اب ٹرمپ کھل کر بے شرمی سے مدد کررہے ہیں۔ پاکستان نے اس تجویز کو فوراً مسترد کردیا۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو کوئی سرکاری منظوری نہیں دی ہے۔حالانکہ یہ بات پاکستان کیلئے اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ جس طرح کے انسان ہیں اور اپنی بات منوانے کیلئے جس طرح ہو سکے پاکستان خارجہ پالیسی کے سامنے آنے والے وقت میں یہ اشو بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے۔ سعودی عرب نے بھی اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ پہلے وہ 1967 کی پوزیشن بحال کرے۔جب اسرائیل ز بردستی فسلطین کی زمین کاٹ کر بنایا گیا تھا ترکی نے تو صاف کہا تھا کہ ہماری تو پالیسی صاف ہے ، ہمیں تو اسرائیل کی موجودگی ناپسند ہے اس لئے ہمارا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹرمپ نے آخر میں یہ دائو کیوں چلا؟ ٹرمپ ایران ڈیل کو صرف جنگ روکنے والاسمجھوتہ نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ اسے مغربی ایشیا کے نئے سیاسی نظام قائم کرنا چاہتا ہے اس لئے سعودی عرب ، قطر، پاکستان، ترکی جیسے ملکوں پرجڑنے کا دبائو دے رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سب سے بڑی کامیابی اسرائیل کو ملے گی۔ اسرائیل کو خلیج میں مانیتا مل جائے گا۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ابراہم سمجھوتے پر پھنسےعرب ممالک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایران پر جو جنگ کررہا ہے وہ دراصل اس کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ٹرمپ اسرائیل کے...