Translater

29 اگست 2015

بڑھتی آبادی اصل تشویش کاباعث ہوناچاہئے

مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ دیش میں دوسرے سبھی مذاہب کے لوگوں کی آبادی بڑھی شرح دیش کی اوسطاً اضافی شرح سے کم ہے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ مسلم آبادی اضافے کی شرح بھی مسلسل گھٹ رہی ہے۔ مردم شماری 2011 مذہب کی بنیاد پر کے اعداد وشمار سابقہ یوپی اے سرکار کے عہد میں تیار ہوگئے تھے لیکن اس کی وقت کی منموہن حکومت نے لوک سبھا چناؤ کو دیکھتے ہوئے اسے جاری نہیں کیا تھا۔ عام طورپر مردم شماری کے 3سال کے اندر مذہب پر مبنی اعداد وشمار جاری کردیئے جاتے ہیں اس طرح مارچ 2014 تک ان اعداد شمار کو جاری کردیاجاناتھالیکن منموہن سرکار نے اس کے سیاسی زوال کے ڈر سے انہیں روکا ہوا تھا۔ اب مرکز میں مودی سرکار نے بھی اسے دبائے رکھا اب بے حداہم مانیں جانے والے بہاراسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے ان اعداد وشمار کو جاری کیا گیا ہے مردم شماری کے مذہبی اعدادوشمار کو سیاسی وجہ سے روکنے یا جاری کرنے کے الزام اگر صحیح ہے تو یہ ہماری آج کی سیاست پر ایک تبصرہ ہے بتایا جارہا ہے کہ پچھلی مردم شماری کے مذہبی اعدادوشمار کو 2014 کے لوک سبھا چناؤ کو دیکھتے ہوئے پچھلی سرکار نے روکا تھا اب انہیں جاری کرنے کے پیچھے بہار کے چناؤ کو پولارائزیشن کرنے کے ارادہ ہے لیکن سیاست سے دور ہٹ کر دیکھیں تو مردم وشماری کے یہ اعداد وشمار کچھ اور ہی تشویش کا نتیجہ پیش کرتے ہیں اعداد وشمار کے مطابق 2001 سے 2011کے درمیان مسلم آبادی 0.8فیصدی بڑھی جب کہ ہندو آبادی 0.7 فیصدی گھٹی ہے۔ حالانکہ 2001کے مقابلہ میں 2011مسلموں میں آبادی اضافہ کی شرح ہندو میں آبادی اضافی شرح سے کم ہوئی ہے۔ اس اندیشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مذہب پر مبنی اعداد وشمار کاسیاسی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ دیش میں یہ دونوں اہم بڑھے مذاہب کی طرف سے ایسی چپ چاپ آوازیں اٹھ رہی ہیں جو اپنے اپنے مذہب پر خطرہ بتا کر لوگوں سے آبادی بڑھانے کی اپیل کرتی رہی ہیں۔ کیونکہ دیش کا بٹوارہ ایک مرتبہ مذہب کی بنیاد پر ہوچکا ہے لہذا کئی بار تھوڑے بہت ایسی آوازوں پر کان نہیں رکھتے نظر آتے۔ البتہ آسام میں 6 کی جگہ 9ضلعوں کا مسلم اکثریتی ہوجانا اور مغربی بنگال میں سرحدی اضلاع میں مسلم آبادی کا بڑھنا باعث تشویش ضرور ہے اس سے اس دلیل کو کو تقویت ملتی ہے کہ بنگلہ دیش سے آسام اور مغربی بنگال میں سرحدی اضلاع میں ناجائز دراندازی کثرت سے ہورہی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر اعداد وشمار کو جاری کرنے کی منشاء خاص کر اس کے وقت کو لے کر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ ایسی شکایت کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہے جو مردم شماری کی ذات پات پر مبنی اعداد وشمار کو شائع کرنے کے لئے آسمان اور زمین کو سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ یقیناًدوکلہ پن ہے ایک طرف ذات پات پر مبنی مردم شماری اور اس کے اعداد وشمار کو ظاہر کرنے کی مانگ تو دوسری طرف مذہب پر مبنی مردم شماری اور اس کے سامنے لانے کی مخالفت کرنا۔ یقیناًسیاسی اغراز پر مبنی ہے۔ اگرچہ سرے سے مذہب اور ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی مخالفت میں آوازیں اٹھنا ممکن ہے انہیں وسیع حمایت مل سکتی ہیں۔ بہرحال بڑا سوال یہ نہیں کہ بڑھتی آبادی میں مذہب کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ بلکہ یہ کہ کیا دیش اس طرح بے قابو ہوتی آبادی مار جھیلنے کے لئے قوت رکھتا ہے؟ 2000 یا 2011 کے درمیان دیش کی آبادی جس طرح سے تقریبا 18 فیصدی بڑھی ہے باعث تشویش اور چیلنج بھرا ہے۔ آبادی کی رفتار اسی طرح بڑھتی رہی تو دیش کے تمام وسائل اور اس کی ضرورتوں کے سامنے اونٹ میں زیرہ ثابت ہوں گے۔ ہندو آبادی کے 80% سے کم ہونے پر تشویش ظاہر کرنے والوں کے لئے اس سے بھی زیادہ تشویش کا پہلو یہ ہوناچاہئے پچھلی دہائی میں ہندو کو چھوڑ کر سبھی فرقوں میں جنسی تناسب میں بہتری آئی ہیں۔ تشویش کا سوال یہ بھی ہوناچاہئے کہ مسلمانوں کے مقابلے دیش کی اکثریتی ہندو میں بچوں کی موت شرح زیادہ اور اوسط عمر کیوں ہے؟
(انل نریندر)

تہاڑ میں بدمعاش گروہوں میں دبدبہ کی بڑھتی لڑائ

روہنی عدالت میں پیشی کے بعد تہاڑ جیل لے جاتے وقت پولیس کی گاڑی میں دو گروپوں میں گینگ وار چوکادینے والی وار دات سامنے آئی ہیں۔ پولیس وین میں نیرج بوانیاں نیٹو دبودیا گروہوں کے درمیان ہوئی خونی لڑائی میں دو قیدیوں کی موت ہوگئی۔ جب کہ پانچ قیدی شدید طورپر زخمی ہوگئے۔ جن دوقیدیوں کی موت ہوئی ہیں ان کی پہچان پارس و پردیپ کی شکل میں ہوئی ہیں اور دونوں متوفی قیدی نیٹو دبودیا گروہ کے ممبر بتائے جاتے ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی نیٹو دبودیا اور نیرج بوانیاں گروہ کی رنجش کے بارے میں پولیس کو معلومات تھی اس کے باوجود پولیس نے دونوں گروہ کے بدمعاشوں کو ایک ہی گاڑی میں لے جانے کی لاپرواہی دکھائی۔ اتنا ہی نہیں۔ کسی بھی قیدی کے ہاتھ میں ہتھکڑی نہیں لگی تھی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر نیرج اور اس کے ساتھیوں نے دوہرے قتل واقعہ کو انجام دیا۔ یہ پوری واردات کے دوران وین میں تقریبا انچارج و ڈرائیور سمیت 12 گارڈ تھے لیکن ان میں کسی نے بھی بیچ بچاؤ نہیں کیا۔ ایک سینئر افسر نے بتایاکہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو مارنے سے کبھی چوکتے۔ ایسے میں ایک گاڑی کے اندر دونوں گروہ کے بدمعاشوں کو لانااس واردات کی وجہ بنی۔ روہنی عدالت میں گاڑی شام 4:30 منٹ پر تہاڑ جیل جانے کے لئے نکلی تھی۔ وین کے اگلے حصے میں ڈرائیور انچارج اور ایک گارڈ بیٹھاتھا اس کے پیچھے بنے کیبن 9 زیر سماعت قیدی تھے۔ سب سے پہلے کیبن میں 9 گارڈ موجود تھے وین میں جیسے ہی مدھو پن چوک پہنچی تو دونوں گروہ میں آپس میں تکرا گئے نیرج اور اس کے حمایتیوں نے پارس و پردیپ کو جم کر پیٹا اور پھر انہیں نیچے گرا کر سر پر جم کر لات اور گھونسوں سے حملے کئے پوری واردات کے دوران کسی گارڈ نے اس کو روکنے یا بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش نہیں کی۔ واردات کی جانکاری پولیس کو دے کر وین ڈرائیور بھگوان مہاویر ہسپتال کی طرف لے گیا۔ لیکن وہاں پہنچنے تک پاس اور پردیش کی موت ہوچکی تھی۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تہاڑ کے اندر جرائم پیشہ اپنے قصور کی سزا کاٹنے بچائے بڑی آسانی سے گینگ چلا رہے ہیں۔ موقعہ ملتے ہی دوسرے گروہ کے بدمعاشوں پر حملہ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ان کا خوف تہاڑ جیل کے اندر چھایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جیل انتظامیہ بھی اس پر روک لگانے میں ناکام رہا ہے۔ جیل کی ذرائع کی مانے تو تہاڑ جیل میں خاص طور سے دوگینگ سرگرم ہے جو جیل کے اندر سے جرائم کوانجام دے رہے ہیں۔ ان میں لوگوں سے زرہ فدیہ کی مانگ اور اغوا کی وارداتیں شامل ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی جیل نمبر8 میں ایک قیدی دپیک کی آنکھ پھوڑ دی۔ اور بے رحمانہ طریقہ سے مار ڈالا گیا تھا۔ کچھ ماہ پہلے امیت بھورا نے جیل میں رہتے ہوئے بھی رجوری گارڈن کے ایک کاروباری سے زرہ فدیہ کی مانگ کی تھی جیل کے اندر منشیات اور موبائل آسانی سے پہنچ جاتے ہیں۔ پولیس انتظامیہ کو تہاڑ میں چل رہی جرائم کی سرگرمیوں پر سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی نہیں تو ایسی ہی وارداتیں ہوتی رہے گی۔
(انل نریندر)

28 اگست 2015

بات چیت منسوخ ہونے پر پاکستان میں ملا جلا رد عمل

ہند ۔ پاک کے درمیان قومی سلامتی سطح کی بات چیت منسوخ ہونے پر سرحد پار میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ یعنی وہاں خوشی بھی ہے اور تنقید بھی ہورہی ہے۔ پہلی بات کرتے ہیں خوشی کی۔ بات چیت ٹوٹنے پر سرحد پار جشن منا۔ سب سے زیادہ خوش پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پاکستانی رینجرس اور دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں (انٹیلی جنس بیورو، ملٹری انٹیلی جنس اور را) نے اس سلسلے میں حکومت کو مفصل رپورٹ دی ہے۔ اس کے مطابق این ایس اے سطح کی بات چیت منسوخ ہونے کے اعلان کے فوراً بعد پاکستان سرحد پر بڑی بھیڑ دیکھی گئی۔ آتش بازی کی گئی، مٹھائیاں بھی باٹی گئیں۔ پاکستانی رینجرس کے ڈی جی رہے موجودہ آئی ایس آئی چیف رضوان اختر کا پیغام دو رینجروں نے مائیک پر پڑھ کر سنایا۔ اس دوران لشکر طیبہ کا کمانڈر ابو راشد خان اور اس کی ٹیم بھی موجود تھی۔ پیغام تھا ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت رکوادی ہے۔ اب آپ زیادہ سے زیادہ فائرنگ کروں، گھس پیٹھ کراؤ۔ خفیہ ایجنسیوں نے اس واقعے کا ویڈیو فٹیج وزارت داخلہ کو دیا ہے۔ آنے والے تین مہینوں میں بی ایس ایف چوکی پر پاک رینجرس زبردست گولہ باری کریں گے تاکہ دہشت گردوں کو گھس پیٹھ کرا سکیں۔ اب بات کرتے ہیں تنقید کی۔ بات چیت ٹوٹنے پر نواز شریف سرکار کو پاکستان کے اندر بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے زیادہ اخبارات نے اپنے اداریوں اور ادارتی صفحات پر شائع ماہرین کی رائے میں شریف سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ تنقید روس کے شہر اوفا سمجھوتہ میں کشمیر کا تذکرہ نہ کرنے اور بعد میں یہ آئی ایس آئی و فوج کے دباؤ میں اس اشو پر اڑیل رویئے کو لیکر ہورہی ہے۔ پاکستان کے مشہور اخبار ’دی ڈان‘ کے ادارہ صفحے پر شائع مضمون عنوان یہ بات چیت منسوخ کرنے کے لئے سیدھے طور پر نواز شریف کوذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ کسی اخبار میں سرل المیڈا نے لکھا ہے کہ اسے وقت پر کشمیر اشو کو اٹھانے کا کوئی تک نہیں تھا۔ان کے مطابق اوفا میں بھارت کی شرط کے آگے جھکتے ہوئے شریف کشمیر کو چھوڑ کر دہشت گردی پر بات کرنے کے لئے راضی ہوگئے تھے لیکن واپس لوٹنے کے بعد فوج و آئی ایس آئی کا دباؤ نہیں جھیل پائے۔ سرل نے سیدھے فوج اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لکھا ہے۔ اس کی جگہ لڑکوں کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن اشارہ صاف ہے ۔’ دی نیوز‘ اخبار نے اوفا میں اہم اشو پر صاف بات چیت نہ کرنے اور اسے عام جنتا کو صحیح طریقے سے نہ سمجھانے کے لئے اپنی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اخبار کے مطابق اس سے حالات اور الجھ گئے ہیں۔ جبکہ پاکستان آبزرور میں شائع مضمون میں ایچ ۔ضیا ء الدین نے حریت لیڈروں سے ملاقات کے لئے سرتاج عزیز کے اڑیل رویئے کی تنقید کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ حریت نیتاؤ ں سے ملاقات کے سبب ہی ٹھیک ایک سال پہلے ہندوستان سکریٹری سطح کی بات چیت منسوخ کرچکا ہے۔ ایسے میں شریف سرکار سے یہ کیسے سوچ لیا کہ اس بات ایسا کرنے پر وہ بات چیت کے لئے تیار ہوجائیں گے؟ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر نے ’ڈان‘ اخبار سے کہا کہ اگر بھارت کے لئے کشمیر اشو نہیں ہے تو اس نے وہاں 7 لاکھ فوجیوں کو کیوں تعینات کیا ہوا ہے؟ بات چیت منسوخ ہونے کے سبب انہوں نے کہا پوری بین الاقوامی برادری مانتی ہے کشمیر دو ملکوں کے درمیان کا مسئلہ ہے جس کا حل نکالنا چاہئے۔
(انل نریندر)

مکمل ریاست کا درجہ دلانے کیلئے دہلی میں ریفرنڈم کی مانگ

دہلی میں اروند کیجریوال حکومت نے دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلوانے کے لئے ریفرنڈم کی مانگ اٹھا کر دہلی سرکار ، چناؤ کمیشن اور مرکزی سرکار کے درمیان ایک نیا ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ اب تک تو جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند کشمیر کا مستقبل طے کرنے کے نام پر اس طرح کی مانگ کرتے رہے ہیں۔ کیجریوال سرکار نے دہلی کے حکمرانی نظام پر ریفرنڈم کی جو مانگ کی ہے وہ آئینی نہیں ہے اور آئین میں کہیں نہیں ہے۔ آئین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ دنیا میں ہر ملک کی راجدھانی مرکزی سرکار کے ہی ماتحت ہے۔ دہلی دیش کی راجدھانی بھی ہے اس ناطے اس پر دیش بھر کے لوگوں کا برابر کا حق ہے۔ مرکزی انتظامیہ سے پوری طرح الگ کرنے کے فیصلے پر تو دیش بھر میں ریفرنڈم کروانا پڑے گا۔ دہلی مرکز کے زیر انتظام ریاست ہونے کی وجہ سے دہلی کے سرکاری ملازم مرکزی سرکار کے ملازم ہوتے ہیں۔ ان پر مرکزی سرکار کے قاعدے قانون نافذ ہوتے ہیں۔ ایسے میں دہلی سرکار کا رول محدود ہوجاتا ہے لیکن کم اختیار تعلیم ،ہیلتھ اور پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم، سماجی بہبود جیسے کاموں میں دخول نہیں ہے۔ آپ کے چناوی منشور کے 70 نکات میں دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کی بھی بات تھی۔ پھر الگ سے ریفرنڈم کرانا تو وقت کی بربادی مانی جائے گی۔ ریفرنڈم آئین میں ہے ہی نہیں۔ ایک تو کونسا ادارہ یہ کام کرے گا اس کے جواز چناؤ کمیشن جیسا نہیں ہوسکتا یہ جب طے ہے کہ ریفرنڈم کے بعد بھی پارلیمنٹ ہی فیصلہ کرے گی ۔ ابھی کیجریوال سبھی پارٹیوں سے بات کرسکتے ہیں۔ دیش کی راجدھانی پوری طرح کسی ریاستی حکومت کے ماتحت کرنا ممکن نہیں دکھائی دے رہا ہوگا تبھی تو اس مطالبے کی شروعات کرنے والی بھاجپا اور کانگریس نے پہلے منع کردیا۔ حکومت کے ذریعے ریفرنڈم کرانے کی اسکیم پر چناؤ کمیشن بھی راضی نہیں ہے۔ چناؤ کمیشن کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ سرکار کو بتایا دیا ہے کہ آئین میں ریفرنڈم کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ ایسے میں رائے شماری ممکن نہیں ہے۔ دہلی کو مکمل ریاست کے درجے کو لیکر ریفرنڈم کرانے کی عام آدمی پارٹی کی مانگ غیر آئینی قرار دیتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کی چیف ترجمان شرمشٹھا مکھرجی نے دھمکی دی کہ اگر کیجریوال سرکار اس ریزولیوشن کو آگے بڑھاتی ہے تو پارٹی عدالت جائے گی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ ’آپ‘ پارٹی ریفرنڈم کی بات کرے وہ تقسیم کاری اور علیحدگی پسند طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرے گی۔ آپ کا کہنا ہے 44 ویں آئین ترمیم ایکٹ 1978 کے پیرا دو کے مطابق جنتا کو سماجی اقتصادی، سیاسی اور انصاف ،اظہار آزادی کو یقینی کرنے کیلئے چوطرفہ حقوق پر مفاد عامہ کے کسی مسئلے پر ریفرنڈم کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

27 اگست 2015

Pak broke negotiations by inviting Hurriyat : US

While allegations and counter allegations are going on for cancellation of Indo-Pak NSA level dialogue but we believe this is a win-win for India.  It had not occurred earlier to Pakistani the Indo-Pak negotiations are broken due to these very   separatists of J&K.  India has given a signal to Pakistan and the world that India will decide the direction and situation of the negotiations.  We feel it has also been decided for future that a handful Pak-pro separatists will not be deciding the Kashmir issue and if felt necessary, Government of India can express it by taking strict action.  US experts have also held Pakistan responsible for cancellation of dialogue.  South Asia Associated Kugelman of a prestigious institute like Woodrow Wilson International Centre said that Pakistan blasted off the bridge of dialogues by inviting Hurriyat.  Former Pak Ambassador to US Hakkani said that Pakistan’s conduct was according to its old efforts of trying to attract international attention towards Kashmir.  New York Times says that Pakistan cancelled dialogue with India citing of ban on the Hurriyat Leaders.  The news reports suggest that it was the result of dispute between two countries over Pak’s plan to meet Kashmiri separatists in India.  Both paid for non-consent as both are blaming each other for failure of dialogue.  LA Times reacted that influential army of Pakistan gave signs of sidelining the Prime Minister Nawaz Shareef.  It’s a big win of Modi government that separatists in J&K themselves have become the target of those parties who had given a warm approach for them.  BJP and Central Government were encircled by the questions arising over some issues soon after the formation of government with PDP in J&K especially on the issue of separatism.  Though the dialogue was not less opposed within BJP itself, especially after the terrorist Naved was captured.  Some leaders were openly demanding to cancel the dialogue.  Whether the opposition may allege the government failure after the cancellation of the dialogue but in our opinion the Government of India succeeded in its strategy.  Pakistan itself fell prey in the game of the government and had to face checkmate.  Modi government killed the snake without breaking the stick.  The credit goes to Prime Minister Narendra Modi, External Affairs Minister Sushma Swaraj and NSA to India Ajit Doval.

Anil Narendra

 

گھناؤنے جرائم میں موت کی سزاغیر انسانی نہیں

پچھلی ڈیڑھ دہائی میں جن چار لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے ان میں سے 3 دہشت گرد تھے۔ ان معاملوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں سے صاف ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پھانسی کی سزا ضروری ہے۔ ممبئی بم دھماکوں کے مجرم یعقوب میمن کی پھانسی کی سزا پر سپریم کورٹ نے صاف کیا کہ موت کی سزا غیر انسانی یا بربریت آمیز نہیں ہے۔ گھناؤنے جرائم میں سزائے موت زندگی اور آزادی کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر، جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس اے کے گوئل پر مشتمل تین نفری بنچ نے قتل کے معاملے میں موت کی سزا کے ایک قصوروار کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس دئے تھے۔ ایک لڑکے کے اغوا اور قتل کے قصوروار اپنی عرضی میں دلیل دی تھی کہ موت کی سزا صرف دہشت گردوں پر ہی لاگو ہوتی ہے۔ اس پربنچ نے کہا قتل کے معاملے میں موت کی سزا اہم ہے لیکن اگر عدالت نے موت کی سزا ہو تو اس پر سوال کھڑا کرنا مشکل ہے لیکن زرفدیہ کے لئے اغوا کرنے کے بڑھتے واقعات کو روکنے کیلئے سخت سزا دینا ضروری ہے۔ پھر چاہے اغوا پیسے کے لالچ میں عام جرائم پیشہ افراد نے یا منظم سرگرمیوں کے طور پرکیا ہو یا دہشت گردتنظیموں نے۔عزت مآب بنچ نے آئی پی سی کی دفعہ364A کے تحت سزائے موت کو جائز ٹھہراتے ہوئے یہ رائے زنی کی تھی۔ بنچ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے یہ قانون دیش کے شہریوں کی سلامتی کیلئے بنایاتھا۔
اسے تیارکرتے وقت دیش کے اتحاد ،سالمیت اور سرداری کی سلامتی پر تشویش ظاہرکی تھی۔ ایسے میں دفعہ364A کے تحت سزائے موت کو جرائم کے موازنے میں زیادہ بے رحم نہیں مانا جاسکتا۔ اسے غیر آئینی نہیں کہا جاسکتا۔ قابل ذکر ہے وکرم سنگھ کو2005ء میں ایک طالبعلم کے اغوا اور قتل کے معاملے میں پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی بعد میں سپریم کورٹ نے اس پر اپنی مہر لگادی تھی۔ زرفدیہ کے لئے اغوا میں دفعہ364 کا قصوروار ٹھہرائے جانے پر اس نے سزاکے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اس نے یعقوب میمن کی پھانسی کے بعد ان انسانی حقوق انجمنوں نے ہائے توبہ مچادی تھی۔ اس پر آئینی کمیشن نے پھانسی کو بنائے رکھنے کے حق میں رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ پھانسی کی سزا کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت سماج کی سلامتی اور انسانیت کی حفاظت کی ضرورت کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔ پھانسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے کہا تھا کہ یہ سوال آئی پی سی سیکشن کو بنائے رکھنے کا نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ خوف پیدا کرنے والی سزا کو ختم کرنے کے کیا کیا اثرات ہوں گے؟ موجودہ مشکل اور شش و پنج کے ماحول میں یہ انسداد (ڈیٹورینٹ) سزا اگر نہیں بنائے رکھی تو دیش میں بدامنی پھیل جائے گی۔
(انل نریندر)

تین طلاق کے سخت مخالف مسلم خواتین

خواتین انقلاب نے ہندوستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ اب خواتین کی شادی کیلئے زور زبردستی نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ اپنے من پسند جیون ساتھی کے ساتھ بسنے سے پہلے نوکری یا کام کرنے پرتوجہ مرکوز کرنے لگی ہیں۔آج مسلم خواتین کی ذریعے غیر شادی شدہ یا تنہا عورت (سنگل وومن) کی شکل میں زندگی گزارنا کچھ ملکوں میں قابل قبول روایت بن گئی ہے۔ بیشک اس تبدیلی کی رفتار دھیمی ہے لیکن کیریئر کو ترجیح دینے والی ان خواتین میں یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ آج ایران کے شہروں میں کنواری یا تنہا عورت کا ہونا غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ اس کی اصلی آبادی کے اعدادو شمار تو دستیاب نہیں ہیں لیکن یونیورسٹی کے پروفیسروں ، ریئل اسٹیٹ ایجنٹوں، خاندانوں و نوجوان عورتوں کا ماننا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں بڑی تعداد میں لڑکیوں کے یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور طلاق کے معاملوں میں اضافے کے چلتے یہ نیا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سال2000ء میں ایران میں 50 ہزار طلاق ہوئیں جبکہ سال2010ء میں اس میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا اور یہ اعدادو شمار ڈیڑھ لاکھ کو پار کرگئے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں تو اضافے کا اندازہ نہیں ہے۔ ادھر ہمارے دیش میں کئی برسوں سے مسلم سماج میں تین طلاق پر بحث جاری ہے لیکن حال میں مسلم خاتون تحریک (وی ایم ایم اے) کی جانب سے کئے گئے سروے کی مانیں توبھلے ہی مسلم علماؤں کی طرف سے اس پر کوئی بھی رائے ہو لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مسلم خواتین تین طلاق کے بالکل خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تین طلاق اور کثیر شادیاں روایت پر قانونی طور پر پابندی لگنا چاہئے۔ سروے میں 4710 مسلم خواتین کو شامل کیاگیا تھا۔ 10 ریاستوں میں یہ رائے شماری کرائی گئی تھی۔ سروے میں شامل خواتین نے بتایا کہ ان کے شوہر نے زبانی طلاق دی۔ کچھ عورتوں کے مطابق خط یا ایس ایم ایس سے انہیں طلاق کی اطلاع ملی۔ 78 فیصدی خواتین کی نا منظوری کے باوجود شوہر نے طلاق دی۔
90 فیصدی خواتین نے کہا کہ تین طلاق پر روک لگنی چاہئے۔ 88فیصدی خواتین کی رائے قانونی چارہ جوئی کے تحت طلاق ہونی چاہئے۔ 50 فیصدی خواتین تعلیم یافتہ ہیں جبکہ قومی اوسطاً 53 فیصدی ہے۔ 90 دنوں تک طلاق کی کارروائی آسان ہو تاکہ سمجھوتے کی گنجائش رہے۔90 فیصدی نے کہا کہ دوسری بیوی رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ دیش کی کل1.2 ارب آبادی میں 13 فیصدی مسلمانوں کی حصہ داری ہے۔انڈونیشیا کے بعد بھارت دنیا کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا دیش ہے۔ محض تین بار طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...