Translater
09 جنوری 2021
سیاست کے تھیٹر میں 21بڑی فلمیں !
مئی جون میں مغربی بنگال،کیرل تامل ناڈو ،آسام ، پڈوچیری میں چناو¿ ہیں بنگا ل میں دیدی کے سامنے چوتھی مرتبہ سرکار بنانے کیرل میں لیفٹ پارٹیوں کو آخری قلعہ بچانے کی چنوتی ہوگی مغربی بنگال میں مئی جون میں چناو¿کرانا تجویز ہے 294سیوں والی اسمبلی میں ٹی ایم سی کے 211کانگریس کے 44اور لیفٹ پارٹیوں کے 27اور بھاجپا کی تین سیٹیں ہیں ۔ کیرل میں 140سیٹوں پر چناو¿ ہیں۔ سی پی ایم 70سیٹوں کےساتھ اقتدار میں ہے کانگریس کے 22ممبر ہیں ۔بھاجپا کو یہاں ایک بھی سیٹ نہیں ملی آسام میں 126میں سے بھاجپا 60کانگریس و اے جی پی کی 14سیٹیں ہیں ۔ ایسے ہی تامل ناڈو میں چناو¿ ہونے ہیں ۔ وہاں اننا ڈ ی ایم کے اقتدار میں ہے ڈی ایم کے کی 89سیٹیں ہیں ۔اداکار رجنی کانت نے چناو¿ میں اترنے کو لیکر فی الحال الجھن میں ہیں ۔ اب بھاجپا کا اننا ڈی ایم کے کا اتحاد نہ ہونے کے بعد انہوں نے چناو¿ لڑنے سے انکار کر دیا ایسے پوڈو چیر میں جون میں چناو¿ ہے 30سیٹوں والی اسمبلی میں کانگریس کے پندرہ سیٹیں ہیں ۔ بھاجپا کے پاس ایک بھی سیٹ نہیں ہے یہاں کانگریس اننا ڈی ایم کے بنا م ڈی ایم کے میں سیدھا مقابلہ ہوگا نئے سال میں پرانی سیاسی پارٹیاں اور نیشنل انڈین کانگریس کو مستقل صدر مل سکتا ہے ۔پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ کو دیکھتے ہوئے اس سمت میں جلد فیصلہ ہونے کی امید ہے ۔
(انل نریندر)
جنگپنگ سے ٹکراو ¿ کے بعد عرب پتی جیک ما لاپتہ !
چین کے عرب پتی اور علی بابا گروپ کے مالک 56سالہ جیک ما پر اسرار طریقے سے لا پتہ ہیں ۔پچھلے دو مہینوں سے لوگوں نے انہیں دیکھا نہیں ہے بتایا جارہا ہے چینی صدر شی جنگپنگ کے ساتھ تنازع کے بعد سے انکا کوئی پتہ نہیں ہے وہ چین کے تیسرے سب سے امیر شخص ہیں پچھلے تین مہینے سے چین حکومت جیک ما کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے انہیں کاروباری نقصان پہونچانے والے بھی پریشان کر رہے ہیں دنیا کی دوسری سب سے بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا اور 8فائننس کمپنی کے بانی جیک ما کی گمشدگی کا اندیشہ اس وقت اور بڑھ گیا جب وہ اپنی ہی کمپنی کے اسٹارٹ اپ ریالٹی شو افریقہ کے بزنس ہیٹو میں شامل نہیں ہوئے ان کی جگہ شو میں دوسرے افسروں کو بھیجا گیا شو کے ویب سائٹ سے بھی ان کی تصویر غائب تھی شبہ کی چار وجہ ہیں جنگپنگ کی چنوتی سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے جیک ما کی کمپنی سرکار کو ٹکر دے رہی تھی اس معاملے میں وہ صدر شی جنگپنگ سے زیادہ اثر دار مانے جارہے ہیں ۔ اس سے کمیونسٹ پارٹی کے ممبر ناراض ہیں ۔ جیک نے 24اکتوبر کو کہا تھا کہ چین کے وہ ساہوکار ہیں اور وہ آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے خطرہ مول لینے چے بچتے ہیں ۔ اور مالیاتی سیکٹر سرکار کے کنٹرول میں ہے سرکار نے اس بیان کو منھ پر تھپڑ سے تعبیر کیا ہے ۔چین نے نومبر میں 8فائننس کے 2.7لاکھ کروڑ اکٹھا کرنے کےلئے لائے جانے والے آئی پی او کو روکوادیا جس سے دنیا کی سب سے بڑی آئی وی او کہا جاتا ہے دسمبر میں چین نے علی بابا اور 8فائننس کے کاروبار کو مقابلہ مخالف بتا کر جانچ بیٹھا دی اس پر چھوٹی کمپنیوں کو نقصان پہونچا کر آگے بڑھنے کا الزام لگا یہ قدم جیک ما کو مالی نقصان پہونچانے کے لئے اٹھایا گیا ویسے تو چین میں سینکڑوں لوگوں کا کچھ اتا پتہ نہیں چلتا لیکن جیک ما یہ چین کے سب سے امیر بزنس مین میں سے ایک ہیں اور ان کے ہائی پروفائل ہونے کہ وجہ سے لاپتہ ہونے پر اتنی بحث چھڑی ہوئی ہے ۔
(انل نریندر)
امریکی جمہوریت کا سیاہ دن !
امریکہ کی تاریخ میں صدارتی چناو¿ کو لیکر جتنا واویلا اس مرتبہ ہوا ہے شاید ہی کبھی ہوا ہو موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ڈیمو کریٹ جو بائیڈن کی جیت کو قبول کرنے کو پہلے ہی تیار نہ تھے لیکن شاید کسی کو یہ اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ حالات اتنے بگڑ جائیں گے یا بگاڑ دیئے جائیں گے ٹرمپ کے حمایتی بدھ کے روز زبردستی پارلیمنٹ کیپٹل میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور مار پیٹ ہوئی جس میں کئی لوگوں کی جان چلی گئی تاریخ داں بتاتے ہیں کہ دیش کی پارلیمنٹ میں ایسا حال کم سے کم دو سو برس میں پہلے بار دیکھا ہے یہ واقعہ اتنا سنگین ہے کہ خود ریپبلکن لیڈر جمہوریت پر ہوئے اس حملے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار سے باہر کرنے کی مانگ کرنے لگے کیپٹل ہل تاریخی سوسائیٹی کے ڈائرکٹر آف ایکالرپ اینڈ آپریشنس مینول ڈالی ڈے نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ 1812کی جنگ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کی کیپٹل ہل میں اس طرح داخل ہواگیا ہے تب اگست 1814میں انگریزوں نے عمارت پر حملہ کر دیا تھا اور آگ لگا دی تھی 1954میں ہاو¿س آف چیمبر میں 3مرد اور 1عورت ویزٹر گیلری میں ہتھیاروں کے ساتھ آکر بیٹھ گئے تھے۔تھیورٹو ریگن نیشنلسٹ پارٹی کے ممبر دیش کی آزادی کی مانگ کر رہے تھے ۔ انہوں نے ایک مارچ ،1954کی دوپہر کو ایوان میں فائرنگ کردی تھی اور اپنا جھنڈا لہرا دیا تھا اس واردات میں کانگریس کے پانچ ممبر زخمی ہوئے تھے دیش کے ساتھ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والے اس واقعہ کے بعد ریپبلکن پارٹی کے ہی لیڈر 20جنوری سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کی مانگ کرنے لگے اس دن یعنی 20جنوری بائیڈن عہدہ سنبھالنے کے لئے افتتاحی تقریب منعقد کی جانی ہے ۔لیڈروں نے تحریک ملامت لاکر ٹرمپ کو ہٹانے کی مانگ کی ہے ایک سابق سینئر افسر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسا کام کیا ہے بھلے ہی ان کے عہد کے صرف کچھ دن باقی ہیں ان کو ہٹا دینا چاہئے ان کا کہنا کہ حملہ پورے سسٹم کےلئے جھٹکا ہے ۔واشنگٹن میں تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے کرفیو لگا دیا گیا ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں گولی بھی چلی دراصل دن میں حمایتوں کی ریلی میں ٹرمپ نے چناو¿میں جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ بچاو¿ مارچ نکالنے کی اپیل کی تھی ۔ اس میں بڑی تعداد میں ان کے حمایتی کیپٹل ہل پہونچ گئے اور وہاں ہنگامہ شروع کردیا اور آگے بڑھتے ہوئے پولس سے ٹکراو¿ ہوا بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پولس کو گولے داگنے پڑے ریپبلکن پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کینن میک آرتھی نے بتایا میں نے پولس ریڈیو پر گولی چلنے کی بھی آواز سنی اور کیپٹل ہل بلڈنگ میں ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر موقع پر پہونچا اور وہاں بڑی تعداد میں پولس اور اسکوائرڈ دستہ بھی تعینات تھا ۔ جس وجہ سے آس پاس کی دو عمارتوں کو بھی خالی کرانا پڑا واشنگٹن میں جمہوریت کے مندر میں جو واقعات رونما ہوا وہ امریکی جمہوریت کے لئے سیاہ باب ہے ۔
(انل نریندر)
08 جنوری 2021
پاکستان نے شیعہ ہزارہ فرقہ مزدوروں کا قتل عام!
پاکستان میں اقلیتوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے ۔اور عمران خان کی حکومت اس معاملے سے بے فکر ہو کر بیٹھی ہے ۔حال ہی میں ہندوو¿ں کا مندر توڑا گیا اب وہاں کے ہزارہ فرقہ کو نشانہ بنایا گیا ۔پاکستان کے بلوچستان میں کوئلہ کان میں کام کرنے والے پاکستانی اقلیت شیعہ ہزارہ فرقہ کے گیارہ مزدوروں کو اتوار کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق بندقچیوں نے ان لوگوں کو پہلے اغوا کیا اور اس کے بعد علاقہ کی ایک پہاڑی پر لے جاکر گولیوں سے بھون ڈالا ۔واردات کے بعد ہزارہ فرقہ دہشت میں ہے ۔کئی نے موقع پر دم توڑا اور چھ مزدوروں نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا ۔واردات کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں اور پولیس اور سکیورٹی فورس موقع پر پہونچی ۔کوئیٹا کے ڈپٹی کمشنر مراد کاس نے بتایا ابھی تک اس قتل عام کی کسی گروپ نے ذمہ داری نہیں لی اور نا ہی اب تک کوئی کیس رجسٹرڈ ہوا ۔بلوچستان کے علاقہ کوئیٹا میں شیعہ ہزارہ فرقہ کے لوگ ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانہ پر رہے ہیں ۔اپریل 2019میں بھی کوئٹا میں سبزی منڈی میں فدائی حملے میں شیعہ ہزارہ فرقہ کے 24لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا اایسے ہی 2012سے مارچ 2020تک اس فرقہ کے کل 502سے زیادہ لوگوں کو قتل ہو چکا ہے ۔جبکہ سیکڑوں افراد لا پتہ ہیں اس تازہ واردات میں مرے مزدوروں کے گھر والوں نے لاشوں کو دفنانے سے انکار کر دیا ۔ساتھ ہی بلوچستان کے مغربی بائی پاس پر متاثرین کے رشتہ داروں نے لاشوں کے ساتھ اپنا دھرنا دیا اور بلوچستان سرکار سے قاتلوں کی گرفتار ی کی مانگ کی اور ساتھ ہی استعفیٰ بھی مانگا اس قتل عام کو لیکر بلوچ ، پستون و ہزارہ فرقہ کے لوگوں نے پیرس میں جم کر مظاہرہ کیا ۔اور قصورواروں کو سزاد ینے کی مانگ کی ۔پاکستانی اخبار ڈون نے تین سال کی ایک طالبہ یعقوبہ علی کا بیان شائع کیا ہے اس نے اس قتل عام میں اپنے خاندان کے پانچ افراد کو کھویا ہے اس کا کہنا ہے بھائی اور چار دیگر رشتہ داروں کو دفن کرنے کے لئے کوئی بھی شخص ہمارے خاندان میں زندہ نہیں ہے ۔ ڈون نے لکھا سید آغا رضا،بلوچستان مجلس وحدت المسلمین کے صدر کے حوالہ سے لکھا کہ ہم نے ہزارہ لوگوں کی حفاظت کے لئے لمبہ وقت تک دھرنے دئیے اور کافی عرصہ سے قتل کے واردات کا سامنا کررہے ہیں ۔اور حالا ت سے تنگ آچکے ہیں آغا رضا نے کہا جب تک فرقہ کی مانگ پوری نہیں ہوگی تب تک لاشوںکو دفن نہیں کیا جائیگا ۔وہیں وزیراعظم عمران خان افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس واردات کو دہشت کی بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے اور انہوں نے فرنٹئیر فورس کو ہزاروں ملزمان کی جلد سے جلد پکڑ نے کی ہدایت دی تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ سرکار متاثرہ کنبوں کے پریوار کے ساتھ ہے پاکستان پیوپل پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا سرکار کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت یقینی کرے اور سرکار مزدوروں کے گھر والوں کے لئے مناسب امدادی رقم جاری کرے ۔
(انل نریندر)
بات چیت بے شک بے نتیجہ رہی پر ہمارے حوصلے بلند ہیں!
کسان تنظیموں کے نمائندوں اورمرکزی سرکار کے درمیان ساتویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی ۔دونوں فریقین میں اتنے دور کی بات چیت کا کوئی حل نا نکلنا سبھی کے لئے تشویش کی بات ہے نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کو لیکر کسانوں کے دھرنے کو چالیس دن ہو چکے ہیں اب تک پچاس سے زائد احتجاجی کسانوں کی موت ہو چکی ہے ۔اس کے باوجود ٹھنڈ اور بارش میں بزرگ عورتیں اور بچے کھلے آسمان کے نیچے ڈٹے ہوئے ہیں ۔سرکار کے ہٹ دھرمی کے رویہ سے ناراض کچھ کسانوں نے خود کشی جیسے قدم اٹھا لئے ان واقعات سے صاف ہے کہ اگر سرکار نے کوئی جلد قابل قبول حل نہیں نکالا تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوںگے کسان انجمنیں اپنے رخ پر اٹل ہیں ۔جب تک سرکار ان تینوں زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی تب تک تحریک ختم نہیں ہوگی ۔چاہے اس کے لئے کتنا بھی وقت کیوں نا لگے ۔سرکار بھی صاف کر چکی ہے کہ زروعی قوانین کی واپسی نہیں ہوگی ظاہر ہے جب دونوں فریقین نے اسے اپنی آن کا سوال بنا لیا ہے اورکوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے تو تعطل ختم ہونے کے بعد اور بڑھے گا تعطل ایک ایسے وقت کو جنم دے رہا ہے جو کسی بھی شکل میں بھارت جیسے جمہوری دیش کے لئے اچھا نہیں مانا جا سکتا ۔کسان نیتا بلوندر سنگھ راجیشوار اور تین وزراءکے درمیان دیر تک تلخ بحث ہو گی ۔میٹنگ کی شروعات میں ہی تینوں وزراءنے تینوں قوانین کو ایک ایک تقاضہ پر بات چیت پر نکتہ وار تشویش رکھی ۔ذرائع کا کہنا ہے بات چیت کے دوران ایک وزیربے حد ناراض ہو گئے وزیرزراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا جب ہم تاریخ طے کرتے ہیں تو کسانوں سے رائے لینے کے بعد ہی کرتے ہیں اور مسئلے کے حل کے لئے دونوںہاتھوں سے تالی بجنی چاہیے وہیں کسانوں کا کہنا ہے کہ بات چیت بھلے ہی بے نتیجہ رہی ہو لیکن ہمارے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں ۔دہلی کی سرحدوں پر کسان پہلے کی طرح ڈٹے رہیں گے پھر چاہے کتنا ہی وقت لگے ۔ہم بھاگنے والے نہیں سرکار ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہے ۔پیش ہے وزیراور کسان نیتاو¿ں میں بحث : وزیر: قانون کے جن تقاضوں پر کسان انجمنوں کو اعتراض ہے اس پر بات ہونی چاہیے ۔کسان نیتا راجیشوال اس بات چیت سے پہلے کسان انجمنیں کئی بار کہہ چکی ہیں کہ سرکار سے بات چیت تقاضوں کو لیکر نہیں بلکہ صرف قوانین کی واپسی پر ہی ہوگی ۔وزیر: یہ رویہ بات چیت اٹکانے والا ہے ۔راجیشوال : سرکار کسان تنظیموں کو قانون کے بجائے ترامیم میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری مانگ تینوں قوانین کی واپسی اور ایم ایس پی پر قانونی گارنٹی دینے کی ہے ۔پنجابی یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات کے پروفیسر جسوندر سنگھ نے بات چیت میں کہا کہ کھیتی قانون نا تو کسانوں اور نا ہی دیش کی کھیتی باڑی سیکٹر کے مفاد میںہے ۔اس لئے مرکزی سرکار کو چاہیے ان کھیتی قانون کو منسوخ کرے ۔مودی سرکار اس وقت کارپوریٹ گھرانوں کے بھاری دباو¿ میں ہے اسی وجہ سے معاملہ حل نہیں ہو پا رہا ہے ۔پروفیسر براڈ نے آگے کہا کہ کسانوں کی تحریک لمبی چل سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
07 جنوری 2021
تاریخی ہندو مندر نشانہ پر !
پاکستان ریاست خیبر پختونخوا کے چرخ ضلع میں پچھلے دنوں تاریخی مندر میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے معاملے میں 35لوگوں کو اور گرفتار کیا ہے اور اب تک 100سے زیادہ شرپشند پکڑے جا چکے ہیں ان میں کچھ پولیس کے ملازم بھی شامل ہیں ۔واردات کے سلسلے میں 350لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے ان میں کٹر پشند تنظیم جمعیت علمائے اسلام کے لیڈر راحت اسلام کھٹک اور ان کے بھیڑ کو اکسانے والے کئی اور مولوی بھی شامل ہیں ۔واضح رہے ضلع کے ٹیلی گاو¿ں میں شدت پشندوں کی بھیڑ نے ایک تاریخی ہندو مندر میں نئی تعمیل کے ساتھ اس کے پرانے ڈھانچے کو بھی گرا دیاتھا اور آگ لگادی تھی انسانی حقوق رضاکار اور پاک اقلیتی ہندو فرقہ نے ا س واقعہ کی نکتہ چینی کی ہے اس کے بعد صوبہ کے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا تھا کہ صوبائی سرکار گرائے گئے مندر کی دوبارہ تعمیر کرائے گی ۔اور انہوں نے اس کے احکاما ت بھی جاری کر دئیے اس کے علاوہ توڑ پھوڑ معاملے کو لیکر پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے از خود کاروائی کرتے ہوئے معاملے کی سماعت شروع کر دی ہے اس واقعے سے صاف ہے مندر کو گرانے کی یہ حرکت منظم تھی ۔یہ بھی سچائی ہے کہ کہیں بھی مقامی لوگ اس طرح کے واقعات کو انجام نہیں دیتے ورنہ اب تک یہ مندر کب کا صاف ہو چکا ہوتا ۔دوسرے مذاہب کے تئیں نفرت پھیلانے کا کام کٹر پشند طاقتیں کرتی ہیں ۔مندر ہو یا دوسرے مذہبی مقامات کو نقصان پہوچانے کے معاملے میں آج تک کسی کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے ایسا دیکھنے مین نہیں آیا اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی دینے کے معاملے میں ادھر سے بھی پاکستان بدنام ملک کی شکل میں جانا جاتا ہے ۔اقوام متحدہ سے لیکر امریکہ اور دوسرے دیش بھی پاکستان میں اقلیتوں کو ٹارچرکو لیکر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ پاکستان کا انسانی حقوق کمیشن تک کہہ چکا ہے کہ آنے والے وقت میں مذہبی اقلیتوں کی حالت اور خراب ہوگی ۔پاکستان کے آئین نے مذہبی اقلیتوں کو بھی یکساں حقوق دینے کی بات کہی ہے ۔لیکن آج پاکستان سرکار اپنے ہی آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اقلیتوں پر ظلم کررہی ہے پاکستان سرکار دہائیوں سے بند پڑے مندروں اور گورودواروں کو کھلوانے کی سمت میں بڑھے تو اس سے اقلیتوں میں سرکار کے تئیں بھروسہ بڑے گا اور ایسی کوشش بھارت پاکستان بیچ بہتر بنانے کی سمت میں بڑا رول نبھا سکتی ہے لیکن کیا پاکستان سرکار اس بات کو سمجھ پائیگی ۔
(انل نریندر)
ریلائنس کی وضاحت ، زرعی قوانین سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں !
ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں اپنی سبسڈی جی یو انفو کام کے ذریعے ایک عرضی دائر کی ہے اس میں انتظامیہ سے شر پشندوں کے ذریعے توڑ پھوڑ کی غیر قانونی واقعات پر روک لگانے کے لئے فوری مداخلت کی مانگ کی ہے کمپنی کا کہنا ہے شر پشنددوں کے ذریعے توڑ پھوڑ اور ما ر پیٹ کی کاروائی سے ان کے ہزاروں ملازمین کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے ساتھ ہی دونوں ریاستوں میں کمیونیکیشن انفراسٹکچر سیلس اور سروس آو¿ٹ لیٹ کے روز مرہ کے کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے عرضی میں ریالائنس نے کہا کہ دیش میں جن تین زرعی قوانین پر بحث چل رہی ہے ان سے ریالائنس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نا ہی کسی طرح سے ان کا فائدہ پہونچتا ہے ۔زرعی قوانین سے ریالائنس کا نام جوڑنے کا واحد مقصد ہمارے کاروبار کو نقصان پہوچانا ہے ۔عرضی میں کہا گیا ہے ریالائنس انڈسٹریز لمٹڈ ، ریالائنس ریٹیل لمیٹڈ ، ریالائنس جی یو انفو کام لمیٹڈ اور ریالائنس سے وابسطہ کوئی بھی دیگر کمپنی نا تو کارپوریٹ اور نا ہی ٹھیکہ فارمنگ کرتی ہے اور نا ہی کراتی ہے اور نا ہی مستقبل میں اس کاروبار میں اترنے کا کمپنی کا کوئی منصوبہ ہے سارا معاملہ کسان آندولن سے جڑا ہے کچھ نام نہاد کسانوں نے پنجاب اور ہریانہ میں جیو ٹاور اور جیو مال میں توڑ پھوڑ کی ہے ۔اسی سلسلے میں ریالائنس نے بھارتی ایرٹل پر الزام لگایا ہے کہ جیو کے خلاف توڑ پھوڑ میں اس کا مبینہ ہاتھ ہے امبانی ضلع کنٹرول ٹیلی کام کمپنی ریالائنس جیو کے ٹیلی کام ٹاور توڑ دئیے گئے ۔ائر ٹیل نے دی ٹی او کو لکھ کر جیو کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔کمپنی نے کہا کہ جیو کے الزام من گھڑت ہیں ۔ٹیلی کام کمپنی نقصان پہوچانے والی کمنیوں کی مذمت کرتی ہے ٹیلی کام کے سکریٹری انشو پرکاش کو لکھے خط میں جی یو کے الزامات کو بے بنیاد اور شاک پر چوٹ پہوچانے والی بتایا ہے ۔ٹیلی کام سکریٹری انشو پرکاش نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ جی یو کے ٹاورون کی توڑ پھوڑ میں اس کا کوئی رول ہے ۔موجودہ کسان آندولن میں احتجاجیوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ سرکار نئے زرعی قانون کی آڑ میں اڈانی امبانی سمیت چنندہ صنعت کاروں کو فائدہ پہوچا رہی ہے ۔اس دوران پنجاب ہریانہ اور دوسری جگہوں پر 1600ٹاور توڑ دئیے گئے اس میں اکثر امبانی کی بالادستی والے ہیں ۔جی یو کا الزام ہے کہ اس کی مقابلہ جاتی کمپنیاں ایسا کرکے اس کی سروس میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں ۔کمپنی کے مطابق ٹاور معاملے میں ایرٹیل ووڈا ائیڈیا کے چینل پارٹنروں کی درپردہ ساجھیداری ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...