Translater

12 ستمبر 2020

آکسفورڈ ویکسین سے دنیا بھر کو بہت امید تھی !

کورونا انفیکشن دن بدن بڑھتا جا رہا ہے بھارت میں ایک دن میں کووڈ19کے سب سے زیادہ 95735مریض سامنے آنے سے کل مریضوں کی تعداد 44لاکھ سے پار ہو گئی ہم بہت تیزی سے دنیا میں کورونا انفیکشن کے معاملے میں نمبر ون ہونے جا رہے ہیں اسی دوران پوری دنیا کو کورونا ویکسین کا بے صبری سے انتظار تھا ہمیں بہت امید تھی کہ کیا آکسفورڈ کورونا ویکسین آنے والی ہے شاید اس سے کورونا انفیکشن رک جائے لیکن ہماری امیدوں کو فی الحال جھٹکا لگا ہے ۔برطانیہ میں ایک شخص کے سنگین طور سے بیمار ہونے کے بعد آکسفورڈ کی کورونا ویکسین کو وی شیڈ کے تیسرے مرحلے کا نتیجہ دنیا بھر میں روک دیا گیا ہے ۔برطانیہ میں ٹی کے کے مضر اثرات کی جانکاری نہ دینے کے سبب بھارت میں اس ویکسین میں تیسرے مرحلے کا تجربہ کر رہے پونے کے انسٹی ٹیوٹ کو ڈرگ کنٹرورل جنرل آف انڈیا نے نوٹس جاری کیا ہے اس کے جواب میں سیرم نے کہا کہ وہ بڑی دوا کے قواعدی ہدایت کی تعمیل کریں گے ویکسین بنا رہی فارمہ کمپنی ایسٹرا جنیکا کے مطابق والنٹریر کو ٹی کے کے سائڈ ایفکٹ ہوا تھا اس کی جانچ جاری ہے ۔حالانکہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے انسانوں پر تجربے میں نتیجے اچھے ملے تھے ۔تیسرے مرحلے میں برطانیہ ،برازیل ،ساﺅتھ افریکہ ،اور بھارت میں 30ہزار لوگوں پر تجربے کئے جا رہے ہیں کمپنی نے ایک بیان جا ری کر کہا کہ یہ معمولاتی رکاوٹ ہے ۔کیونکہ تجربے میں شامل شخص کی بیماری کے بارے میں ابھی کچھ زیادہ پتہ نہیں چل پایا اس کی آزادانہ طور سے جائزہ لیا جائے گا ۔اس کے بعد ہی تجربہ پھر سے شروع ہوگا ۔بڑے وسیع پیمانے پر ہونے والے تجربے سے کوئی بیماری سے نمٹنے کا امکان نہیں ہوتا لیکن اس کا جائزہ آزادانہ طور سے ہونا چاہیے ۔ہم ویکسین کی سیکورٹ ڈاٹا کی جانچ کر رہے ہیں ۔میڈیکل سیکٹر میں غلطی کا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔پہلے بھی اسٹڈی روکی گئی غیر متوقہ کارروائی کی جانچ کرنا سیکورٹ تجرے کا ضروری حصہ ہے سائنس میں ناکامی میں کوئی نہ کوئی کامیابی چھپی ہوتی ہے ۔ہو سکتا ہے ویکسین میں جو کمی اجاگر ہوئی ہے وہ ڈیولپ ہو کر ہمارے سامنے آجائے ملٹی نیشنل ایسٹرا جینکا کمپنی سے دنیا بھر میں لوگ خوشخبری امید لگائے بیٹھے تھے لیکن کمپنی نے اپنے آخری مرحلے کے ویکسین تجربے کو روک لیا ہے ۔اُدھر بھارت میں پلازمہ تھریپی کو رام بان مانا جا رہا تھا دہلی ممبئی ،اور کچھ دیگر شہروں میں پلازمہ بینک بھی بن گئے تھے ۔لیکن آئی سی ایم آر نے علاج کو بہت کارگر نہیں مانا ،دیش کے 39اسپتال میں کئے گئے مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تھریپی سبھی میں یکساں طور سے کام نہیں کرتی صرف 13.6فیصد لوگوں کی جان نہیں بچ پائی اس لئے پختہ نہیں مانا جا سکتا کہ دنیا بھر کے لوگ یہی چاہیں گے جو دوا سامنے آئے وہ 16آنے کارگر ہو کر سامنے آئے ۔ (انل نریندر)

سوشانت کی موت کے 84دن بعد گرل فرینڈ گرفتار !

بالی اوڈ ادا کار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے 84ویں دن بعد ان سے جڑے ڈرگس کیس میں سوشانت کی گرل فرینڈ کو منگل کے روز گرفتار کرلیا گیا تھا نارکوٹیکس کنٹرول بیرو نے ان سے تین دن چلی 20گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرلیا گیا اور ڈرگس سینڈیکٹ کا حصہ بتایا۔ این سی بی کا الزام ہے کہ معاملہ سے وابستہ جو ڈرگس ڈیل ہوئی ہے اسکو ریا نے فائیننس کیا ہے عدالت نے اسکو جو ڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا ہے ڈرگس سے جڑے ریا چکرورتی اور ان کے بھائی شووک اور کئی دیگر لوگ وائسٹ ایپ چیٹ لیک ہونے کے بعدنارکوٹکس کنٹرول بیورو نے ڈرگ اینگل سے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے ،ریا چکرورتی پر این سی بی نے سنگین الزام لگائے ہیں اور کہا کہ وہ ڈرگس سنڈ یکٹ کی سرگرم ممبر ہے اور کافی عرصے سے نشیلی سامان کے لین دین میں ملوث تھی یہی وجہ رہی کہ این سی بی کورٹ نے ان کی ضمانت عرجی خارج کر دی این سی بی نے صاف کہا کہ وہ (ریا)ڈرگس خریدنے اور بیچنے کے لئے پیسوں کا لین دین کر رہی تھی اس نے خود بتایا کہ وہ بھائی شووک چکرورتی ہاﺅس منیجر سیمول مرانڈا ،دیپش ساونت کو ڈرگس مانگنے اور پیسے پہنچانے کےلئے ہدایت دیتی تھی دیپش ،شووگ کو این سی بی نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا ریا نے مانا ہے کہ وہ سوشانت کے لئے ڈرگس کی خرید کر رہی تھی ۔جبکہ سوشانت کے اسٹافر دیپیش نے بتایا کہ سوشانت اور ریا ڈرگس کےلئے اسے پیسے دیا کرتے تھے بے شک ریا چکرور تی کی سوشانت کیس میں اب تک کی سب سے بڑی گرفتاری ہوئی ہے اس سے جانچ ایجنسیوں پر بھی دباﺅ بڑھ گیا ہے ۔اور اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کیس کو فیصلہ کن منزل تک لے جائےں ظاہر ہے کہ این سی بی کی جانچ ممبئی کی گلیمر دنیا کے کئی کرداروں کے لئے بھی مصیبت بن سکتی ہے جو لوگ اداکارہ کنگا رناوت دی گئی وائی سیکورٹی کا اشو بنا رہے ہیں دراصل وہ یہ نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ حالت مہاراشٹر سرکار کے رویے سے پیدا ہوئی ہے جس نے جانے انجانے میں سوشانت کی موت کی جانچ معاملے میں خود کے رول کو مشتبہ بنا دیا ہے تو دوسری طرف بہار اسمبلی چناﺅ کے وقت وہاں حکمراں جنتا دل یو اور بھاجپا کو ایک بڑا اشو مل گیا ہے سوشانت نے خودکشی کی تھی یا اس کا مڈر ہوا تھا اسی کو لے کر جانچ شروع ہوئی تھی اس کے نتیجے پر تو پہنچے نہیں لیکن یہ ڈرگس کے چکر میں پڑ گئے این سی بی کو اب عدالت میں ریا پر لگے الزامات کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے پوری طرح سے ثابت کرنا ہوگا ۔ (انل نریندر)

11 ستمبر 2020

45برس میں پہلی بار چلی گولیاں !

چین نے ایک مرتبہ پھر اپنے قول سے برعکس کام کرنے کی حماقت کی ہے ۔پہلے 29-30اگست کو لداخ کے پین گونگ علاقہ میں اس نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی تھی اب واقعہ کے دس دن کے اندر ہی اس نے ایل اے سی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ہندوستانی جوانوں کے روکنے پر فائرنگ بھی کی تھی ۔سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان ایل اے سی پر 45برس میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب محافظوں نے ہتھیاروں کا استعمال کیا ۔چین کی پیپلس لبریشن آرمی (پی ایل اے)نے پیر کو شام قرب چھ بجے لیجانگ لا کے پاس گھسنے کی کوشش کی جس سے ہمارے بہادر جوانوں نے ناکام کردیا ۔حکمت عملی دور سے اہم ان چوٹیوں کو قبضانے کی منشا سے آئے فوجیوں نے اس موقع پر دس سے پندرہ راو¿نڈ ہوائی فائر بھی کئے اس کے بعد پیگونگ جھیل کے پاس یورال کے رجانگلہ میں دونوں دیشوں کی فوجیں آمنے سامنے آگئی ہیں ۔نارتھ میں مخبری چوٹی کے پاس پچاس سے ساٹھ چینی فوجی بھالے اور دھاردار ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے تھے ۔ہندوسانی فوج نے بتایا پی ایل اے فوجیوں نے ایل اے سی سے لگی ہماری چوکی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی پندرہ جون کو گلوان وادی میں چینی فوجیوں نے پتھروں سے حملہ کیا تھا جس میں ہماری بیس جوان شہید ہو گئے تھے ۔آخر کیوں بوکھلایا ہوا ہے چین ۔پنگونگ کے ساو¿تھ محاظ پر بلیک ٹاپ اور ہیلمٹ ٹاپ پر ہندوستانی فوج کی مضبوط پوزیشن کے بعد چین کی چوکی ہندوستانی فائرنگ رینج میں ہے ہندوستانی فوج اوپر ہے اور چینی فوج نیچے ہے اس سے چین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکتی ہے ۔چین کی دراندازی کے راستے بند ہو گئے ہیں یہ اب ہندوستانی فوج کے دبدبہ کا نتیجہ ہے ۔1975کے بعد پہلی بار ایل اے سی پر گولی چلنے سے یہاں کے لوگ دہشت میں ہیں ۔لداخ کے سرحدی گاو¿ں میں کھیتی کرنے والے ساٹھ سالہ کسان سما کہتے ہیں کہ انہوں نے آج تک اتنی بڑی تعداد میں فوجی کبھی نہیں دیکھے اور ہماری مالی تنگی بڑھتی جارہی ہے ۔اس موسم میں ہم جن علاقوں میں مویشی چرانے جاتے تھے وہاں اب کسی کو جانے نہیں دیاجارہا ہے کشمیر سے لداخ جانے والے راستوں پر مسلسل فوج کی گاڑیوں کا قافلہ دیکھا جاسکتا ہے ۔پیر کی شام کے واقعہ سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ چین بھار ت کے ساتھ جنگ کی نیت کے نئے بہانے تلاش رہا ہے ۔تین مہینہ میں یہ تیسرا موقع ہے جب چین نے جارحانہ رخ اپناتے ہوئے دراندازی کی ناکام کوشش کی ہے اس میں کوئی شبہہ نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت چین کی سرحد پر کشیدگی رو ز بروز سنگین شکل اختیار کررہی ہے ۔بھارت کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے بھی بھارت چین سرحد پر حالت کو سنگین بتایا ۔پچھلے 45سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب بھارت چین سرحد پر گولیا ں چلی ہیں ۔یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین اب کافی لمبی تیاری کے ساتھ میدا ن میں اترا ہے اور ٹھیک ویسے ہی حالات پیدا کرنے میں لگاہے جیسا پچھلے 45سال پہلے کے حالات تھے ۔ (انل نریندر)

اب دہلی بن گیاہے منشیات کا ہب!

نشہ کے کاروبار کا مکڑ جال دہلی میں پھیلتا جارہا ہے ۔نوجوان پیڑی سے لیکر عورتوں تک کو اس نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔راجدھانی میں ڈرگس کی کھپت بڑھتی جا رہی ہے دیش کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی نشہ آور چیزوں کی کھیپ دہلی آرہی ہے ۔یہاں سے دوسری ریاستوں میں بھی سپلائی ہو رہی ہے ۔دائرکٹریٹ آف ریونیو انٹیلی جینٹس (ڈی آر آئی )،نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این اسی بی )،دہلی پولیس کی کرائم برانچ کا نارکوٹرکس سیل اور اسپیشل سیل سمیت مقامی پولیس تک مسلسل دھر پکڑ میں لگی ہوئی ہے لیکن راجدھانی میں یہ کالا کاروبار پاو¿ں پھیلاتا جارہا ہے ڈی آر ائی نے نوی ممبئی کے نہاوا شیوا روڈ سے حال ہی میں ایک ہزار کروڑ روپئے مالیت کی ایک سو اکیانوے کلو گرائم ہیروئن پکڑی تفتیش میں سامنے آیا کہ اس کے تار دہلی سے جڑے ہیں ۔دہلی میں امپوٹر سکھا بھاٹیا سمیت تین لوگوں نے یہ کھیپ آہستہ آہستہ پائپوں کے اندر افغانستھان سے منگائی تھی یہ پہلی بار نہیں ہے جب دہلی کے تار بیروں ملک سے جڑے ہیں ۔دسمبر 2019میں این سی بی نے 13سو کروڑ روپئے کے انٹرنیشنل ڈرگس گینگ کا پردہ فاش کر دیا تھا ۔آسٹریلیا سے 57کلو کوکنگ اور 200کلو دوسری قسم کی نشہ آور چیز ضبط کی گئی ہے۔اس معاملے میں پانچ ہندوستانی ایک امریکی اور دو ناجیریائی اور ایک انڈونیشیائی شہری سمیت نو لوگوں کو بھارت میں گرفتار کیا گیا یہ گینگ دہلی این سی آر ،پنجاب ،اتراکھنڈ مہاراشٹر کے علاوہ آسٹریلیا ،کناڈا ،انڈونیشیا ،سری لنکا،کولنبیا ،ملیشیا ،اور نائی جیریا تک پھیلا ہواتھا ۔کرایم برانچ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ راجدھانی اب پنجاب تک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے دہلی میں ہیروئن کی کھیپ منی پور راجستھان ،مدھیہ پردیش ،اترپردیش ،جھارکھنڈ سے آٹی ہے ۔اوروہاں سے پاکستان ،افغانستھان سے اسمگلنگ کی جاتی ہے ۔کوکنگ اسمگلنگ مغربی افریقی ملکوں سے ہوتی ہے ۔جس کی کھیپ ممبئی اور گوا سے دہلی پہونچتی ہے ۔ڈرگس کے اس دھندے میں غیر ملکیوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہیں گانجھے کی اسمگلنگ مغربی بنگال آندھرا پردیش اور تملناڈو کے بارڈ ر کے علاوہ اڑیسہ سے ٹرکوں کے ذریعے دہلی میں آرہی ہے دہلی پولیس نے پچھلے سال کئی بڑی کھیپ پکڑی لیکن وہ ابھی تک اس دھندے کی جڑ وں تک نہیں پہونچ سکیں ۔راجدھانی میں کونکنگ (اسنکیکس )افیم گانجھے کی کافی ڈیمانڈ ہے ۔کوکنگ کافی مہنگی ہے جس کا نشہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اس لئے اسنیکس کے طلبگار زیادہ ہیں ۔گانجھا سب سے سستا ہے کچھ نشیڑی دبائیوں کا استعمال بھی کرتے ہین اب اڑتا پنجاب نہیں ساڈی دہلی بن گئی ہے نشے کا ہب ۔ (انل نریندر)

10 ستمبر 2020

گولیوں سے بھون کر کنر گمن گا قتل!

دہلی کے شہادرا کے جی ٹی وی انکلیب علاقہ میں سنیچر کی رات اسکوٹی سوار بدمعاشوں نے ایک کنر گرو کی اس کے گھر کے باہر گولیاں برسا کر قتل کر دیا ۔متوفی کی شناخت گاو¿ں ڈھور ،پوڑی گڑھوال (اتراکھنڈ)باشندہ ایکتا جوشی 38سال کی شکل میں ہوئی ہے ۔ابتدائی جانچ کے بعد رنجش کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے پولیس حکام کا کہناہے جانچ میں ایکتا کے چیلے میں (ششیہ )تعاون نہیں کررہے ہیں ۔پولیس کے مطابق ایکتا پیدائشی طور پر کنر (ہجڑا)تھی ۔بارہویں کلاس پاس کرنے کے بعد اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ دیاتھا اور دہلی آگئی وہ اپنی گرو انیتا جوشی اور اس کے گود لئے تین بچوں کے ساتھ ڈی ڈی اے جنتا فلیٹ جی ٹی وی انکلیب میں رہتی تھی ۔انیتا نے اعلان کررکھاتھا کہ اس کے بعد وہی گرو بنے گی فی الحال سارا کام وہی سنبھال رہی تھی سارے کنر ایکتا کو ہی اپنا بڑا گرو ماننے لگے تھے ۔سنیچر کی شام انیتا ،اشیش و ایکتا (گرو کے بچے )کسی سے ملنے گئی تھی ۔رات قریب 8:15پر وہ اپنی کار سے گھر پہونچے تو وہاں طاق میں بیٹھے اسکوٹی سوار دو بدمعاشوں نے ایکتا پر چار راو¿نڈ فائرنگ کی تین گولیاں لگنے سے وہ ادھمری ہو گئی اور گر گئی آن فانا ً میں ایکتا کو پاس کے اسپتال لے جایاگیا جہاں سے اسے میکس اسپتال میں ریفر کر دیا گیا اسے وہاں لے جاتے وقت راستے میں اس کی موت ہو گئی ۔واردات گھر میں لگے سی سی ٹی وی کمیروں میں قید ہو گئی جس کی بنیاد پر پولیس ملزمان کی تلاش کررہی ہے ۔اپنے مزاج ،کام کرنے کے طریقے اور خوبصورتی کی وجہ سے ایکتا جوشی نے چند برسوں میں کنر سماج کا دل جیت لیا ہے ۔راجدھانی کے کنر سماج میں تذکرہ ہونے لگاتھا کہ وہ پوری دہلی کے سماج کی گرو بن سکتی ہے ۔پولیس جانچ کررہی ہے کہ کہیں قتل کی اہم وجہ یہ تو نہیںہے اندیشہ یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ سپاری کلنگ تو نہیں ہے اور ایکتا کو راستہ سے ہٹانے کے لئے یہ واردات کی گئی ہو ۔ (انل نریندر)

ایک طرف وہ ،دوسری طرف ہم !

ہندوستانیوں میں اور چینیوں میں کتنا فرق ہے ایک طرف وہ دوسر ی طرف ہم ،اروناچل پردیش کے کانگریس ممبر اسمبلی نیناگ ایرنگ نے پیر کو دعویٰ کیا چین کے فوج نے ریاست کے پانچ لڑکوں کو اغوا کر لیا ہے ۔یہ واقعہ سبن سٹی ضلع کے ناموںعلاقہ کا ہے ان کے مطابق تاگن فرقہ کے کچھ لڑکے جمع کو جنگل میں شکار کے لئے گئے تھے تبھی چینیوں (فوجیوں )نے انہیں یرغمال بنا لیا ۔دو کسی طرح سے بچ کر واپس آئے تو تب جاکر واقعہ کا پتہ چلا پاس ہی دھار سے ممبر اسمبلی ایرنگ نے ٹوئیٹ میں پی ایم او کو ٹیگ کرتے ہوئے مانگ کی کہ چین کی فوج کو منھ توڑ جواب دینا چاہیے پولیس نے واقعہ کی جانچ شروع کر دی ہے پچھلے مارچ میں چین کے فوجیوں نے اکیس سالہ لڑکے کو کنٹرول لائن کے قریب اساپلہ سیکٹرمیں پکڑا تھا اس وقت بھی دو لڑکے کسی طرح بچ نکلے تھے پکڑے گئے لڑکے کو چینی فوج نے 19دن بعد چھوڑ ا تھا اب ہمارے فوجیوں کی سنئیے لداخ سیکٹر میں کشیدگی کے درمیان ہندوستانی فوج نے انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے سکھم کی برفیلی پہاڑیوں میں بھٹکے تین چینی شہریوں کی جان بچائی ہے یہ واقعہ تین ستمبرکا ہے چین کے دو آدمی اور ایک عورت راستہ بھٹکتے ہوئے نارتھ سکھم کے پٹھاری علاقہ میں پھنس گئے تھے قریب 17ہزار 500فٹ کی اونچائی اور صفر سے بھی کم درجہ حرارت پر ان کی زندگی کو خطرہ تھا ان کے پاس آکسیجن ختم ہو چکی تھی جیسے ہی علاقہ میں تعینات ہندوستانی فوجیوں کے جوانوں نے انہیں دیکھا ، وہ فوراً مسیحٰ بن ان کے پاس پہونچے اور مدد پہونچائی انہیں آکسیجن دی جس سے ان کی جانچ بچ سکے پھر میڈیکل ہیلپ کے ساتھ کھانا و گرم کپڑے دئیے گئے ان کے ٹھیک ہونے پر ہندوستانی فوجیوں کے جوانوں نے انہیں صحیح راستہ دکھایا اور راستہ کے لئے مناسب کھانا پینا دیا۔اس کے بعد وہ چینی شہری ہندوستانی فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محفوظ لوٹ گئے یہ فرق ہے ہندوستانیوں میں اور چینیوں میں ۔ (انل نریندر)

راجناتھ کے ایران دورے کی اہمیت !

ماسکو سے لوٹتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اچانک ایران پہونچ کر بھارت سے اس کے باہمی رشتوں میں گرماہٹ بڑھا دی ہے ۔راجدھانی تہران پہونچتے ہی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے ہم منصب ورگیڈئیر جنرل عامر ہاشمی سے بات چیت کو بے حد فائدے مند قرار دیا ہے ۔ان کا ایران جانا ڈپلومیسی کے لحاظ سے بہترین قدم مانا جائیگا ۔فطری طور پر اس ملاقات سے چین اور پاکستان کی بھنویں تن گئی ہوں گی ۔مگر ڈپومیسی کی تقاضہ یہی کہتا ہے کہ اپنے دوست ممالک سے مسلسل بات چیت بنائے رکھنی چاہیے کیونکہ اس سے ہی رشتوں کو نئی تقویت ملتی ہے ۔ایران دورہ ان کا کوئی پہلے سے طے پروگرام نہیں تھا لیکن ایرانی وزیردفاع عامر ہاشمی کی درخواست پر تہران گئے تھے ایسا کرکے بھارت نے ایک بار پھر ایسا پیغام دیا ہے کے اس کے لئے ایران کی اہمیت پہلے ہی جیسی ہے پچھلے کچھ عرصہ میں امریکہ کے دباو¿ میں بھارت کو ایران سے تیل نا خریدنے دوری بنانے کے جس طرح فیصلے کرنے پڑے اس سے دنیا بھر میں یہی پیغام دیا گیا تھا کہ بھارت اور ایران کے رشتہ اب پہلے جیسے نہیں رہ گئے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین سے ایران سے تعلق بڑھانے شروع کر دئیے حال ہی میں ایران نے بھی چین کے دباو¿ میں آکر چاہ بہار ریل پروجیکٹ سے بھارت کو علاحدہ کردیاتھااس سے بھی دونوں ملکوں کے بیچ رشتہ کمزور پڑھنے کے اندیشات تقویت ملنا فطری تھا جبکہ چاہ بہار بندرگاہ کے ڈولپمنٹ میں بھارت اور ایران اتحادی رہے ہیں اب بھارت کے وزیر دفاع ایران دورے سے ایسی سبھی خدشات کو مسترد کر دیا ہے ۔خاص بات یہ رہی ہے کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات خاص درخواست پر ہوئی ہے ۔اس میٹنگ کے سلسلے میں ایک مختصر بیان میں اتوار کو بتایا گیا کہ دونوں وزیر دفاع کی ملاقات بھائی چارہ اور گرم جوشی کے ماحول میں ہوئی دونوں نیتاو¿ں نے بھارت ایران کے صدیوں پرانے تہذیبی اور معاشرتی سے لگاو¿ پر زور دیتے ہوئے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کی بات کی امریکہ کے ساتھ بے حد خراب رشتوں اور اقتصادی پیچیدگیوں کے بعد کچھ وقت پہلے ایران نے اپنے سیاسی و کاروباری مفادات کے لئے چین کے ساتھ بڑھے تعاون کی راہ پر چلنے کا اعلان کیا تھا ایسے میں راجناتھ سنگھ و ہاشمی کی ملاقات کا پیغام یہ بھی ہے کہ بھارت و ایران روایتی دوستی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑیگا ویسے بھی راجناتھ سنگھ کا ایران دورہ کرنا اور افغانستھا ن کے حالات اور خیلج فارس کی حفاظتی چنوتیوں سے وابستہ اہم ترین مسئلوں پر تبادلہ خیال کرنا بے حد سمجھداری بھرا قدم مانا جائے گا ۔راجناتھ سنگھ کا ایران دورہ بھلے بے حد مختصر ہو لیکن چین کے ساتھ ایران کی کاروباری نزدیکیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت کو حکمت عملی بنانی چاہیے ۔بھارت نے ایسا ہی کیا ہے کیوں کہ کچھ برس پہلے تک ایران بھارت کو تیل سپلائی کرنے والے بڑے تین ملکوں میں شامل ہے لہذابھارت کو ایران سے رشتہ بہتر رکھنے ہی ہوں گے ۔اس لئے اس دررے سے دونوں ملکوں کو ہی فائدہ ہوگا ۔ (انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...