منی پور میں این ڈی اے ممبران اسمبلی کا الٹی میٹم !

منی پور میں بگڑے حالات کے درمیان حکمراں این ڈی اے سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے اپنی سرکار کو ہی الٹی میٹم دے دیا ہے ۔منی پور تشدد کی آگ میں اب وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کی قیادت والی بھاجپا سرکار بھی جھلستی نظر آرہی ہے ۔بھاجپا سرکار پر سنکٹ کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔وزیراعلیٰ کی کرسی خطرے میں آرہی ہے ۔ریاست کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے لئے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ کی سربراہی میں بلائی گئی اہم میٹنگ میں 37 میں سے 19 ممبر اسمبلی بی جے پی شامل نہیں ہوئے ،میتئی سماج سے آنے والے ایک کابینہ وزیر بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے ۔ممبران اسمبلی نے ایک اہم میٹنگ کرکے پرستاو¿ پاش کیا اس میں جری بام ضلع میں تین عورتوں اور تین بچوں کے قتل کے ذمہ دار کوکی علیحدگی پسندوں کے خلاف اجتماعی کاروائی کی اپیل کی گئی ہے ۔اگر ان تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا تو این ڈی اے کے سبھی ممبران اسمبلی منی پور کے لوگوں کے مشورے کے بعد آگے کی کاروائی کریں گے ۔منی پور تشدد کا دور رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اب تو پہلی بار وزراءایم ایل اے گروپوں کے گھروں پر بھی حملے ہوئے ہیں ۔امپھال مغرب میں بھیڑ نے ایک بھاجپا ممبر اسمبلی کا گھر پھونک دیا۔وہیں جربام میں بھاجپا کانگریس کے دفتر اور ایک آزاد ممبر اسمبلی کی بلڈنگ کو نقصان پہنچایا اور کئی وزراءاور 9 ممبران اسمبلی کے گھروں پر حملہ ہو چکاہے ۔بھیڑ نے ایم پی پی ممبر اسمبلی رامیشور سنگھ کو گھر سے نکال کر پیٹا تھا ۔دہشت کے چلتے کئی وزیر اور ممبران اسمبلی نے رشتہ داروں کو ریاست سے باہر بھیج دیاہے وہیں وزیراعلیٰ این ویرن سنگھ کی رہائش گاہ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔کئی ضلعون میں انٹرنیٹ سیوا بند ہے ۔اس درمیان 565 دن سے جاری تشد دکی آگ ریاست کی بھاجپا سرکار تک پہنچ گئی ہے ۔سرکارمیں شامل این پی پی نے بیرن سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے بھاجپا صدر جے پی نڈا کو خط لکھ کر مطلع کر دیاہے ۔ریاستی اسمبلی میں این پی پی کے سات ممبر ہیں ریاست کے ایک ممبر نے بتایا کہ بھاجپا 14 اور 5 دیگر ممبر استعفیٰ دینے کی تیاری میںہیں ۔ایک دن پہلے ہی اسمبلی اسپیکر سمیت بھاجپا کے 19 ممبران کا ایک خط سامنے آیا تھا جنہوں نے بیرن سنگھ کو فوراً استعفیٰ دینے کی مانگ کی تھی ۔این پی پی کے ایک ممبر اسمبلی نے بتایا کہ ہمیں کچھ دن مرکز کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا ۔بیرن سنگھ کی جگہ نیا نیتا نہیں بنا تو ہم فلور ٹیسٹ کی مانگ کریں گے کیوں کہ سرکار اقلیت میں ہے او ر دوسری طرف منی پور کانگریس کے صدر کیشو مدھے چندر نے بھی کہا ہے کہ اگر جنتا کہے گی تو ہمارے سبھی ممبر اسمبلی استعفیٰ دیں گے ۔ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے 5 ممبر ہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب مرکزی سرکار منی پور کو لے کر کیسا فیصلہ کرتی ہے۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!