Translater

03 دسمبر 2014

رشتے داری سے لکھی جائے گی سیاسی کہانی!

سماجوادی چیف ملائم سنگھ یادو جب جمعہ کو پارلیمنٹ پہنچے تو اخبار نویسوں سے ان کے پوتے اور لالو پرساد یادو کی صاحبزادی کی شادی کی خبر پر سوال کر ڈالا۔ نیتا جی کچھ نہیں بولے، بس مسکرا کر رہ گئے۔ ان کی مسکراہٹ میں بنتے رشتے کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ان کے بغل میں کھڑے ایک سینئر لیڈر جنتا دل (یو) نے چٹکی لی، ’دو یادو مل رہے ہیں مگر چپکے چپکے‘ دراصل خبر آئی ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے پوتے تیج پرتاپ اور لالو کی بیٹی راج لکشمی کی شادی ہوسکتی ہے۔ہندوستانی سیاست کے دو دھرندر یادو جلد ہی سمدھی بن جائیں گے۔ دونوں کی رشتے داری پر16 دسمبر کو مہر لگ جائے گی۔ دونوں خاندانوں کے درمیان رشتے داری کا پہلا خیال وزیر اعلی اکھلیش یادو کے دل میں آیا تھا۔ رشتے کی بنیاد غازی آباد کے ایک لیڈر و لالو پرساد یادو کے رشتے دار نے رکھی تھی۔ 27 سالہ تیج پرتاپ سنگھ سپا چیف کے سب سے چہیتے کنبہ جاتی افراد میں شمار کئے جاتے ہیں اس لئے مین پوری پارلیمانی سیٹ سے استعفیٰ دینے کے بعد ملائم سنگھ نے تیج کو ہی اپنے جانشین کے طور پر چناؤ میدان میں اتارا اور وہ ملائم کے بڑے بھائی سورگیہ رتن سنگھ کے پوتے اور سفئی کے سابق بلاک پرمکھ سورگیہ رنویر سنگھ کے صاحبزادے ہیں۔ کچھ وقت سے لالو کو لیکر ملائم کا لہجہ بھی کافی نرم دکھائی پڑ رہا ہے۔3 نومبر کو اپنے سیاسی گورو چودھری نتھو سنگھ کی جینتی پر سپا چیف نے چارہ گھوٹالے میں لالو کے جیل جانے پر بھی افسوس جتایا تھا۔ خاندان کے ذرائع کے مطابق1977 میں بھی لالو اپنے خاندان کا رشتہ ملائم خاندان سے جوڑنا چاہتے تھے لیکن تب کسی وجہ سے بات نہیں بن پائی تھی۔ پارلیمنٹ سیشن میں شامل ہونے آئے ایم پی تیج پرتاپ یادو نے دہلی میں اس رشتے کی تصدیق کی اور کہا ابھی سگائی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے16 دسمبر کو یہ سگائی ہونے والی ہے اور فروری میں کسی وقت شادی ہونا طے ہے۔عدم استحکام کے سیاسی دور میں ملائم اور لالو دونوں کا ٹارگیٹ یادو برادری کا سب سے بڑا لیڈر بننے کیلئے قومی سطح پر خود کی موجودگی درج کرانا تھا۔1996ء میں جب دیو گوڑا کے ہٹنے کے بعد ملائم سنگھ یادو اور جوتی بسو پی ایم بننے کی دوڑ میں آئے تو صرف لالو پرساد کے ویٹو کی وجہ سے ملائم سنگھ پی ایم نہیں بن پائے۔ یہیں سے دونوں کی سیاسی راہیں الگ الگ ہوگئی تھیں۔ ملائم اور لالو کے درمیان رشتے داری ہوجانے سے دونوں کو کڑوی یادیں بھلانے کا موقعہ مل جائے گا۔ دونوں کنبوں کے بیچ رشتے کے فیصلے سے ہی سیاسی حلقوں میں اس بات کی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا سابق جنتا دل پریوار متحد ہوگا؟ لالو اور ملائم اگر ایک ساتھ آتے ہیں تو سیاست میں اس کے خاص اثرات ہوسکتے ہیں۔ دونوں خاندان بہار۔ اترپردیش میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں اور اس سے دیش کی سیاست بھی نئی کرونٹ لے سکتی ہے۔ حالانکہ لالو پرساد یادو اور ان کی پارٹی کی بہار میں اب وہ پوزیشن نہیں رہ گئی ہے جو ملائم کی پارٹی سپا کی اترپردیش میں ہے۔ اس کے باوجود ابھی بہار کی سیاست میں آر جے ڈی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

شاباش! پوجا ۔آرتی ہمیں فخر ہے

بھارت میں لڑکیوں کی حفاظت کا مسئلہ سب سے حساس پہلو ہے۔ بہت سے مطالع جات اور تجربات بتاتے ہیں کہ ہم جتنے ایڈوانس ہورہے ہیں لڑکیوں کی حفاظت اتنی ہی کمزور پڑ رہی ہے۔ گھر سے لیکر باہر تک ہماری عورتوں کو کئی طرح کے تشدد چھیڑ خانی سے روزانہ دوچار ہوناپڑتا ہے۔ کبھی کبھی کچھ بہادر لڑکیاں سامنے آہی جاتی ہیں جو اپنا بچاؤ خود کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیر کے روز ہریانہ روڈ ویز کی بس میں روہت شہر میں پیش آیا۔ شہر کے گورنمنٹ کالج سے رول نمبر لیکر گھر واپس لوٹ رہیں دو بہنیں پوجا اور آرتی کے ساتھ روہت ۔سونی پت روڈ پر ہریانہ روڈ ویز بس میں کچھ منچلوں نے ان سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی تو دونوں نے بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور خود کو بے عزت ہوتا دیکھ لڑکوں نے بھی ہاتھ اٹھایا تو لڑکیوں نے جوابی حملہ کرتے ہوئے اپنی بیلٹ سے ان کی جم کر دھنائی کردی۔ لڑکیاں جہاں بہادری سے ان منچلوں کو سبق سکھا رہیں تھیں وہیں بس میں موجودہ 60 سواریاں تماشائی بنی رہیں۔ ان دونوں بہنوں کی حفاظت کرنے کیلئے ایک ہاتھ بھی ان کی طرف نہیں بڑھا۔ اس دوران بس رکنے پر تینوں لڑکوں نے لڑکیوں کو دھکا دے کر نیچے گرادیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس نے معاملہ اسی دن درج کرلیا تھا لیکن کوئی گرفتاری نہیں کی تھی لیکن جب الیکٹرانک میڈیا میں یہ معاملہ چھایا اور لڑکیوں کے ذریعے منچلوں کی پٹائی کا ویڈیو سوشل سائٹ پر اپ لوڈ ہوا تب ہنگامہ مچ گیا۔ تب جاکر ہریانہ پولیس جاگی۔ اس نے آناً فاناً میں آسن گاؤں کے باشندے ملزم دیپک ، کلدیپ اور موہت کو ایک کھیت سے گرفتار کرلیا۔ ملزمان میں سے دو لڑکوں کا فوج میں سلیکشن ہوچکا ہے۔ بیٹیوں کہ بہادری سے مقابلہ کرنے کی جہاں چوطرفہ واہ واہی ہورہی ہے وہیں وزیر ذراعت او پی دھنکڑ نے انہیں31-31 ہزار روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی جگدیش کھٹر نے بھی انہیں 26 جنوری کو اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں لڑکیاں پوجا اور آرتی نے پورے واقعے کے بارے میں بتایا کہ وہ کالج سے رول نمبر لیکر واپس گھر جا رہی تھیں۔ جب وہ بس اسٹینڈ پر پہنچی تو پہلے ہی وہاں کھڑے دو لڑکوں میں سے ایک نے موبائل نمبر لکھ کر پرچی ان کے پاس پھینکی۔ جب ہم نے پرچی نہیں اٹھائی تو ان لڑکوں نے گالی دی۔ اس پر ہم انہیں جواب دیکر بس میں بیٹھ گئے۔ پیچھے پیچھے وہ لڑکے بھی بس میں چڑھ گئے اور ہم سے سیٹ سے اٹھنے کو کہا بحث ہونے پر ایک حاملہ خاتون نے بولنے کی کوشش کی لیکن لڑکے اس سے بھی الٹا سیدھا بولنے لگے۔ جب وہ سیٹ سے نہیں اٹھی تو ایک لڑکے نے کسی دوست کو فون کیا کہ بس میں دو لڑکیوں کو سبق سکھانا ہے۔لوڑ گاؤں سے ایک اور لڑکا بس میں چڑھ گیا اور تینوں نے بد تمیزی شروع کردی۔ ایک لڑکے نے تو ہاتھ اٹھا دیا۔ کسی سواری نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس پر ایک لڑکی نے ہمت کرکے خود اپنی پینٹ کی بیلٹ نکالی اور اس کو سبق سکھانے کیلئے لڑکوں سے بھڑ گئی۔ ہریانہ میں لڑکیوں کے پہناوے پر فرمان جاری کرنے والی کھاپ پنچایتوں کو بھی پوجا اور آرتی نے کرارا جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے شلوار قمیص پہنی ہوتی وہ پھٹ جاتی۔ جینس پہنی تھی اس لئے منچلوں کو پیٹ پائے ،جو ہمیں سوٹ پہننے کی صلاح دیتے ہیں وہ لڑکوں بھی دھوتی کرتا پہنوائیں۔ سارے دیش کو ان بہادر بیٹوں پر ناز ہے۔ دیگر لڑکیوں کو بھی ان سے سبق لینا چاہئے۔
(انل نریندر)

02 دسمبر 2014

چیف انجینئر یا ہیروں کا سوداگر؟

چیف انجینئر ہے یا ہیروں کا سوداگر؟ میں بات کررہا ہوں نوئیڈا اتھارٹی کے چیف انجینئر یادو سنگھ کی۔ ان کے گھروں اور دفتروں پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپے مارے اور ان میں 10.52 کروڑ روپے نقد اور کروڑوں روپے مالیت کے ہیروں کے بنے زیورات ملے ہیں۔ یادو کی نوئیڈا میں کوٹھی سے ہیرے ،سونے اور مہنگے زیورات سے سجا شوروم بھی ملا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ان زیورات کو ضبط کرلیا ہے۔ ان کا وزن2 کلو کے قریب ہے ان کی اصل قیمت کا جائزہ تو جوہری ہی لگائے گا ویسے غیر مصدقہ ذرائع بتاتے ہیں کہ چھاپے میں تین کلو زیورات برآمد ہوئے ہیں ان میں ایک کلو سونے اور دو کلو ہیرے کے زیورات ہیں۔ نوئیڈا ڈولپمنٹ اتھارٹی ، یمنا ایکسپریس وے اور گریٹر نوئیڈا کے چیف انجینئر یادو سنگھ کی بیوی کسم لتا اور ان کے سبھی سانجھے داری کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس ٹیموں نے جانچ شروع کردی ہے جو جمعہ کی رات تک چلتی رہی۔ کار کی ڈکی میں پولیس کو10 کروڑ روپے مالیت کے ہیرے ملے۔جانچ کی سوئی اس اتھارٹی کے تعمیراتی کاموں سے ملی کمیشن خوری کی طرف مڑ گئی ہے۔ یہ کمیشن پچھلے 3-4 برسوں سے کئی پروجیکٹوں کے ٹھیکہ وغیرہ حاصل کرنے کیلئے لی گئی بتائی جاتی ہے۔ تفتیش کے دوران صبح6 بجے کسم لتا کے پارٹنر راجندر منوچا کے نوئیڈا کے سیکٹر12 میں واقع رہائش گاہ پر ایک کار کی چابی ملی ہے۔ اس چابی سے جب کار کو کھول کر اس کی جانچ پڑتال کی گئی تو اس میں10 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔ لگژری گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ نلی ۔لال بتی لگی ایک سرکاری کار اور مسلح بندوقچی پر مبنی کالے سفاری سوٹ میں سکیورٹی گارڈ ان کی قمیص کے نیچے لگی9 ایم ایم کی پستولیں اور تین چار موبائل فون اور گھڑیاں وغیرہ وغیرہ ملے ہیں۔واقف کار بتاتے ہیں یادو سنگھ کا طلسم کچھ ایسا ہی تھا کہ انہیں قریبی واقف کار وائی ایس کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپس میں ذکر ہوتا تھا تو وائی ایس کا۔ بڑے سے بڑے بلڈر کیا نیتا کیا آئی ایس افسر ہر کوئی یادو سنگھ کی ایک مہربانی کا محتاج رہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ریاست میں سرکار بدلی اور موجودہ سرکار کے آنے کے بعد یادو سنگھ کی مشکلیں آگئیں۔ کبھی ایسا جلوہ نوئیڈا ، گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کا ہو یا پھر غازی آباد ڈولپمنٹ کے چیف وائی۔ ایس سے بات کرنے کیلئے ترس جاتے تھے۔ انہیں کئی کئی گھنٹوں یا کبھی کبھی تو کئی کئی دن ملنے میں لگ جاتے تھے۔ وائی ۔ایس کا جلوہ اتنا تھا کہ چیئرمین کی کوئی ان کے سامنے حیثیت نہیں تھی۔ ہم صنعتکاروں کو بیکار بدنام کرتے ہیں لیکن افسروں کے کتنے گھوٹالے ہیں یہ تبھی پتہ چلتا ہے جب ان کے یہاں چھاپے پڑتے ہیں۔ نوئیڈا ، گریٹر نوئیڈا و ایکسپریس وے کی تعمیر میں لگتا ہے حالانکہ رشوت خوری ہوئی ہے یہ تو ایک یادو سنگھ پکڑا گیا ہے ناجانے کتنے یادو سنگھ اترپردیش کے اس علاقے میں سرگرم ہیں؟
(انل نریندر)

کیا ہم پاکستان کی فطرت کو نہیں سمجھتے؟

پاکستان کی فطرت سے ہمیں حیرانی نہیں ہونی چاہئے، نہ ہی ہمیں پاکستان کی ناپاک حرکت سے الجھن میں پڑنا چاہئے۔ ایک طرف پاکستان دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے ٹھیک اسی وقت اس کے وفادار دہشت گرد ہندوستانی سرحد پر حملہ کردیتے ہیں۔ جب اٹل جی وزیر اعظم تھے اور جب وہ لاہور بس دورہ پر گئے تھے تب بھی مشرف ہاتھ ملا رہا تھا اور ٹھیک اسی وقت کارگل میں دراندازی ہورہی تھی۔ کاٹھمنڈو میں سارک چوٹی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں نریندر مودی اور نواز شریف جب گرمجوشی سے ہاتھ ملا رہے تھے ٹھیک اسی وقت ہتھیاروں سے مسلح فوج کی وردی میں آتنک وادی سرحد کے پاس واقع ارنیا سیکٹر میں گولیاں برساتے، دستی گولے پھینکتے ہوئے فوج کے دو بنکروں میں گھس گئے۔ خالی بنکروں کا استعمال صرف جنگ کے دوران کیا جاتا ہے۔ حملے میں بٹالہ (پنجاب) کے باشندے وجے کمار سمیت تین شہری مارے گئے۔ اس کے بعد شروع ہوئی مڈ بھیڑ میں فوج نے4 آتنک وادیوں کو بھی مارگرایا۔ آتنک وادیوں اور سکیورٹی فورس کے درمیان جمعرات کی صبح سے جاری مڈ بھیڑ جمعہ کو اس وقت ختم ہوئی جب ہمارے فوجیوں نے آخری آتنکی کو مار گرایا۔ کیا ہم پاکستان کی فطرت کو نہیں سمجھتے ہیں یا جان بوجھ کر دوستی کی پینگیں بڑھانے کا بھرم پالتے ہیں؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا جنم ہندوستان مخالف نظریئے سے ہوا ہے ۔ اس نے شروع سے ہی بھارت مخالف گھٹی پی رکھی ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کے اس بیان سے متفق نہ ہونا مشکل ہے کہ پاکستانی آتنکیوں کی دراندازی کو اتفاقی نہیں مانا جاسکتا۔ اس لئے اور بھی نہیں کیونکہ جب بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی طرح کی بات چیت یا لڑائی ہونا ہوتی ہے تب جموں و کشمیر میں کسی نہ کسی واردات کو انجام دے دیا جاتا ہے اور کچھ نہیں تو جنگ بندی کی خلاف ورزی ہونے لگتی ہے۔ ویسے بھی میاں نواز شریف کی یہ بھی مشکل ہے کہ وہ نام کے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں لیکن اصل طاقت تو پاکستانی فوج کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ان جہادیوں کے پالے ہوئے ہیں۔ ہتھیار سمیت سبھی طرح کی وہ سہولیات دیتی ہے اور وقت وقت پر ان کا بھارت کے خلاف استعمال کرتی ہے اور پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اپنا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔ یہ ماننے کی ٹھوس بنیاد ہے اور مناسب وجوہات ہیں کہ پاکستانی فوج کے اشارے پر ہی یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آتنک وادی ہندوستانی سرحد میں گھس آئیں اور پاکستانی فوج کو اس بارے میں کچھ پتہ نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے؟ پاکستانی فوج کی مدد اور حمایت کے بغیر تو آتنکوادیوں کی دراندازی ہونہیں سکتی پھر ایسے وقت جب جموں وکشمیر میں اسمبلی چناؤ ہورہے ہیں پاکستان جموں وکشمیر میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہے گا۔ ابھی تو پہلا مرحلہ پورا ہوا ہے چار مرحلوں کی پولنگ باقی ہے اس لئے ہمیں سرحد پر پوری چوکسی برتنی ہوگی۔ مستقبل قریب میں پاکستان کے ذریعے دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ جو بھی ہو بھارت کو پاکستان کے تئیں سختی برتنے کے ساتھ ساتھ سرحد پر فل الرٹ رکھنا ہوگا۔
(انل نریندر)

30 نومبر 2014

کیا بھاجپا جموں و کشمیر میں اپنے مشن44 میں کامیاب ہوسکتی ہے؟

جموں و کشمیر اسمبلی چناؤ میں اپنے مشن44 کو پورا کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ اترپردیش لوک سبھا چناؤ کے دوران پارٹی کے قومی پردھان امت شاہ کے ساتھ کام کرچکے تقریباً50 لیڈروں کو جموں و کشمیر میں لگایا گیا ہے۔ جب امت شاہ کو اترپردیش کی کمان سونپی گئی تھی تو وہ پارٹی کے سکریٹری جنرل ہوا کرتے تھے اور نیتاؤں کی فوج کی اوسط عمر30-40 سال کے درمیان ہے اور سبھی کا تعلق آر ایس ایس سے ہے کیونکہ یہ نیتا پہلے ہی امت شاہ کی رہنمائی میں اترپردیش لوک سبھا چناؤ کیلئے کام کرچکے ہیں اس لئے پارٹی اب جموں و کشمیر اسمبلی چناؤ میں ان کے تجربے کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ جموں وکشمیراسمبلی چناؤ اس بار کئی برسوں کے بعد دلچسپ ہونے والے ہیں۔ کانگریس و نیشنل کانفرنس ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے بعد لوک سبھا چناؤ میں ریاست کی 6 میں سے3 سیٹیں جیتنے کے سبب بھاجپا کو بھی مضبوط دعویدار مانا جارہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کے گڑ مانے جانے والے علاقوں میں بھی اس بار پوسٹر بینر وغیرہ کافی دکھائی دے رہے ہیں۔ 87 سیٹوں والی ریاست میں بھاجپا اپنے مشن 44 کے ساتھ اتری ہے۔ پارٹی کی بڑھتی سرگرمی سے پڑوسی پاکستان بھی حیرت میں ہے۔ وہاں کے میڈیا میں جموں و کشمیر اسمبلی چناؤکثیر طور پر چھایا ہوا ہے۔ اس لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا نے جموں، لداخ اور اودھم پور سے سیٹیں جیتی تھیں۔ان علاقوں کے تحت اسمبلی سیٹیں آتی ہیں۔ اکیلے جموں علاقے میں37 سیٹوں میں سے 25 اسمبلی حلقوں میں لوک سبھا چناؤ کے دوران پارٹی کو بڑھت ملی تھی۔ پارٹی مودی لہر کے بھروسے اس بڑھت کو بنائے رکھنے اور ان پر کامیابی حاصل کرنے کے فراق میں ہے۔ وادی میں ہے کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور ان کی باز آبادکاری مسئلے کو اٹھاتے ہوئے وہاں کی چار پانچ سیٹوں پر اپنی موجودگی درج کرانے کا نشانہ ہے۔ علیحدگی پسندوں اور حریت لیڈروں کے ذریعے چناؤ کے بائیکاٹ پر عمل کرنے کی سمت میں کشمیری پنڈتوں کے ووٹ کچھ چناوی حلقوں میں پارٹی کو اکثریت دلائیں گے۔ اگر سٹہ بازار پر یقین کیا جائے تو جموں و کشمیر میں بھاجپا سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ممبئی ۔ دہلی کے سٹہ بازوں نے اس سال مئی میں لوک سبھا چناؤ کے بارے میں بالکل صحیح پیش گوئی کی تھی اور وہ اتنی ہی نہیں بلکہ اکتوبر میں مہاراشٹر اسمبلی چناؤ کے بارے میں بھی اس کا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔ اب سٹہ بازوں نے جموں و کشمیر کے چناؤ کے بارے میں پیشگوئی کی ہے اس کے مطابق بھاجپا پہلی بار مسلم اکثریتی کشمیر وادی میں کچھ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ بی جے پی اگر جموں و کشمیر میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آتی ہے اور کسی طرح سے اپنا وزیر اعلی بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ پارٹی کیلئے تاریخی کارنامہ ہوگا۔ بی جے پی ابھی تک جموں اور لداخ کے حلقوں میں حاوی رہی ہے۔ اس بار وادی میں بھی اس کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سٹے بازوں کا کہنا ہے پہلی بار وادی کے نوجوان بی جے پی کی طرف راغب ہورہے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے آج سب سے بڑا ذریعہ ٹورازم ہے۔ وزیر اعظم اور بی جے پی کے ورکر ریاست کو ٹورسٹ ہب بنانے کی تھیم پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس سے یہاں کے لوگوں کا بھروسہ مضبوط ہوا ہے۔ اگر مودی اور زیادہ ریلی کرتے ہیں تو اس کا فائدہ بھاجپا کو ملے گا۔2009 کے اسمبلی چناؤ میں نیشنل کانفرنس کو28 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کی حمایت سے سرکار بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ پچھلے سال اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو محض17 سیٹیں ملی تھیں۔ پولنگ23 دسمبر کو ہونی ہے۔ پہلے مرحلے میں بھاری پولنگ سے بھاجپا کا جوش اور اعتماد بڑھا ہے۔ دیکھیں جموں و کشمیر میں کیا بھاجپا اگلی سرکار بنا سکتی ہے؟
(انل نریندر)

صرف11 روپے کے کھانے پر ہی رامپال پیٹ بھرنے کو مجبور!

جس کی ایک پلک جھپکتے ہی پیسے کی برسات ہوجائے اور اشارہ ہو تو لاکھوں کی عیش و آرام کی سہولیات سرخم ہوکر پیروں میں پسر جائیں، منہ سے لفظ نکلنے سے پہلے تمام وسائل میسر ہوجائیں آج کل وہ رامپال محض11 روپے خرچ کرکے زندگی بسر کررہا ہے۔یہ کوئی اور نہیں کروڑوں روپے کی جائیداد اکھٹا کرنے والا ستلوک آشرم کا مالک رامپال ہے۔ حوالات میں بیٹھے رامپال پرجیل کے قواعد کے مطابق دن میں 11 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ایک وقت میں صرف ساڑھے پانچ روپے کی غذا اسے دستیاب کرائی جاتی ہے اس میں دال پانی کے گھول میں مرچ اور نمک ملا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ چار روٹیاں دی جاتی ہیں اس میں سے بھی رامپال صرف ایک روٹی ہی کھاتا ہے۔صبح ساڑھے گیارہ بجے حوالات میں سلاخوں کے نیچے سے تھالی رامپال کی طرف بڑھا دی جاتی ہے۔ یہی سلسلہ شام کے وقت دوہرایا جاتا ہے۔ ہریانہ پولیس نے 6 دن کے ریمانڈ کے بعد رامپال کو اس کے دیگر آشرموں کی جانکاری اور ماضی گذشتہ میں دئے گئے بیانوں پر اس سے پوچھ تاچھ شروع کی ہوئی ہے۔ پولیس رامپال کے مدھیہ پردیش کے علاقے بیت الآشرم کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر لے جانے والی ہے۔ پولیس اس کے بیحد نزدیکی حمایتیوں کو آمنے سامنے بٹھا کر اہم معلومات لے رہی ہے۔ اسی دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پولیس اور نیم فوجی فورس پر گولیاں چلانے والے رامپال کے پرائیویٹ کمانڈو و رامپال کے بیٹوں اور اس کے داماد کے اشاروں پر کام کررہے تھے۔ یہ تینوں رامپال کی کور کمیٹی کے ممبروں کے ذریعے بنائے گئے پانچ ممبروں کے گروپ میں شامل تھے۔ یہ انکشاف ایس آئی ٹی کی جانچ سے سامنے آیا ہے۔ حالانکہ گروپ کے سبھی ممبر ابھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ اس کا خلاصہ ابھی رامپال کے نزدیکی رام کمار ڈھکا،بلجیت اور پرشوتم نے ریمانڈ کی میعاد بڑھانے کے دوران کیا۔ ایس آئی ٹی کے ممبر و سی آئی اے کے انچارج مکیش کمارنے بتایا کہ پولیس انتظامیہ کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنے والے رامپال کے نجی کمانڈوں رامپال کے بیٹے ویریندر ،منوج کمار اور داماد سنجے فوجی کے احکامات پر کام کررہے تھے۔ ان کی ہدایتوں کے بعد ہی پرائیویٹ کمانڈو نے پولیس فورس پر فائرننگ شروع کی تھی۔ کور کمیٹی کی جانب سے ہتھیاروں اور نجی کمانڈو کے انتظام کے لئے اس گروپ کو رقم مہیا کرائی جاتی تھی۔ پولیس کا خیال ہے کہ ان پانچوں ملزمان کی گرفتاری کے بعد معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ بیشک تھانے میں رامپال پر روزانہ 11 روپے خرچ ہوں لیکن حوالات تک لے جانے میں اس پر 17 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ خرچ صرف رامپال کی گرفتاری کیلئے آشرم کے باہر ہریانہ پولیس کے ڈیرا ڈالنے کا ہے۔ پنجاب سرکار کو بھی قریب ساڑھے چار کروڑ روپے کا خرچ اٹھانا پڑا ہے۔ بہرحال رامپال کے عیش و آرام کی سزا جیل میں معمولی کھانا دے کردی جا رہی ہے۔
(انل نریندر)

29 نومبر 2014

فلپ ہیوج کی موت سے غم میں ڈوبی کرکٹ دنیا

صرف 25 سال کی عمر میں دنیا کو ا لوداع کہنے والے مایہ ناز کرکٹ کھلاڑی فلپ ہیوج کی موت سے پوری کرکٹ دنیا صدمے میں ہے آسٹریلیا میں ماتم چھایا ہوا ہے آسٹریلیائی ٹیسٹ کرکٹر فلپ ہیوج کو منگل کے روز شوفلڈ شیلڈ اور نیو ساؤتھ ویلرز کے ساتھ میچ میں ایک باؤنسر بال جو کہ ساتھی آسٹریلیائی کھلاڑی سین ایورنے پھینکی جوکہ اس کے سرپر لگی تھی۔ حالانکہ ایورنے ہیلمیٹ پہنا ہوا تھالیکن اس کے باوجود چوٹ اتنی گہری اورخطرناک تھی کہ وہ زندگی اور موت کے بیچ لٹک رہا اور آخر کار ہیوج جمعہ کے روز اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ ہیوج ساؤتھ آسٹریلیا کی جانب سے سلامی بلے باز کے طور پر اتریں تھے اور انہو ں نے آف سینچری بھی بنائی۔جب وہ 63 رن پر کھیل رہے تھے تو حریف ٹیم نیو ساؤتھ ویلیز کے تیز گیندبازسین ایور نے ایک باؤنسر بال پھینکی جو ہیوج کے سر پر جالگی۔ بال لگنے کے بعد کچھ پل کے لئے ہیوج نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر لگے اور پھرپیچ پر منہ کے پل گرپڑیں۔ میڈیکل اسٹاف اورکھلاڑی دوڑ کر ان کے پاس پہنچے۔ اورانہیں منہ سے سانس دلانے کی کوشش کی اور 40 منٹ تک علاج کیا۔ کوئی فائدہ نہ ہونے پر ہیوج کو سڈنی کے سینٹ وینسیٹ ہاسپٹل لے جایا گیا اور میچ کووہی روک دیا گیا کیونکہ سبھی سمجھ گئے تھے ہیوج حالت بہت نازک ہے اس کے سر کا آپریشن ہوا لیکن وہ نزع میں چلے گئے اور پھر وہ ہوش میں نہیں آئے اورجمعرات کو آخر کار ہسپتال نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ ہیوج کی موت نے پرانی یادیں تازہ کردی ہے۔1998میں بنگلہ دیش میں ایک کلب میچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑی رمن لانبا شاٹ لیفٹ پر بغیر ہیلمٹ لگائے فلیڈنگ کررہے تھے اچانک بلے باز کا شاٹ سیدھے ان کے ماتھے پر لگا اور 3دن ہسپتال میں بھرتی رہنے کے بعد 38 سال کی عمر میں ان کا دیہانت ہوگیا تھا۔1962 میں ناری کانکیٹرکیبربائی دورے پر ٹیم انڈیا کے کپتان تھے۔ بیٹنگ کے دوران ویسٹن انڈیز کے تیز گیند باز چارلی گیفیگ کی گیند اس کے سر پر لگی اور وہ 6 دن تک بیہوش رہے ان کو بچانے کے لئے آپریشن بھی کیاگیا لیکن کانڈیکیٹر بچ تو گئے لیکن وہ دوبارہ کرکٹ نہیں کھیل پائے۔ فلپ کی موت پر ساری دنیا کے کھلاڑیوں کے تعزیتی پیغامات آرہے ہیں۔ ان کے موت سے جہاں کرکٹ میں زندگی کو خطرہ کی بحث پھر سے چھڑ گئی ہے وہی ہیلمٹ کی کوالٹی پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ فلپ ہیوج کی موت کے بعد کرکٹ فرقے میں ہیلمٹ کی کوالٹی کو لے کر تشویش جٹائی جارہے ہیں۔ یہ ثابت ہوچکا ہے ہیوج نے اچھی کوالٹی کا ہیلمٹ نہیں پہنا ہواتھا۔ کھلاڑی اور کرکٹ سے جڑے تمام لوگ اور کرکٹ شائقین اب اس بات جوڑ دے رہے ہیں کہ فلپ ہیوج کے ساتھ جو کچھ ہوا ایسا واقع دوبارہ نہ ہوئے۔اس کے لئے کیاکرناچاہئے؟ ہم ہیوج کے خاندان کو یہ کہناچاہیں گے اس دکھ کی کھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہے تمام دنیا کے کھلاڑی، کھیل شائقین ان کے دکھ میں شریک ہے۔

(انل نریندر)

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!

شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو...