Translater

28 مارچ 2026

نہ ٹرمپ پر بھروسہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی منظور

مغربی ایشیا میں لڑائی کے خاتمے کے لیے امریکا کی 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایران نے الٹا اپنی 5 شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 15 نکاتی امن تجویز کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر مستر د کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ بڑی شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے واضحطور پر کہا ہے کہ وہ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب اس کے مطالبات پورے ہوں گے۔ امریکہ نے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو ٹرمپ پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی کو قبول کرتا ہے۔ ایران کی پانچ شرائط میں جنگی نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ، ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر سابقہ خود مختاری شامل ہے۔ تہران کا واضح موقف ہے کہ امن صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب امریکہ اس کی شرائط مان لے اور مخطے کے تمام مزاحمتی گروپوں پر حملے بند کر دے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس شدید جنگ میں تہران نے بھی اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 نکاتی تجویز پیش کی تھی ۔ ان مطالبات میں شامل ہیں : ایران اپنی تینوں بڑی ایٹمی سائٹس کو بند کر دے۔ اسے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دینا چاہیے۔ اسے اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے۔ اسے حماس ، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنی چاہیے۔ اسے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا چاہیے۔ اسے یہ وعدہ بھی کرنا چاہیے کہ وہ کبھی بھی جو ہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ موجودہ افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مطالبات تھے۔ میں نے امریکہ کے اہم مطالبات کا ذکر کیا ہے۔ مجھے اس بات پر سمجھوتہ کرنا مشکل ہے کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کم و بیش درست مسائل پر بات چیت فروری میں ہوئی تھی۔ ان نکات کو سرخ لکیریں کہا جا سکتا ہے، جن پر ممالک متفق نہیں ہو سکتے ۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تنازع کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایسے پیغامات کے تبادلے کا مطلب مذاکرات نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ چھیڑنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکہ ایران میں جنگ اور حکومت کی تبدیلی میں فتح چاہتا تھا، دونوں ناکام رہے۔ دریں اثناء ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جس امریکی سٹریٹجک طاقت پر فخر کیا تھا وہ اب تزویراتی شکست میں تبدیل ہو گئی ہے ۔... ہم امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے گمراہ نہیں ہوں گے ۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی ایک تجویز میں ایران کو جنگ بندی کے لیے پاکستان یا ترکی میں مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی جسے ایران نے صاف طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بیضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال جو ہری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسے سفارتی غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ہمیں دو بار دھوکہ دیا ہے، اور ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہماری رائے میں طاقت حل نہیں ہے ۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ایران پر حملے بند ہوں۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک طرف امن کی تجویز بھیجیں پھر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور حملے جاری رکھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ بھی یہ کر رہا ہے۔ وہ اپنی زمینی افواج میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ ایک طرف نئے جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے اور دوسری طرف امن کی بات کرتا ہے۔ یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ مجھے ٹرمپ پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔
ائل نریندر

26 مارچ 2026

ڈیمونا:اسرائیل کا سیکریٹ نیوکلیئر ری ایکٹر!



ایران۔ اسرائیل جنگ کاایک دوسرے کے نیوکلیائی اسٹیشنوں پر پہنچ جانا بیحد خطرناک ہے۔سنیچر کی صبح امریکہ۔ اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کو نتانگ نیوکلیئر مرکز کو نشانہ بنایا تو ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اراد کے ساتھ ساتھ ڈیمونا شہر پر بھی میزائلیں داغیں۔ڈیمونا اسرائیل کا وہ جنوبی حصہ ہےجہاں سے محض 13 کلو میٹر دور اہم نیوکلیائی مرکز ہے۔تل ا بیب کی مانیں تو یہ حملہ دراصل اس کے نیوکلیائی سینٹر کو مرکز میں رکھ کر ہی کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 180 سے زیادہ لوگ زخمی ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ اسرائیل فوج نے بتایا کہ وہ اس بات کی بھی جانچ کررہی ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکا کیوں نہیں جاسکا۔ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ایران کے دعوے میں کچھ سچائی ہے۔ اس کی میزائلوں نے اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیاہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل کو روکنے کی کوشش کی لیکن انٹرسپٹر اسے مار گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔انٹر نیشنل نیوکلیائی انرجی ایجنسی نے ان حملوں کے سبب شکر ہے کہ کسی طرح کی ریڈی ایشن یعنی کرنیں نکلنے سے انکار کیا ہے جو یقیناً اچھی بات ہے، لیکن دونوں جگہوں پر جان مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ڈیمونا سائوتھ اسرائیل کے نیگرو ریگستان میں واقع ہے ۔یہ ایک اہم نیوکلیائی پلانٹ ہے۔ اسرائیل کی اپنے نیوکلیائی پروگرام کو لیکر کوئی صاف پالیسی نہیں ہے۔ سرکاری طورپر اس کا کہنا ہے کہ ڈیمونا ری ایکٹر صرف ریسرچ کے لئے ہے۔ حالانکہ اسٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 90 نیوکلیائی جنگی جہاز ہیں جس سے وہ مشرقی وسطیٰ کا ایک واحد نیوکلیائی پاور کفیل دیش بن جاتا ہے۔ ڈیمونا ری ایکٹر کو شیمون پیریس میگو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے نیوکلیائی پروگرام کی ریڑھ مانا جاتا ہے۔ دراصل قریب36 مربع کلو میٹر کیمپس میں پھیلا ہوا ہے۔ قریب2700 سائنسداں اور تکنیکی ماہرین یہاں کام کرتے ہیں۔ ڈیمونگ کو اسرائیل کےلئے لٹل انڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی یہودی فرقہ رہتا ہے۔ قریب30 فیصد آبادی ہندوستانی نژاد کی ہے اور مراٹھی زبان بولتے ہیں۔ دوکانوں میں سوہن پاپڑی، گلاب جامن،پاپڑی چاٹ بھیل پوری ملتی ہے۔ امریکہ۔ ایران ۔ اسرائیل کی یہ جنگ جتنی خطرناک شکل اختیار کررہی ہے وہ نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ ڈیمونگ اور ایرانی نیوکلیائی مراکز میں یورینیم اور پلوٹینیم کے ذخیرے ہیں۔اگر ان میں اخراج ہوا تو نہ صرف آس پاس کے لوگ شکار ہوں گے بلکہ پورا مشرقی وسطیٰ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ نیوکلیائی مادہ کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں اس کی تکلیف دہ نظیر موجود ہیں۔ جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شر ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکہ نے نیوکلیائی بم گرائے تھے تو لٹل بام (یورینیم) اور فیٹ مین نامی ان بموں نے 2 لاکھ لوگوں کی زندگی ختم کردی تھی اور جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا تھا۔آج ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن بم کئی ملکوں کے پاس ہیں۔ ایران ۔ امریکہ۔ اسرائیل جنگ کو اور پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا کو سامنے آنا پڑے گا۔یہ اچانک نہیں عالمی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس پر مسلسل زور دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ مسئلہ کا حل جنگ نہیں۔ ٹیبل پر بیٹھ کر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔اس کا حل جنگ نہیں بات چیت سے تلاشنا ہوگا۔یہ کام جتنی جلدی ہو اس جنگ کو رکنا چاہئے۔دنیا کی اسی میں بھلائی ہے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2026

چار ہزار کلو میٹر دور ایران کے حملے نے چونکا دیا!

ایران اور امریکہ -اسرائیل جنگ خطرناک موڑ پر پہچ گئی ہے امریکہ اسرائیل کی ایئر فورس نے سنیچر کی صبح ایرانی نیوکلیئر ہارڈ نتاج نیوکلیئر پروسیسنگ سنٹر پر خوفناک حملہ کیا ۔ایرانی نیوکلیائی اینرجی آرگنائزیشن نے اسے مجرمانہ حملوں سے تعبیر کیا ہے ۔حالانکہ پلانٹ سے کسی ریڈیو کرنیں رساؤ کی خبر نہیں ہے ۔امریکہ -اسرائیل کے اس حملے کا اثر اب عالمی جنگ پھیلنے کی سطح تک پیدا ہوگیا ہے ۔نتانج پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی (آپریشن -2 پرسیسٹنس ) ہند مہاساگر میں موجود امریکہ برٹین کے ایئر بیس ڈی اے گے گراسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے اور دنیا کو چونکا دیا۔ ایران نے پہلی بار غیر اعلانیہ 2000 کلو میٹر کی لمٹ توڑ کر 4000 کلو میٹر دور تک حملے کی صلاحیت دکھائی ۔رپورٹ کے مطابق ایک میزائل اڑنے کے دوران ناکام ہو گئی ۔جبکہ دوسری کو روکنے کے لئے امریکی جنگی بیڑے نے ایس ایم -3 انٹر سپٹر کا استعمال کیا ۔حالانکہ اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔یہ حملہ اس لئے اہم ماناجارہا ہے کیوں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے قریب 4000 کلو میٹر دوری پر واقع ہے جو ایران کی اعلان کردہ 2000 کلو میٹر رینج سے دگنی ہے ۔اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ایران کی میزائل صلاحیت کو لے کر بنی پرانی کہانیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ایران کو لے کر خیال تھا کہ اس کے پاس 2000 کلو میٹر تک رینج کی صلاحیت ہے لیکن اس حملے سے دنیا حیران رہ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق 4000 کلو میٹر تک کی رینج ایران کو ایٹر میڈیٹ رینج میزائل صلاحیت کے قریب لے جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یوروپ کے کئی بڑے شہر جیسے پیرس ،برلن اور روم بھی ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں ۔جبکہ لندن بھی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ خطرہ اب صرف خلیجی ممالک یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حملہ صرف فوجی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑا حکمت عملی پیغام بھی ماناجائے گا ۔سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے مطابق ایران کے پاس مغربی ایشیا میں سب سے بڑے اور سب سے کارگر میزائل ذخیرہ ہے اس ذخیرے میں کئی لمبی دوری کی میزائلیں شامل ہیں جو اسرائیل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان میں اینجل ، خورم شہر اور قدرشامل ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلیں اسرائیل تک تو تباہی مچا ہی رہی ہیں ۔لیکن اب یہ دائرہ بھی بڑھ سکتا ہے ایران کے پاس الگ الگ صوبوں میں کم سے کم پانچ گھات حملہ آور زیر زمین میزائل شٹیز بھی ہیں ۔ایران کے میزائل ذخیرہ میں موٹار ،راکیٹ ،ڈرون اور بیلسٹک اور کروز میزائلیں شامل ہیں ۔بتادیں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے تقریباً 4000 کلو میٹر تک دور وسط ہند مہاساگر میں بھارت کے ساؤتھ اور سری لنکا کے ساؤتھ ویسٹ میں واقع ہے ۔ یہ یاگوس ذخیرہ گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ہند پرشانت سیکٹر خطہ میں واقع دو اہم ترین امریکی بم برسانے والے جنگی جہازوں کے بیس میں سے ایک ہے ۔دوسرا اڈہ ،گوام میں واقع اینڈر سین ایئر فورس اڈہ ہے ۔امریکہ -برطانیہ کے ذریعے چلائے جانے والاسب سے زیادہ حکمت عملی اہمیت والے بے حد خفیہ ملیٹری بیسس میں سے ایک ہے۔ ایران اگر یہاں تک پہنچا ہے تو یہ ایک بہت اہم ترین واقعہ ہے ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2026

نیتن یاہو کی سازشوں کا نتیجہ !

اگر ایران اسرائیل امریکہ جنگ پھیلتی جارہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ نتین یاہو کی سازشیں ہیں ۔یہ ساری کری کرائی نتین یاہو کی ہے ۔28 فروری کو سب سے پہلا کام نیتن یاہو نے یہ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپریم فوجی کمانڈر و خفیہ چیف وغیرہ کو شہید کر دیا ۔نیتن یاہو یہیں نہیں رکے انہوں نے اگلا نشانہ بنایا ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو مارڈالایہ اس لئے بھی کیا کہ تاکہ اس لیڈر کو راستے سے ہٹاد یاجائے جو ایک اصلاح پسند ،لائق اور بیچ بچاؤ کرکے اس جنگ کو کسی طرح روکنے میں مدد کر سکتا تھا اور یہی نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے ۔لاریجانی ایران کے نمبر 2 کے لیڈر تھے ۔یہ ٹرانزیشنل کونسل کے ذریعے دیش چلارہے تھے ۔ایران کے آئین کی آرٹیکل 111 کے مطابق سپریم لیڈر کی موت یا نااہلیت کی صورت میں ایک کونسل دیش چلاتی ہے لیکن لاریجانی ان سب کے اوپر تھے ۔ایران کی ریوولیوشنری گارڈ کور یعنی فوج بھی ان کے حکم کو مانتی تھی ۔پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین اور سینئرپالیسی مشیر کےطور پر علی لاریجانی کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نیوکلیائی مذاکرات حکمت عملی پر سورگیہ مرحمو آیت اللہ علی خامنہ ای کو صلاح دینے کے لئے معمول کیا گیا تھا۔علی لاریجانی کے قتل کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے جنرل غلام رضا سلیمانی کو بھی مار ڈالا۔ریولیوشنری گارڈ کی بسیط فوج کےوہ چیف تھے ۔دراصل نیتن یاہو نے سوچا تھا اگر وہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کر دیں گے تو جنگ جیتنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ایران بکھر جائے گا لیکن اس کا ہوا الٹا ۔ایرانی عوام ہمدردی میں سڑکوں پر اتر آئی جو آیت اللہ نظام سے ناراض تھی وہ ہی نظام کی حمایت میں اتر گئی ۔نیتن یاہو کو شاید اس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ اگر ختم ہو جائے گی تو اتنی جلدی اس کا متبادل سامنےآکر مورچہ سنبھال لے گاجب اسرائیل نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ الٹا ہو گیا تو اس نے نئی سازش رچی ۔اس درمیان یہ اشارے بھی آنے لگے کہ امریکی صدر گھریلو دباؤ کے سبب اس جنگ سے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے تو نیتن یاہو پریشان ہو گئے۔ یاد رہے کہ جب پچھلے سال جب 12 دن جنگ چلی تھی تو سب سے پہلے اسرائیل نے حملہ کیا تھا بعد میں اس نے امریکہ کو زبردستی اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا ۔اب بازی ہاتھ سے نکلتے دیکھ نیتن یاہو نے ایک نئی اور نہایت خطرناک چال چلی اس نے بغیر امریکہ سے پوچھےا یران کے سب سے بڑے اینرجی اداروں میں سے ایک بشر میں واقع اصلومیہ گیس پلانٹ (ساؤتھ پارس )پر حملہ کر دیا ۔اس ہوئے واقعہ سے ایران کو بھڑکنا فطری ہی تھا اس نے خلیج میں موجود تیل اور گیس کے کارخانوں کی سیٹلائٹ فوٹیج جاری کر زون بنا دئیے کہ ان علاقوں کو فوراً خالی کریں اسرائیلی حملے کے جواب میں قطر کے راس لافان کی ایل این جی پی گیس فیلڈ پر حملہ کر دیا یہ قطر کی اہم ایل این جی پروسیسنگ کارخانہ ہے ۔اور دیش کا اینرجی نیٹورک کا اہم مرکز ہے ۔سعودی عرب نے کہا کہ حالانکہ انہوں نے کئی ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا لیکن اس کے تیل بھنڈار کے اسٹوریج پر بھی کچھ نقصان ہوا ہے ۔ رہی سہی کسر ایران کے ذریعے ہرمز اسٹیج کوبند کرکے پوری کر دی ۔ہرمز اسٹریٹ دنیا کے سب سے اہم سمندری کمرشیل راستوں میں سے ایک ہے ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ماناہے اور لکھا کہ اسرائیل اس بات کو ضروری اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر کوئی اور حملہ نہیں کرے گا ۔کیا یہ بیان ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو سنانے کے لئے دیا تھا ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کو آگے بڑھانے کے لئے نیتن یاہو اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

17 مارچ 2026

جنگ کے لمبا کھچنے کا امکان

ایران -امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی ۔امریکہ اسرائیل کو امید تھی کہ یہ جنگ چند دن چلے گی اور ایران اپنے گھٹنوں پر آجائے گا ۔انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنا جوابی حملہ کرے گا اور یہ جنگ اتنی لمبی کھچے گی ۔ایران امریکہ -اسرائیل کو منھ توڑ جواب دے رہا ہے ۔ایران کے نئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں ہی صاف کر دیا کہ ایران جھکنے والانہیں ہے ۔خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی ٹی وی پر نشر ہوکرتے ہوئے اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔خامنہ ای نے پیغام میں اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی جاری رکھنے اور کناب اسکول کے بچوں سمیت شہید ہوئے لوگوں کے خون کا بدلالینے پر زور دیا ۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ کاذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے مسلسل حملے جار ی رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے آگے کہا کہ دیگر مورچوں کو کھولنے پر بھی غور کیاجارہا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یمن میں ایران کے ساتھیوں لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں مزاہمت کاروں کی تعریف کی ہے ۔خامنہ ای کا یہ پیغام ان کی صحت اور جسمانی حالت کو دیکھ کر چل رہی قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے ۔ادھر امریکہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان سے وابستہ کئی سینئرحکام کے بارے میں جانکاری دینے پر بڑی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔امریکی خارجہ محکمہ کے روارڈ فار جسٹس کے تحت ان لوگوں کے بارے میں ٹھوس جانکاری دینے والوں کوزیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام دیاجاسکتا ہے ۔یہ قدم ایران کی فوجی اور سیکورٹی ڈھانچہ سے جڑے نیٹورک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیڈروں کو مارنا سمان کی بات ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ہم ایران کے دہشت گردانہ حکومت کو فوجی ،اقتصادی او ر د یگر طور سے پوری طرح تباہ کررہے ہیں ۔وہ 47 برسوں سے بے قصوروں کو مارررہے ہیں اور اب میں انہیں ماررہاہوں۔ ایسا کرنا سمان کی بات ہے ۔امریکی صدر نے ادھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے کھرک آئی لینڈ پر بڑے حملے کئے اور فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا یہ امریکہ -اسرائیل کا ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے ۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے اس حکمت عملی جزیرہ پر بڑے ہوائی حملے میں فوجی اڈوں کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب پوری طرح کمزورہوچکا ہے اور سمجھوتہ چاہتا ہے لیکن ایسے سمجھوتہ نہیں ہوگاجسے وہ قبول کریں ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ہرمز آبی بندرگاہ میں جہازوں کی آمد ورفت روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ تیل اسٹرکچر پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بدل سکتا ہے ۔افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ ٹرمپ اب امریکی بری سینا کو بھی ایران میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔بتادیں کہ کھرگ آئی لینڈ سے ایران کا بہت بڑا حصہ دوسرے دیشوں پر تھوپاجاتا ہے ۔امریکہ اپنی مرین کارپ کے ذریعے کھرگ آئی لینڈ رپ زبردستی قبضہ کرنے کا پلان بنارہا ہے خبر تو یہ بھی ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے امریکہ نے 2500 مرین ایران کی طرف روانہ بھی کر دئیے ہیں ادھر ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں لبنان سے حزب اللہ نے نارتھ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے ہین اور اسرائیل نے بھی زبردست جوابی کاروائی کی ہے ۔اسرائیل نے لبنان میں بھاری تباہی مچائی ہے ۔اس بڑھتی جنگ سے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی لے کر تشویش بڑھ گئی ہے ۔اینرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی تیل سہولیات کو سیدھا نشانہ نہیں بنایاگیا ہو لیکن فوجی حملوں کا اثر ایکسپورٹ سسٹم پر پڑ سکتا ہے ۔جنگ لمبی کھچنے کی امریکہ نے خلیجی سیکٹر میں تو بے چینی بڑھائی ہی ہے ۔ساتھ ہی پورے دیش میں اس کو لے کر ٹنشن بڑھا دی ہے ۔ (انل نریندر)

14 مارچ 2026

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو برا پھنسایا!

ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں ماہرین اب یہ بات کرنے لگے ہیں کہ اصل میں اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے یعنی کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا پھنسایا ہے کہ اب انہیں پیچھے ہٹنے کا بہانہ مل رہا ہے ۔نہ صرف امریکہ کو ہی پھنسایا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے دیگر عرب ملکوں کو بھی پھنسا دیا ہے ۔اس سے آہستہ آہستہ خلیج میں امریکہ کے معاون ساتھی دیش بھی اس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔امریکہ میں ہوئے حالات کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام اس ایران جنگ کو غیر ضروری مان رہی ہے ،جو امریکہ پر بری طرح سے مالی بوجھ بڑھائے گی ۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو لے کر کئی تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔جنگ اب 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اسرائیل نے امریکہ کو ایسا پھنسایا ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے کیا کریں؟ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو جنگ میں کھینچ لیا ۔کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو خطرے کی شکل میں پیش کر ٹرمپ کو جنگ میں الجھا دیا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کہیں اور ہیں ۔وہ اس جنگ کے ذریعے سب کو دھمکانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کا اس حملے کے ذریعے اہم مقصد ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی میں رخنہ ڈالنا اور غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں سے عالمی توجہ بھٹکانا تھا ۔نیتن یاہو کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان پر چل رہے کرپشن کے مقدموں سے اسرائیلی عوام کی توجہ بھی ہٹانا ۔امریکی صدر ٹرمپ کو اسرائیل کی کاروائی میں کریڈٹ لینے کی چاہت نے پھنسایا ہے ۔شروع میں الگ تھلگ رہنے والے ٹرمپ ایران پر حملے سے بچتے رہے لیکن نیتن یاہو کے پاس پتہ نہیں ٹرمپ کی کون سی خفیہ کنجی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ دی ۔مجبوری میں ٹرمپ اب دعوے کررہے ہیں کہ ہم ایران کے آسمان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں ایسے دعوے کررہے ہیں کہ جو اسرائیل کی جارحانہ جارحیت کو بڑھاوا دے رہاہے وہ زبردستی امریکہ کے ساتھ لمبی کروائی میں جھونک رہا ہے ۔جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دراصل امریکہ ایران کا صحیح تجزیہ نہیں کرپایا ۔اسرائیل اور امریکہ نے سوچا تھا کہ ایران جلد ی ٹوٹ جائے گا لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں اور درپردہ گروپوں کی سرگرمی نے لڑائی کو زونل بنا دیا۔ سپریم لیڈر اور ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل جیسے قدموں نے نہ صرف دنیا کے شیعہ مسلمانوں کو متحد کیا بلکہ تمام سنی بھی امریکہ اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں ۔امریکی ٹھکانوں پر یہ پورے وسطی ایشیا میں عرب ملکون کے اوپر ایران تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔امریکہ کے 17 فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ 11 دن کی لڑائی میں اسرائیل پر 9115 میزائل ،راکٹ حملے ہوئے ہیں اور وہاں کی انشورنش کمپنیوں پر جو معاوضہ کے دعوے ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حزب اللہ حملوں سے 6586 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عمارت میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے جو یاتو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اسرائیل میں 1485 گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔1044 کارخانے بھی تباہ ہو گئے ہیں بتادیں کہ اسرائیل میں نقصان کی خبروں پر سنسر لگا ہوا ہے اس لئے صحیح پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے ۔یہ تو یروشلم پوسٹ کے دعووں کا حوالہ ہے ۔ٹرمپ اب باہر نکلنے کے راستے تلاش رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 مارچ 2026

خامنہ ای کبھی مرتے نہیں ہیں!

ایران نے اپنا سپریم لیڈر چن لیا ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر چنے گئے ہیں ۔دنیا کے خود ساختہ بادشاہ سلامت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا ؟ یہ میں ان ۔۔۔۔ایران نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور صاف بتادیا ہے کہ ایران ٹرمپ ،نیتن یاہو کے سامنے جھکنے والانہیں ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 ممبری دھارمک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کو چننے کے ادارے کے ایک بیان کو ایرانی ٹی وی پر اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں بےحد سنگین حالات اور ہمارے ادارے کے خلاف دشمنوں کی سیدھی دھمکیوں کے باوجود اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے سچیوالے کے دفاتر پر بم باری سے اس کے کئی ملازمین اور سیکورٹی ٹیم کے ممبران شہید ہو جانے کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کی کاروائی ایک پل کے لئے بھی نہیں رکی ۔اس کے بعد اینکر نے ایک نعرہ لگایا -اللہ اکبر ،اللہ اکبر خامنہ ای ہی رہبر ۔امریکی اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد کئی لوگوں کو اندیشہ تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی مارے گئے ہیں ۔کئی دنوں تک مجتبیٰ کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی لیکن تین مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا مجتبیٰ زندہ ہیں اور انہیں ایران کا سپریم لیڈر چن لیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تو کبھی کوئی پبلک بیان دیا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالانہ کوئی انٹرویود یا ان کی بہت کم تصویریں اور ویڈیو نشر ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتی دستاویز میں انہیں پردے کے پیچھے اصلی طاقت بتایا گیا تھا۔ ان کو حکومت کے اندر ایک اہل اور مضبوط لیڈر ماناجاتا ہے ۔8 ستمبر 1969 کو ایران کے نارتھ ایسٹ شہر یشہد میں پیدا مجتبیٰ ، امام علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے مقام پر ہیں ۔میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران -عراق جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔مدرسوں کے انتظام میں آیت اللہ کی ڈگری ہونا اور مذہبی اسلامی کلاسز کو پڑھانا کسی شخص کی کافی صلاحیت اور علم کا ثبوت ماناجاتا ہے ۔یہ مستقبل میں نیتا چنے جانے کی ضروری شرطوں میں سے ایک ہے ۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی نام کا اعلان ہوا ،ایران کی فوج ،اسلامی ریبولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی )اور سیاسی لیڈروں نے فوراً مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا حلف لیا ۔آئی آر جی سی نے بیا ن جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرنے خود کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔فوج کی سرکردہ لیڈر شپ نے بھی اپنی پوری وفاداری کا وعدہ کیا ہے ۔ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے طاقتور عہدہ سنبھالتے ہی ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا ۔مانا یہ پہلے سے طے تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یوں کہیں کہ ایران اب اور طاقت سے حملہ کرے گا ۔یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس جنگ کی زبردست نئی میزائلوں سے حملہ کیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس فتویٰ کو بدلیں گے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنائے گا؟ (انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...