Translater

02 مئی 2026

خلیجی ممالک میں ابھرتے اختلافات



امریکہ ایران جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک میں آپسی اختلافات تیزی سے بڑھتے نظر آنے لگے ہیں ۔ ہر مونز اسٹریٹ کے بند ہونے سے صورتحال دھما کہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ اس راستہ کے بند ہونے سے خلیج کے وہ ملک جن کا اقتصادی نظام تیل کی درآمدات پر منحصر ہے وہ خاصے ناراض ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اہم ترین تیل پروڈکشن ممالک کے گروپ او پیک اور او پیک پلس سے باہر جانے کا فیصلہ ایران جنگ کی وجہ سے تاریخی طور سے دنیا بھر میں ایندھن کو لیکر بڑا بحران پیدا ہوا ہے جس نے عالمی معیشت کو بلا کر رکھ دیا ہے۔ یو اے ای اور بدلتی انرجی پروفائل کا دکھاوا پن ہے۔ یواے ای کے وزیر توانائی سبیل الامظروئی نے کہا ہے

ان گروپوں کے تحت کسی ثالثی سے نجات ملنے پر دیش کو زیادہ لچیلا پن ملے گا۔ او پیک کو 60 سال بعد چھوڑنے کا فیصلہ یو اے ای نے اچانک نہیں لیا، بلکہ اس کے پیچھے لمبے عرصے سے پنپ رہی ناراضگی ہے۔ اب تمہی کو مسلسل یہ کھٹک رہا تھا کہ سعودی عرب او پیک کے ذریعے تیل پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے اور یوں اے ای کو اپنی صلاحیت کے حساب سے زیادہ تیل نکالنے نہیں دیتا۔ جب یواے ای زیادہ پیداوار کرنا چاہتا تھا تب سعودی کم پیداوار پر زور دیتا رہا۔ جس سے دونوں میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ اس کشیدگی کو اور ہوا تب ملی جب پاکستان کا رول سامنے آیا۔ یو اے ای کو پاکستان کا رویہ بالکل پسند نہیں آیا۔ خاص کر تب جب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایم ایس ٹی فائنشیل میں انرجی ریسرچ کی ٹیم شاؤل کو انک نے کہا کہ یہ اتحاد کے خاتمے کی شروعات ہو سکتی ہے۔ یو اے ای کے ساتھ جانے کے او پیک کے ساتھ ساتھ اس گروپ کے کرتا دھرتا مانے جانے والے سعودی عرب کے لئے جھٹکا مانا جارہا ہے۔ یو اے ای کا باہر جانا امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ کے لئے ایک جیت مانا جارہا ہے جنہوں نے پہلے او پیک پر دنیا کا استحصال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جنوری میں انہوں نے سعودی عرب اور دیگر او پیک ملکوں سے تیل کی قیمت کم کرنے کو کہا تھا اور ٹیرف لگانے کی اپنی دھمکی کو بھی دوہرایا تھا۔ یو اے ای کا او پیک سے الگ ہونے کا فیصلہ صرف ایک ممبر ملک کی تجویز نہیں ہے بلکہ عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جغرافیائی کشیدگی ، ہرموز قبل ڈروم پر غیر یقینی اور عالمی افراط زر پہلے سے ہی تیل بازار کو کمزور بنائے ہوئے ہے۔ یو اے ای او پیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ممبر ملک تھا اور گروپ کی پیداوار میں قریب 12 فیصدی کا تعاون کرتا تھا۔ ایسے میں اس کا باہر نکلنا او پیک کی سپلائی صلاحیت کو ضرور متاثر کرے گا لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اگر او پیک کی شرطوں سے آزاد یو اے ای عالمی تیل بازار کو مزید سپلائی کرتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ یہ حالت بھارت جیسے ملکوں کے لئے خاص طور پر فائدہ مند ہے جو انرجی درآمدات پر ہی منحصر ہیں۔ غور طلب ہے کہ بھارت اپنے سکیورٹی متعلق حقائق سے نمٹنے کے لئے لمبے عرصے سے او پیک ملکوں سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی مانگ کرتا رہا ہے۔
بھارت کی کل تیل ضرورتوں کا تقریباً 40 فیصدی حصہ او پیک ممالک سے آتا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھتے ہوئے عالمی انرجی مارکیٹ کبھی کمزور نہیں رہتی وہ مسلسل جغرافیائی سیاست اور اقتصادی پس منظر میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتی رہتی ہے سعودی عرب کے لئے اب باقی او پیک کو متحد رکھنا بڑی چنوتی بن گیا ہے۔ یو اے ای نے شروعات کر دی ہے اب دیکھنا ہو گا کہ اور کون کون سادیش اس کے نقش قدم پر چلتا ہے۔
انل نریندر 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خلیجی ممالک میں ابھرتے اختلافات

امریکہ ایران جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک میں آپسی اختلافات تیزی سے بڑھتے نظر آنے لگے ہیں ۔ ہر مونز اسٹریٹ کے بند ہونے سے صورتحال دھما کہ خیز ہ...