جنگ کے لمبا کھچنے کا امکان
ایران -امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی ۔امریکہ اسرائیل کو امید تھی کہ یہ جنگ چند دن چلے گی اور ایران اپنے گھٹنوں پر آجائے گا ۔انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنا جوابی حملہ کرے گا اور یہ جنگ اتنی لمبی کھچے گی ۔ایران امریکہ -اسرائیل کو منھ توڑ جواب دے رہا ہے ۔ایران کے نئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں ہی صاف کر دیا کہ ایران جھکنے والانہیں ہے ۔خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی ٹی وی پر نشر ہوکرتے ہوئے اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔خامنہ ای نے پیغام میں اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی جاری رکھنے اور کناب اسکول کے بچوں سمیت شہید ہوئے لوگوں کے خون کا بدلالینے پر زور دیا ۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ کاذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے مسلسل حملے جار ی رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے آگے کہا کہ دیگر مورچوں کو کھولنے پر بھی غور کیاجارہا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یمن میں ایران کے ساتھیوں لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں مزاہمت کاروں کی تعریف کی ہے ۔خامنہ ای کا یہ پیغام ان کی صحت اور جسمانی حالت کو دیکھ کر چل رہی قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے ۔ادھر امریکہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان سے وابستہ کئی سینئرحکام کے بارے میں جانکاری دینے پر بڑی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔امریکی خارجہ محکمہ کے روارڈ فار جسٹس کے تحت ان لوگوں کے بارے میں ٹھوس جانکاری دینے والوں کوزیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام دیاجاسکتا ہے ۔یہ قدم ایران کی فوجی اور سیکورٹی ڈھانچہ سے جڑے نیٹورک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیڈروں کو مارنا سمان کی بات ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ہم ایران کے دہشت گردانہ حکومت کو فوجی ،اقتصادی او ر د یگر طور سے پوری طرح تباہ کررہے ہیں ۔وہ 47 برسوں سے بے قصوروں کو مارررہے ہیں اور اب میں انہیں ماررہاہوں۔ ایسا کرنا سمان کی بات ہے ۔امریکی صدر نے ادھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے کھرک آئی لینڈ پر بڑے حملے کئے اور فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا یہ امریکہ -اسرائیل کا ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے ۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے اس حکمت عملی جزیرہ پر بڑے ہوائی حملے میں فوجی اڈوں کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب پوری طرح کمزورہوچکا ہے اور سمجھوتہ چاہتا ہے لیکن ایسے سمجھوتہ نہیں ہوگاجسے وہ قبول کریں ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ہرمز آبی بندرگاہ میں جہازوں کی آمد ورفت روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ تیل اسٹرکچر پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بدل سکتا ہے ۔افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ ٹرمپ اب امریکی بری سینا کو بھی ایران میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔بتادیں کہ کھرگ آئی لینڈ سے ایران کا بہت بڑا حصہ دوسرے دیشوں پر تھوپاجاتا ہے ۔امریکہ اپنی مرین کارپ کے ذریعے کھرگ آئی لینڈ رپ زبردستی قبضہ کرنے کا پلان بنارہا ہے خبر تو یہ بھی ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے امریکہ نے 2500 مرین ایران کی طرف روانہ بھی کر دئیے ہیں ادھر ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں لبنان سے حزب اللہ نے نارتھ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے ہین اور اسرائیل نے بھی زبردست جوابی کاروائی کی ہے ۔اسرائیل نے لبنان میں بھاری تباہی مچائی ہے ۔اس بڑھتی جنگ سے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی لے کر تشویش بڑھ گئی ہے ۔اینرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی تیل سہولیات کو سیدھا نشانہ نہیں بنایاگیا ہو لیکن فوجی حملوں کا اثر ایکسپورٹ سسٹم پر پڑ سکتا ہے ۔جنگ لمبی کھچنے کی امریکہ نے خلیجی سیکٹر میں تو بے چینی بڑھائی ہی ہے ۔ساتھ ہی پورے دیش میں اس کو لے کر ٹنشن بڑھا دی ہے ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں