Translater

23 اگست 2017

کہیں سیلاب سے تباہی تو کہیں خشک سالی سے پریشان

دیش کی کئی ریاستیں اس وقت سیلاب کی مار جھیل رہی ہیں۔ بہار میں سیلاب سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایتوار کو بھی 58 لوگوں کی موت کی خبر آئی۔حالانکہ متاثرہ علاقوں میں پانی گھٹنے لگا ہے جس سے لوگوں کو کچھ راحت ضرور ملی ہے لیکن باند پر پانی کا دباؤ بڑھنے سے سنکٹ بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں مہانندا ندی میں طغیانی سے پانی نیشنل ہائی وے پر آجانے سے گاڑیوں کے پہیہ رک گئے۔ مالدہ میں حالات بہتر نہ ہونے پر فرقا سے لیکرعمر پور تک قریب 40 کلو میٹر تک ٹرکوں کی قطاریں دیکھی گئیں۔ بہار میں مرنے والوں کی تعداد 350 سے اوپر پہنچ کی ہے۔ مشرقی بہار کوسی اور سیمانچل میں اب تک 188 افراد ڈوب چکے ہیں۔ سب سے زیادہ ارریہ میں تباہی ہوئی ہے۔ یہاں 60 لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ اترپردیش میں کئی جگہ سیلاب کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ گورکھپور میں رابتی ندی کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے منجھریا کے پاس باند ٹوٹ گیا جس سے کئی گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ پانی چھوڑا اور بڑھا تو گورکھپور۔ لکھنؤ ریل راستے پر آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے۔ گنگا جہاں خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی ہے وہیں گھاگرا نے اپنی دائرہ ساحلوں سے آگے بڑھا دیا ہے۔ بلیا، مؤ ، اعظم گڑھ میں گھاگرا ندی میں پانی کا قہر جاری ہے۔ ریاست میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے سبب کل16 لوگوں کی موت کی خبر ہے ان میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے جس سال مانسون آدھا گزرجانے کے بعد بھی دیش کے ایک چوتھائی سے زیادہ حصے میں کم بارش ہوئی ہے ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق دیش بھر میں ہوئی بارش کو ملا کر پانچ فیصد کم بارش ہوئی ہے لیکن دیش کے 26 فیصد جغرافیائی حصہ میں یہ کمی زیادہ ہے۔ محکمہ کے مطابق بارش کی یہ کمی مدھیہ پردیش، کیرل، مہاراشٹر، کرناٹک اور مغربی اترپردیش کے حصوں میں زیادہ ہے۔محکمہ موسمیات نے سال 2017ء کے لئے عام طور پر ساؤتھ اور ویسٹ میں مانسون کا اندازہ ظاہرکیا تھاجو جون سے ستمبر تک رہتا ہے۔ کم بارش والی ریاستوں میں خریف کی فصلوں کی بوائی متاثر ہوئی ہے۔ مراٹھواڑہ، ودربھ اور مدھیہ پردیش کے مشرقی علاقہ میں بارش کی کمی رہی ہے۔ کیرل کے کچھ حصوں میں لگاتار دوسرے سال کم بارش ہوئی ہے۔ وہیں کچھ ریاستیں خاص کر اترپردیش ، بہار، آسام اور گجرات کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور ودربھ علاقوں میں 32 فیصدی کم بارش درج کی گئی۔ ان علاقوں میں خشک سالی کی وجہ سے پچھلے کچھ برسوں میں کئی کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ ہریانہ میں 27 فیصدی ، دہلی میں 39 فیصدی، گووا میں 25فیصدی، ناگالینڈ میں 30 فیصدی اور منی پور میں 57 فیصدی کم بارش ہوئی ہے۔ یہ بدقسمتی ہی کہئے کہ کہیں سیلاب سے تباہی تو کہیں خشک سالی سے پریشانی پیداہوئی ہے۔
(انل نریندر)

انفوسس میں سی ای او سکہ کے استعفیٰ سے آیا زبردست زلزلہ

دیش کی دوسر سب سے بڑی انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنی انفوسس میں جاری اتھل پتھل نے صرف کمپنی کے اندر ہی زلزلہ لا دیا ہے بلکہ دیش کے شیئربازار میں بھی بھاری ہلچل مچادی ہے۔ این آر نارائن مورتی کی رہنمائی میں انفوسس کے پرموٹروں اور کمپنی کے سی ای او وشال سکہ کی قیادت میں ڈائریکٹربورڈ کے درمیان ٹکراؤ پچھلے ایک سال سے جاری تھا لیکن حال ہی میں مورتی کے ایک ای ۔میل نے اس کشیدگی کو انتہا پر پہنچادیا۔ جس کو میڈیا میں بھی لیک کردیا گیا۔ جس سے حالات اور خراب ہوتے چلے گئے۔ آخر کار وشال سکہ نے جمعہ کے روز استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے چلتے کمپنی کے شیئروں میں تیزی سے گراوٹ آئی اور ایک دن میں سرمایہ کاروں کے 30 ہزار کروڑ روپے ڈوب گئے۔ کمپنی میں3.44 فیصدی کی حصہ داری رکھنے والے نارائن مورتی پریوار کو بھی 1 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ استعفیٰ کے پیچھے تین چار وجہ بتائی جاتی ہیں۔ سکہ کے پیکیج پر نارائن مورتی کو شروع سے ہی اعتراض تھا۔ 1 اگست 2014ء کو وشال سکہ نے سی ای او کا عہدہ سنبھالا تھا۔2016ء میں سکہ کا مالی پیکیج 70 ہزار کرور کرنے پر مورتی کو اعتراض تھا۔کمپنی نے بتایا یہ پیکیج پرفارمینس سے جڑا ہے۔ اس دوران کمپنی کا ریوینیو15 ہزار کروڑ روپے تک بڑھا۔ سابق سی ای او راجیو بنسل کو سروس پیکیج 17.38 کروڑ روپے یعنی وشال سکہ کی سیلری جتنا تھا۔ الزام لگا اسرائیلی کمپنی پنامہ زیادہ قیمت پر لی۔ اس میں کمپنی کے حکام کے مفادات ہیں۔ وزیر جے انت سنہا کی بیوی کو ڈائریکٹر بنانے پر بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ یورو سکہ تنازعہ ٹاٹا۔ مستری جیسا ہی ہے۔ رتن ٹاٹا سے جھگڑا کر گروپ نے 2016ء میں پہلے غیر ٹاٹا چیئرمین سائرس مستری کو ہٹا دیا تھا۔ انفوسس کے بانی سی ای او سکہ کو بھی مورتی سے جھگڑے میں استعفیٰ دینا پڑا۔ وشال سکہ کا 2014-15ء میں 4.56 کروڑ روپے کا سالانہ تنخواہ کا پیکیج تھا جو 2015-16ء میں 48.73 کروڑ روپے تک کردیا گیا تھا۔ 2016-17ء میں کم بونس کی وجہ سے سکہ کا پیکیج گھٹ گیا تھا۔ کیش کمپونینٹ 2015-16 کے 42.73 کروڑ روپے سے 66 فیصد گھٹا کر 16.01 کروڑ روپے رہ گیا۔ بونس اور اسٹاف ملا کر انہیں 45.11 کروڑ روپے ملے جو پچھلے سال کے مقابلہ میں 7 فیصد کم ہیں۔ تین سال پہلے کمپنی کا کام سنبھالنے والے وشال سکہ دیش کے سب سے زیادہ تنخواہ سالانہ48 کروڑ سے زیادہ پانے والے سی ای او تھے۔ وہ کمپنی کے پہلے ایسے سی ای او تھے جو بانیوں کے گروپ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی 50 سالہ سکہ نے ڈائریکٹر بورڈ کو اپنے خط میں کہا کہ کچھ عرصے سے میں خود پر لگائے جا رہے جھوٹے ، بے بنیاد اور بدقسمتی پر مبنی الزامات سے دکھی ہوں۔ حالانکہ انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اشارہ نارائن مورتی کی طرف ہے۔ سکہ نے کہا میرے خلاف لگائے گئے سبھی الزامات کئی بار عدالت میں غلط پائے گئے۔اس کے باجود شخصی حملے بند نہیں ہوئے ہیں۔مجبور ہوکر مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ادھر کمپنی کو فاؤنڈر این آر نارائن مورتی نے کہا کہ وہ کمپنی کے ڈائریکٹر بورڈ کے ذریعے ان پر لگائے گئے الزامات سے دکھی ہیں لیکن وہ صحیح وقت پر جواب دیں گے۔ انفوسس کمپنی اب آئے دن اس بھونچال کا ڈیمیج کنٹرول کرنے میں لگ گئی ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر منڈل نے سنیچر کو 13 ہزار کروڑ روپے تک کے شیئروں کو پھر خریدنے کے پلان کو منظوری دے دی ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا دوبارہ خرید کے لئے فی شیئر1150 روپے کا بھاؤ طے کیا گیا ہے۔ یہ بھاؤ کمپنی کے جمعہ کو بازار بند ہونے کے 923.10 روپے کے بھاؤ سے قریب 25 فیصدی زیادہ ہے ۔ ادھر امریکہ کی چار قانونی کمپنیوں نے انفوسس کے خلاف جانچ شروع کردی ہے۔ انہوں نے انفوسس کے سرمایہ کاروں کی طرف سے ان امکانی دعوؤں کی بھی جانچ شروع کی ہے کہ کیا کمپنی یا اس کے حکام یا ڈائریکٹروں نے فیڈریشن سکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کی ہے؟
(انل نریندر)

22 اگست 2017

چین جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن کیا وہ حملہ کرے گا

پچھلے دو مہینے سے بھوٹان کی ڈوکلام سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال جاری ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ اس پورے پس منظر میں بھوٹان کا کیا موقف ہے؟ آخر کیا ہے ڈوکلام کی فوجی اہمیت؟ بھوٹان اور بھارت کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہے جس کے تحت اقتصادی اور فوجی سطح پر دونوں دیش ساتھ ہیں۔ ڈوکلام سرحد پر چین کے ذریعے سڑک بنانے کو لیکر بھوٹان نے اپنا اعتراض جتایا ہے۔ بھوٹان اور چین کے مابین سفارتی رشتے نہیں ہیں۔ وہیں بھارت اور بھوٹان کے درمیان کافی گہرے تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان 1949ء میں’ فرینڈ شپ ٹریٹی‘ ہوئی تھی اس کے تحت بھوٹان کو اپنے خارجی رشتوں کے معاملے میں بھارت کو بھی شامل کرنا ہوتا تھا۔ 2007ء میں اس معاہدے میں ترمیم ہوئی تھی۔ کیا بھوٹان اور بھارت کی قریبی چین کو کھٹکتی ہے؟ چین نے بھوٹان کے ساتھ سرحدی تنازعہ سلجھانے کی کوشش کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس میں بھارت شامل نہ ہو۔ حالانکہ اس معاملہ میں بھوٹان نے صاف کہا کہ جو بھی بات ہوگی وہ بھارت کی موجودگی میں ہوگی۔ 1949ء میں بھارت اوربھوٹان کے مابین جو فرینڈشپ سمجھوتہ ہوا تھا اس میں 2007 میں ترمیم کی گئی تھی۔ ترمیم سے پہلے اس سمجھوتے میں تھا کہ بھوٹان سبھی طرح کے خارجی تعلقات کے معاملے میں بھارت کو مطلع کرے گا۔ ترمیم کے بعد اس میں جوڑا گیا کہ جن خارجی امور میں بھارت سیدھے طور پر وابستہ ہوگا انہی میں سے اسے مطلع کیا جائے گا۔ چین کو یہ معاہدہ کھٹکتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بھوٹان اور بھارت کے درمیان کی دوستی کو اور قریب لانے میں اس معاہدے کا بڑا اہم اشتراک رہا ہے۔ بھارت اور بھوٹان کے درمیان یہ معاہدہ چین کو ہمیشہ چبھتا رہا ہے۔ بھوٹان اور چین کے مابین جو بات چیت ہے اس میں بھارت کا کوئی لیگل رول تو نہیں ہے حالانکہ بھارت کا مفاد متاثر ہوگا اور اس میں بھوٹان کو بھارت کو مطلع کرنا ہوگا۔ چین اور بھوٹان کے درمیان مغرب اور شمال میں قریب 470 کلو میٹر لمبی سرحد واقع ہے۔ دوسری طرف بھارت اور بھوٹان کی سرحد مشرق، مغرب اور جنوب میں 605 کلو میٹر ہے۔ ڈوکلام ٹرائی جنکشن پر چینی فوج کی موجودگی کو ہندوستانی فوج نے تین طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تینوں سمتوں میں ہندوستانی فوج چینی فوج کے مقابلہ اونچائی پر ہے۔ اس فوجی اضافے نے ڈوکلام میں چین کو الجھا دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین بھلے ہی بار بار جنگ کی دھمکی دے رہا ہے، لیکن اس کے لئے کسی بھی فوجی کارروائی کی راہ آسان نہیں ہے۔ فوجی امور پر حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ ڈوکلام میں ہی نہیں پوری کنٹرول لائن (ایل او سی) پر چین کو کسی کارروائی کے لئے بڑی تیاری کرنی ہوگی۔ اروناچل کے بھی کچھ علاقوں کو چھوڑ پوری ایل او سی پر ہندوستانی فوج کی فوجی پوزیشن مضبوط ہے چین اس سے بھی پڑیشا ہے۔بڑے وسائل والا دیش ہونے کے باوجود اسے عالمی سطح پر زیادہ حمایت نہیں مل رہی ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا کے بعد جاپان میں بھارت کے موقف میں کھڑ ے ہوکر چین کے لئے پریشانی بڑھا دی ہے۔ حکمت عملی سازوں کے مطابق اگر چین بھارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے ہر ہندوستانی فوجی کے لئے اپنے کم سے کم 9 فوجی جوان لگانے ہوں گے۔ روایتی جنگ قواعد کی مانیں تو حملہ آور فوج کو دشمن کے مقابلہ 9سے12 گنا زیادہ وسائل کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ چین کے پاس وسائل کی بیشک کمی نہ ہو لیکن اس کی تیاری میں اسے لمبا وقت لگے گا۔ جب تک چین 100 فیصدی جیت باآور نہیں ہوگا، حملہ نہیں کرے گا۔ پاکستان اور نارتھ کوریا کے علاوہ کوئی بھی دیش چین کے ساتھ کھڑا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین طرح طرح کی دھمکیاں دے کر دباؤ بنانے کی کوشش میں ہے۔
(انل نریندر)

نجی اسکولوں کی فیس بڑھانے کی نہ تو مجبوری ہے اور نہ ہی کوئی تُک

راجدھانی دہلی میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کے اشو پر اسکول انتظامیہ اور دہلی سرکار آمنے سامنے ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں فیس اضافہ کے معاملے میں دہلی حکومت نے اسٹینڈ لے لیا ہے۔ وزیراعلی اروند کیجریوال نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ حکومت کا نجی اسکولوں کا زبردستی ایکوائر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ لیکن انہیں زیادہ وصولی گئی فیس والدین کو واپس کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے حکومت راجدھانی کے سبھی پرائیویٹ اسکولوں کا کھاتہ چیک کرے گی۔ سرکار کی کوشش یہ پتہ کرنے کی ہوگی کہ عدالت کے حکم پر اسکولوں نے والدین کو فیس لوٹائی ہے یا نہیں۔ جمعہ کے روز نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ اسکولوں کے خلاف آنے والی شکایتوں کو سرکار سنجیدگی سے لے رہی ہے۔جلد ہی اسکولوں کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔ وزیر اعلی کیجریوال نے کہا کہ ان اسکولوں نے چھٹے پے کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرنے کے لئے فیس بڑھائی ہے۔ بعد میں یہ مانا گیا تھا کہ یہ اضافہ جائز نہیں تھا اور ان اسکولوں کو فیس واپس کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے فیس نہیں لوٹائی۔ کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ بتادیں دہلی ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولوں کے کھاتوں کی جانچ کے لئے دگل کمیٹی بنائی تھی۔ سال2009ء میں فیس اضافے کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی اس پر 12 اگست 2011 کو ہائی کورٹ نے جسٹس انل دیو کمیٹی بنا کر سبھی پرائیویٹ اسکولوں کی فیس صحیح ہے یا غلط اس کی جانچ کرنے کو کہا تھا۔ سپریم کورٹ نے 2004ء میں ماڈرن اسکول بنام حکومت ہند کے معاملے میں دہلی سرکار کے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کو سبھی سرکاری و غیر سرکاری زمین پر بنے پرائیویٹ اسکولوں کے کھاتوں کی ہر سال جانچ کرانے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ اسکولوں کے خلاف منمانی کرنے کی قانونی لڑائی 20 سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ دہلی پرینٹس فیڈریشن نے 8 ستمبر1997 ء کو ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ ان کی عرضی پر ہائی کورٹ نے اکتوبر 1998 میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسکولوں کے کھاتوں کی جانچ کرنا نہ صرف سرکار کا حق ہے بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بتایا کہ انل دیو کمیٹی نے 1108 نجی اسکولوں کا اکاؤنٹ چیک کیا تھا ان میں سے 544 اسکولوں نے طے قواعد کی خلاف ورزی کر زیادہ فیس لی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے فیس لوٹانے کا حکم دیا تھا۔ 544 اسکولوں میں سے 95 الگ الگ کیٹگری کے ہونے کی وجہ سے باہر ہوگئے۔ اس کے بعد بچے449 اسکولوں کو وجہ بتاؤ نوٹس دیا گیا۔ وہیں اروند کیجریوال نے کہا کہ ایک اسکول ایسا ملا جس کے پاس 19 کروڑ روپیہ کا فاضل سرمایہ ہے۔ ایک دوسرے اسکول کے پاس 5 کروڑ روپے کا ملا۔ ایسے میں فیس بڑھانے کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ ہی تُک۔
(انل نریندر)

20 اگست 2017

ٹرینوں میں بڑھتاعدم تحفظ: آئے دن مسافروں سے لوٹ مار

میرا بھارت مہان میں ریل گاڑی سے سفر کرنے والے مسافر کہیں بھی محفوظ اب نہیں رہے۔ نہ اسٹیشن کے اندر اور نہ ہی ٹرینوں کے اندر۔ راجدھانی کے اہم ترین نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھی پچھلے مہینے چھینا جھپٹی اور بچہ کے اغوا جیسی وارداتوں کو انجام دیا گیا۔ بیحد محفوظ مانے جانے والی ٹرین راجدھانی کے ایئر کنڈیشن ڈبوں میں اب تک کی سب سے بڑی چوری کی خبر آئی ہے۔ ممبئی سے دہلی آرہی اگست کرانتی راجدھانی ایکسپریس میں بدمعاشوں نے7 ایئر کنڈیشن کوچ کے مسافروں کو بے ہوش کرکے لاکھوں روپئے کی نقدی اور زیور ،گھڑیاں اور موبائل پر ہاتھ صاف کردیا۔ یہ واردات مدھیہ پردیش کے رتلام کے پاس ہوئی۔ بدمعاشوں نے راجدھانی کے اے سی۔2 اور اے سی ۔3 ٹیئر کوچ کو نشانہ بنایا۔ واردات کو دیررات 2سے3 بجے کے درمیان انجام دیاگیا۔ قریب 25 مسافروں نے پرس ،زیور اور دیگر بیش قیمتی سامان لوٹے جانے کی بات کہی ہے۔ڈی سی پی (ریلوے) پرویز احمد کے مطابق منگلوار۔ بدھوار کی رات واردات کو انجام دیاگیا۔ کچھ مسافروں کی مطابق اسی ٹرین میں ایک دو دن پہلے بھی چوری ہوئی تھی لیکن واردات کو دبا دیا گیا۔ ایک سینئرافسر سے بھی اس معاملہ میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ اگر کوئی ریلوے ملازم اس میں شامل پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ نظام الدین ریلوے اسٹیشن پر 11 مسافروں نے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق ٹرین کے کوٹہ پہنچنے پر جاگنے پر کچھ مسافروں نے پایا کہ ان کے پرس ، سامان اور دوسری چیزیں غائب ہیں۔ڈھونڈنے پر خالی پرس ٹائلٹ کے پاس پڑے ملے اور کچھ کا کہنا ہے کہ ان کے آئی فون ،دوسرے الیکٹرانک سامان بھی غائب ہیں۔ بہتوں کے آدھار کارڈ اور دوسرے اہم ترین دستاویز بھی چوری ہونے کی شکایت کی گئی۔ درج ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ انہیں بے ہوش کردیا گیا تھا۔ بہت سوں نے اس واردات میں ریلوے اسٹاف کے شامل ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ راجدھانی جیسی پریمیم ٹرینوں کو بھی بدمعاش لگاتار نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگست کرانتی ایکسپریس سے پہلے اپریل میں واردات راجدھانی ایکسپریس ٹرین میں بھی بہار کے بکسر کے پاس ہوئی تھی۔ اس واردات میں 3 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ابھی حال میں ہی اندور انٹر سٹی ایکسپریس میں ایک خاتون سمیت چار بچیوں سے چھینا جھپٹی کی واردات کو انجام دیا گیا۔ دہلی ریل منڈل میں ہی اس سال جون تک چوری کی تعداد 1225 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کی کل وارداتیں 2878 ہوئیں تھیں۔ جون کے مہینے تک بدمعاشوں نے ایک درجن ٹرینوں میں لوٹ مار کی ہے۔ اس سال تین ٹرینوں میں ڈکیتی بھی پڑی ہے اور چار مسافروں کے قتل کا بھی معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ریل مسافروں کی سلامتی کے مقصد سے ایک سینٹرل فورس فوراً بنانے کی ضرورت ہے جس کے پاس چوروں اور لٹیروں سے نمٹنے کے لئے زیادہ اختیارات ہوں۔ عرصے سے ایسی مانگ ہوتی رہی ہے لیکن اپنی لاپرواہی پر لیپا پوتی کرکے ریل وزارت اور جی آر پی جیسی مشینری اس کی تشکیل میں روڑا اٹکاتی رہی ہیں۔ ہندوستانی ریل کو دھیان رکھنا ہوگا کہ اس کی خوبی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی وسیع ترین ریل نیٹ ورک کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلاتی ہے بلکہ یہ بھی ہونی چاہئے اس کی ٹرینوں میں سفر ہر طرح سے محفوظ ہو۔ ریل وزارت کرایہ بڑھاتی جارہی ہے اور سہولیت بڑھانا تو دور مسافروں کے سفر میں سکیورٹی تک دینے میں نا کام ہورہی ہے۔ وزیر ریل سریش پربھو ایک سنجیدہ شخص ہیں امید کی جاتی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرکے فوری کوئی پائیدار حل نکالیں گے۔
(انل نریندر)

اب تک اچھوتا رہا اسپین دہشت گردی کا شکار بنا

یہ سبھی کو معلوم ہے کہ خطرناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے نشانے پر یوروپ ہے پچھلے کچھ عرصہ سے یوروپ کے مختلف ملکوں میں آئی ایس حملے کررہا ہے۔ تازہ معاملہ اسپین کا ہے۔ اسپین میں کچھ ہی گھنٹے کے فرق میں مسلسل دو آتنکی حملہ ہوئے۔ جمعرات کو شام 4:50 منٹ پر ایک سفید وین نے تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے سڑک کے کنارے کھڑے لوگوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ اس حملہ کی زد میں 18 دیشوں کے شہری آگئے۔ ان میں جرمنی، رومانیہ، اٹلی، الجزائر اور چین جیسے دیش شامل ہیں۔ یہ حملہ بارسلونا کے مشہور ٹورسٹ مقام لاس انبلاس میں ہوا۔ جو بارسلونا شہر کے سینٹر میں واقع ہے۔ 1.2 کلو میٹر لمبا راستہ ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مراکش میں پیدا ہوئے ایک شخص اور نارتھ افریقہ میں جنم لئے شخص کو گرفتار کیا ہے۔ نام نہاد اسلامک اسٹیٹ نے اس حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ پچھلے ایک سال میں یوروپ میں کئی شہروں میں بھیڑ کے دوران گاڑی چڑھانے یا دوڑانے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ پیرس میں بھی 9 اگست 2017 ء کو ایک شخص نے کچھ فوجیوں پر ڈی ایم ڈبلیو گاڑی دوڑادی۔ اس میں 6 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ لندن میں 3 جون2017 کو تین جہادیوں نے لندن پل پر لوگوں پر وین چڑھادی اور کئی لوگوں پر چاقوسے حملہ کیا۔ ماہ جون میں بھی فن سبری پارک میں مسلمانوں پر ایک وین چڑھانے کے واقعہ میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی۔ 22 مارچ 2017 کو ویسٹ مسیسر برج پر لوگوں پر ایک گاڑی چڑھادی گئی اور کار ڈرائیور نے ایک پولیس والے کو چاقو سے وار کرکے مار ڈالا تھا۔ برلن کے کرسمس بازار میں بھیڑ کو نشانہ بنایا گیا۔ فرانس کے شہر نیس میں 14 جولائی 2016 کو تیونس نژاد محمد لائبیز نے ایک تقریب کے دن آتش بازی دیکھنے کیلئے پہنچی بھیڑ میں ایک لاری کو گھسادیا جس میں 86 لوگوں کی کچل کر موت ہوگئی۔ بھیڑ پر گاڑی چڑھانے کے واقعات کے کچھ ہی گھنٹے بعد اسپین کے ساحلی شہر کیمبلس میں کچھ دیگر مشتبہ نے اسی طرح کے واقعہ کو انجام دینے کی کوشش کی لیکن پولیس نے حملہ ناکام کرتے ہوئے مڈ بھیڑ کرکے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو مار گرایا۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ یہ حملہ بارسلونا میں ہوئے حملے کا ہی حصہ تھا۔ ادھر اسپین کے وزیراعظم نے تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسے جہادی حملہ قرار دیا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ نے یوروپ کے شہروں میں تین حملہ کئے ہیں لیکن پچھلی دہائی میں یوروپ میں ہوئے آتنکی حملوں سے اسپین اب تک اچھوتا رہا تھا۔ اسپین کی راجدھانی میڈرڈ میں آخری حملہ مارچ 2004 میں ہوا تھا۔ اس وقت ٹرین میں ہوئے دھماکوں میں 194 لوگ مارے گئے تھے اور 180 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اب اسپین بھی نشانے پر آگیا ہے۔ 
(انل نریندر)

19 اگست 2017

اور اب بہار میں سرجن گھوٹالہ، کروڑوں کا غبن

اور اب بہار میں سرجن گھوٹالہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس گھوٹالہ میں سنیچروار تک 7 ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں۔ جمعہ کواس میں 7 لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ مہا گھوٹالہ میں محکمہ بہبود کے100 کروڑ روپیہ کے غبن کا پتہ چلا ہے۔اب تک 750 کروڑروپئے کے غبن کے معاملہ سامنے آچکے ہیں۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں بھی 50 لاکھ روپئے کے غبن کا معاملہ اجاگر ہوا ہے۔ بھوارجن کے بعد بھاگلپور میں سب سے زیادہ محکمہ بہبود میں رقم کی ہیرا پھیرا کی گئی ہے۔ اس درمیان گرفتار بھاگلپور ڈی ایم کے اسٹینوگرافر پریم کمار سمیت 7 ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بھاگلپور میں سرکاری رقم کے غبن میں این جی او سرجن اور بینک کی جعلسازی میں اب تک 418 کروڑ روپئے کے غبن کے کاغذات مل چکے ہیں۔ بہار کے چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ نے سنیچر وار کو بتایا کہ اس بات کی جانچ کرائی جائے گی کہ این جی او کے کھاتہ میں بینک نے سرکار کی جو موٹی رقم ٹرانسفر کی وہ کہاں گئی؟ چیف سکریٹری نے کہا پورے معاملہ کی جانچ کافی سوجھ بوجھ سے ہورہی ہے۔ سبھی ضلعوں کو ماضی گذشتہ میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سبھی محکموں سے جڑے بینک کھاتوں کا ویری فکیشن کرائیں۔ بھاگلپور کے سرجن گھوٹالہ پر آر جے ڈی چیف لالو پرسادیادو نے وزیر اعلی نتیش کمار و ڈپٹی وزیراعلی سشیل کمار مودی سمیت بھاجپا کے کئی نیتاؤں پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے پشوپالن سے بھی بڑا گھوٹالہ قراردیا ہے اور سشیل مودی کو گھوٹالہ بازوں کا سرپرست بتایا۔ انہوں نے پوچھا کہ وزیر اعلی کی زیرو ٹالیرینس کی پالیسی کہاں گئی؟ اتنا بڑا گھوٹالہ سرکاری سرپرستی کے بغیر کیسے ہوگیا؟ لالو نے معاملوں کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ کرپشن کے معاملہ میں لگاتار دو مہینے تک پریس کانفرنس کرکے لالو پریوار کو پریشانی میں ڈالنے والے سشیل مودی پر لالو نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سرجن گھوٹالہ کا نیچر چارہ گھوٹالہ سے ملتا ہے۔ چارہ گھوٹالہ میں مجھے صرف اس لئے ملزم بنادیا گیا کہ محکمہ مالیات کا چارج میرے پاس تھا۔ سرجن گھوٹالہ کے دوران محکمہ مالیات سشیل مودی کے پاس ہے۔
2005ء میں جب نتیش کی سرکاربنی تھی تبھی سے یہ محکمہ سشیل مودی کے پاس رہا ہے۔ سرجن گھوٹالہ میں اب ایک دوسرے پر الزام منڈھنے کا کھیل انتظامی حکام سے شروع ہوگیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹو حکام اپنے دستخط کو جعلی بتا رہے ہیں لیکن بینک حکام انہیں صحیح ٹھہرا رہے ہیں۔ سرکاری رقم گھوٹالہ کی جانچ کی آنچ پٹنہ ، رانچی اور دہلی کے کئی بڑے نیتاؤں تک پہنچ سکتی ہے۔ سرجن کی موجودہ سکریٹری منورما دیوی کی بہو پریہ کمار رانچی کے ایک بڑے کانگریسی نیتا کی بیٹی ہیں۔ یہ نیتا ایک سابق مرکزی وزیر کے بھائی ہیں۔ معاملہ کی جانچ ہورہی ہے۔ دیکھیں گھن کاکیا کیا نکلتا ہے؟
(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...