نیتن یاہو نے ٹرمپ کو برا پھنسایا!

ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں ماہرین اب یہ بات کرنے لگے ہیں کہ اصل میں اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے یعنی کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا پھنسایا ہے کہ اب انہیں پیچھے ہٹنے کا بہانہ مل رہا ہے ۔نہ صرف امریکہ کو ہی پھنسایا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے دیگر عرب ملکوں کو بھی پھنسا دیا ہے ۔اس سے آہستہ آہستہ خلیج میں امریکہ کے معاون ساتھی دیش بھی اس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔امریکہ میں ہوئے حالات کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام اس ایران جنگ کو غیر ضروری مان رہی ہے ،جو امریکہ پر بری طرح سے مالی بوجھ بڑھائے گی ۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو لے کر کئی تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔جنگ اب 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اسرائیل نے امریکہ کو ایسا پھنسایا ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے کیا کریں؟ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو جنگ میں کھینچ لیا ۔کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو خطرے کی شکل میں پیش کر ٹرمپ کو جنگ میں الجھا دیا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کہیں اور ہیں ۔وہ اس جنگ کے ذریعے سب کو دھمکانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کا اس حملے کے ذریعے اہم مقصد ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی میں رخنہ ڈالنا اور غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں سے عالمی توجہ بھٹکانا تھا ۔نیتن یاہو کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان پر چل رہے کرپشن کے مقدموں سے اسرائیلی عوام کی توجہ بھی ہٹانا ۔امریکی صدر ٹرمپ کو اسرائیل کی کاروائی میں کریڈٹ لینے کی چاہت نے پھنسایا ہے ۔شروع میں الگ تھلگ رہنے والے ٹرمپ ایران پر حملے سے بچتے رہے لیکن نیتن یاہو کے پاس پتہ نہیں ٹرمپ کی کون سی خفیہ کنجی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ دی ۔مجبوری میں ٹرمپ اب دعوے کررہے ہیں کہ ہم ایران کے آسمان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں ایسے دعوے کررہے ہیں کہ جو اسرائیل کی جارحانہ جارحیت کو بڑھاوا دے رہاہے وہ زبردستی امریکہ کے ساتھ لمبی کروائی میں جھونک رہا ہے ۔جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دراصل امریکہ ایران کا صحیح تجزیہ نہیں کرپایا ۔اسرائیل اور امریکہ نے سوچا تھا کہ ایران جلد ی ٹوٹ جائے گا لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں اور درپردہ گروپوں کی سرگرمی نے لڑائی کو زونل بنا دیا۔ سپریم لیڈر اور ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل جیسے قدموں نے نہ صرف دنیا کے شیعہ مسلمانوں کو متحد کیا بلکہ تمام سنی بھی امریکہ اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں ۔امریکی ٹھکانوں پر یہ پورے وسطی ایشیا میں عرب ملکون کے اوپر ایران تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔امریکہ کے 17 فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ 11 دن کی لڑائی میں اسرائیل پر 9115 میزائل ،راکٹ حملے ہوئے ہیں اور وہاں کی انشورنش کمپنیوں پر جو معاوضہ کے دعوے ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حزب اللہ حملوں سے 6586 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عمارت میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے جو یاتو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اسرائیل میں 1485 گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔1044 کارخانے بھی تباہ ہو گئے ہیں بتادیں کہ اسرائیل میں نقصان کی خبروں پر سنسر لگا ہوا ہے اس لئے صحیح پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے ۔یہ تو یروشلم پوسٹ کے دعووں کا حوالہ ہے ۔ٹرمپ اب باہر نکلنے کے راستے تلاش رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!