Translater

07 مئی 2026

مناب اسکول پر حملے کیلئے پینٹاگن کی خاموشی

سابق سرکردہ فوجی وکیل سمیت امریکہ کے پانچ سابق حکام نے اس سال کی شروعات میں ایران کے ایک اسکول پر ہوئے خوفناک حملے میں امکانی امریکی رول کو تسلیم کرنے پر پینٹاگن (امریکی وزارت دفاع) کی نکتہ چینی کی ہے ۔ان میں سے کچھ نے کہا کہ اتنے لمبے عرصہ بعد بھی حملے کی بنیادی تفصیلات تک جاری نہ کرنا بے حد غیر موضوع ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ،اسرائیل جنگ کی شروعاتی کاروائی کے دوران مناب میں ایک پرائمری اسکول پر میزائل گری جس میں قریب 110 بچوں سمیت 168 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔اس کے بعد گزرے دو ماہ میں پینٹاگن نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔مارچ کے آغاز میں امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ امریکی فوجی جانکاروں کا خیال ہے کہ شاید امریکی فورس انجانے میں اسکول پر حملے کے لئے ذمہ دار تھے لیکن آخری نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے ۔بی بی سی نے اس حملے اور اس کی شفافیت کی کمی کے الزامات پر کئی سوال پوچھے جس پر پینٹاگن کے ایک افسر نے بتایا کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔لیفٹننٹ کرنل ریملائی وین لینگڈز کہتی ہیں کہ امریکہ کی موجودہ حالات عام رد عمل سے صاف طور پر الگ ہے ۔انہوں نے امریکی ایئر فورس میں جج ایڈوکیٹ جنرل رہ چکی ہیں نے بتایا کہ پچھلی حکومتوں نے کم سے کم جنگ قانون کے تئیں وفاداری اور عزم دکھائی تھی ۔موجودہ انتظامیہ کے بیانوں میں جوابدہی کے عزم غائب ہے ۔سب سے اہم یہ یقینی کرنا بھی کہ ایسا دوبارہ نہ ہو ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ ان کے نظریہ میں مناب حملے کے لئے ایران ذمہ داری ہے لیکن انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔کچھ دن بعد جب ان سے مناب اسکول کے پاس فوجی اڈے پر امریکی ٹام ہاک میزائل گرنے کا ویڈیو دکھائے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں دیکھا ساتھ ہی ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بھی ٹام ہاگ میزائلیں تھیں ۔11 مارچ کو جب ان سے ان خبروں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ شروعاتی فوجی ملیٹری جانچ میں پایا گیا کہ امریکن اسکول پر حملہ کیا تھا ۔تو ٹرمپ نے کہا مجھے اس کے بارے میں نہیں پتہ ۔امریکہ کے وزیر دفاع ویٹ ہیگ سیتھ سے چار مارچ کو بی بی سی نے اس حملے پر سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس کی جانچ کررہے ہیں ۔یہی نہیں امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے پر کئی سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔پچھلے مہینے بی بی سی نے آزادانہ طور سے حملے کے ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں اسکول کے پاس ایرانی ریوولوشنری گارڈس کور (آر آر جی سی) کے اڈے پر امریکی ٹام ہاگ میزائل گرتی نظر آرہی تھی ۔پینٹاگن کے ایک سینئرسابق مشیر ویس برانچر نے بھی بی وی سی کو بتایا تھا کہ شرعاتی فوجی جانچ عام طور پر دو باتیں طے کرنے کے لئے ہوتی ہیں ۔پہلی کہ کیا شہری نقصان حقیقت میں ہوا ؟دوسرا کیا اس وقت علاقہ میں امریکہ سرگرم تھا یا نہیں ؟ جب دونوں شرطیں پوری ہو جاتی ہیں تبھی باقاعدہ جانچ شروع کی جاتی ہے ۔پروسیس کے لحاظ سے یہ اور بھی صاف اشارہ دیتا ہے کہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ امریکہ کی وجہ سے ہوا نہیں تو وہ یہ جانچ نہیں کررہے ہوتے وہ بس اسے تسلیم کرنا چاہتے ہیں یا اس پر بولنا نہیں چاہتے ۔پچھلے سال امریکہ کے ڈیفنس محکمہ نے نوکریوں کی چھٹنی کی تھی اس میں فوجی عملہ بھی شامل تھے ۔امریکہ قبول کرے نہ کرے اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے۔ جسے کبھی معاف نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مناب اسکول پر حملے کیلئے پینٹاگن کی خاموشی

سابق سرکردہ فوجی وکیل سمیت امریکہ کے پانچ سابق حکام نے اس سال کی شروعات میں ایران کے ایک اسکول پر ہوئے خوفناک حملے میں امکانی امریکی رول کو ...