Translater

22 ستمبر 2018

مہلاؤں کو تین طلاق سے نجات

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں تین طلاق بل پاس نہ ہو پانے کے بعد اب مرکزی حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے۔ کل تین ترامیم کے ساتھ کیبنٹ نے تین طلاق (طلاق بدت) کو قانونی شکل دینے کے لئے مرکزی حکومت نے آرڈیننس پاس کردیا ہے۔ اب مارچ 2019 تک اسے ہی قانون کی طرح برتا جائے گا۔ کچھ وقت پہلے مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں اس سلسلہ میں جو بل پاس کرایاتھا اس کے کچھ پہلوؤں پر تنازعہ تھا۔ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے تین طلاق پر سماعت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی بتایا تھا اور پارلیمنٹ کو اس پر قانون بنانے کے لئے کہا تھا لیکن لوک سبھا میں پاس ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں یہ بل اٹک گیا تو مرکزی سرکار اب اس بارے میں آرڈیننس لے آئی ہے اور چھ مہینے میں اسے پارلیمنٹ میں پاس کرانا ضروری ہوگا۔ مسلم انجمنوں اور کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے آرڈیننس میں کچھ ترمیم کی گئیں ہیں۔ جیسے تین طلاق کے معاملہ میں گرفتاری تبھی ہوگی جب اس کی شکایت بیوی یا کوئی اور خونی رشتے دار کرے گا۔ ایسے ہی عورت اگر چاہے تو سمجھوتہ کا بھی متبادل کھلا ہے۔ اس کے تحت بیوی کا موقف سننے کے بعد مجسٹریٹ میاں کو ضمانت دے سکتا ہے۔ کل ملاکر اس کے تقاضوں کو توقع کے مطابق لچیلا بنایا گیا ہے۔ جو بل سرکار نے لوک سبھا میں پاس کروایا تھا اس میں سہولت یہ تھی کہ کیس کوئی بھی درج کرکے بغیر وارنٹ کے گرفتاری ہوسکتی تھی۔ یہ غیر ضمانت جرم تھا جس میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان تقاضوں کو لیکر پوری اپوزیشن نے مانگ کی تھی کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے تاکہ ہر پہلو پر غور ہوسکے۔ جب زیادہ تر مسلم ممالک نے ایک ساتھ بول کر دی جانے والی تین طلاق کو اپنے یہاں ختم کردیا ہے تب بھارت میں اس کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے یہاں ہندو خواتین کو تو شادی یا جانشینی وغیرہ سے جڑے قانونی حق دئے گئے ہیں لیکن مسلم عورتوں کو اس سے ری ایکشن کے ڈرکی وجہ سے الگ رکھا گیا ہے۔بھلے ہی مسلم خواتین کے لئے قانون کی طرح یہ آرڈیننس بھی میل کا پتھر ثابت ہونے والا ہے۔ اس کے گھناؤنے جرم بنائے جانے سے ڈر بھی قائم ہوگا جیسے کیس درج ہوتے ہی تین طلاق دینے والے کو جیل ہوجائے گی تو متاثرہ کو گزارہ بھتہ کون دے گا؟ شوہر کی پراپرٹی قرق کرنے کا راستہ ضرور کھلا ہے لیکن یہ بھی گزارہ بھتہ کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے ہی جتنا لمبا ہے اور گھماؤ دار ہے۔ ایسے میں متاثرہ کی تکلیف اور بڑھ جائے گی اور اسے الگ طرح کی اذیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جدید دنیا میں اور وہ بھی ایک جمہوری نظام میں شہریوں کے لئے الگ الگ قاعدوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ویسے بھی ایسے قواعد کی تو قطعی نہیں جو مسلم خواتین کو استحصال کا شکار بناتے ہیں۔ ایسے میں اس پر عام رائے بنانے کی کوشش بہتر رہے گی۔
(انل نریندر)

نہ میں کسی کی بوا ، نہ کوئی میرا بھتیجہ

بہن جی طویل عرصہ کے بعد لکھنؤ میں اپنی رہائش گاہ پہنچیں۔ اس کے بعد ہی بہن جی نے دھماکہ کردیا۔ مایاوتی نے اپنے نئے بنگلہ کے لئے بھاجپا کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا نہ وہ مجھے پھنساتے اور نہ ہی میرے پاس بنگلہ آتا۔ دھماکہ کرتے ہوئے بہن جی نے کہا کہ ان کی پارٹی اتحاد کے خلاف نہیں ہے لیکن اتحاد میں سنمان جنک سیٹیں ملنے پر ہی اتحاد ہوسکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے دو ٹوک کہہ دیا کہ ان کی پارٹی قابل قبول سیٹیں ملنے پر ہی چناؤ سے پہلے بننے والے کسی گٹھ بندھن کا حصہ بنے گی۔ کانگریس کی قیادت میں کچھ اپوزیشن پارٹیاں آنے والے لوک سبھا اور پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے لئے بھاجپا کے خلاف مہا گٹھ بندھن بنانے کی کوششیں کررہی ہیں۔ جہاں اس بیان سے بی جے پی نے تھوڑا راحت کی سانس لی ہوگی وہیں بہوجن سماج کے اس بدلے رخ نے کانگریس کی دھڑکن ضرور بڑھا دی ہوگی۔ مایاوتی نے ایک تیر سے کئی وار کئے اور کہا نہ میں کسی کی بوا ہوں اور نہ کوئی میرا بھتیجہ بات صرف احترام کی ہے۔ جو ہمارا احترام کرے گا، ہم اس کا احترام کریں گے۔ کانگریس حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں بھاجپا کو ہرانے کے لئے بسپا کا ساتھ ضروری ہے اس لئے پردیش کانگریس صدر کملناتھ نے بسپا کے ساتھ تال میل کو لے کر تبادلہ خیالات بھی شروع کردئے تھے لیکن مایاوتی کے موجودہ رخ سے کانگریس حیران ہے۔ بسپا کے مدھیہ پردیش میں چار ممبر اسمبلی ہیں۔2013 کے چناؤ میں پارٹی کو ساڑھے چھ فیصدی ووٹ ملا تھا کیونکہ بھاجپا مجوزہ گٹھ بندھن سے پریشان ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے وزیر اعظم اور بھاجپا دونوں کے نشانے پر اپوزیشن گٹھ بندھن ہے۔ وزیر اعظم مہا گٹھ بندھن کو لیڈر شپ کا پتہ نہیں پالیسی واضح نہیں اور یقینی کرپشن کے طور پرتشریح کررہے ہیں تو بھاجپا صدر امت شاہ اسے ڈھکوسلہ بتا رہے ہیں۔ لوک سبھا کی80 سیٹوں والے اترپردیش کا سیاسی تجزیہ بتاتا ہے کہ اگر بسپا اور سپا ایک ساتھ مل کر چناؤ میدان میں اترتی ہیں تو بھاجپا کا یہاں پتا صاف ہوسکتا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ دہلی کے تاج کا راستہ اترپردیش سے ہوکر ہی جاتا ہے۔ بھاجپا اگر یوپی میں پچھڑتی ہے تو لگاتار دوسری بار لوک سبھا کا چناؤ جیتنے کا اس کا سپنا پورا نہیں ہوپائے گا۔مایاوتی تجربہ کار سیاسداں ہیں جو اتحاد کے حق میں تو ہیں لیکن بارگنگ کرنے کے لئے اکھلیش یادو پر دباؤ بنانا چاہتی ہیں۔ وہ لوک سبھا میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں اس لئے چاہتی ہیں تاکہ اگر موقعہ ملے تو دہلی کے تاج پر گدی نشیں ہوسکیں۔ لوک سبھا میں معلق پوزیشن میں وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے اپنا دعوی مضبوط کرسکیں۔ حالانکہ انہیں بھی بھیم آرمی کے نام سے تیزی سے ابھرتی دلت طاقت کا بھی ڈر کہیں نہ کہیں ستا رہا ہوگا۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے سپا۔ بسپا دونوں سیٹوں کے بٹوارے پر نرم رخ رکھتی ہیں تو مہا گٹھ بندھن ٹھوس شکل لے سکتا ہے۔
(انل نریندر)

21 ستمبر 2018

مودی سرکار15-20 صنعت کاروں کیلئے کام کررہی ہے

کانگریس صدرراہل گاندھی نے پیر کو مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں وزیر اعظم نریندر مودی و ان کی سرکار اور بھاجپا پر جم کر تنقید کی۔مودی جی کی سرکار محض 15-20 بڑے صنعتکاروں کے لئے کام کررہی ہے۔ راہل نے یہاں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کے روڈ شو کے بعد بھوپال دسہرہ میدان میں پردیش بھر سے آئے کانگریسی ورکروں سے بات چیت کرتے ہوئے رافیل سودے اور بینکوں کے این پی اے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی وغیرہ کو لیکر مرکزی حکومت پر الزامات لگائے۔ راہل گاندھی نے این پی اے کا تذکرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پچھلے سال مودی سرکار نے دیش کے 15 فیصد صنعتکاروں کا ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ وہ پانچ ہزار روپے کے قرض دار کسان کو چور کہتے ہیں لیکن ہزاروں کروڑ روپے کا قرض واپس نہیں کرنے والے وجے مالیا، نیرو مودی، میہل چوکسی ان کے دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے بارہ لاکھ کروڑ روپے کا این پی اے ہے آپ کا پیسہ مالیا جیسوں کی جیب میں جارہا ہے۔ گاندھی نے رافیل سودے میں مودی پر سیدھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کا ٹھیکہ ہندوستان ایرونوٹیکلس لمیٹڈ سے چھین کر اپنے دوست صنعتکار انل انبانی کو دے دیا۔ انبانی پر بینکوں کا 45 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے۔ کانگریس نے مودی سرکار پر صنعتکاروں کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین چار سال کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ صنعتکاروں کے خلاف جہاں بھی جانچ شروع ہوتی ہے سرکار مداخلت کر معاملہ کو جلد بند کرادیتی ہے۔ کانگریس ترجمان جے رام رمیش نے پیر کو نئی دہلی میں پیرس کانفرنس میں کہا کہ مودی سرکار جس ڈھنگ سے صنعتکار گوتم اڈانی کو بچا رہی ہے دنیا جانتی ہے۔ رمیش نے کہا کہ ڈی آر آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ پر بجلی کے سازو سامان کی خرید میں 6600 کروڑ روپے کی دھاندلی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ڈی آر آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سازو سامان کو ان کی لاگت سے 6600 کروڑ روپے زیادہ قیمت پر خریدہ گیا ہے۔ اڈانی گروپ کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن دباؤ اور سرکار کے بڑے افسران نے کہہ دیا کہ جانچ رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لگائے گئے کوئی بھی الزام صحیح نہیں ہے۔ ڈی آر آئی کے ذریعے اس کی جانچ 2014 سے کی جارہی تھی۔ اسی طرح گجرات میں بھی اڈانی کو بچانے کی کوشش ہوئی ہے۔ وہاں اڈانی گروپ نے 2007 میں ریاستی سرکار کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھاکہ وہ 2.40 پیسے فی یونٹ کی شرح سے بجلی دستیاب کرائے گا۔ بعد میں کمپنی معاہدے سے مکر گئی اور مدد مانگنے لگی۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو عدالت نے کہہ دیا جو معاہدہ ہوا ہے اسی بنیاد پر بجلی دینی ہوگی لیکن ریاستی حکومت عدالت کے فیصلے کے خلاف کمپنی کو راحت دینے پر رضامند ہوگئی ہے۔ رمیش نے کہا کہ گجرات سرکار کے اس فیصلے سے اگلے 30 سال تک بجلی سیکٹر کی تین کمپنیوں کو 1لاکھ70 ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا اور بینکوں کو ہر سال اس کے سبب 18 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔
(انل نریندر)

کانگریس گوا میں کرناٹک جیسا داؤں چلنے کی فراخ میں

گوا کے وزیر اعلی منوہر پریکر کے مسلسل بیمار رہنے اور بار بار ہسپتال میں بھرتی ہونے کے چلتے ریاست میں سیاسی اتھل پتھل تیز ہوگئی ہے۔ ریاست میں بھاجپا کی اتحادی پارٹیوں نے بھی سی ایم بدلنے کی مانگ کی ہے جس وجہ سے عدم استحکام کے حالات بن گئے ہیں۔ اس موقعہ کا فائدہ اٹھانے کے لئے کانگریس نے پیر کو ہلچل تیز کردی۔ اس کے 16 میں سے14 ممبر سرکار بنانے کا دعوی پیش کرنے راج بھون گئے۔ حالانکہ گورنر مردلا سنہا سے ان کی ملاقات نہیں ہوسکی کیونکہ وہ شہر (پنجی) سے باہر ہیں۔ اس کے بعد ممبران اسمبلی سرکار بنانے کا میمورنڈم حکام کو سونپ کر لوٹ آئے۔ کانگریسی ممبران اسمبلی نے الزام لگایا کہ وزیر اعلی پریکر سمیت تین وزیر بیمار ہیں۔ سرکار ندارد ہے ،کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ ایسے میں سرکار بنانے کے لئے ہمیں مدعو کیا جانا چاہئے۔ ہمارے پاس این سی پی ممبر اسمبلی سمیت 17 ممبران کی حمایت ہے اور اکثریت ثابت کردیں گے۔ 40 نفری ممبر اسمبلی میں کانگریس کے16 جبکہ این سی پی کا1 ممبر ہے۔ دوسری طرف حکمراں اتحاد کی پوزیشن یوں ہے بی جے پی 14، مہاراشٹر گومنتک پارٹی (این جی پی) 3، گوا فارورڈ پارٹی 3 اور آزاد 3 ہیں۔ گوا میں کانگریس کے سرکار بنانے کے دعوی کے بعد بی جے پی حرکت میں آگئی ہے۔ اسے اندیشہ ہے کانگریس کرناٹک والا داؤ گوا میں اگر کھیلتی ہے تو اسے دقت ہوسکتی ہے۔ اہم یہ ہے کہ گوا میں سی ایم پریکر کی جگہ کس اور کو وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ ابھی بی جے پی کے لئے آسان نہیں ہے۔ ایسے میں بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ بھلے ہی پریکر ہسپتال میں ہوں لیکن وزیر اعلی بدلنے کے لئے جلد بازی نہ کی جائے۔ اگر بدلنا ہی پڑے تو پہلے ساتھیوں کو اس کے لئے تیار کیا جائے۔ اس وقت بی جے پی سرکار کے اکثریت میں ہونے کی وجہ 3-3 ممبران والی پارٹیوں کے علاوہ 3 آزاد ممبران ہیں۔ پارٹی کو لگ رہا ہے بیمار پریکر کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلی بنایا جاتا ہے تو پارٹی کے اندر اسمبلی بھنگ کرنے کے امکانات پر غور ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے کانگریس کے داؤ سے اب گورنر کے لئے بھی کانگریس کو موقعہ دئے بغیر اسمبلی بھنگ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ حالانکہ بی جے پی نیتاؤں کا کہنا ہے کہ گوا میں سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن جس طرح سے پارٹی نیتاؤں کے گوا میں جو دورہ شروع ہوئے ہیں اس سے اشارے ملنے لگے ہیں کہ خود بی جے پی وہاں کے حالات کو لیکر مطمئن نہیں ہے۔ پارٹی کرناٹک میں کانگریس کے کھیل کو بھول نہیں سکتی۔ اسے یہ بھی ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں کانگریس بی جے پی سے ہاتھ ملائی پارٹیوں میں سے کسی کو وزیر اعلی عہدہ کی پیشکش نہ کردے۔ اگر ان میں سے کسی بھی پارٹی کے 3 ممبران کانگریس کو حمایت دینے کو تیار ہوجاتے ہیں تو وہاں کے سیاسی حالات بدل سکتے ہیں۔ اسی حالات سے بچنے کے لئے پارٹی کو لگ رہا ہے کہ منوہر پاریکر کے بیمار ہونے کے باوجود ان کی جگہ اور کسی کو وزیر اعلی بنانے کا اعلان نہ کیا جائے جب تک پارٹی کے اندر اور اتحادیوں میں پورا اتفاق رائے نہ بن جائے۔
(انل نریندر)

20 ستمبر 2018

بابا رام دیو کو غصہ کیوں آیا

سرخیوں میں چھائے یوگ گورو بابا رام دیو آج کل پھر سرخیوں میں ہیں۔ عام طور پر اقتدار کے ساتھ رہنے والے بابا رام دیو کبھی کبھی حکمراں پارٹیوں کو آگاہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی انہیں غصہ آجاتا ہے۔ سوامی رام دیو نے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے یوتھ کانکلیو پروگرام میں یہ کہہ کر سنسنی پیدا کردی کہ وہ آل پارٹی اور آزاد ہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کیا وہ 2019 کے چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کمپین نہیں کریں گے تو انہوں نے کہا کہ بھلا کیوں کروں گا، نہیں کروں گا۔ حالانکہ اسی پروگرام میں انہوں نے یہ بھی کہا کالا دھن، کرپشن اور سسٹم میں تبدیلی سے جڑے اشوز پر ان کا مودی جی پر بھروسہ تھا۔ یہ بھروسہ ابھی ہے یا نہیں پوچھے جانے پر کہا کہ ان اشو پر فی الحال انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ بابا رام دیو نے ایتوار کو مودی سرکار کو خبردار بھی کیا۔ کہا کہ بڑھتی قیمتیں قابو نہیں کی گئیں تو مہنگائی کی آگ مودی سرکار کو بہت مہنگی پڑے گی۔ یوگ گورو نے کہا کافی لوگ مودی سرکار کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن اب کچھ لوگ اصلاح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا پیٹرول۔ ڈیزل سمیت دیگر چیزوں کی قیمتیں نیچے لانے کے لئے مودی جی کو قدم اٹھانے ہوں گے۔ پیٹرول ڈیزل ، جی ایس ٹی کے دائرہ میں لاکر سب سے کم سلیب میں رکھنا چاہئے۔ محصول کے نقصان کی بھرپائی کے لئے اوربھی ٹیکس لگ سکتے ہیں۔ آنے والے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے لئے کمپین کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا میں کیوں کروں گا؟ میں نہیں کروں گا۔ میں سیاست سے الگ ہو چکا ہوں۔ میں آزاد ہو اور سبھی پارٹیوں کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے کہا مودی کی تنقید کرنا لوگوں کا بنیادی حق ہے لیکن انہوں نے اچھے کام بھی کئے ہیں۔ سوچھتا مہم چلائی، دیش میں کوئی بڑا گھوٹالہ نہیں ہونے دیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بابا کا نیا انداز ہے اور سیاسی طور پر نئی پوزیشن لگتی ہے۔ 2019 کے عام چناؤ کے نزدیک آنے سے پہلے وہ نریندر مودی کی این ڈی اے سرکار سے ایک طرح سے دوری بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ پہلی بار نہیں جب بابا کو مودی سرکار پر غصہ آیا ہو۔ دسمبر2016 میں ٹی وی سے بات چیت میں بھی انہوں نے این ڈی اے سرکار کے راج گورو کہے جانے پر اسے ماضی گزشتہ کی بات بتایا تھا۔ حال ہی میں بھاجپا صدر امت شاہ ان سے بھی ملے تھے۔ دراصل بابا اب پوری طرح سے کمرشلائز ہو چکے ہیں۔ داؤ پر ہے ہزاروں کروڑ کا کاروبار۔ بابا کی کمپنی پتنجلی آیوروید کا کاروبار ہزاروں کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمس نے ’’دی بلینیئر یوگی بی ہائنڈ مودی راج‘‘ نام سے ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں بابا رام دیو کہتے ہیں کہ 2025 تک ان کا اور ان کے گروپ کی مصنوعات کی بکری کو 15 ارب تک پہنچانے کا ہے۔ یہ موجودہ مالی سال میں 1.6 ارب ڈالر تک ہے۔ لگتا ہے کہیں نہ کہیں بابا رام دیو مودی سرکار سے ناراض ہیں۔ ان کا کوئی پروجیکٹ کلیر نہیں ہورہا ہے اسی وجہ سے رام دیو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ وہ جب کلیئر ہو جائے گا تو پھر گنگان کرنے لگیں گے۔ بابا اپنے اسٹیٹ کو بڑھانے کے لئے راج نیتی کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

فوج کی بڑی کامیابی، ایک ہفتہ میں 17 آتنک وادی مارے

جموں و کشمیر کے پلگام ضلع میں سنیچر کو سکیورٹی فورسز نے گھیرا بندی اور تلاشی آپریشن کے دوران ہوئی مڈ بھیڑ میں حز ب المجاہدین اور لشکر طیبہ کے پانچ آتنک وادیوں کو مار گرانے میں بھاری کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمارے بہادر جوانوں نے ایک ہفتہ میں 17 آتنک وادیوں کو مار گرایا ہے۔ یہ اپنے آپ میں زبردست کارنامہ ہے۔ پلگام ضلع کی تلاشی میں پچھلے سال کیش وین پر حملہ کر پانچ ملازمین اور دو بینک گارڈوں کو قتل کرنے والا آتنکی بھی مارا گیا ہے۔ سکیورٹی فورس کی کارروائی میں کچھ مقامی شرپسندوں نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس دوران سکیورٹی فورس نے ہوا میں گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس میں ایک پتھر باز مارا گیا جبکہ 10 پتھر باز زخمی ہوگئے۔ وادی میں پچھلے ایک ہفتے میں فوج کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ فوج نے کشمیر کے مختلف حصوں میں 17 آتنک وادیوں کو مار گرایا ۔ مڈ بھیڑ کے چلتے بارہمولہ اور قاضی کنڈ کے درمیان ٹرین سروس معطل کردی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساؤتھ کشمیر کے چار ضلعوں میں انٹر نیٹ سیوا بند کردی گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے بلدیاتی چناؤ کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ چار مرحلوں میں ہونے والے چناؤ کیلئے ووٹوں کی گنتی 20 اکتوبر ہوگی۔ چناؤ کمشنر شالین چھابڑا نے بتایا کہ چناؤ 8،10، 13 اور 16 اکتوبر کو کرائے جائیں گے۔ ووٹنگ کا وقت صبح7 بجے سے دوپہر 2 بجے تک رہے گا۔ریاست کی بڑی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ نے آئین کی سیکشن 35(a) کا حوالہ دیتے ہوئے بلدیاتی چناؤ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے کہا تھا ایک چناؤ جس میں لوگوں کی حصہ داری نہیں ہے اسے مرکز چناؤ کی طرح دیکھ رہا ہے تو اس میں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہم نے لوگوں کو چناؤ میں حصہ نہ لینے یا پھر اس کا بائیکاٹ کرنے کو نہیں کہا ہے ، ہم نے صرف اتنا کہا کہ ہماری پارٹی اس میں حصہ نہیں لے گی۔ پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کی جانب سے ایک میٹنگ کے بعد ریاستی پنچایت چناؤ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محبوبہ کی دلیل تھی کہ پردیش میں سیکشن 35(a) کو لیکر ایک بڑی بے یقینی اور شش و پنج کا ماحول ہے۔ایسے میں اگر ان حالات میں سرکار کوئی بھی چناؤ کراتی ہے تو نتیجوں کے بعد اس کا بھروسے پر سوال کھڑے ہوں گے۔ آنے والے دن سکیورٹی فورس کے لئے چیلنج بھرے ہوں گے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے عوام کے لئے بھی یہ ایک موقعہ ہوگا جمہوریت کو مضبوط کرنے کا اور اپنے مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے اپنی پسند کے نمائندوں کو چننے کا۔
(انل نریندر)

19 ستمبر 2018

جہیز قانون میں ترمیم !سارے پاور پھر دہلی پولیس کے پاس

سپریم کورٹ نے بدھوار کو اپنے ہی ایک فیصلہ کو پلٹتے ہوئے جہیز ٹارچر روکنے کے لئے بنی آئی پی سی کی دفعہ 498A کے تحت سیدھی گرفتاری کا اختیار برقرار رکھا ہے۔ جہیز ٹارچر کے معاملوں میں پتی اور اس کے پریوار والوں کو جو تحفظ ملا ہوا تھا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جہیز قانون کا بیجا استعمال روکنے کیلئے پچھلے برس جاری گائڈ لائنس میں ترمیم کرتے ہوئے جہیز ٹارچر کی شکایتوں کی جانچ کے لئے فیملی ویلفیئر کمیٹی تشکیل کرنے اور اس کمیٹی کی رپورٹ آنے تک گرفتاری کرنے کی ہدایت منسوخ کردی تھی۔ یعنی اب اگر پولیس کو گرفتاری کی درکار بنیاد لگتی ہے تو وہ ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے۔ اپنے ہی فیصلہ کو پلٹتے ہوئے سپریم کورٹ نے گرفتاری کا حق پولیس کو دیکر اپنی حدود کی تشریح کردی ہے۔اب پولیس ہی فیصلہ کرے گی کہ شکایت صحیح ہے یا نہیں؟ ایک سال پہلے 2017 کے جولائی میں جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس یو یو للت نے یہ مانتے ہوئے کہ جہیز کی فرضی شکایتیں بہت آرہی ہیں اور اس کی وجہ خاندان کے بوڑھوں اور رشتے داروں کوبھی پریشان کیا جاتا ہے اور گرفتار کیا جاتا ہے، فیصلہ دیا تھا کہ اب جہیز کی شکایت آنے پر ایک ویلفیئر کمیٹی جانچ کرے گی اور جانچ کرنے والی کمیٹی کے نتیجوں پر پولیس گرفتار کرے گی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، اے ایم خان ولکراور ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے تازہ فیصلہ ’نیائے فار‘ نامی این جی او کی عرضی پر دیا ہے۔ بنچ نے بھلے ہی جہیز ٹارچر کے معاملہ میں سیدھے گرفتاری کی سہولت کو پھر سے نافذ کردیا ہو لیکن عدالت عظمیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی مانا کہ جہیز ٹارچر قانون کا بیجا استعمال ہوتا ہے۔ پتہ نہیں یہ حال میں آئے ایس سی ایس ٹی قانون کے بعد کا اثر ہے یا پھر مہلا حقوق انجمنوں کا لیکن عدالت انسانی حقوق کا حوالہ دیکر ان قوانین کو کمزور کرنے سے بچتی نظر آرہی ہے جنہیں سماجی انصاف کے لئے بنایا گیا ہے۔ شاید عدالت کو یہ احساس ہورہا ہے کہ سماجی انصاف کی ضرورت اور اس کے حق میں کھڑی تحریکیں اور اس کے فیصلے کی تنقید اور احتجاج کرسکتی ہیں اس لئے یہ معاملہ آئین سازیہ کے پالے میں ہی ڈالنا مناسب ہے۔ حالانکہ عدالت نے یہ کہا ہے کہ جہیز قانون کا بیجا استعمال روکنے کے لئے آئی پی سی کی دفعہ 41A اور پیشگی ضمانت کی رعایت پہلے سے موجود ہے اس فیصلے کے تحت اب جہیز کی شکایت کی سچائی جانچنے والی فیملی ویلفیئر کمیٹیوں کی مداخلت ختم ہوجائے گی۔ یہ پولیس ہی فیصلہ کرے گی کہ شکایت صحیح ہے یا غلط؟ پولیس کے اس حق کا پہلے بھی بیجا استعمال ہونے کا خطرہ تھا تبھی تو فیصلہ بدلا گیا تھا۔ اب پھر سے یہ حق پولیس کے پاس آگیا ہے۔
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...