چار ہزار کلو میٹر دور ایران کے حملے نے چونکا دیا!
ایران اور امریکہ -اسرائیل جنگ خطرناک موڑ پر پہچ گئی ہے امریکہ اسرائیل کی ایئر فورس نے سنیچر کی صبح ایرانی نیوکلیئر ہارڈ نتاج نیوکلیئر پروسیسنگ سنٹر پر خوفناک حملہ کیا ۔ایرانی نیوکلیائی اینرجی آرگنائزیشن نے اسے مجرمانہ حملوں سے تعبیر کیا ہے ۔حالانکہ پلانٹ سے کسی ریڈیو کرنیں رساؤ کی خبر نہیں ہے ۔امریکہ -اسرائیل کے اس حملے کا اثر اب عالمی جنگ پھیلنے کی سطح تک پیدا ہوگیا ہے ۔نتانج پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی (آپریشن -2 پرسیسٹنس ) ہند مہاساگر میں موجود امریکہ برٹین کے ایئر بیس ڈی اے گے گراسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے اور دنیا کو چونکا دیا۔ ایران نے پہلی بار غیر اعلانیہ 2000 کلو میٹر کی لمٹ توڑ کر 4000 کلو میٹر دور تک حملے کی صلاحیت دکھائی ۔رپورٹ کے مطابق ایک میزائل اڑنے کے دوران ناکام ہو گئی ۔جبکہ دوسری کو روکنے کے لئے امریکی جنگی بیڑے نے ایس ایم -3 انٹر سپٹر کا استعمال کیا ۔حالانکہ اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔یہ حملہ اس لئے اہم ماناجارہا ہے کیوں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے قریب 4000 کلو میٹر دوری پر واقع ہے جو ایران کی اعلان کردہ 2000 کلو میٹر رینج سے دگنی ہے ۔اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ایران کی میزائل صلاحیت کو لے کر بنی پرانی کہانیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ایران کو لے کر خیال تھا کہ اس کے پاس 2000 کلو میٹر تک رینج کی صلاحیت ہے لیکن اس حملے سے دنیا حیران رہ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق 4000 کلو میٹر تک کی رینج ایران کو ایٹر میڈیٹ رینج میزائل صلاحیت کے قریب لے جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یوروپ کے کئی بڑے شہر جیسے پیرس ،برلن اور روم بھی ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں ۔جبکہ لندن بھی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ خطرہ اب صرف خلیجی ممالک یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حملہ صرف فوجی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑا حکمت عملی پیغام بھی ماناجائے گا ۔سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے مطابق ایران کے پاس مغربی ایشیا میں سب سے بڑے اور سب سے کارگر میزائل ذخیرہ ہے اس ذخیرے میں کئی لمبی دوری کی میزائلیں شامل ہیں جو اسرائیل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان میں اینجل ، خورم شہر اور قدرشامل ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلیں اسرائیل تک تو تباہی مچا ہی رہی ہیں ۔لیکن اب یہ دائرہ بھی بڑھ سکتا ہے ایران کے پاس الگ الگ صوبوں میں کم سے کم پانچ گھات حملہ آور زیر زمین میزائل شٹیز بھی ہیں ۔ایران کے میزائل ذخیرہ میں موٹار ،راکیٹ ،ڈرون اور بیلسٹک اور کروز میزائلیں شامل ہیں ۔بتادیں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے تقریباً 4000 کلو میٹر تک دور وسط ہند مہاساگر میں بھارت کے ساؤتھ اور سری لنکا کے ساؤتھ ویسٹ میں واقع ہے ۔ یہ یاگوس ذخیرہ گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ہند پرشانت سیکٹر خطہ میں واقع دو اہم ترین امریکی بم برسانے والے جنگی جہازوں کے بیس میں سے ایک ہے ۔دوسرا اڈہ ،گوام میں واقع اینڈر سین ایئر فورس اڈہ ہے ۔امریکہ -برطانیہ کے ذریعے چلائے جانے والاسب سے زیادہ حکمت عملی اہمیت والے بے حد خفیہ ملیٹری بیسس میں سے ایک ہے۔ ایران اگر یہاں تک پہنچا ہے تو یہ ایک بہت اہم ترین واقعہ ہے ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں