دبئی کو چکانی پڑی سب سے بڑی قیمت !
یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کو بنانے میں 40 سال لگے اور تباہ ہونے میں مشکل سے 10 دن لگے ۔دبئی جو دنیا کے سب سے جدید ترین شہروں میں سے ایک ماناجاتا تھا ،محفوظ ماناجاتا تھا جو دنیا نیا ہب بن گیا تھا اس کو ایران نے ایسا تباہ کیا کہ وہ اتنے پیچھے چلا گیا کہ اب اسے برسوں لگیں گے اسی حالت میں پہنچنے پر ۔امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان ایران مسلسل خلیجی ممالک پر حملہ کررہا ہے ایک خاص بات سامنے آئی ہے کہ ایران سب سے زیادہ یو اے ای کو نشانہ بنا رہا ہے ۔جس دن سے (28 فروری )جنگ شروع ہوئی تب ایرا ن نے 1714 ڈرون 334 بیلسٹک میزائل داغ کر تباہی کی عبارت لکھ دی ہے ۔آخر ایران دبئی ،ابو ظہبی پر مسلسل حملے کیوں کررہا ہے ۔امریکہ،اسرائیل -ایران کی اس جنگ میں ایران نے ان حملوں میں دبئی کے عالیشان ہوٹل ریفائنری ،ایئر پورٹ اور اہم کمرشیل زون کو کافی متاثر کیا ہے ۔
آخر دبئی کو تباہ کرنے کے پیچھے ایران کی حکمت عملی کیا ہے ؟ کیا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ امریکہ وہاں سے اپنے فوجی اڈے چلاتا ہے ؟ یا ان حملوں کے پیچھے ایران کے کچھ اور ارادے ہیں؟ تو اس کا جواب ہتھیاروں سے زیادہ اکونامکس اور انویسٹمنٹ کے آس پاس گھومتی ہے۔ دہشت ، وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی لگتی ہے ۔میگا (میک امریکہ گریٹ یگن) کے نعروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی اقتدار میں دوسری مرتبہ واپسی ہوئی جب سے وہ اقتدار میں لوٹے ہیں ، ان کا پورا فوکس امریکہ کی معیشت کومضبوط کرنے اور بڑے پیمانہ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہورہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے اعدادشمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کو اگلے 10 برسوں میں سرمایہ کاری کے لئے 5.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری عہد میں ملی ہے تو اس 5.2ٹریلین ڈالر میں سے سب سے بڑا حصہ یو اے ای لگارہا ہے ۔اکیلے یو اے ای 1.4ٹریلین ڈالر یعنی کل سرمایہ کا 27 فیصد) صرف یو اے ای نے وعدہ کیا ہے ۔سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو یو اے ای امریکہ کے لئے انکلیس ہیل بنا گیا ہے جس کا مطلب امریکہ کی کمزور کڑی بن گیا ہے۔ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر دبئی پر میزائلیں گریں گی تو وہاں کی معیشت ڈگمگائے گی اور اگر دبئی کی معیشت ہلی تو امریکہ میں آنے والے 1.4ٹریلین کا وہ سرمایہ سیدھے طور پر خطرے میں پڑ جائے گا ۔جس پر ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہا ہے ۔ایران کا نشانہ صرف امریکہ میں جانے والاہے۔دبئی کا پیسہ نہیں ہے بلکہ گلوبل انویسٹمنٹ ہب کی شکل میں دبئی اور یو اے ای کی پہچان کو تباہ کرنا ہے۔دبئی جو خطہ کا زون تھا اقتصادی ،ڈیجیٹل اور میڈیا ہب رہا ہے ۔اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے ۔اہم شیئر انڈیکس ایڈکز جنرل میں پچھلے مہینے میں 11.42 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ہوائی سیکٹربند ہونے لگے اور پروازیں منسوخ ہونے سے سیاحت اور ایویشن سیکٹر میں دبئی کو قریب کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یو اے ای سرکار اور میڈیا نے دیش کو محفوظ جگہ والی ساکھ بنائے رکھنی کی کوشش کی تھی ۔
صدر محمد زائد نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور دیش ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل حمد شیخ الشمسی نے حملوں کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرنے پر سخت وارننگ دی ۔اس حکم کے تحت کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر کم سے کم ایک سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کی سہولت ہے ۔ایران دنیا کو یہ بڑا سندیش دے رہا ہے کہ جنگ کے میدان سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر بھی وہ امریکہ کی دکھتی معاشی نس کو کاٹ سکتا ہے ۔ہر ڈرون حملہ،میزائل اسٹرائک دبئی اور یو اے ای اور خلیجی ملکوں کی اس محفوظ اور مضبوط سسٹم پر ایک زبردست حملہ ہے جسے انہوں نے سالوں سے ریفارم اور شاندار ڈھانچہ بندی کے دم پر بنایا ہے ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں