ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو باہر ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں بات چیت ہو سکتی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر کام چل رہا ہے ۔جس میں نیوکلیائی پروگرام ،ہرمز کشیدگی جیسے اشوز شامل ہیں اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رول کو لے کر بھی نئی جانکاری سامنے آئی ہے ۔امریکی ایجنسیاں انہیں جنگ اور بات چیت میں اہم مان رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں جو بات چیت ہونی ہے اس میں ایک اہم اشو ایک ماہ چلنے والی بات چیت کے خاکے کوتیار کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور جنگ ختم کی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور ایران کے پاس موجودہ ہائی اینرچ یورینیم کو کسی دوسرے دیش میں بھیجنے جیسے اشوز شامل ہیں ۔حالانکہ کئی اہم معاملوں پر ابھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔سب سے بڑا تنازعہ نیوکلیائی پروگرام اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگی پابندیوں میں راحت کو لے کر ہے ۔اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کر جانکاری بھی سامنے آئی ہے ۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کی حکمت عملی طے کرنے اور امریکہ سے بات چیت کو سنبھالنے میں بڑا رول نبھا رہے ہیں ۔اہم ترین یہ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی کمان سنبھال لی ہے ۔ایک طرف تو سیز فائر جاری ہے اور ڈیل کی بات ہورہی ہے دوسری طرف ہرمز کو لے کر خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو امریکہ اور ایران کے بیچ حملے پھر شروع ہو گئے ہیں ۔حملے کے درمیان 8 اپریل 2026 سے چلی آرہی نازک جنگ بندی ٹوٹنےکے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔یہ حملے ہرمز ، کیرام اور بدر عباس علاقہ میں ہوئے ہیں ۔اسٹریٹ آف ہرمز میںہوئی اس جھڑپ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھر سے انتہا پر پہنچ چکی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی امید جتائی ہے کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے ۔امریکہ کے سنٹرل کمان (سنٹکام ) کے مطابق ایرانی فوج نے اسٹریٹ آف ہرمز میں تعینات تین امریکی جہازوں پر میزائلوں اور ڈرون اور چھوٹی بحری کشتیوں سے حملہ کیا ہے ۔حالانکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اور جوابی کاروائی میں ایران کے ان فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے یہ حملے شروع ہوئے تھے ۔دوسری جانب ، ایرانی میڈیا تہران ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے سبب ان کے جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واشنگٹن پر سیز فائر خلاف ورزی کا سیدھا الزام لگایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں اب مجوزہ اسلام آباد میں امن بات چیت پر ٹکی ہیں ۔تمام دنیا چاہ رہی ہے کہ یہ جنگ رکے اور خطہ میں امن چین پھر سے قائم ہو ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں