خامنہ ای کبھی مرتے نہیں ہیں!
ایران نے اپنا سپریم لیڈر چن لیا ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر چنے گئے ہیں ۔دنیا کے خود ساختہ بادشاہ سلامت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا ؟ یہ میں ان ۔۔۔۔ایران نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور صاف بتادیا ہے کہ ایران ٹرمپ ،نیتن یاہو کے سامنے جھکنے والانہیں ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 ممبری دھارمک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کو چننے کے ادارے کے ایک بیان کو ایرانی ٹی وی پر اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں بےحد سنگین حالات اور ہمارے ادارے کے خلاف دشمنوں کی سیدھی دھمکیوں کے باوجود اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے سچیوالے کے دفاتر پر بم باری سے اس کے کئی ملازمین اور سیکورٹی ٹیم کے ممبران شہید ہو جانے کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کی کاروائی ایک پل کے لئے بھی نہیں رکی ۔اس کے بعد اینکر نے ایک نعرہ لگایا -اللہ اکبر ،اللہ اکبر خامنہ ای ہی رہبر ۔امریکی اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد کئی لوگوں کو اندیشہ تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی مارے گئے ہیں ۔کئی دنوں تک مجتبیٰ کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی لیکن تین مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا مجتبیٰ زندہ ہیں اور انہیں ایران کا سپریم لیڈر چن لیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تو کبھی کوئی پبلک بیان دیا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالانہ کوئی انٹرویود یا ان کی بہت کم تصویریں اور ویڈیو نشر ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتی دستاویز میں انہیں پردے کے پیچھے اصلی طاقت بتایا گیا تھا۔ ان کو حکومت کے اندر ایک اہل اور مضبوط لیڈر ماناجاتا ہے ۔8 ستمبر 1969 کو ایران کے نارتھ ایسٹ شہر یشہد میں پیدا مجتبیٰ ، امام علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے مقام پر ہیں ۔میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران -عراق جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔مدرسوں کے انتظام میں آیت اللہ کی ڈگری ہونا اور مذہبی اسلامی کلاسز کو پڑھانا کسی شخص کی کافی صلاحیت اور علم کا ثبوت ماناجاتا ہے ۔یہ مستقبل میں نیتا چنے جانے کی ضروری شرطوں میں سے ایک ہے ۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی نام کا اعلان ہوا ،ایران کی فوج ،اسلامی ریبولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی )اور سیاسی لیڈروں نے فوراً مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا حلف لیا ۔آئی آر جی سی نے بیا ن جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرنے خود کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔فوج کی سرکردہ لیڈر شپ نے بھی اپنی پوری وفاداری کا وعدہ کیا ہے ۔ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے طاقتور عہدہ سنبھالتے ہی ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا ۔مانا یہ پہلے سے طے تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یوں کہیں کہ ایران اب اور طاقت سے حملہ کرے گا ۔یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس جنگ کی زبردست نئی میزائلوں سے حملہ کیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس فتویٰ کو بدلیں گے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنائے گا؟
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں