بیرونی ممالک میں ایران کی کل ضبط ، پابندی شدہ پراپرٹی کا اندازہ تقریباً 100 ارب ڈالر ہے اس نے منجمد کھاتوں میں تیل سے ہونے والی کمائی، غیر ملکی کرنسی ذخیرہ ،بینکنگ پراپرٹی و دیگر دعوے شامل ہیں ۔پہلی بار وسیع پیمانہ پر اثاثہ تب فریز کئے گئے جب ایران میں اسلامک انقلاب آیا اور امریکی سفارتخانہ میںیرغمال بحران کھڑا ہوا ۔14 نومبر 1979 کو ایرانی انقلابیوں نے فوراً تہران میں امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس وقت کے صدر جلی کوٹر نے امریکی دائرہ اختیار میں موجود ایرانی سرکار کے اثاثہ کو بلاک کر دیا ۔1980 میں ایران سرکار نقد ، سونا اور دیگر املاک شامل تھیں جن میں سے زیادہ تر پراپرٹی 198.1 الجیریس سمجھوتہ کے تحت جاری کی گئی تھی جس سے یرغمالی کا بحران ختم ہوا تھا ۔تقریبا 4 ماہ کی جنگ کے بعدا مریکہ ایران امن سمجھوتہ کی شکل میں لائن پر متفق ہوئے اور اس کے باوجود ایران کی ضبط پراپرٹیوں پر رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ایک طرف ایران نے 14 نکاتی سمجھوتہ کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ضبط اثاثے جاری کرنے پر متفق ہولیکن ٹرمپ کے کئی متضاد بیانوں نے حالات کو شش وپنج میں ڈال رکھا ہے ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں