Translater

12 اکتوبر 2019

کشمیر میں 66ویں دن بھی عام زندگی بدستور ٹھپ

جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آٹیکل 370کے زیادہ تر تقاضوں کو منسوخ کرنے اور جموں کشمیر و لداخ کو مرکزی حکمراں ریاست بنانے کے بعد سے صوبے میں حالات ابھی تک پٹری پر نہیں لوٹ پائے ہیں ۔مرکزی سرکار کے پانچ اگست کے اس فیصلے کے بعد سے ہی کشمیر لاک ڈاﺅن کی حالت میں ہے ۔جموں و کشمیر کے بڑے بازار بند رہنے اور پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بسوں ،گاڑیوں کے سڑکوں سے ندارت رہنے کی وجہ سے 66ویں دن بھی عام زندگی ٹھپ ہے ۔اور حالات بہتر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ۔کشمیر میں عائد پابندیاں بستور جاری ہیں ریاست کے زیادہ تر حصوں میں موبائل سروس اور سبھی انٹر نیٹ سرویسز پانچ اگست سے ہی معتطل ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی سمیت کئی بڑے لیڈر اب بھی نظر بند ہیں ۔امریکہ کی ایک پارلیمانی کمیٹی ،اور غیر ملکی امور سے متعلق کمیٹی نے پیر کے روز دورہ کر کے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ کشمیر میں کمیو نیکیشن پر پابندیوں کی وجہ سے کشمیر یوں کی زندگی اور بہبودی پر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے ٹوئٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ بھارت یہ پابندیاں ہٹائے اور کشمیریوں کو بھی وہی حقوق اور سہولیات دی جائیں جو دیگر ہندوستانیوں کوحاصل ہی ۔ہندوستانی نزاد امریکی ایم پی پریملا جے پال سمیت چودہ امریکی ممبران پارلیمنٹ نے ایک ماہ پہلے وزیرا عظم نریندر مودی سے کشمیر میں انسانی حقوق کے حالات پر پیدا ہو رہی تشویشات کو دور کرنے اور کمیو نی کیشن سروسز کو بحال کرنے کی درخواست کی تھی ۔بہرحال ایک مہینے بعد امریکہ کی ہاﺅس آف فارن افئیرس کمیٹی کا یہ بیان آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ سمیت باقی دنیا کو کشمیر میں جاری پابندیوں پر اعتراض ہونا شروع ہو گیا ہے اس سے دنیا میں مودی سرکار کی ساکھ خراب ہو رہی ہے ۔بے شک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ابھی تک دنیا بھر سے وہ ہمایت نہیں ملی جس کی ان کو امید تھی لیکن پانچ اگست سے ہی کشمیر میں چلی آرہی پابندیوں پراب دنیا کی رائے بدل رہی ہے جو سوال پوچھا جا رہا وہ یہ ہے کہ آخر کب یہ لاک ڈاﺅن جاری رہے گا؟کسی نہ کسی دن تو اسے اُٹھانا ہی پڑے گا اسے ختم کرنے سے کشمیر میں کیا حالات بنتے ہیں یہ سبھی کے لئے باعث تشویش بنا ہوا ہے ۔ہاﺅ س آف فارن افیر س کمیٹی کے ایشیائی و نیوکلیائی عدم توسیع سب کمیٹی 22اکتوبر کو کشمیر اور ساﺅتھ ایشیا ءکے دیگر حصوں میں انسانی حقوق کے معاملوں پر سماعت کرئے گی ۔جموں وکشمیر میں پانچ اگست کے بعد سے لے کر دس سال تک کے 144بچوں کو پولس کے ذریعہ گرفتار کیا گیا تھا جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی اطفال انصاف کمیٹی یعنی جیو نائل جسٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی پیش رپورٹ میں کہا کہ کشمیر میں 144بچوں کو گرفتا ر کیا گیا ۔حالانکہ انہوںنے اس بات سے انکار کیا کہ انہیں ناجائز طریقہ سے اُٹھایا گیا ۔یہ رپورٹ جے کے ہائی کورٹ کی جیو نائل جسٹس کمیٹی ریاستی پولس اور یونی فائٹ اطفال تحفظ خدمات سے حاصل پینل کے اعداد و شمار پر مبنی ہے ۔

(انل نریندر)

پاکستان اور چین کی دوستی اٹوٹ چٹان جیسی مضبوط:جن پنگ

وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ جمعہ کو بھارت تشریف لے آئے ہیں یہ ان کی غیر رسمی ملاقات چنئی کے مہا بلی پورم میں ہوئی ۔تمل ناڈو میں خلیج بنگال کے کنارے بسے مہابلی پورم شہر چنئی سے قریب 60کلو میٹر کی دوری پر ہے ۔اس شہر کا چین سے دو ہزار سال پرانا رشتہ رہا ہے ۔اس شہر کا وجود مذہبی مقاصد سے ساتویں صدی میں پلو نسل کے راجہ نرسنگ دیو برمن نے قائم کرایا تھا ۔چونکہ نرسم دیو کو ماملل بھی کہا جاتا تھا اس لئے اسے ما مللا پورم کے نام بھی جانا جاتا ہے ۔یہاں کی تحقیق کے دوران چین ،فارس،اور روم کے قدیمی سکے بھی بڑی تعداد میں ملے ہیں ۔مہا بلی پورم کا قریب دو ہزار سال پہلے چین سے خاص رشتہ رہا تھا ۔یہیں کانچی پورم میں ساتویں صدی میں پلب حکومت کے دوران چینی مسافر ہینن سانگ آئے تھے دونوں نیتاﺅں نریندر مودی اور شی کے درمیان یہ دوسری غیر رسمی ملاقات کئی معنوں میں تاریخی مانی جائے گی کیونکہ ایسی بات چیت ریکارڈ میں درج نہیں کی جاسکتی اس لئے میٹنگ میں دونوں نیتا ڈپلومیٹک دائروں کو توڑ کر کشمیر ،بھارت چین سرحدی تنازعہ اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے )میں چینی سرمایہ کاری جیسے امور پر کھل کر بات کر سکتے ہیں ۔اس کی پہلی جھلک اگست 2018میں بوہان سمٹ میں دیکھنے کو مل چکی ہے ۔تب دونوں دیشوں کے درمیان ڈوکلام تنازعہ چل رہا تھا اس مسئلے پر مودی اور جن پنگ نے کھل کر بات چیت کی تھی ۔دونوں نیتاﺅں کے درمیان دہشتگردی ،ٹیرر فنڈنگ ،اشتراک اور سورسنگ پر بات چیت ہوئی بتائی جاتی ہے ۔پچھلے پانچ برس میں مودی اور جن پنگ کے درمیان دس سے زیادہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور اس سال میں یہ تیسری ملاقات اور اب تک کی دوسری غیر رسمی ملاقات ہے ۔مہابلی پورم میں دونون نیتاﺅں کی یہ ملاقات ہوہان سمٹ کی ہی توسیع ہے جو دونوں دیشوں کے درمیان بحالی اعتماد کی سمت میں اچھا اشارہ ہے اس ملاقات کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جنگ پنگ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو دورے چین کے فوراًتشریف لائے ہیں ۔صدر جنگ پنگ نے بدھوار کو وزیر اعظم عمران خان کو باور کیا بین الا اقوامی اور علاقائی حالات میں تبدیلی کے باوجود چین اور پاکستان کی دوستی اٹوٹ اور چٹان جیسی مضبوط ہے ۔شی نے بیجنگ کے سرکاری مہمان خانے میں عمران خان سے ملاقات کے بعد یہ خیال ظاہر کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ چین او ر پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے تعاون بنا رہا ہے ۔چینی صدر نے کہا کہ نئے دور میں ساجھا مستقبل والا چین اور پاکستان کمیٹی قائم کرنے کی خاطر وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں شی نے چین اور پاکستان کو ہمیشہ کے لئے ایک حکمت عملی اشتراک والا ساتھی بتایا اور کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بین الا اقوامی علاقائی حالات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں ۔چین اور پاکستان کے مابین دوستی کی تاریخ اور پرانا تجربہ یہ بتاتا کہ چین کی کسی بات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا وہ جب چاہے اور جہاں چاہے اپنا موقوف بدل لیتا ہے ۔موجودہ پس منظر میں وزیر اعظم نریندر مودی جنگ پنگ کو کس طرح ہینڈل کرتے ہیں یہ چلینج سے کم نہیں ۔کشمیر میں دفعہ 370ہٹانے کے اشو چین کئی مرتبہ متزاد موقف بدل چکا ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں لیڈوں کے درمیان یہ بات چیت اچھے نتائج دے گی ۔

(انل نریندر)

11 اکتوبر 2019

وزیر اعظم مودی کو کھلا خط لکھنے والوں پر بغاوت کا الزام؟

دیش میں ماب لنچنگ (ہجومی مار پیٹ)کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم کو لکھے کھلے خط کو لے کر بہار کے مظفر پور میں 49فنکاروں ،دانشوروں کے خلاف ایک عدالت کے حکم پر بغاوت کا مقدمہ درج ہوا ہے ۔اس کی جانکاری پولس نے دی ہے ۔ضلع پولس افسران کے مطابق یہ معاملہ مقامی عدالت کے حکم پر صدر پولس تھانے میں درج کیا گیا ہے ۔سرکار وکیل ایس کے اوجھا نے چیف چوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس پر سماعت کے بعد ان سلیبریٹیز پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ۔اس میں پچاس فنکاروں کے نام ملز م کے طور پر شامل کئے گئے ہیں ۔جس میں ان کے ذریعہ مبنیہ طور پر دیش کی ساکھ کو ملیا میٹ کرنے اور وزیر اعظم کے با اثر پرفارمینس کو کمزور کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔اس کے ساتھ ہی عرضیوں میں ان کے ذریعہ علیحدگی پسند کرتوت کی حمایت کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے ۔23جولائی کو لکھے گئے اس خط میں ان لوگوں نے مانگ کی کہ ایسے معاملوں میں جلد سے جلد سخت سزا رکھی جائے اداکارہ کونکنا سین ہدایت کار منی رتنم ،اپرنا سین ،شام بینگل رام چندر گپتا اور دیگر ستارروں کے خلاف مقدمہ درج ہونا جمہوری حق پر ایک بڑا داغ ہے ۔حق اور آزادی کو لے کر اکثر پوری دنیا میں ہندوستانی جمہوریت کی مثال دی جاتی ہے ۔ہجومی مار پیٹ پر تشویش جتانے والوں کو اس طرح پہلی بار ملزم مان لینا ایک جمہوری سماج کی شکل میں ہماری ساکھ کو بھاری نقصان پہنچائے گا ۔بھیڑ کے ذریعہ بے قصوروں کو مار دینے کے خلاف آواز اُٹھانا کہاں سے ملک سے بغاوت کا معاملہ بنتا ہے ؟بھیڑ کے تشدد پر تشویش جتانے والوں کو پہلی نظر میں ملزم مان لینا ایک جمہوری سماج میں بھارت کی ساکھ کو بھاری نقصان پہنچے گا ۔آخر بھارت کیسی جمہوریت ہے جس میں کسی برنگ اشو کی طرف توجہ مرکوز کرانا بھی جرم سمجھا جاتا ہے سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ شہریوں کو دیش کے چیف سے سیدھی بات چیت کر سکیں کیا اتنا حق بھی نہیں ہے ان فنکاروں دانشوروں نے اس طرف پی ایم کی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کی تھی کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ سرکار اس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بتاتی اور وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لے سرگرم ہے ۔اگست میں دائر میں اس عرضی پر چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے حکم پر پچھلے جمعرات کو جو ایف آئی آر درج ہوئی ہے جس میں خط لکھنے والوں پر ملک سے بغاوت گڑبڑ اور امن کو بھنگ کرنے کے ارادے سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں ۔جب اس پر ہنگامہ کھڑا ہوا تو بہار حکومت کو صفائی دینی پڑی کہ اس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔سوال عرضی دائر ہونے پر نہیں مقامی عدالت کے ذریعہ اُس کو سماعت کے لئے منظور کرنے پر ہے ۔کیا ایسا کرتے ہوئے ہندوستان کے آئین کے تقاضوں کو دھیان میں رکھا گیا ہے ؟اس کو درست کرنے کے لئے اب بڑی عدالت کو ہی آگے آکر معاملے میں کچھ کرنا ہوگا۔

(انل نریندر)

رفال بھارت کےلئے گیم چینجر ثابت ہوگا !

دشمن کے لئے خطرناک مانا جانے والا جنگی جہاز رفال دسہرے پر بھارت کو مل گیا ہے ۔فرانس کے میٹی نیک ائیر بیس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی موجودگی میں کمپنی ڈیسو ایوی ایشن نے اسے ہندوستانی ائیر فورس کو حوالے کیا اس موقعہ پر وزیر دفاع نے رفال (آر بی 001)جنگی جہاز کی پوجا کی ۔اور اس پر ڈیفنس دھاگہ باندھنے کے ساتھ ہی ناریل پھول اور مٹھائی چڑھائی اور ٹائروں کے نیچے نیمبو رکھے انہوں نے ستر منٹ تک فرانسیسی پائلٹ کے ساتھ جنگی جہاز رفال میں پرواز بھی کی ۔ایک رفال جہاز پاکستان کے دو ایف 16جنگی جہازوں سے اکیلا نمٹ سکتا ہے ۔600کلو میٹر تک مار کرنے والی میزائل اس جہاز میں لگی ہے ۔رفال اُڑا چکے فرانسیسی ڈیفنس ماہر بریسٹ نے بتایا کہ بھارت کو مل رہا رفال عام رفال جہاز نہیں ہے اسے موڈیفائی کیا گیاہے اس میں لگی اسکیلپ میزائل نایاب ہے ۔چھ سو کلو میٹر تک مار کرنے والی 1300کلو وزنی میزائل اسکیپ نے رفال راجستھان سے ہی پاکستان کے کرانچی جیسے دوسرے بڑے شہر کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔جہاز کمپنی ڈیسو نے بتایا کہ رفال جنگی جہاز میں ہندوستانی ضروریات کے حساب سے تیرہ بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں اس میں ایکساتھ سات میزائلیں رکھی جا سکتی ہیں ۔اس بارے میں زیادہ جانکاری دینا صحیح نہیں ہوگا فرانس کے پاس اس وقت 180رفال جہاز ہیں ہم 36خرید رہے ہیں اس کے علاوہ مصر اور قطر بھی 24-24جہاز خرید چکے ہیں ۔مئی 2020تک مزید چار رفال جنگی جہاز بھارت آجائیں گے ۔وجے دشمی اور ہندوستانی ائیر فورس کے 87ویں یوم تاسیس پر فرانس سے رفال بھارت کو ملنا دیش کی نئی بڑھتی طاقت کی ہی نشاندہی کرتا ہے ۔دراصل رفال کی سپلائی میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے معاہدے کو لے کر بڑی سیاست ہوئی تھی اور معاہدے کو سپریم کورٹ تک کھینچا گیا جس نے آخر کار مختلف مفاد عامہ کی عرضیوں کو نمٹاتے ہوئے رفال سودے کو ہری جھنڈی دکھائی تھی ۔بے شک سیاسی طور سے رفال سودے کی شرائط پر تنازعہ کھڑا رہا اور اس کی صلاحیت پر بھی کبھی کسی کو شبہ نہیں رہا ۔موجودہ پس منظر میں دو انجن والے رفال جنگی جہاز کو پاکستان اور چین کی امکانی دہری چنوتی کا کارگر جواب مانا جا رہا ہے رفال کو اسکی راڈار بھیدی صلاحیت کے سبب 4.5پیڑھی کے جنگی جہاز کی شکل میں کلاسی فائی کیا گیا ہے جبکہ ائیر فور س کے موجودہ زیادہ تر جہاز جن میں مراج 2000اور ایس یو 30ایم کے آئی شامل ہیں ۔تیسری یا چوتھی کے پیڑھی کے جنگی جہاز ہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ حقیقت میں اس سیکٹر میں رفال جیسی صلاحیت والا جہاز کسی اور ملک کے پاس نہیں ہے ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ رفال کے ہندوستانی فوج کے بیڑے میں شامل ہونے سے انڈین ائر فورس کی مار کرنے کی صلاحیت اور خطرناک ہو جائے گی اور یہ ساﺅتھ ایشیا کی زمینی سیاست میں گیم چینچر ثابت ہوگا ائیر فورس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی حالت سے نمٹنے کے لئے ہمیشہ تیا رہے ۔

(انل نریندر)

10 اکتوبر 2019

کالے دھن کے خلاف لڑائی میں بھارت کو بڑی کامیابی ملی ہے

بھارت کو اطلاعات کے خود کار آدان پردان (اے ای او آئی)کے نئے مستقل نظام کے تحت کالے دھن کے خلاف لڑائی میں نئی کامیابی ملی ہے ۔دونوں ملکوں بھارت اور سوئزلینڈ کے درمیان اطلاعات کے خود کار طریقہ سے آدان پردان کے اس نظام سے بھارت کو غیر ملکوں میں اپنے شہریوں کے ذریعہ جمع کرائے گئے کالے دھن کے خلاف لڑائی میں کافی مدد ملے گی ۔سوئز لینڈ کی انتظامیہ نے 75ملکوں کو اے ای او آئی کے عالمی اصولوں کے تحت مالی کھاتوں کا بیورا فراہم کیا ہے ۔جن میں بھارت بھی شامل ہے ۔ایف ٹی اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ بھارت کو پہلی بار ای او آئی کے تحت کھاتوں کی جانکاری فراہم کی گئی ہے ۔ان میں ان کھاتوں کی اطلاع دی جائے گی جو ابھی چل رہے ہیں ۔اس کے علاوہ ان کھاتوں کا بیورا بھی دیا جائے گا جو 2018میں بند کئے جا چکے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ اس انتظام کے تحت اگلی جانکاری ستمبر 2020میں ساجھا کی جائے گی ۔ایف ٹی اے نے حالانکہ باہر سے جڑی کسی خاص جانکاری کو دینے سے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ یہ خفیہ سے جڑا معاملہ ہے ۔تقریباً100سے زیادہ ایسے کھاتوں کی جانکاری ملی ہے جنہوں نے 2018سے پہلے سوئز بینکوں میں اپنا کھاتہ بند کرا دیا تھا ۔ان لوگوں میں گاڑی ،کیمیکل،کپڑا،بلڈنگ تعمیر،اسٹیل مصنوعات،اور جویلری سے جڑے بڑے بڑے بیوپاریوں کے نام شامل ہیں ۔کل ملا کر اے ایف ٹی اے نے بھاگیدار ممالک کو 31لاکھ مالی کھاتوں کی جانکاری ساجھا کی ہے ۔وہیں سوئزلینڈ کو قریب 24لاکھ کھاتوں کی جانکاری حاصل ہوئی ہے ۔ساجھا کی گئی اطلاع کے تحت پہچان ،کھاتہ اور مالی اطلاع شامل ہے ۔سوئز بینک میں پیسہ جمع کرنے والے ممالک کی فہرست میں بھارت دنیا بھر میں 74ویں پائیدان پر ہے ۔جبکہ برٹین کا پہلا مقام ہے ۔دوسرے مقام پر امریکہ ،تیسرے مقام پر ویسٹ انڈیز ،چوتھے پر فرانس ،اور پانچوے مقام پر ہانگ کانگ ہے۔ان بینکوں میں جمع پچاس فیصد سے زیادہ رقم انہیں پانچوں ملکوں کے لوگوں کی ہے ۔کئی بینک افسران اور لیازن افسران نے نام مخفی رکھنے کی شرط کے ساتھ کہا کہ خاص کر کے ساﺅتھ ایسٹ ایشیائی دیشوں ،امریکہ ،برٹین،کچھ افریقی دیشوں اور ساﺅتھ امریکی دیشوں میں رہ رہے غیر مقیم بھارتیوں سمیت کارو باریوں سے متعلق رقم ہے ۔ابھی پوری طرح سے خفیہ رہے سوئس بینک کھاتوں کے خلاف عالمی سطح پر شروع ہوئی مہم کے بعد ہی ان کھاتوں سے بڑے پیمانے پر پیسے نکالے گئے اور کئی کھاتے بند ہو گئے ۔جانکاری میں ان کھاتوں کی بھی اطلاع شامل ہے جنہیں 2018میں بند کر دیا گیا ۔سوئز بینک سے موصول جانکاریوں کی جانچ میں ان جانکاریوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے جو سیاسی رابطہ رکھنے والے لوگوں سے متعلق ہیں ۔سوئس نیشنل بینک کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق سوئس بینک میں بھارتیوں کے ذریعہ جمع رقم 2018میں لگ بھگ چھ فیصدی گھٹ کر 6757کروڑ روپئے رہی تھی ۔گذشتہ دو دہائیوں میں جمع رقم کی یہ دوسری بڑی سطح ہے ۔بے شک موصول جانکاریوں سے ہمیں پوری جانکاری ابھی حاصل نہیں ہو سکی لیکن یہ ایک اچھی شروعات ہے یہ دکھاتا ہے کہ بھارت سرکار غیر ممالک میں جمع رقم کی جانکاری لینے کو تیار ہے اور کالے دھن کی لڑائی میں یہ کامیاب قدم مانا جائے گا ۔

(انل نریندر)

نجی آزادی و قومی تحفظ میں توازن

سپریم کورٹ نے منگلوار کو کہا کہ جموں و کشمیر کو وہاں کی جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370کی زیادہ تر گنجائشات ختم کرنے کے فیصلے کو چنوتی دینے والی اپیلوں پر 14نومبر سے سنوائی کی جائے گی ۔جسٹس این وی رمنا کی صدارت والی پانچ ممبری آئینی بنچ نے آرٹیکل 370کی زیادہ تر گنجائشات ختم کرنے کے فیصلے کی آئینی جواز کو چنوتی دینے والی تمام اپیلوں پر مرکز اور جموں و کشمیر انتظامیہ کو اپنا جواب داخل کرنے کے لئے تھوڑی راحت دیتے ہوئے چار ہفتے کا وقت دیا۔سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 370کی زیادہ تر گنجائشات ختم کرنے کے بعد کشمیر گھاٹی میں لگی پابندیوں کے مدعے پر کہا کہ نجی آزادی اور قومی تحفظ کے درمیان توازن بنانا ہوگا۔جسٹس این وی رمنا ،جسٹس آرسبھاش ریری اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے یہ بات اس وقت کی جب جموں و کشمیر انتظامیہ نے کہا کہ گھاٹی میں فون کی سو فیصد لائنیں کام کر رہی ہیں اور دن کے دوران لوگوں کے آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ گھاٹی میں اگر موبائل اور انٹر نیٹ سہولیات بحال کی گی تو سرحد پار سے فرضی وہاٹس ایپ پیغامات شروع ہو جائیں گے اور یہاں تشدد بھڑ ک سکتا ہے ۔کشمیر ٹائمس کے ایگزگیٹو ایڈیٹر ........،سماجی کارکن تحسین پونا والا ،اور فاﺅنڈیشن آف انڈیا کے صدر پرنو گوہا ٹھاکر تا سمیت بہت سے اپیل کنندگان نے دعوی کیا ہے کہ کشمیر میں کمیونی کیشن کا نظام پوری طرح ٹھپ ہے اور صحافیوں کے آنے جانے پر پابندی ہے ۔بنچ نے گھاٹی میں پابندیوں سے متعلق 9اپیلوں پر سنوائی کرتے ہوئے کہا کہ ''نجی آزادی اور قومی تحفظ کے درمیان توازن بنانا ہوگا''۔اس سے پہلے سنوائی شروع ہوتے ہی عدالت عظمی نے بھاکپا سیکریٹری جنرل سیتا رام یچوری کی اپیل پر کہا کہ یہ ہےبس کارپس اپیل تھی اور انہیں عدالت نے راحت دی ہے ۔یہ ایک محدود مدعہ کے بارے میں تھی اب آپ اور کیا چاہتے ہیں ؟یچوری کے وکیل راجیو رام چندرن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تاریگامی کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا جائے یا پھر پانچ اگست کے بعد انہیں حراست میں رکھنے کو قانونی ٹھہرانے کے لئے افسران سے کہا جاے ۔اس پر بنچ نے کہا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ بہتر ڈھنگ سے کام کر رہی ہے ۔اور اپیل کنندہ راحت کےلئے وہاں جا سکتے ہیں ۔اسی سے متعلق ایک دیگر معاملے میں کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی جانب سے سینئر وکیل .......نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق یہ نیتا کشمیر گیا تھا ان کی اپیل پر پہلے کی گئی گزارش پر عمل ہو چکا ہے ۔احمدی نے کہا کہ ان کی دیگر گزارش ابھی بھی باقی ہیں اور افسران کو عدالت کو بتانا چاہیے کہ قانون کی کن گنجائشات کے تحت گھاٹی میں لوگوں کے آنے جانے پر پابندی لگائی گئی ہے ۔جہاں یہ اہم ہے کہ نجی آزادی بے شک اہم ہے وہیں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قومی تحفظ سے اس کے لئے سمجھوتہ نہ کریں ۔قومی تحفظ سے سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے سرکار کو نجی آزادی کے درمیان توازن بنانا ہوگا ۔یہ بہت ہی ضروری ہے کہ کشمیر کے جن علاقوں میں صورتحال ابھی بھی معمول پر نہیں آئی ہے اُس میں کیسے سدھار ہو سکتاہے ؟آخر کتنے دنوں تک سرکار لاک ڈاﺅن جا ری رکھ سکتی ہے ؟

(انل نریندر)

09 اکتوبر 2019

کانگریس پارٹی کی حالت بہت ہی افسوس ناک ہے

پارٹی صدر کے عہدے سے راہل گاندھی کے استعفی کے بعد سونیا گاندھی کے ذریعے کانگریس کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ورکروں میں یہ امید جاگی تھی کہ پارٹی میں گٹ بازی تھم جائے گی اور پوری طرح اکھٹا ہو کر سیاست میں اپنے پورے زور شور کے ساتھ کردار نبھایں گے ۔لیکن نہ تو گٹ بازی کم ہوئی اور نہ ہی پارٹی کو مضبوطی ہی مل سکی ۔پارٹی کے اندر دو اثر ڈالنے والے گٹوں کی افواہ اُڑ رہی ہے ایک گٹ سونیا وا ن کے ہمنوا کا ہے تو دوسرا راہل کے قریبیوں کا۔کانگریس صدر کے طور پر سونیا گاندھی کی واپسی کے دو مہینے سے بھی کم وقت میں راہل گاندھی کی جانب سے مقرر کئے گئے بہت سے نیتاﺅں کو ہٹا دیا گیا ہے یا وہ پارٹی سے ناراض ہیں ۔کانگریس سے ناطہ توڑ چکے ہیں ۔اشوک تنور (ہریانہ)سنجے نروپم اور ملند دیوڑا(ممبئی)نوجوت سنگھ سدھو(پنجاب)آدتہ سنگھ (یوپی)اور پردھوت دیو ورمن(تریپورہ)جیسے بہت سے لیڈروں کو راہل نے آگے بڑھایا تھا ۔اس کے لئے کانگریس کے پرانے نیتاﺅں کو نظر انداز کیا گیا تھا ۔تنور ،نروپم اور دیوورمن نے راہل کے وفاداروں کو حاشیے پر رکھنے کی شکایت عوامی طور پر کی ہے ۔کانگریس کے دھڑوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ راہل ان لیڈروں کی کمزور ہوتی صورتحال کی مخالفت کرنے کے لئے سیدھے یا باالواسطہ طریقہ سے کچھ نہیں کر رہے ۔ہریانہ اور مہاراشٹر میں اسی مہینے اسمبلی چناﺅ ہیں اور ایسے میں راہل کے غیر ملک جانے کی رپورٹ ہیں ۔راہل کے وارث کی کھوج پر نوجوان اور پرانے لیڈروں کے درمیان تنازعہ کا اثر پڑنے کی تشویش حقیقی ہے ۔کیپٹن امریندر سنگھ ،کرن سنگھ،اور ملند دیوڑا کے کانگریس صدر کے طور پر ایک نوجوان اور پر اثر لیڈر کو لانے کی حمایت کی گئی ہے ،لیکن راہل نے اس کے لئے کسی نوجوان لیڈر کی سفارش نہیں کی ہے ۔مدھیہ پردیش میں کملناتھ بنام دگ وجے بنام جیوتر آدتیہ سندھیا کی لڑائی کھل کر سامنے آگئی ہے ۔اسی طرح راجستھان میں بھی سچین پائلٹ کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھ رہی ہے ۔تنور سمیت نروپم بھی صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ اس وقت کچھ لیڈر پارٹی کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں ۔اس کے لئے وہ سب سے پہلے تو راہل گاندھی کے ذریعے تیار کئے گئے لیڈروں کو پارٹی کے فیصلوں سے دور رکھنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ادھر تنور اب ہڈا کی توڑ نکالنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کا سیاسی کھیل بگاڑنے کی جد وجہد میں ہیں ،لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ ہڈا سیاست کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں ۔بہت پہلے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پرانی پیڑھی کے لیڈروں کے نشانے پر راہل گاندھی ہیں ،جنہیں ان کا کام کرنے کا طریقہ پسند نہیں تھا ۔اگر اس میں سچائی ہے تو یہ پارٹی مفا د میں نہیں ہے ۔کوئی نہیں جانتا کہ اس صورتحال کا انجام کہاں ہوگا ،لیکن اس پارٹی کو موجودہ انتظامی صلاحیت کے بارے میں منفی پیغام تو ضرور ہی جا رہا ہے ۔یہی نہیں ،عمر کے لحاظ سے پرانی پیڑھی کے نیتا ڈھلان پر ہیں ،اس لئے سیاست سے ہٹنے پر تنظیم میں صفر کی صورتحال پیدا ہو جائے گی ۔سوچئیے کہ اگر نئی پیڑھی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے پوری طرح سے تیار نہ رہے تو اس سے پارٹی کا نقصان ہوگا ۔اتنی پرانی پارٹی کی بری گت ٹھیک نہیں ۔آج مضبوط اپوزیشن کی سخت ضرورت ہے لیکن کانگریس اس حالت میں نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...