Translater
05 مارچ 2022
بہو کو مشترکہ گھر میں رہنے کا حق نہیں !
دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں ان بزرگوں کو بڑی راحت دلائی ہے جن کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب ہوتاہے ۔ جس سے بیٹے -بہو کی کچ کچ سے خلل پڑتاہے ۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا کہ گھریلو تشدد انسداد ایکٹ کے تحت بہو کو مشترکہ گھر میں رہنے کا حق نہیں ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ بہو بیٹے میں جھگڑا ہوتا رہے تو بزرگ ماں باپ کو اختیار کہ وہ بہو کو گھر سے علیحدہ کرسکتے ہیں ۔عدالت نے یہ رائے زنی سسرال کے بزرگوں (ساس سسر ) کی جانب سے بہو کو مشترکہ گھر سے بے دخل کیا جا سکتاہے تاکہ وہ پر امن زندگی گزار سکیں ۔سا س سسر کو سکون سے زندگی جینے کا حق ہے۔ جسٹس یوگیش کھنہ نے کہا کہ گھریلو تشدد ایکٹ کی دفعہ 19کے تحت رہائش کا حق مشترکہ گھرمیں رہنے کا ایک زبردستی حق نہیں ہے۔خاص کر ان معاملوں میں جہا ں بہو اور سال سسر کے درمیان مقدمہ چل رہا ہو ۔ عدالت نے بہو کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی کو نپٹارا کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی اس کا کہنا تھا کہ بہو کو سسرا ل کے مشترکہ گھر میں رہنے کا حق نہیں دیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میںکہا کہ ایک مشترکہ گھر کے معاملے میں پروپرٹی کے مالک پر اپنی نہو کو گھر سے بے دخل کرنے کو لیکر کوئی پابندی نہیںہے۔ جہاں تک موجودہ کیس کا سوال ہے یہ تو بہتر اور مناسب ہوگاکہ عرضی گزار بہو کو اس کی شادی برقرار رہنے تک رہائش کیلئے متبادل گھر کا انتظا م کیا جا ئے۔ عدالت نے کہا معاملے میں بچاو¿ فریق سینئر سیٹزن ہیں وہ پر امن زندگی جینے اور بیٹے بہو کے درمیان ازدواجی جھگڑ ے سے وہ دور رہنے کے حقدار ہیں۔ جج کا کہنا تھا کہ میری رائے ہے کہ دونو فریقین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ا س لئے زندگی کے آخری دور ساس سسر کیلئے عرضی گزار بہو کے ساتھ رہنا منا سب نہیں ہوگا۔ اس لئے بہو بیٹے کو کوئی متبادل گھر مہیا کرا دیا جائے ۔عدالت نے سسر کی جاب متبادل گھر مہیاکرانے پر حامی بھر لی ہے ۔سسر نے 2016میں نچلی عدالت کے سامنے اس بنیا د پر گھر پر قبضے کیلئے مقدمہ کیا تھا ۔کیوں وہ پروپر ٹی کے اصل مالک ہیں۔ عرضی گزار شوہر ان کا بیٹا کسی دوسرے جگہ رہتاہے وہ اپنی بہو کے ساتھ رہنا چاہتا۔ وہیں بہو نے کہا تھا کہ پتی خاندان کی مشترکہ سرمائے کے علاوہ آبائی پروپرٹی کی بکری سے ہوئی آمدنی سے یہ گھر خریدا گیا ۔ لہذا اسے بھی اس گھر میں رہنے کا حق ہے۔ نچلی عدالت نے بہو کے اس دعوے کو خارخ کر دیا تھا۔
(انل نریندر)
یوکرین میںہندوستانی طالب علم کی موت!
یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کھارکیو میں روسی حملے میں ایک ہندوستانی طالب علم نوین روکھرپا کی موت کی تائید تکلیف دہ ہے ۔ کرناٹک سے میڈیکل کی رتعلیم حاصل گئے نوین کے بارے میں پتہ چلاہے کہ وہ کھارکیو میں کچھ ضروری چیزیں خریدنے کیلئے بنکر سے بارہر نکلا تھا کہ وہ روسی بمباری کی زد میں آگیا۔ حملے میں بہت سے شہری بھی ہلاک ہوگئے ہیں اور یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اسے جنگی جرم قرار دیاہے ۔یہ حملہ یہ بھی ظاہر کر رہاہے کہ روس کو روکنے کیلئے کس قدر جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ایسے میں یہ ضروری ہے کہ جنگی علاقے میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو جلد سے جلد وطن لایا جائے ۔کرناٹک کے اس طالب علم کی موت کی خبر ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ باسو راج بومئی نے طالب علم کی مو ت پر دکھ ظاہر کیا۔اور ان کے گھر والوں سے اظہار تعزیت کی ۔نوین کے والد نے اپنے بیٹے کی موت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاست میں میڈیکل تعلیمی نظام پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ اس کے والد نے کہا کہ میرے بیٹے نے 97فیصد نمبر حاصل کئے تھے لیکن ریاست میں کسی بھی میڈیکل کالج میں سیٹ حاصل نہیں کر سکا اور میں مجبوری میں اسے پڑھنے کیلئے یوکرین بھیجا تھا لیکن اب ہم نے اسے گنواں دیاہے۔ ایم بی بی ایس کے چوتھے برس میں پڑھ رہے نوین ریاست کے دور دراز مال گیٹی گاو¿ں کے رہنے والے تھے ۔ ان کے والد نے میڈیا سے کہا کہ میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کہ داخلے کیلئے کیا ڈونیشن بہت بری بات ہے۔بھارت کے ہونہار طلبہ کو پڑھنے کیلئے بیرن ملک جانا پڑتاہے۔ یہ بچے جب بھارت میں پڑھنا چاہتے ہیں تو ان سے میڈیکل سیٹ کیلئے کروڑوں روپے کی ڈونیشن مانگی جاتی ہے۔اس سے اچھی تعلیم وہ باہر جاکر کم پیسے میں حاصل کرلیتے ہیں ۔ نوین کے پیتا پیشے سے میکنیکل انجینئر ہیں اب ریٹائرمنٹ کے بعد گاو¿ں میں کھیتی کرتے ہیں ۔ انہوں نے زیاتر وقت آبائی وطن ہاویر ی کے باہر گزارا ہے۔یوکرین میںہلاک طالب علم نوین کے ساتھی نے بتایا کہ وہ کرفیو کے بعد کھانا لینے گئے تھے پھر نہیں لوٹے۔یوکرین میں ہندوستانی طالب علم پیدل چل کر بارڈر تک پھر کیا ہوا نوین کے بارے میں پتا نہیں چلا ۔ ایک دوسرے ساتھ کریکانت نے بتایا کہ واردات کے وقت کھانے پینے کا سامان لینے گئے ہوئے تھے۔جب وہ کافی دیر تک نہیں لوٹا تو میں نے اس کا فون ملایا لیکن اس نے نہیں اٹھایا ۔کسی نے اس کا فون سنا وہ یوکرینی زبان میں بات کرنے لگا مجھے اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔سریکانت نے نوین کے ساتھ اپنا وقت گزارا اس کی خوبیاں اس کے پڑھائی کے بارے میں جانکاری دی کہ وہ ذہین تھا اور میڈیکل کے تھرڈ ایئر کورس کے امتحان میں 95فیصد نمبر حاصل کئے تھے ۔ خیر وہ تو چلا گیا لیکن حکومت ہند نے نوین کی موت کے بعد یوکرین میں پھنسے باقی ہندوستانی طالب علموں کو وطن واپس لانے کیلئے آپریشن گنگا مہم چھیڑی ہوئی ہے اور اس کے تحت باری باری سے طلبہ و شہریوں کو وطن لانے میں لگی ہے۔واضح وہ کہ حکومت ہند نے منگلوار کو راجدھانی کیو سے جلد سے جلد اپنے شہریوں سے لوٹنے کی اپیل کی تھی ۔پورا دیش اس ہونہار طالب علم نوین کی موت سے دکھی ہے ہم اس کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور پریوار کے دکھ میں شامل ہیں۔
(انل نریندر)
04 مارچ 2022
رشوت کا ثبوت ضروری ہے !
سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ کرپشن انسداد قانون کی روح کے تقاضے کے تحت کسی بھی سرکار کرمچاری کو رشوت مانگنے اور اسے لینے کے جرم کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت کا ہو نا ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ کرپشن انسداد قانون کی دفعہ سات کے تحت سرکار ایکٹ کے سلسلے میں قانونی غور و خوض کے علاوہ ناجائز فائدے سے متعلق پیسہ لینے والے سرکار ملازمین کو ان کے جرم سے متعلق ہے۔ جسٹس اجے رستوگی اور ابھئے سرنیواس موکا کی بنچ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون سرکاری خادم کی سزا کا برقرا ر رکھا تھا ہائی کورٹ نے ۔ یہ عورت ایک اکاو¿نٹ آفیسر کی شکل میں کام کرتی تھی کو کرپشن انسداد ایکٹ کی دفعہ7کے تحت مبینہ جرائم کیلئے قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے 17صفحات کے فیصلے میں کہا کہ کسی ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت سرکا ری ملازمین کے ذریعے رشوت مانگنے سے متعلق ہے۔سرکار کرمچاری کے ذریعے رشوت مانگے جانے اور اسے قبول کرنے کے جرم کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت ہونا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے ملزم مہیلا افسر کے ذریعے تلنگانہ ہائی کے فیصلے کو چنوتی دینے والی اسپیشل اجازت عرضی یہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اپیل کنندہ کے ذریعے رشوت کی مانگ کرنے کے الزام کو ثابت کرنے کیلئے شکایت کنندہ کا وقت بالکل بھروسہ لائق ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اس لئے ہم اس نتیجے پر پہونچے ہیں کہ اپیل کنند ہ کی مانگ ثابت نہیں کی گئی۔
(انل نریندر)
پی ایم کی اپیل رنگ لائی!
یوکرین کے شہر سومی میں پھنسے 694طلبہ کو محفوظ جگہ پر پہونچانے کی خبر آئی جو واقعی بڑی راحت دینی والی تھی ۔کیوں کی وہاں حالات بد سے بدتر ہو رہے تھے ۔ انہیں منگلوار کو بسوں میں بٹھاکر ایلیا کی طرف روانہ کر دیا گیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی روسی صدر ولادی میر پوتن و یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی سے بات چیت کے الگے دن جنگ زدہ سومی سے سبھی 694طلبہ کو محفوظ نکالا گیا ۔ مرکزی وزیر ہر دیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ منگل کی صبح محفوظ ہیومن گلیارے گھومنے کے بعد سبھی ہندوستانی طلبہ کو بسوں سے دو لت آباد شہر کیلئے روانہ کیا گیا یوکرین کی نائب وزیر اعظم مارینا نے بتایا کہ روسی فوج نے ریڈ کراس کو خط لکھ کر جنگ بند ی پر رضامندی جتائی اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح 9بجے سے رات 9بجے تک گولے نہیں برسائے گئے ۔سومی کے علاوہ کیو اور کھارکیو وغیرہ علاقوں میں گولہ باری روک دی گئی ہے۔ اس گلیارے کے ذریعے انسانی ضرورت کا سامان جنگ زدہ شہر سومی میں بھیجا گیا۔نائب وزیر اعظم بیرے سچک نے دوہرایا کہ لوگوں کو روس اور بےلاروس کے راستے نکلنے کی تجویز قطعی منظور نہیں تھی۔ دو دنوں تک سومی میں جم کر گولہ باری اور بھاری تباہی ہوئی ۔ پوتن نے طلبہ کو نکالنے کو لیکر پی ایم مودی کو واقف کرایا تھا اقوام متحدہ کی جانکاری کے مطابق یوکرین سے اب تک لاکھو ں جا چکے ہیں ۔ سومی پھنسے ہزروں لوگ کھانا پانی اور دواو¿ں کی کمی سے پریشان ہیں۔ان حالات میں 694ہندوستانی طلبہ نے ویڈیوں کے ذریعے بتایا تھا کہ وہ ابھی پیدل ہی جائیں گے ۔ حالاںکہ بھارت سرکار ان سے وہیں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے جلد مدد پہونچانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس بارے پیر کو پی ایم مودی نے یوکرین اور روس کے صدر سے بات کی تھی یہ سب دکھاتا ہے کہ جنگ آخر کار انسان کیلئے کتنی بڑی ٹریٹی ہے ۔ ان سب بچوں کے جنگ زدہ علاقے سے نکلنے پر راحت کی سانس ملی ہے۔
(انل نریندر)
ہرشد مہتہ کے کانڈ سے بھی بڑا گھوٹالہ !
آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ 1990کی دہائی میں قریب 4ہزار کروڑ روپے کے ہرشد مہتہ کانڈ نے شیئر مارکیٹ کی نیو ہلا کر رکھ دی تھی ۔تازہ معاملہ نیشنل اسٹوک اکسچنج کانڈ این ایس ای سے جڑا ہے یہ ہرشد مہتہ کانڈ سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہو سکتاہے۔کو لوکیشن فیسلیٹی میں ہیر پھیر ی کے ذریعے انجام دیا گیا ۔ دراصل یہ اسٹوک اکسچنج سر ور کے بالکل پا س کی جگہ ہوتی ہے۔یہی اپنا سسٹم لگاکر کاروبار کر نے کیلئے دلال زیادہ فیس ادا کرتے ہیں ۔مگر اس کا فائدہ یہ ہے کہ سرور سے زیادہ پاس ہونے کے سبب دلال کی لیٹنسی آرڈر کے بعد اسے پورا کرنے میں لگنے والا وقت بڑھ جاتاہے ۔یعنی دوسرے دلالوں کے مقابلے انہیں کچھ سیکنڈ پہلے ہی ڈیٹا مل جاتا تھا ۔ایسے میں انہوں نے سب سے پہلے آرڈر دیکر کے اربوں روپے کا منافع کمایا ۔ سی بی آئی کی جانچ کے مطابق اس گھوٹالے میں او میجی سیکورٹی نامی دلال فرم کو فائدہ پہونچانے کیلئے اسے کو -لوکیشن فیسلٹی کا اکسس کیا گیا تھا ۔ سی بی آئی نے اکسچنج کے سابق گروپ آپریٹنگ افسر آنند سبرامنیم کو گرفتار کر لیاہے۔ ان کو چنئی میں حراست میں لیا گیا تھا۔ سی بی آئی کو اندیشہ ہے کہ سبرامنیم کا پر اسرار دعویٰ ہے کہ حکام نے بتایا کہ آنند سے اسی ہفتے کی شروعات میں کچھ دن پوچھ تاچھ کی گئی تھی لیکن وہ سوالوں کا جواب دینے سے بچتے رہے ۔ انہیں دہلی میں اسپیشل عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں چھا مارچ تک کیلئے حراست میں بھیجا گیا۔ سیبی نے 11فروری کو چترا و دیگر پر سبرامنیم کی اہم حکمت عملی مشیر جی او ایم ڈی کے مشیر کی شکل میں تقرری میں مبینہ کوتاہی برتنے کا الزام لگایا تھا۔ سیبی نے چترا پر 3کروڑ روپے این ایس ای ،سبرامنیم ، روی نارائن پر 2-2کروڑ روپے کی چیف ریگولیٹری افسر اور نو کمپلائنس افسر رہے وی آر نرسہما پر 6کروڑ کا جرمانہ لگا یا ہے۔ این ایس ای کی سی ای او چترا رام کرن نے سیبی کا بتایاکہ ہمالیہ کے ادھربھئے بابا کی ہدایت پر انہوں نے کئی فیصلے لئے قریب 20سال پہلے ہمالیہ رینج میں گنگا ساحل ترتھ کے دوران وہ ان سے ملی تھی ۔ چترا ای میل کے ذریعے پوچھتی تھی کہ کس ملازم کو کتنی ریٹنگ دینی ہے اور کسے پروموشن دینا ہے۔ این ایس ای کی عام جانکاریاں بھی شیئر کرتی تھی ۔ 2013میں چترا نے ارنب کو سی ای او بنا یا ۔ انہیں شیئر بازار کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ سالانہ سیلری 15لاکھ سے بڑھاکر 1.38کروڑ روپے کر دی ۔پھر بھی سی ای او عہدہ لیکر سیلری 4کروڑ روپے کر دی ۔2018سے جانچ کررہی سی بی آئی کو پہلی بار کامیابی ملی جو سبرامنیم کو اس کیس کے انڈر میں گرفتار کیا گیا ۔ اب آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے۔
(انل نریندر)
03 مارچ 2022
یوکرین جنگ کا فائدہ نہ اٹھا سکے چین -پاک!
سابق خارجہ سیکریٹری ششنک نے کہا کہ روس یوکرین کے درمیان جنگ سے دنیا کی ساری توجہ اس پر ہے ۔ اس بحران سے نمٹنے کیلئے صبر و تحمل بھرے رخ کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت غیر جانبدار طریقے سے بحران سے نمٹنے کیلئے سفارتی حکمت عملی اپنائے ۔ اس صور ت کا فائدہ ہماری سرحدوں پر اٹھانے کی کوشش کہیں نہ کی جائے ۔ انہوں نے چین اور پاکستان کے رویہ پر نظر رکھنے اور اپنی حکمت عملی طے کرنی ہوگی ۔ چین کوئی مغالطے میں نہ رہے یہ بھی دیکھنا ہوگا ۔ یہ اچھا ہے کہ یوکرین نے ہم سے سفارتی مدد مانگی ہے ۔یہ ایک طرح اچھے اشارے ہیں کہ یوکرین نیٹو کے ساتھ شاید نہ جائے بھارت کے رشتے روس سے اچھے ہیں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کس طرح سے رشتوں کا استعمال قیام امن کیلئے کیا جا سکتاہے۔ جب دنیا کے کئی بڑے دیش لڑنے کی کوشش نہیں کررہے تو ہم سے امید نہیں کی جانی چاہیے کہ ہم کسی کی طرف سے جنگ کریں گے ۔ ہمارا رول امن کیلئے ہونا چاہئے اور سرکار اسی سمت میں چل رہی ہے۔یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی حفاظت بھی ہے ۔ بھارت مضبوط جمہوریت ہے ایسے میں ہمیں مشکل کے وقت دوست ملکوں کے رول کے ساتھ مفادات سے تال میل رکھتے ہوئے حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں چین اور پاکستان کی سرگرمیوں پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)
پوروانچل ہر چناو ¿ میں چونکاتا ہے !
یوپی چناو¿ اپنے موڑ پر پہونچ گیاہے پانچ مرحلوں میں اب تک 292سیٹوں پر پولنگ پوری ہو چکی ہے۔ اب دو مرحلوں میں پوروانچل کی111سیٹو ں پر ووٹ پڑنا باقی ہے ۔اگر گزرے ٹرینڈ کو دیکھیں یہ علاقہ سیاسی پارٹیوں کی ہا ر کو چونکاتاہے ۔2007میں بسپا کی لہر چلی تو 2012میں سائکل کی اور 2017میں بھاجپا نے یہ قلعہ فتح کرکے اپنی سرکار بنائی ۔2017میں اسمبلی چناو¿ اور 2019میں لوک سبھا چناو¿ میں کئی علاقوں میں مودی لہر تب بے اثر رہی تھی ۔ وہیں بھاجپا کی سب سے بڑی چنتا یہ ہے ۔ مثلاً 2017میں اعظم گڑھ کی 10میں سے 1سیٹ بھاجپا کے حق میں آئی ۔ ایسے ہی 2017میں پور ا زور لگانے کے بعدبھی بھاجپا کو مﺅ اور بلیا میں بڑی کامیابی نہیں ملی تھی ۔ اس علاقے میں نشاط ،راجبھر ،موریہ اور کشواہا ووٹر بڑی تعداد میں جو بڑی طاقت رکھتے ہیں ۔ جونپور کی 9میں سے 4سیٹ بھاجپا کے ہاتھ لگی تھی۔ 3سپا 1بسپا نے جیتی تھی ۔دو بار 2019کے عام چناو¿ میں تو اعظم گڑھ میں سپا چیف اکھلیش یادو زیرو تھے ۔ غازی پور سے ریل منتری رہے منوج سنہا کو افضال انصاری نے شکست دی تھی ۔جونپور لال گنج اور گھوسی سیٹ بسپا نے فتح کرلی تھی ۔2017میں سپا اور بسپا کے گڑھ رہے اس علاقے میں بھاجپا نے سوشل انجینئر نگ کے دم پر فتح کی تھی ۔ان دونوں مرحلوں میں بھاجپا ایم وائی فیکٹر کے بھروسے ہیں یعنی ایم یعنی مودی اور وائی یعنی یوگی ۔چھٹھے مرحلے میں وزیر اعلیٰ یوگی کے گڑھ گورکھپور و رانسی اور اس کے آپ پاس کے ضلعوں کی 54سیٹوں پر ووٹنگ 111میں ایک درجن ایسی سیٹیں ہیں جہاں شخص خاص یا پریوار کا سکہ چلتا ہے۔
(انل نریند)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...