ایران او ر امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی لپٹیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک امریکی ٹی وی چینل پر ایک دھمکاکو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کر دیا ہے کہ ایران کا نیوکلیائی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔نیتن یاہو کا یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ ٹرمپ انتظامیہ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بڑی وارننگ ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو نے سی بی ایس کے صحافی اسکارٹ پیلی کو دیے 18 منٹ کے انٹرویو میں پہلی بار ایران کے نیوکلیائی ذخیرے کی تفصیلات پیش کیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ابھی بھی 440 کلو گرام 60 فیصد افزودگی یورینیم کا ذخیرہ ہے ۔نیتن یاہو نے سخت لحظہ میں کہا جنگ بندی اپنی مرضی ہے لیکن نیوکلیائی خطرہ ختم نہیں ہوا ہے ۔آپ وہاں جائیں گے اور اسے ہٹا دیتے ہیں ابھی کام پورا ہونا باقی ہے ۔نیتن یاہو نے ایک اہم ترین بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب امریکہ کی فوجی مدد 3.8 بلین ڈالر سالانہ پر اپنی ایکسپورٹ میں کمی کرنی چاہیے انہوںنے اشارہ دیا کہ اسرائیل اپنی حفاظت کے لئے پوری طرح آزاد ہونے کا پلان بنارہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر بغیر کسی باہری دباؤ کے کاروائی کر سکے ۔ اس انٹرویو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوٹھ سوشل پر لکھا : ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔بنجامن ایک بڑے ایک مہان لیڈر ہیں اور ہم دونوں ایک پیج پر ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پالیسی اور بھی جارحانہ ہوسکتی ہے ۔ایران نے پاکستان کے ذریعے جو امن تجویز بھیجی تھی اسے اسرائیل نے بھی ایک خانہ پوری قرار دیا ہے ۔اسرائیل کا ایک ہی موقف ہے جب تک سارا افزودگی یورینیم دیش سے باہر نہیں جاتا تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔نیتن یاہو کے اس موقف نے صاف کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک طرفہ کاروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔یہاں ایک طرف دنیا امن کی امید لگائے بیٹھی ہے ،وہی نیتن یاہو یہ بیان دے کر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست اور سیکورٹی کے لئے فیصلہ کن ہونے والی ہوسکتی ہے ۔کیا یہ محض ایک ڈپلومیٹک دباؤ ہے یا اسرائیل سچ میں کسی بڑی فوجی کاروائی کی تیاری میں ہے ؟ امریکہ جہاں ایران کے ساتھ امن چاہتا ہے وہیں اسرائیل اس سمت میں بڑا روڑا بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکہ بیشک ایران سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہو لیکن اسرائیل ہے کہ اسے یہ کرنے نہیں دے رہا ہے ۔امریکہ ایک طرفہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی صلح ہو جائے ، وہیں اسرائیل ایسا ہونے نہیں دے گا اور لڑائی جاری رکھنے میں بنجامن نیتن یاہو کے ذاتی مفاد بھی ہیں اس پر کرپشن کے الزام لگے ہوئے ہیں اور اسرائیلی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں ان سے بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں جنگ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اس کی آڑ میں عدالتوں سے بچتا رہتا ہے اس لئے اگر ایران سے جنگ بندی ہو تو وہ لبنان میں جنگ شروع کر دیتا ہے ۔جب ایران اور امریکہ کی سیز فائر کی بات ہوئی تب بھی نیتن یاہو نے صاف کہا کہ اس میں اسرائیل-لبنان جنگ شامل نہیں ہے ۔وہ مشرقی وسطیٰ میں کسی بھی سمجھوتہ کو توڑنے میں لگا رہتا ہے۔ اصل جنگ کا قصوروار نیتن یاہو ہے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں