Translater

21 اپریل 2026

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ہیں اور پاک وزیراعظم شہباز ریاض میں چکر لگا رہے ہیں ۔ادھر اسرائیل لبنان جنگ میں ٹرمپ کی بدولت 10 دن کا سیز فائر چل رہا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں دوسرے دور کی بات چیت بھی ممکن ہے لیکن اس میں ابھی کئی پیج پھنسے ہوئے ہیں ۔دونوں فریق اپنی اپنی کہی شرطوں پر اڑے ہوئے ہیں ۔اب سوال اٹھتا ہے کہ آگے کیا کیا ہوسکتا ہے ؟ ہمیں تو چار امکانی پش منظر دکھائی دے رہے ہیں ۔حکمت عملی بریک کی شکل میں جنگ بندی ۔کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی کرائسس کو محدود کرنے کی خواہش اچھا اشارہ دیتا نظر آرہی ہے ۔حالانکہ شرعات ہی سے اس کے ساتھ کئی طرح کی باتیں جڑی ہیں ۔جنگ بندی کے تقاضوں کی تشریح کو لے کر اختلافات سامنے آئے ہیں ان اختلافات کے سبب کچھ مبصرین نے اسے ایک مستقل اسٹرکچر کے بجائے حکمت عملی بریک کی شکل میں دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگار کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ہی سمجھوتہ تک پہنچنے کا امکان تقریباً زیرو تھا ۔یہ اصولوں ،حالات اور پالیسیوں کا ایک ایسا گروپ ہے جن پر امریکہ اور ایران سالوں سے غیر متفق رہے ہیںاور جنگ ان اختلافات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔دونوں فریقین مسلسل متضاد بیانوں سے حالات اور بگڑ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی کا اعلان سے ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے ۔حالانکہ کشیدگی بڑھنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔دعوے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ رکے گی یا نہیں ؟ ایک پش منظر جو شاید سب سے زیادہ ممکن ہے وہ ہےٹکراؤ کا بے کنٹرول کشیدگی کی شکل میں واپسی کا اس کا مطلب ہوگا لڑائی کھلی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے گی اور نہ ہی دونوں فریق پوری طرح سے فوجی کاروائی سے پرہیز کریں گے اس میں بنیادی ڈھانچے فوجی اڈوں یاسپلائی لائنوں پر محدود حملے جاری رہ سکتے ہیں اس کے بعد پراکسی گروپوں کا رول زیادہ اہم ہوجائے گا کچھ تجزیہ نگار اس حالت کو شیڈو وار کہتے ہیں جیسے جیسے ٹکراؤ بڑھتا ہے ، غلط تجزیہ کا خطرہ بڑھتا ہے اور بھلے ہی کوئی فریق کی کشیدگی بڑھانا نہ چاہتا ہو ایک چھوٹی سی غلطی بھی لڑائی کو بے قابو سطح تک پہنچا سکتی ہے ۔پاکستان میں بات چیت فیل ہونے کے باوجود یہ نتیجہ نکالنا ابھی ممکن نہیں ہےکہ ڈپلومیسی ختم ہو چکی ہے یا بات چیت پوری طرح ٹوٹ چکی ہے ۔امریکہ کی 15 نکاتی تجویز اور ایران کا 10 نکاتی جوابی پرستاؤ یہ ضرور دکھاتا ہے کہ دونوں فریق بجائے کسی درمیانی راہ پر پہنچنے کے ابھی بھی اپنی اپنی شرطوں کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے بھلے ہی بات چیت کا نیا دور ممکن ہولیکن جلدی اور وسیع معاہدہ کی امید رکھنا صحیح نہیں لگتا ۔اگر امریکی ناکابندی جاری رہتی ہے تو ایرانی فوج نے خلیج اور لال ساگر اور عمان کی خلیج فارس میں شپنگ کے خطرے کی وارننگ دے دی ہے ۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے دیش کی بحریہ ایران پر سمندری ناکابندی جاری رکھے گی جس سے ہر گزرتے جہاز کو روکا جاسکتا ہے اور یہ ایران کو کسی حالت میں قبول نہیں ہے ۔ایرا ن نے یہ دھمکی دی ہے بین الاقوامی آبی راستے میں ان جہازوں کو روکا جائے گا جو ہرمز سے گزرنے کے لئے ایران کو ٹرانزٹ ٹیکس نہیں دیں گے تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔ٹرمپ چاہتے ہیں ایران کی تیل آمدنی کو روکنا ۔اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور ایران کو مجبور کرنا کہ وہ امریکہ کی شرطوں کو مانے لیکن دیگر تجزیہ نگاروں نے اس حکمت عملی سے امریکہ کو ہونے والی بھاری لاگت کی جانب اشارہ کیا ہے کیوں کہ اس سے اس کی فوجی طاقت جغرافیائی طور سے ایران کے قریب آجاتی ہے اور حملے کے تئیں زیادہ حساس ترین ہو جائے گا ۔موجودہ ماحول میں حکمت عملی فیصلے اور سیکورٹی سے جڑے سوال اور زمینی سطح پر چھوٹے واقعات بھی بحران کی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...