Translater
24 اکتوبر 2020
پاک فوج اور سندھ پولس آمنے سامنے !
پاکستان کے صوبہ سندھ کی پولس نے پاکستانی فوج کے من مانے قدم کے خلاف بغاوت کردی ہے ۔ اور حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو سینئر افسروں سے حالات کا جائزہ لینا پڑا اور یقین دلایا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی سرکار پولس کے ساتھ ہے اس ملاقات میں سندھ کے انسپیکٹر جنرل پولس مشتاق چہر بھی شامل ہوئے ۔ یہ معاملہ ان سے ہی جڑاہے دراصل 18اکتوبر کو کراچی میں اپوزیشن کے مہا گٹھ بندھن پی ڈی ایم نے دوسری بڑی ریلی کی تھی ۔ اس درمیان رات کو ہی کراچی پولس نے مریم نواز کے تئیں کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدر کو گرفتا ر کیا تھا ۔ اپوزیشن اور میڈیا نے الزام لگایا تھا پاک فوج کے افسران نے سندھ کے آئی جی مشتاق کو اگوا کرلیا تھا اور ان کا فون بھی بند کردیا گیا اور اس افسوس ناک واقعہ سے سندھ کے سبھی اعلیٰ افسران کے اند ر ناراضگی پیدا کردی ہے ۔ غور طلب ہے صبح سندھ میں بلاول بھٹو کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ایسے میں ان پر سوال اٹھے وہیں بلاول نے ایک ٹیوٹ کرکے اس واقعے پر فوج اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے صفدر کی گرفتاری کو لیکر سوال پوچھا گیا تو بلاول کا کہنا تھا یہ ایک سازش ہے ۔ جانچ ایجنسیوں نے ہمیں اندھیرے میں رکھا مریم نواز نے کہا کہ وہ صوبہ سندھ پولس کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اور ان کے افسر کے خلاف جو کاروائی کی گئی ہے اس کو عمران سرکار سے اٹھایا جائے گا چونکہ فوج انہیں کے ماتحت کام کرتی ہے ۔
(انل نریندر)
خود بھلا نہیں کرسکتے دوسروں کو دینے کو تیار نہیں !
ناتھ ایم سی ڈی اسپتالوں اور دوسری طبی خدمات کو لیکر سیاست گرما گئی ہے ایم سی ڈی کے پانچ بڑے اسپتال چھ میٹرنٹی ہوم اور 59میٹرنٹی اور چائلڈ کیئر سینٹر چلانے کے لئے ہر سال ملازمین کو تنخواہ ،دوائیاں اور طبی سازوسامان کی خریداری کا بوجھ قریب 650کروڑ روپئے ہے لیکن ایم سی ڈی کے پاس نا تو ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے ہیں اور نہ ہی سازوسامان کی خرید کے لئے پیسہ ہے ۔ آج تنخوہ کو لیکر ایم سی ڈی کے اسپتالوں کے ملازم ڈاکٹر اور نرس کئی دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور مظاہرے کر رہے ہیں ۔ جبکہ دہلی سرکار نے کچھ دن پہلے ان سبھی اسپتالوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی پیش کش کی تھی ۔ نارتھ ایم سی ڈی کے افسر کے مطابق مارچ 2018میں ایم سی ڈی نے ہیلتھ سرویسز کو دہلی سرکار کو ٹرانسفر کرنے کے لئے ایک پرستاو¿پاس کیا تھا لیکن ایم سی ڈی کی قائمہ کمیٹی نے اس کو پوری طرح مسترد کردیا اس کے بعد کوئی اس مسئلے پر غور نہیں کیا گیا ۔ سینئر افسر کے مطابق تمام اسپتالوں اور میٹرنٹی ہوم وغیرہ کو چلانے کے لئے ملازمین کی تنخواہ کا بوجھ 450کروڑ سے 550کروڑ روپئے ہے۔ اوراس کے علاوہ دوائیاں اور طبی سازوسامان کا خرید ملاکر تقریبا 650کروڑ روپئے کرنا پڑتا ہے ۔ ایم سی ڈی کے طبی خدمات سے سالانہ 52لاکھ مریض فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ سیوائیں ایم سی ڈی سے دہلی سرکار کو منتقل ہوں گی تو لوگوں کو اچھی ہیلتھ سیوائیں مل سکیں گی لیکن قائمہ کمیٹی نے اس تجویز کو مسترد کردیا ۔ عام آدمی پارٹی نے بھی سوال کیا اخر ایم سی ڈی اپنے اسپتالوں کو کیجریوال سرکار کو کیوں نہیں سونپ رہی ہے۔ میئر جے پرکاش نے مرکزی وزیر مملکت مالیات انوراگ ٹھاکر سے ملکر ایم سی ڈی کی مالی حالت کو سدھارنے کے لئے کم سے کم 2ہزار کروڑ روپئے کاقرض مانگا ہے ۔ ان کی دلیل تھی کہ ایم سی ڈی دہلی میں سب سے بڑا بلدیاتی ادارہ ہے اس میں 50ہزار سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں ان کو پچھلے چار مہینے سے تنخواہ نہیں دی جا سکی ۔
(انل نریندر)
پلازمہ تھیریپی ہر گز بند نہ ہو!
کورونا وائرس کے علاج کے لئے کاریگر مانی جارہی پلازمہ (خون )تھیریپی کو لیکر آی سی ایم آر اور دہلی حکومت آمنے سامنے آگئیں ہیں در اصل آئی سی ایم آر کا کہنا ہے کہ اب وہ پلازمہ تھیریپی کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے جاری مرکز کی گائڈ لائنس سے ہٹانے پر غور کررہا ہے ۔ اس ادارے کے اس قدم کو لیکر دہلی حکومت نے احتجاج کیاہے دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بدھ کو اس معاملے میں کہا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ان کی جان بھی پلازمہ تھیریپی سے ہی بچی تھی ،ایسے میں آئی سی ایم آر کو اسے پروٹوکول سے ہٹانا نہیں چاہئے کیونکہ بہت سے لوگوں کی جان پلازمہ تھیریپی سے ہی بچی ہے اب تک پلازمہ بینک سے 2ہزار سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھاچکے ہیں اور ساتھ ہی کافی لوگوں نے خود پلازمہ کا انتظام کیا ۔ اس لئے پلازمہ تھیریپی کو نہیں ہٹانا چاہئے ستیندر جین نے بتایا امریکہ نے بھی پلازمہ تھیریپی کو کورونا علاج کے لئے کافی کاریگر مانا ہے وزیر صحت نے میڈیا سے بات چیت میں کہا پلازمہ تھیریپی کا سب سے پہلے دہلی نے کیا تھا، اور تجربہ کے بعد خود مرکز ی حکومت اور آئی سی ایم آر سے منظوری لیکر کیا تھا جو نتیجے اب تک سامنے آئیں ہیں وہ تسلی بخش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے 2ہزار مریضوں نے ٹھیک ہونے کے بعد خود تو پلازمہ دیا اور اپنے رشتہ داروں سے بھی دلوارہے ہیں ۔ ادھر پارٹی کے لیڈر راگھو چڈھا نے پلازمی تھیریپی کی حمایت کرتے ہوئے ٹیوٹ کیا ہے کہ وہ آئی ایل بی ایس میں بنے پلازمہ بینک کی نگرانی بھی کر رہے ہیں ۔ ہمارے پاس پلازمہ سے علاج کے علاوہ کوئی متبادل علاج موجود نہیں ہے ۔ در اصل آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگو نے میڈیا سے کہا تھا کہ ہماری ایک ریسرچ میں سامنے آیاہے کہ پلازمی تھیریپی سے اموات شرح یا انفیکشن وائرس شرح کم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے اس لئے پلازمہ تھیریپی کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے پروٹوکول کے لئے مرکزی گائڈلائن سے ہٹایا جا سکتا ہے ۔ اس نے دیش بھر کے 39اسپتالوں میں 1200مریضوں پر پلازمہ تھیریپی کو لیکر ریسرچ کی تھی ہم ستیندر جین عآپ ترجما ن راگھو چڈھا کی بات سے بلکل متفق ہیں میں گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں میرے ملنے والوں میں سے کئی کی جان پلازمہ تھیریپی سے ہی بچی ہے ۔ پھر جب تک آپ کے پاس کورونا علاج کے لئے دوا نہیں آجاتی تو آپ پلازمہ تھیریپی پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔فی الحال یہ کورونا انفیکشن سے موت اور زندگی کے درمیان پلازمہ تھیریپی ہی کھڑی ہے ۔
(انل نریندر)
23 اکتوبر 2020
سنجے دت نے کینسر کو ہرایا !
بالی ووڈ اداکار سنجے دت خبروں کے مطابق ٹھیک ہوگیا ہے ان کے قریبی دوست اور کاروباری انچارج راج بنسل نے یہ خبر دی ہے ۔سنجو کی پی ای ٹی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں وہ کینسر سے آزاد پائے گئے ہیں پی ای ٹی اسکین کینسر کی سب سے بھروسے مند جانچ مانی جاتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے متاثرہ کے کینسر سیلس کی کیا حالت ہے اور کینسر سیل نے دوسری سیلس کے مقابلے میٹابولک ریٹ زیادہ ہوتی ہے اور کیمکل ایکٹیوٹی اس ہائی لیول کے سبب کینسر سیلس پی ای ٹی اسکین پر چمکیلے دھبوں کے شکل میں دکھائی دیتے ہیں اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کینسر جسم میں کتنا پھیل چکا ہے ۔ سنجے دت کو 8اگست کو سانس لینے میں پریشانی کے بعد اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا ۔ اور ان کے کچھ ٹیسٹ ہوئے تھے اس کے بعد 11اگست کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہیں پھیپھڑوں کا کینسر ہے ۔ حالانکہ انہوں نے یا ان کے خاندان نے تصدیق نہیں کی تھی سنجو کی بیماری کی خبر میڈیا میں آنے کے بعد ان کی بیوی مانیتا نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ افوہوں میں دھیان نہ دیں مانیتانے اپنے پوسٹ میں لکھا تھا میں ان سبھی کی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے سنجو کے جلد ٹھیک ہونے کی دعوائیں مانگی ہیں ۔ سنجو کی صحیح رپورٹ آنے سے بالی ووڈ اور سنجے دت کے چاہنے والوں نے راہت محسوس کی اور اوپر والے کا شکریہ اداکیا۔
(انل نریندر)
پھر پورے یوروپ میں پھیلنے لگا وائرس انفیکشن !
کیا سردیوں کے آنے پر کورونا وائرس کی ایک اور خطرناک شکل دیکھنے کو ملے گی ؟کیا دنیا کو اس وائرس کی دوسر ی لہر کا سامنہ کرنا پڑے گا؟کورونا وائرس کی دوا کب تک آئے گی کتنے لوگوں کو ملے گی؟یہ کچھ ایسے سوال ہیں جن کا کوئی پختہ جواب ابھی نہیں ہے پچھلے تین سال سے چین سے شوع ہوئی کورونا وباءنے پوری دنیا کو ٹھپ کردیا تھا اب ایک بار پھردوسری کورونا لہر کا اندیشہ بڑھ گیا ہے یوروپ میں انفیکشن کے نئے مریضوں میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے پھر سے پابندیاں لگا دی گئی ہیں ۔ بیلجیم کے وزیر صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کے معاملے تیزی سے خطرناک حالت میں پہونچ سکتے ہیں ۔اس وجہ سے پابندیاں لگا دی گئی ہیں ۔ اور ہوٹل اور بار چار ہفتوں کے لیے بند کردیئے گئے ہیں ایسے ہی آٹلی میں بھی ہر روز کورونا کے نئے ریکارڈ مریضوں کو دیکھتے ہوئے نئی اور سخت پابندیاںلگا دی گئی ہیں ۔اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا یہ پابندی لاک ڈاو¿ن سے بچنے کے لئے لگائی گئی ہے یہاں باہر نکلنے پر فیس پہننے کو ضروری کردیا گیا ہے ۔ ایسے فرانس کے پیرس سمیت 9شہروں میں بھی رات 9بجے صبح6بجے تک کرفیو رہے گا ۔ اور جو باہر نکلے گا اس کے پاس ضروری کاغذ ہونگے اور نہ ہو اتو جرمانہ لگے گا۔ پورے برصغیر میں کورونا انفیکشن کے نئے مریضوں کی شرح سب سے زیادہ ہے یہاں پورے دیش میں مکمل لاک ڈاو¿ن کی تیار ی ہے ۔ جرمنی میں سرکار نے پبلک عمارتوں میں وینٹی لیشن کو سہولت دینے کو 452ملین پاو¿نڈ سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کردیا گیا ہے ۔ جرمنی کی چانسلر مارکیل نے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے اسی طرح سویزر لینڈ اسپین اورنیدر لینڈ ،قاہرہ و پرتگال میں وائرس انفیکشن روکنے کے لئے کئی قدم اٹھائے گئے ہیں یوروپ کے علاوہ امریکہ میں بھی کورونا وائرس انفیکشن کے نئے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس وجہ سے اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں پچھلے ہفتے سے امریکہ کے 48ریاستوں میں بھی انفیکشن کے مریضوں میں تیزی دیکھی گئی ہے ۔
(انل نریندر)
زرعی قوانین کے خلاف کیپٹن نے کھولا مورچہ !
پنجاب حکومت نے منگل کے روز اسمبلی میں مرکزی حکومت کو سیدھا چیلنج دیتے ہوئے اس کے تینوں زرعی قوانین کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے پرستاو¿ پاس کردیا اس کے ساتھ ہی پنجاب ان مرکزی قانون کی جگہ اپنا قانون بنانے والی پہلی ریاست بن گیا ہے وہیں راجستھا ن کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی اسی طرز پر بل لانے کا اعلان کردیا ۔ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا تینوں زرعی قانون اور مجوزہ الیکٹرینٹی بل کسانوں اور بے زمین مزدوروں کے خلاف ہے ۔ سرکار نے اپنے تین بل پیش کئے جن کے نام فارمرس پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس پروموشن اینڈ کامرس فیسیلیٹیسن،اسپیشل پرویزن اینڈ پنجاب امینڈمینٹ بل ضروری اشیاءوغیرہ بل پنجاب اسمبلی میں اتفاق رائے سے مرکز کے زرعی قوانین اور مجوزہ بجلی بلوں کو مسترد کردیا ان کو لیکر آئے پرستاو¿میں نئے سرے سے آرڈیننس لانے کی بات کہی گئی ہے جس سے کسانوں کو کم سے کم مالیتی قیمت (ایم ایس پی )کی خرید کا آئینی اختیار مل سکے ان مسودے میں کسانوں اور کھیتی کو لیکر مرکز کے سخت اور غیر منظم روے پر افسوس جتایا گیا۔ مالیتی قیمت کی گارنٹی دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ منگل کو چار بل پیش کردیئے ان میں مختلف دفعات میں یہ سہولیت دی ہے کہ زرعی سمجھوتے کے تحت ایم ایس پی سے نیچے قیمت پر دھان یا گیہوں کی خریداری یا فروخت کرنے پر کم سے کم تین سال کی سزا اور جرمانہ ہوسکتا ہے ۔ پنجاب سرکار کے ذریعے زرعی قانون کے خلاف اسمبلی میں پیش کرنے والا پرستاو¿کے لئے پنجاب پہلی ریاست بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ان بلوں سے ریاست کی قانونی لڑائی مضبوط ہوگی اور اس لئے اس کی پوری جانچ کی ضرور ت ہے اگر ان کی سرکار گرتی ہے اگر انہیں استعفیٰ دینا پڑے تو دے دوں گا لیکن کسانوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دوں گا۔مرکزی سرکار نے کھیتی کسانوں سے وابستہ تین زرعی قانون بنائے تھے پنجاب سمیت کئی ریاستوں نے اس کی مخالفت کی تھی ۔ان کی دلیل تھی کہ ان بلوں سے کسانوں کو نقصان اور کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ ہوگا اور یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ مرکزی سرکار آہستہ آہستہ ایم ایس پی ختم کردے گی ۔ شرومنی اکالی دل نے تو این ڈی سے ناطہ توڑلیا تھا اور یہ تینوں بل صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد 20ستمبر کو قانون بن گئے تھے اب پنجاب سرکار کا اپنے بلوں کا لیکر کہنا ہے کہ ریاست میں کہیں بھی گیہوں اور دھان طے قیمت سے کم پر نہیں خریدا جا سکے گا کسی کمپنی یا تاجر کو ایسے کرتے ہوئے پائے جانے پر تین سال کی سزا ہوگی ۔
(انل نریندر )
22 اکتوبر 2020
ایسے میں اپنے قرض جال میں پھانستا ہے ڈریگن!
چین اپنے کثیر المفاد بیلٹ اینڈ روڈ اینیسیٹو (بی آر ائی ) کے ذریعے سری لنکا ، جامبیا ،اور مالدیپ ،پاکستان ، اور کرگستان جیسے کئی ملکوں کو اپنے قرض کے جال میں پھنسا کر شدید مالی خطرے میں دھکیل رہا ہے چین نے بی آر آئی کے ذریعے ان ملکوں میں کافی پیسہ لگایا ہے اور سنہرے سپنے دکھائے ہیں جس سے ان کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی جو انہیں مالی ترقی میں مدد کرے گا بی آر اے پروجیکٹ میں بندرگاہیں سڑکیں ریلوے ہوائی اڈے ، بجلی گھر کے ڈیولپمینٹ شامل ہیں اس کے بعد یہ پروجیکٹ سیکڑوں عرب ڈالر کا ہوگیا ہے ۔ پچھلے سات سال میں اس پروجیکٹ نے 70سے زیادہ دیشوں میں اپنا جال پھیلا ہواہے ۔ چین کو 99سال کی لیز کے بعد قرض میں ڈوبے مندرجہ بالا ملکوں پر پریشانی کے باد ل چھا گئے ہیں ایسے ملکوں کی فہرست لمبی ہے ۔ مالدیپ پر چین کا تقریبا ً1.4عرب ڈالر بقایاہے ۔ چونکہ اس کی جی ڈی پی 5.7بلین ڈالر ہے سی ایم آر مائیکل انسٹیٹیوٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ یہ اعداد شمار صحیح ہیں تو زامبیہ پر کل 14.7بلین ڈالر کا قرضہ ہو سکتا ہے ۔ جس میں چینی قرض 44فیصدی ہے ۔ ادھر پاکستان کی مالی حالت خراب ہے وہاں بی آر ائی کے علاوہ چین پاکستانی مالیاتی کوری ڈور چلا رہاہے۔ایک ایوام کے چیف مالی مشیر ڈی کے سری واستو کہتے ہیں چین زبردست طریقے سے ادھا ردیتا ہے وہ بھی غریب ملکوں کو یہ ان ملکوں کے لئے زیاد ہ پریشانیاں اور چنوتیاں پیدا کرتا ہے جو بی آر آئی میں شامل ہیں سو دیشی جاگرن منچ کے قومی نائب کنوینر اشونی مہاجن کہتے ہیں کہ ہم گہرائی سے جائزر لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ چین کے ذریعے چلائے جار ہے پروجیکٹ سبھی چین پر مرکوز ہے اور یہ کمپنیاں عام طور پر چینی حکومت کی بالا دستی میں ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !
کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...