28 فروری اس سال امریکہ اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے ۔انہوں نے کسی بنکر میں چھپنے کے بجائے اپنے دفتر میں ہی رہ کر شہید ہونا منظور کیا تاکہ ان کی قوم دشمنوں سے لوہا لے سکے ۔ان کی شہادت ہر وطن پرست کے لئے راہ عمل بنے ۔یہی ہوا ایت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایران کی عوام میں ایک ایسا جذبہ پیدا کیا اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دیش امریکہ کو آخر کار :جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ایران سے اب خبر آئی ہے کہ ان کی وفات نے 3 ماہ بعد ان کی آخری رسوم کی جائیں گی ۔یعنی 3 ماہ بعد سپرد خاک ہوں گے خامنہ ای ۔سرکار نے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔اور دیش کے کئی شہروں میں ان کا تعزیتی جلوس نکالاجائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم کے لئے 3 دن کا پروگرام طے 4 جولائی ہوا ہے ۔تہران قوم اور مشہد میں ہونے والی اس تدفین میں دو کروڑ لوگوں کے آنے کی امید ہے ۔ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا ہے ۔یہ پہلی بار ہوگا جب 28 فروری کے حملے کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے درمیان نظر آئیں گے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق راجدھانی تہران قوم اور مشہد میں بڑے پبلک پروگرام ہوں گے ۔اکیلئے تہران میں خاص پروگرام 24 گھنٹے چلے گا۔ انتظامیہ کے مطابق دو کروڑ لوگوں کو سنبھالنے وحفاظت کو لے کر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔یہ اعلان خامنہ ای کی موت کے کئی دنوں بعد ہوا ۔اسلامی روایت کے مطابق دفنانے کا کام فوراً ہونا چاہیے تھا لیکن جنگ کے سبب اور حفاظت کی وجہ سے اسے ٹالنا پڑا۔آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کے تھے ۔28 فروری کے حملے میں وہ شہید ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ایران پر ان کا 30 سال سے زیادہ پرانی حکومت ختم ہو گئی ۔وہ دیش کے سب سے طاقتور اور باعزم لیڈر تھے ۔وحکمت عملی ساز بھی تھے ۔آیت اللہ خامنہ ای بھارت کے دوست بھی تھے اور ان کے نظریات کے بہت بڑے پرستار تھے ۔ان کے بیچ کا خاص طور پر تاریخی رہا ہے ۔سورگیہ پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب اور اس پر تبصرہ پر نظریہ خامنہ ای نے نہرو کے ذریعے لکھی سوانح حیات یا ول میسج گلمس پیسج آف ورلڈ اس کی کھل کر تعریف کی ۔انہوں نے اپنی تقریروں میں اکثر اس بات کا ذکر کیا کہ کیسے نہرو نے اپنی کتابوں میں تفصیل لکھا کہ انگلینڈ جیسے چھوٹے دیش نے بھارت جیسے وسیع ملک کے وسائل کا جائزہ لے کر خود کو کیسے محفوظ کیا ۔خامنہ ای کے مطابق یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں بلکہ یہ تبصرہ اور سامراجواد طاقتوں کی سچائی تھی ۔2012 میں جب تہران نے چوٹی کانفرنس (نیم سمٹ ) کے دوران ہندوستانی وزیراعظم (ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی تو خامنہ ای نے خود جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کیا تھا ۔آیت اللہ خمینی کا ایک پرانا ویڈیو بھی دوبارہ سامنے آیا ہے جس میں وہ جنتا سے اپیل کررہے ہیں ۔: تہران کی کتاب گلمپس آف ورلڈ ہسٹری ضرور پڑھیں ۔انہوں نے تفصیل سے سمجھایا کہ انگریزوں نے بھارت میں کیا کیا کیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانے سے صرف ایران یا اسلامی دنیا کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ دنیا کو ان کے جانے و خاص کر جس طریقہ سے ان کی شہادت ہوئی بھاری نقصان ہوا ہے ۔ایک نیک بندہ چلاگیا ۔ہم شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں