Translater
23 اکتوبر 2021
دنیا میں مثال ، 100کروڑ ٹیکے کا کمال!
کو رونا کے خلاف نو مہینے پہلے شروع ہوئی ویکسین لگانے کی مہم نے بھار ت میں سنیچر کو یہ تعداد پار کر تے ہوئے دنیا میں مثا ل پیش کی ہے کو رونا کے شروع ہو نے کے بعد بھارت کو لیکر تمام طرح کے خدشات ظاہر کئے تھے ۔ 130کروڑ سے زیادہ آبادی میں سبھی افراد کو ٹیکہ لگانے کے بڑے کام کو لیکر بھارت کی صلاحیت پر سوال کھڑے کئے گئے تھے ۔ ٹیکے کی دستیا بی کو لیکر بھی خدشات ظاہر کئے گئے تھے لیکن بھار ت نے سبھی کو جھٹلا کر اپنے شہریوں کو ٹیکہ لگا کر ان کی صحت کی سلامتی کی راہ کو پار کر دیا ہے ۔ بلکہ اب ایک ارب ڈوز دینے کے ساتھ میل کا پتھر پار کرلیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی تما م افسران اور ہیلتھ ورکروں ، اسپتالوںو ٹیکہ سینٹروں میں فر ض انجام دے رہے تمام افراد کو مبارک باد۔
(انل نریندر)
پہلی نظر میں لگتا ہے ملزمان نے جرم کیا ضمانت نہیں دے سکتے !
بالی ووڈ اداکا ر شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی ضما نت عرضی خارج کر تے ہوئے اپنے مفصل حکم میں اسپیشل عدا لت نے کہا کہ وہ (آرین ) جا نتا تھا کہ اس کے دوست کے پاس ڈرگ ہے ۔ اور کروز پر اس کے ساتھ اس کے دوست ارباز مرچنٹ کے پاس ممنو عہ چیز ملی تھی اور آین خان کے چیٹ سے پہلی نظر میں پتا چلتا ہے کہ وہ معمولاتی طور پر منشیا تی چیزوں سے متعلق ناجائز کاروئیو ں میں لگا ہوا تھا ۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے تو اس کے ذریعے ایسا جرم کئے جانے کا امکان نہیں ہے عدالت نے یہ بھی کہا کہ آرین جانتا تھا کہ اس کے دوست ارباز مرچنٹ کے پاس منشیاتی چیز نہ ملی ہو ۔ این سی بی کو بھی آرین سے کوئی نشہ آور چیز نہ ملی ہو عدالت نے پانچ بنیاد پر آرین کی ضما نت عرضی خارج کردی ۔ پہلی آرین خان اور دیگر ڈرگ ڈیلروں کے رابطے میں تھا جو بین الاقوامی ڈرگ نیٹورک کا حصہ ظاہر ہوتے ہیں ۔ جانچ ایجنسی ان سب کا پتا لگا نے اور ان کے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کررہی ہے ۔ دوسری :آرین خان کو ان افراد کے بارے جانکاری ہے لیکن اس نے ان کے نام نہیں بتائے آرین کے ایک واحد شخص ہیں جو ان افراد کی تفصیل بتا سکتے ہیں ۔ ضمانت پر چھوٹنے سے ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کا امکان ہے۔ تیسری: یہ سچ ہے کہ آرین کی کو ئی کرائم ہسٹری نہیں ہے۔ لیکن اس کی وہا ٹس ایپ کی چیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ناجائز ڈرگ سر گرمیوں میں ملوث تھا ۔ چو تھا: عدا لت نے اداکا رہ شوک چکر ورتی معاملے کا بھی تذکر ہ کیا گرفتا ر ہر شخص ضبط شدہ ممنو عہ ڈرگ کا جواب دہ ہے۔ ہر ملزم کے معاملے کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ پانچواں: اپنی چیٹ میں آرین نے بھاری مقدار میں ہائی ڈرگس کا ذکر کیا اس لئے ممنوعہ نشیلی چیزوں کا کاروبار کر نے والے لوگوں کے رابطے میں تھا۔ آرین کی ضمانت خارج ہونے کے بعد شاہ رخ خان آرین سے ملنے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل پہونچے اور قریب بارہ منٹ تک بیٹے سے بات کی شاہ رخ خان اپنے بیٹے آرین کو لیکر پچھلے کئی دنوں سے پریشان ہیں ۔ کیوں کہ وہ اکیس دن سے اپنے بیٹے سے دور ہیں اس لئے شاہ رخ خان کے صبر کا باندھ آخر ٹوٹ گیا ۔ یہ پہلی با رہے جب شاہ رخ خان اپنے بیٹے کا حال جاننے کیلئے جیل گئے ۔ ان کی ملا قات عام قیدی سے ملاقا ت کے طریقے پر ہوئی دونوں کے بیچ میں شیشہ لگا ہو ا تھا اور دونوں طرف انٹر کام تھا ۔ دونوں نے بات کی بات چیت کا وقت گزر گیا اور فون کٹ گیا ۔ بات چیت کے دوران دونو ں طرف گارڈ موجود تھے ۔ آرین نے اب ہا ئی کورٹ میں دستک دی ہے ۔ دیکھیں وہاں انہیں ضمانت ملتی ہے یا نہیں ؟
(انل نریندر)
اتر کھنڈ میں قیا مت بنے بادل !
مانسو ن کی رخصتی کے بعد زبر دست بارش سے ہوئے جان ومال کے نقصان باعث تشویش ہے کیوںکہ آ ب و ہو ا تبدیلی کا اثر صاف دکھا ئی دینے لگا ہے ۔ ایسے میں ماحولیا تی تقاضو ں پر عمل کے لئے سنجیدگی نہیں دکھائی گئی تو بہت دیر ہو جائے گی ۔ بارش سے متا ثر ہ اترا کھنڈ میں لاشیں بر آمد ہو نا جاری ہیں۔ اب تک مر نے والوں کی تعداد 50سے زیادہ ہو گئی ہے ، جبکہ اتر پردیش ، سکم ،شمالی بنگال میں بھی مسلسل بارش ہوئی اور چٹانیں گری ہیں ۔ جس وجہ سے دیش کے باقی حصوں کو جو ڑ نے والی قومی شاہراہ کا راستہ بند کر نا پڑا۔ یہاں سیکڑوں ٹریکنگ ممبر ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے میں لگی رہیں سب سے زیا دہ اتر اکھنڈ کا کماو¿ علاقہ متاثر ہو جہا ں متعدد مکان تباہ ہوے گئے ۔ نینی تال میں سب سے زیادہ 28لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے حالا ت کا جائزہ لینے کیلئے ادھم سنگھ نگر ، چمپا وت ضلعوں کے متاثر علاقوں کا دورہ کیا انہوں نے سڑک راستے سے سفر کیا ۔ جس سے تیرتھ یاتریوں کو گنگوتری ، کدارناتھ ، یمنوتری جانے کی اس لئے اجازت ملی تاکہ چار دھام لو گ جا سکیں ۔ حالا کہ بدری نا تھ یاترا بحال نہیں کی جا سکیں کیوں کہ مندر کی طرف جانے والے قومی شاہراہ پر کئی جگہ پر چٹانیں گرنے سے راستہ جام ہوگیا ۔ ہما چل پر دیش میں چتکل یاترا پر گئے 8ٹریکٹر اور ان کے ساتھ گئے تین رسوئے بھی لا پتہ ہیں ۔ قومی قدرتی آفت فور س نے بتایا کہ اس نے اتراکھنڈ کے سیلاب زدہ وعلاقو ں سے 1300لو گوں کو بچایا ہے ۔ اور بچاو¿ ٹیموں کی تعداد 17کر دی گئی ہیں ۔ دیو بھومی میں بارش سے فصلوں کو بھی بھاری نقصان پہونچا ہے مقا می لوگوں کو اس بارش کے سبب ہوئے نقصان سے نکلنے میں وقت لگے گا جبکہ پھنسے ہوئے بہت سے سیا حوں کو صحیح سلامت نکالا گیا ۔ حالات اور ریاست کی چار دھام سڑک پروجیکٹ سمیت تمام وکاس یوجنا و¿ں میں احتیا ط برتنے کی ضرور ت ہے جو ماحولیا تی حساب سے نازک ہے ۔ تبدیلی ہو ا کا اثر صاف صاف دکھا ئی دینے لگا ہے۔ ایسے میں دیو بھومی میں بھی اگر ماحولیا تی تقاضو ں کے تئیں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی تو بہت دیر ہو جائے گی۔
(انل نریندر)
22 اکتوبر 2021
چینی فوج سے نمٹیں گے ترسول اور ورج!
گلوان وادی میں ہوئی جھڑپ کے دوران چینی فوجوں نے ہندوستانی فوجوں پر نوکلیے تار و چھڑوں و بجلی کا جھٹکا دینے والی بندوق کا استعمال کیا تھا اس کے بعد اب ایل اے سی پر خونی جھڑپیں ہونے کی صورت میں چین کی فوج کے ان ہتھیاروں سے ہندوستانی فوج و سیکورٹی فوج ترشول ،ورج جیسے روایتی ہتھیاروں سے نمٹے گی ۔گلوان وادی میں ایل اے سی پر بھارت و چین کے درمیان لڑائی کے بعد نوئیڈا کی ایک کمپنی اسٹارڈ اپ فرم آپریشن پروزیکیوٹ نے یہ غیر خطرناک ہتھیار تیار کئے ہیں ۔سیکورٹی فورس کی طرف سے انہیں چینی فوج کے ہتھیاروں سے نمٹنے میں اہل ساز و سامان فراہمی کا کام سونپا گیا تھا ۔فرم نے کہا کہ جب چینی فوجوں نے گلوان میں تار کی چھڑیں اور ٹیسر کا استعمال کیا اس کے بعد بھارت نے غیر خطرناک آلات کے لئے کہا تھا ۔فرم کے ترجمان نے کہ ہم نے ہندوستانی فورس کے لئے اپنے روایتی ہتھیاروں سے یہ نئے ہتھیار کئے ہیں ۔ہم نے میٹل راڈ سے بنا نوکیلا ٹیسر بنایا ہے ۔جس کو ورج کا نام دیا گیا ہے ۔اس ٹیسر کا استعمال دشمن فوجیوں کے سامنے جارحانہ حملہ کرنے میں و اس کی گاڑیوں میں پنچر کرنے کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے ۔کرنٹ چھوڑنے والا آمنے سامنے لڑائی میں مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
پتا کی ذمہ داری!
دہلی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ ایک پتا کو اپنے بیٹے کی تعلیم کے خرچ کو پورا کرنے کی ذمہ داری سے صرف اس لئے مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ وہ بالغ ہو گیا ہے ۔عدالت نے کہا کہ ایک والد کو یہ یقینی کرنے کے لئے مالی بوجھ اٹھانا چاہیے تاکہ اس کے بچے سماج میں ایک ایسا مقام بنانے میں اہل ہوں جہاں وہ ضروری طور سے اپنا گزر بسر کر سکیں ۔جسٹس سبرا منیم پرساد کی بنچ نے کہا کہ وہاں پر اپنے بیٹے کی تعلیم کا پورے خرچ کا بوجھ صرف اس لئے نہیں ڈالا جا سکتا کیوں کہ بچوں نے 18 سال کی عمر پوری کر لی ہو۔بنچ کا کہنا تھا کہ پتا کو اپنے بیٹے کی تعلیم کا پورا خرچ کے لئے اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے اس لئے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اس کابیٹا بالغ ہو گیا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ وہ مالی طور سے بوجھ اٹھانے لائق نہ ہو اور خود کا گزارہ کرنے میں لاچار ہو ایک والد اپنی بیوی کو معاوضہ دینے کے لئے مجبور ہے کیوں کہ بچوں پر خرچ کرنے کے بعد شاید ہی اس پر کچھ بچے ۔بنچ نے یہ حکم ایک شخص کی اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے دیا جس میں ہائی کورٹ کے اس حکم کا جائزہ لینے کی درخواست کی گئی تھی جس میں اسے اپنی الگ رہ رہی بیوی کو تب تک 15 ہزار روپے کا ماہانہ گزارہ بھتا دینے کا حکم دیا گیا تھا ۔اور یہ جب تک جب اس کا بیٹا گریجوئیشن کی پڑھائی پوری نہیں کر لیتا اور کمانے نہیں لگ جاتا اس سے پہلے ایک پریوار کو عدالت نے حکم دیاتھا کہ بیٹا بالغ ہونے تک اپنے گزر بسر کا حقدار ہے اور بیٹی روزگار ملنے یا شادی ہونے تک بھی وہ اپنے گزارہ بھتہ لینے کا حقدار ہے ۔
(انل نریندر)
جہاد الستان بنتا بنگلہ دیش !
بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران بھڑکے تشدد یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہاں ہندوو¿ں سمیت دیگر اقلیتیں کتنی غیر محفوظ ہیں اور کیسے افواہ کی ایک چنگاڑی ان کے گھروں کو جلا سکتی ہے ۔تقریر کا پہلو یہ ہے کہ اصلاح پسند مانی جانے والی شیخ حسینہ کی حکومت اور ان کا انتظامیہ ہندوو¿ں پر ہو رہے تشدد کو بیس سے زیادہ ضلعوں تک پھیلنے سے نہیں روک سکیں ۔تشدد کی شروعات درگا پوجا کے دوران ایک پنڈال میں توہین اسلام کی افواہ سے ہوئی اور دیکھتے دیکھتے اسلامی کٹر پسندوں نے بہت سے مندروں اور پنڈالوں اور ہندوو¿ں کے گھروں پر حملے شروع کر دئیے ان حملوں میں مشہور اسکان مندر بھی نہیں بچ سکا ان حملوں میں چھ لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔بتا دیں کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ 9 برسوں میں قریب 37-21 حملے ہوئے ۔ایک اخبار ڈھاکہ ٹریبون میں لکھا ہے کہ یہ ڈیٹا ایک اہم حقوق گروپ این او ستیش سینٹر سے ملا ہے ۔اس کے مطابق 2021 پچھلے پانچ برسوں میں اب تک سب سے زیادہ خطرناک رہا ۔پچھلے پانچ برسوں میں ہندو مندروں ،مورتیوں اور پوجا مقامات پر توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے کم سے کم 1678 معاملے درج کئے گئے اس کے علاوہ پچھلے تین برسوں میں 18 ہندو پریواروں پر حملے ہوئے یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ میڈیا صرف ان معاملوں کو کور کرتاہے جو سامنے آجاتے ہیں ۔2014 میں اقلیتوں کے 1201 گھروں اور اداروں میں بلوائیوں نے توڑ پھوڑ کی تھی ۔اس سال ستمبر کے آخیر تک 196 گھروں اور دوکانوں اور مندروں اور موتیوں کو بھی توڑا گیا تھا ۔پولیس کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل محمد قمر الزماں نے بتایا کہ افواہ پھیلانے والوں اور تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف پورے دیش میں کاروئی جاری ہے ۔اور توڑ پھوڑ کرنے والے ہندو لڑکے کوبھی حراست میں لے لیا گیا ہے ۔درگا پوجا کے بعد ہندوو¿ں پر جاری حملوں کے سلسلے میں دیش کے مختلف حصوں میں کم سے کم 71 معاملے درج کئے گئے اس کے علاوہ قریب 450 لوگوں کو شوشل میڈیا پر افواہ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے دیش میں 13 اکتوبر کو بھڑکے فرقہ وارانہ تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔تشویش کی بات یہ ہے کہ خود شیخ حسینہ نے مانا ہے کہ درگا پنڈالوں پر ہوئے حملے پہلے سے منظم تھے ۔تو ایسے میں انہیں نہیں روکنے میں انتظامیہ کی ناکامی کہی جائے گی ۔یہ بھی سمجھنے کی ضروت ہے کہ ان حملوں میں شوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی افواہ نے چنگاری کا کام کیا ہے اس طرح یہ پہلی واردات نہیں ،بنگلہ دیش میں ہندو مخالف تشدد کے واقعات کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔بنگلہ دیش میں ہندو مخالف تشدد کے واقعات کے بارے میں مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کہا کہ ان کا دیش اب جہادالستان بنتا جا رہاہے اور بنگلہ دیش سرکار اپنے سیاسی فائدے کے لئے مذہب کا استعمال کررہی ہے ۔اور مدرسے کٹر پسندی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔سبھی سرکاروں نے اپنے سیاسی فائدے کے لئے مذہب کا استعمال کیا ۔انہوں نے اسلام کو راج دھرم بنا دیا جس سے وہاں ہندوو¿ں اور وودھوں کی حالت قابل رحم ہو گئی ہے ۔شیخ حسینہ سرکار کو پوری سخطی کے ساتھ اس تشدد کو روکنے اور ہندوو¿ں سمیت تمام دیگر اقلیتوں کو پوری حفاظت مہیا کرائی جانی چاہیے ۔
(انل نریندر)
21 اکتوبر 2021
کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں!
کووڈ ٹاسک فورس کے چیف ڈاکٹر وی کے پال نے کورونا وائرس انفیکشن کے بارے میں جو تازہ جانکاری دی ہے اس کے مطابق جوائیڈس کونڈیلا کا کووڈ 19- کا ٹیکہ جلد آجائے گا ۔کورونا وائرس کی دوسری لہر کمزور پڑ گئی ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیںہوگا کہ ابھی برا وقت گزر گیا ہے انہوں نے خبردار کیا یہاں بھلے ہیں کورونا انفیکشن کم ہو رہا ہے اور دوسری لہر جاری ہے لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ برا دور ختم ہوچکا ہے ۔لیکن کئی ملکوں نے دو سے زیادہ لہروں کا سامنا کیا ہے ۔بھارت میں فی الحال کووی شیلڈ ، کوویکسین اور اسپوتنک کی ویکسین کا استعمال ہو رہا ہے ۔اس وقت صحیح بتانا ممکن نہیں ہے کہ ویکسین کو لیکر تجربات کے بعد کئی دیشوں میں دو سے زیادہ لہریں آئی ہیں ۔ڈاکٹر پال نے کہا ٹیکہ سپلائی کی پوزیشن کودیکھتے ہوئے بالغ آبادی میں سبھی کے لئے مکمل ویکسی نیشن ہمارے پہونچ کے دائرے میں ہے انہوں نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ دیش ایسے دور سے گزر رہا ہے جب تہوار سر پر ہیں اور ان میں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے یہ بہت مشکل وقت ہے کیوں کہ وائرس پھر سے پھیل سکتاہے ۔ہم نے دیکھا ہے کہ دوسرے ملکوں میںبھی جہاں ویکسین کافی لگنے کے باوجود کورونا کے معاملوںمین اضافہ ہو سکتا ہے اورہوا بھی ہے ۔یقینی طور سے ہمیں یہ نہیں مان لینا چاہیے کہ انفیکشن میں گراوت کی یہ حالت آگے بھی جاری رہے گی اس لئے ہمیں یہ بھی نہیں تسلی کر لینی چاہیے کہ دیش میں سب سے برا وقت ختم ہوگیا ہے لیکن ہمیں چوکس رہنا ہوگا ۔اور احتیاط میں جنتا کا تعاون ضروری ہے ۔ہم نے پہلے چاوڑی بازار کاسین دیکھا جہاں آدمی پر آدمی دکھائی دے رہا تھا اگر حالت یہی رہی تو کورونا پھر لوٹ سکتا ہے ۔
(انل نریند)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !
کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...