Translater

07 مارچ 2020

کملناتھ کی سرکار پر خطرے کے بادل

مدھیہ پردیش کی سیاست میں منگل کی صبح سے آدھی رات تک بھلے ہی سیاسی ڈرامے کے بعد کملناتھ کی کانگریس سرکار کی کرسی پر خطرہ مڈرانے لگا ۔لیکن وزیر اعلیٰ نے دعوی کیا کہ ان کی سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔اور نہ ہی کسی کو اس بارے میں کوئی فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ان کا یہ بیان سینئر کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کے ان الزامات کے ایک دن بعد آیا کہ بھاجپا نیتا پردیش سرکار کو گرانے کے لئے کانگریس کے ممبران اسمبلی کو بھاری رقم دینے کی پیش کش کر رہے ہیں ۔کملناتھ کا کہنا تھا کہ کانگریس ممبران اسمبلی کے بھاجپا نیتاﺅں کے پیسہ دینے کی پیش کش کی معلومات انہیں بتائی گئی ہے ۔میں نے ممبران سے کہا کہ اگر مفت میں پیسہ مل رہا ہے تو وہ اسے لے لیں 2018میں کانگریس کی کملناتھ سرکار بن جانے کے بعد سے ہی ریاست میں ممبران اسمبلی کے پالا بدلنے کی خبریں آتی رہی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی تعداد کے درمیان بہت کم فاصلہ ہے بی ایس پی اور سپا اور آزاد ممبران کے دم پر کملناتھ سرکار چل رہی ہے ۔اور بی جے پی ان کی حمایت کو کملناتھ سرکار کے لئے کمزور کڑی کی شکل میں دیکھتی ہے ۔2018کے اسمبلی چناﺅ میں بی جے پی اپنے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کی رہنمائی میں مسلسل چوتھی مرتبہ سرکار بنانے کی امید کر رہی تھی چناﺅ کمپین کے دوران کچھ چیزیں ایسی ہوئیں کہ پارٹی محض107سیٹیں جیت پائی کانگریس نے 114سیٹیں جیتی تھیں ۔اور سرکار بنانے کے لئے نمبر116تھا جس وجہ سے تینوں پارٹیوں اور آزاد کی مدد سے سرکار بنا لی پہلے ہی دن سے بی جے پی کی کملناتھ سرکار پر نظر ہے اور کانگریس کو انہیں سنبھال کر رکھنے میں بار بار مشقت کرنا پڑتی ہے ۔کانگریس کے وزیراعلیٰ کملناتھ کو کافی تجربہ اور ان میں چالاکی ہے ۔جو یہ ممبران سرکار کے ساتھ کھڑے ہیں ۔کئی بار پہلے بھی ریاست میں اقتدار کے الٹ پلٹ کی خبریں آتی رہی ہیں ۔بی جے پی کے نیتا کہتے ہیں کہ یہ سنکٹ کانگریس اور اس کے اپنے ساتھی پارٹیوں کی اپنی کمزوری ہے اور غلطیاںبھی ہیں ۔بھاجپا کا اس میں کوئی رول نہیں ہے ۔اور دگ وجے سنگھ پھر سے ایوان بالا میں آنا چاہ رہے ہیں ۔ان کے منصوبوں پر پانی پھیرنے کی کوشش بی جے پی میں نہیں ہے ۔کانگریس میں بھی لگ رہا ہے کہ جوتر آدتیہ سندھیا کے علاوہ اندرونی طور پر کچھ کانگریسی نیتا بھی دگ وجے سنگھ اور کملناتھ کے ساتھ اندرونی طور پر نہیں مانے جا رہے ہیں ۔بھوپا ل سے 8ممبر بی جے پی کی طرف جانے کے لئے باہر گئے ہیں گرو گرام میں رات کو ہوئے ڈرامے کے بعد کانگریس پھر سے چار ممبران کو اپنی طرف لے آئی ہے ۔لیکن چار ابھی بھی دور ہیں ۔کانگریس انہیں بھی جلد ساتھ لے آنے کی امید کر رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کملناتھ بی جے پی کے تازہ کوشش کا درکار جواب دے پائیں گے ؟

(انل نریندر)

پولیس پر پستول تاننے والا پوسٹر بوائے گرفتار

دہلی دنگوں کے دوران جعفرآباد میں ہیڈ کانسٹبل دیپک داہیا پر پستول تاننے والا اور تین راﺅنڈ گولی چلانے والے محمد شاہ رخ کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے اترپردیش کے شہر شاملی سے گرفتار کر لیا ہے ۔24فروری کو نارتھ ایسٹ دہلی میں دنگے کے دوران شاہ رخ کی تصویر کافی وائرل ہوئی تھی اسے دہلی تشدد کا پوسٹر بوائے کہا جانے لگا۔شاہ رخ کی تلاش میں ایس آئی ٹی کی ٹیمیں اس کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے ماری کر رہی تھیں اس کے پاس سے پستول برآمد ہوئی ہے ۔ایڈیشنل سی پی کرائم برانچ ڈاکٹر سنگلا نے بتایا کہ شاہ رخ کو یوپی کے شاملی شہر سے گرفتار کیا گیا ہے ۔وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ نارتھ دہلی میں اروند نگر گلی نمبر 5میں رہتا ہے ۔اس کے کنبے میں بھائی ماں باپ ہیں ۔شاہ رخ واردات کے بعد سے گھر والوں کے ساتھ فرار تھا ۔پولیس ذرائع کی مانیں تو شاہ رخ کے والد کا نام شاہ ور پٹھان ہے ۔اس پر ڈرگس سپلائی کے کئی مقدمے درج ہیں دو بار جیل بھی جا چکا ہے ۔ڈاکٹر سنگلا کے مطابق پولیس ملزم شاہ رخ سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے کہ وہ دنگوں میں خود شامل تھا کہ پھر کسی کے کہنے پر پستول لے کر آیا تھا ۔اس کی منشاءکیا تھی ؟اس کے ساتھ او رکون کون لوگ تھے ۔اسے چھپانے کے لئے کس کس نے مدد کی ؟واردات میں استعمال پستول کہاں سے آئی ؟شاہ نے بتایا کہ اس دن وہ اکیلا مظاہرے میں پہنچا تھا اور طیش میں آکر اس نے تین راﺅنڈ فائرنگ کی تھی ۔اس نے کسی سازش کے تحت اس واردات کو انجام دینے کی بات سے انکار کیا ہے ۔ایڈیشنل سی پی کے مطابق جعفرآباد علاقے میں دونوں فرقوں کے لوگ سڑک پر اتر آئے تھے ۔تشدد کے دوران اچانک وہاں پہنچ کر شاہ رخ پٹھان نے گولیاں چلائیں اس دوران للکارنے پر اس نے ہیڈ کانسٹبل دیپک داہیا پر پستول تان دی تھی اور پتھراﺅ اور ہنگامے کے درمیان موقع سے فرار ہو گیا تھا ۔بے خوف ہو کر فائرنگ کر رہا تھا اس سے معاملہ اور سنگین ہوجاتا ہے ۔جس طرح وہ دہلی سے بھاگنے میں کامیاب رہا اس کو لے کر سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس کی فراری میں کن لوگوںنے مدد کی ؟اور اس کی کن کن لوگوںسے بات ہوئی اس کی جانچ ایس آئی ٹی کر رہی ہے ۔اس کے موبائل سے بھی کئی راز کھل سکتے ہیں ۔شاہ رخ نے بتایا کہ اس نے جس پستول سے فائرنگ کی وہ کسی واقف کار کے ذریعہ مونگیر سے خریدی گئی تھی وہ آٹومیٹک ہے ۔ایس آئی ٹی اب شاہ رخ کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین سے اس کے ممکنہ کنکشن کو بھی کھنگال رہی ہے ۔پولیس نے شاہ رخ کے خلاف دفعہ 186,353,اور 307کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے ۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے شاہ رخ کو گرفتار کر کے جتا دیا ہے کہ اس سے کوئی مجرم بچ نہیں سکتا ۔بھلے ہی تھوڑا وقت لگے۔

(انل نریندر)

06 مارچ 2020

دہلی میں دنگوں سے ہندوستان کی ساکھ دنیا بھر میں خراب ہوئی ہے

دیش کی راجدھانی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے بھارت کی عالمی برادر ی میں بہت بدنامی ہو رہی ہے اور اس کی ساکھ کو بہت بڑا دھکا پہونچا ہے ۔دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر بین الاقوامی سطح پر منفی رد عمل سامنے آرہے ہیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر سے دہلی میںہوئے فرقہ وارانہ دنگوں کو جرمنی میں ہٹلر کی رہنمائی میں ہوئے یہودیوں کے قتل عام سے تشبیح دی ہے ان کا کہنا تھا مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو جلا دیا گیا اور جو تصویریں سامنے آرہی ہیں اس میں لگتا ہے مسلمانوں کو مارا پیٹاجانا مساجد اور قبرستانوں کو ناپاک کر دینا ویسا ہی ہے جیسے ماضی جرمنی میں یہودیوں کے اجتماعی قتل عام کی شکل میں ہوا تھا مودی کی فاسسٹ وادی نکسل وادی سرکار کی بربریت کی سچائی کو دنیا کو سمجھنا چاہئے اور اسے روکنا چاہئے ۔عمران نے آگے کہا مودی نے گجرات میں وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ بربریت کا رویہ اپنایا اب ہم دہلی میں وہی ہوتے دیکھا عمران خان کے بعد ترکی کے صدر طیب اردغان نے کہا تھا کہ بھارت اب ایسا دیش بن گیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر قتل عام ہو رہا ہے اور یہ قتل عام مسلمانوں کا ہندو کر رہے ہیں ایک ایجنسی اے ایس پی کے مطابق اردوان نے یہ با ت انقرہ میں ایک تقریر کے دوران کہی ان کے بیان پر بھارت کی طرف سے جنیوامیں ہندوستانی خارجہ سروس کے افسر ویمرش آرین نے کہا میں صرف ترکی کو بھارت کے اندرونی معاملے پر رائے زنی سے گریز کرنے اور جمہوری عمل کو بہتر سے سمجھنے کی صلاح دیتا ہوں ۔اس کے بعد امریکہ میں ڈیموکریٹو پارٹی کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرس نے کہا بھار ت میں بیس کروڑ سے زیادہ مسلما ن اس ملک کو اپنا گھر مانتے ہیں اور مسلم مخالف بھیڑ نے کم سے کم 27لوگوں کی جان لے لی ۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارت پر منحصر کرتا ہے کہ وہاں جو کچھ ہوا وہ ہندوستان کی لیڈر شپ کی ناکامی ہے ۔برنی سینڈرس نے ٹرمپ کے دورہ بھارت پر نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت دورے پر ٹرمپ نے ڈیفنس ڈیل کا جو اعلان کیا تھا اسی وقت انہیں تبدیلی ماحولیات سے لڑنے کے لئے بھارت سے ساجھے داری بڑھانی چاہئے ۔اس سے پہلے سینڈرس نے جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے پر بھی پی ایم مودی کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کی تھی ۔کشمیر میں بھار ت کا قدم ناقابل قبول ہے اسلامک دیشوں کی تنظیم او آئی سی نے جاری بیان میں کہا کہ وہ بھار ت سے اپیل کرتی ہے کہ مسلم مخالف تشدد انجام دینے والے لوگوں کوانصاف کے کٹگرے میں کھڑا کرے اور اپنے یہاں مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔

(انل نریندر)

کورونا وائرس کا مقابلہ !

چین کے ووہان شہر سے شروع ہوا کورونا وائرس وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ڈھائی سال پہلے ووہان وائرس کی ضد میں آیا کادائرہ بڑھتا ہی جا رہاہے اس کی وجہ سے اب تک 34سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں یہ بڑے دکھ کی بات کے ساتھ ساتھ اتنی ہی تشویش کی بات ہے ۔دنیا میں تین ہزار سے زیادہ اس بیماری کی ضدمیں آچکے ہیں دہلی،جے پور او رتلنگانہ میں ایک ایک مریض کے وائرس ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے ۔دہلی میں متاثرہ شخص دبئی سے لوٹا تھا جبکہ جے پور میں ملا شخص اٹلی کا سیاح ہے ۔صاف ہے وائرس صرف چین سے ہی نہیں بلکہ دوسرے دیشوں کے ذریعے بھی بھارت آنے لگاہے ۔یہ اب دنیا بھر کی تشویش کا معاملہ بن چکا ہے اس کے پھیلنے کے خطرے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچاو ¿ کے تمام قدموں کے باوجود اکیلے چین میں 80ہزار سے زیادہ لوگ اس وائرس سے زیادہ متاثرہو چکے ہیں ۔اور اب تک تین ہزارسے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کم سے کم بیس دیشوں تک یہ وائرس پھیل چکاہے خاص طور سے پانچ ملکوں کی پوزیشن زیادہ تشویش ناک ہے چین،ایران ،اٹلی ،کوریا اور سنگاپور شامل ہیں ۔ان پانچ ملکوں سے آنے والوں کی جانچ کا فیصلہ حکومت نے کیا ہے اس کا خیر مقدم ہے مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بتایا کورونا وائرس اب تک 66ملکوں میں پھیل چکا ہے لیکن ابھی تک دس ملکوں میں ہی اس وائرس سے مرنے والوں کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ چین میں لوگ مرے ہیں۔چین کے علاوہ جو چار دیگر ملک ہیں جہاں کورونا وائرس سب سے زیادہ پھیلا ہے ان میں ساو ¿تھ کوریا،اٹلی ،ایران اور جاپان ہیں ۔غور طلب ہے کہ حال ہی میں جاپان سے ڈائمنڈ پرنسز کروف سے بھار ت کے 119شہریوں کو بچایا گیا تھا ۔ان سبھی لوگوں کو لانے کے بعد سیدھے مانےسر سینٹر لے جایا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا آپ کو بتادیں کہ تمام احتیاطی اقدامات کے چلتے بھارت میں ابھی تک کسی کی اس بیماری سے کوئی جان نہیں گئی ہے ۔کورونا وائرس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس کے پھیلنے کا اندیشہ پہلے ہی ظاہر کیا جارہاتھا اب جیسے جیسے دنیا بھر سے اس کی خبریں آنے لگی ہیں اس سے یہی لگ رہا ہے کہ اس کاخطرہ اندازہ سے کہیں زیادہ ہے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ابھی تک جس طرح اس پر قابو پانے کے قدم نہیں نظر آرہے ہیں اس کے علاج کے لئے کوئی دوا تیار نہیں ہو پائی فی الحال سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے بین الاقوامی سطح پر قائم اختلافات کو بھلا کر دنیا کے تمام ملک کورونا وائرس کی کاٹ نکالیں کیونکہ سیاسی اور جغرافیائی سرحدیں اس وائرس کے انفکشن کے دائرے سے محدود نہیں رہ سکتیں ۔

(انل نریندر)

05 مارچ 2020

کنہیا کمار پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ

جے این یو میں ملک مخالف نعرے لگانے کے معاملے میں دہلی حکومت نے پچھلے جمعہ کو دہلی پولیس کو سبھی ملزمان کے خلاف ملک سے بغاوت اور مجرمانہ سازش جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے ۔دہلی سرکار کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے لمبے عرصے سے عدالت میں کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی تھی ۔اسے لے کر بی جے پی مسلسل دہلی کی عام آدمی پارٹی سرکار پر نکتہ چینی کر رہی تھی دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے سینئر افسران نے بتایا کہ دہلی سرکار کے ہوم ڈیپارٹمینٹ کی طرف سے جمعہ کو ہی مقدمہ چلانے کی اجازت دینے والاخط پولیس کو ملا اور قواعد کے تحت ملک سے بغاوت کے دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے ریاستی سرکار سے اجازت لینا ضروری ہے ۔اسی کے چلتے ایک سال سے معاملہ لٹکا ہوا تھا ۔اس معاملے میں جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کے نیتا کنہیا کمار ،انر بن بھٹا چاریہ اورعمر خالد سمیت دس لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124اے اور 120بی سمیت جھگڑوں اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا کنہیا نے ٹوئٹ کر کہا کہ دہلی سرکار کو بغاوت کا کیس کی اجازت دینے کے لئے شکریہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کنہیا کمار و دیگر کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دینے کے لئے دہلی کی اروند کجریوال سرکار پر نکتہ چینی کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ ملک کی بغاوت قانون کے بارے میں دہلی سرکار کی سمجھ غلط ہے ۔چدمبرم نے ٹوئٹ کیا کہ اس قانون کو لے کر دہلی سرکار کی سمجھ مرکز سے کچھ کم غلط نہیں ہے ۔اور جس طرح سے مقدمہ چلانے کی اجازت دئے جانے کے طریقے کو میں خارج کرتا ہوں وہیں بھارتیہ کمونسٹ پارٹی نے کہا کہ وہ اپنے نیتا کنہیا کمار کے خلاف ملک سے بغاوت معاملے میں قانونی اور سیاسی دونوں طرح کی لڑائی لڑیں گے پارٹی نے الزام لگایا کہ قومی راجدھانی میں عآپ سرکار نے سیاسی دباﺅ میں گھٹنے ٹیک دیے ہیں ۔اور چار سال پرانے معاملے میں منظوری دنیا سیاسی دباﺅ کا نتیجہ ہے ۔اِدھر مرکزی وزیر ماحولیات و موسمیات پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ دہلی کی کجریوال سرکار کو لوگوں کے دباﺅ کے سبب آخر کار جے این یو معاملے میں مقدمہ چلانے کی اجازت دینی پڑی ۔وزیر اعلیٰ اجازت دینے کے معاملے کو ٹالتے رہے لیکن آخر کار انہیں جنتا کے سامنے جھکنا پڑا ۔جے این یو میں بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے انشاءاللہ انشاءاللہ ۔بھارت کی بربادی کی جنگ چلے گی ایک افضل کو مارو گے تو ہر گھر سے افضل نکلے گا ۔افضل ہم شرمنا ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں ۔جیسے کئی نعرے ملک سے بغاوت ہے اب انصاف ہوگا ۔

(انل نریندر)

دنگوں میں اسکول ،گھر ،دکان،اسپتال،اور کیمسٹوں کو بھی نہیں بخشا

ایک گھر بنانے میں پوری زندگی کی کمائی کھپ جاتی ہے لیکن بلوائیوں نے پل بھر میں جلا کر راکھ کر دیا ۔تشدد سے متاثرہ علاقوں چاند باغ ،شیو وہار ،موج پور،جعفرآباد،سمیت کئی علاقوں کی دکانوں مکانوں اور جلی گاڑیوں کی بربادی کی تصویر دکھائی پڑتی ہے ۔دکانیں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں اور گھر کھنڈر جیسے لگ رہے ہیں لوگوں کے پاس صرف آنسو بچے ہیں ۔دن رات برسوں محنت کر جس آشیانے کو کھڑا کیا تھا اس کی راکھ سے اُڑتی سیاہی سے اندھیرے کے سوا زندگی میں اب کچھ باقی نہیں رہا ۔اب سینکڑوں لوگوں کو نئے سرے سے پھر زندگی شروع کرنی ہوگی شر پسندوںنے سب پھونک ڈالا ۔نارتھ ایسٹ دہلی کے شیو وہار تراہے پر بنے دو پبلک اسکولوں کو بھی فسادیوںنے تشدد کا نشانہ بنایا یہی نہیں شر پسندوںنے پورے اسکول کو آگ کے حوالے کر دیا ۔ڈی آر پی اسکول کے مالگ دھرمیندر نے بتایا کہ فسادیوںنے سب سے پہلے برابر میں بنے راجدھانی اسکول پر قبضہ کیا اورپھر وہ لوگ اسکول کی تیسری منزل پر چڑھ گئے ہمارے اسکول میں بھی پتھر برسانے شروع کر دیے وہیں جب چوکیدار نے گیٹ نہیں کھولا تو فسادی برابر والے اسکول کی دیوار سے رسی ڈال کر اسکو ل میں اتر گئے اور اسکول میں توڑ پھوڑ کی سائنس لیب اور کلاسوں کے شیشے اور کرسیاں آگے کے حوالے کر دی ۔کئی جگہ ایل سی ڈی اسکرین سمیت قیمتی سامان لوٹ لے گئے ۔مالک کا الزام ہے کہ بلوائیوںنے ایک فرقے کو نشانہ بنایا علاقے میں بڑھتی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے وہ پریوار سمیت ایک دن پہلے ہی اپنا مکان بند کر کے رشتہ دار کے گھر چلے گئے 37سالہ شخص منصور علی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بہنوئی کے پریوار کے ساتھ موہن پوری علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ان کا رام گلی میں سلائی کڑھائی کا کاروبار ہے یہ علاقہ نو ر الہی سے لگا ہوا ہے پیر کو کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اپنے رشتہ دار کے یہاں چلے گئے ۔اگلے دن قریب بلوائیوںنے گھر کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی اس کے بعد دروازے کو توڑ کر اور لوگ گھس گئے اور سونا وغیرہ لے گئے ایسے ہی برج پوری روڈ پر واقع ارون گارڈن پبلک اسکول کو بھی نشانہ بنایا اسکول کے مالک اور سابق ممبراسمبلی بھیشم شرما نے بتایا کہ فسادیوںنے اسکول میں کھڑی بسوں کو جلانے کے ساتھ پچھلے تیس سال کا اسکول ریکارڈ سمیت ہزاروں کتابوں کو بھی جلا ڈالا اسکول کو ٹھیک کروایا جا رہا ہے تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔

(انل نریندر)

04 مارچ 2020

یہ سیریا نہیں ،شیو وہار ہے

اکثر آپ ٹی وی چینلوں یا ویو ٹیوب پر وسطی مشرق ایشیاءکے اسلامی ملک سیریا میں ہوئے آتنکی حملوں کے بعد کے نظارے دیکھتے ہوں گے لیکن ہم آپ کو دہلی کے حصے کا کچھ منظر بیان کرنے جا رہے ہیں جو سیریا (شام)سے ملتا جلتا ہے جن کے بارے میں جان کر آپ بھی حیرت میں پڑ جائیں گے ۔یہاں شام جیسے حالات ہیں ۔شیو وہار کے دراصل نارتھ ایسٹ دہلی کے الگ الگ حصوں میں ہوئے دنگوں کے بعد جب ماحول تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو شیو وہار کا جائز لیا گیا ۔میڈیا کے لوگ اس علاقے کی ہر گلی میں گئے جہاں بلوایوں نے انسانیت کی ساری حدیں پار کر دیں تھیں وہاں تباہی کے بعد کا وہ خوفناک منظر دیکھنے کو ملا جسے دیکھ کر کسی بھی روح کانپ جائے دنگے کی آگ نے شیو وہار کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔علاقے کے مکانوں سے لے کر دکانوں تک تباہی کا وہ خوفناک منظر دیکھنے کوملا جسے دیکھ کر کسی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں ۔شیو وہار شمشان گھاٹ کے قریب ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں ابھی تک انتظامیہ نہیں پہنچ پایا ۔وہاں لوگوں کوا ب کوئی راحت نہیں ملی آگ سے کالی پڑ چکی یہاں کی کثیر منزلہ عمارتوں کی دیواریں منظر کو بیاں کر رہی ہیں ۔پچاس سے زیادہ گھروں میں کچھ بھی نہیں بچا یہاں سے متاثرین گھر چھوڑ گئے ہیں سنیچر کی دوپہر تک یہ پورا علاقہ سیل تھا ۔بعد میں پولیس نے اسے کھولا یہاں جم کر لوٹ مار ہوئی ہے ۔اور آگ لگائی گئی ۔یہاں ملی جلی آبادی والا علاقہ ہے ۔آج دنگے سے پورے علاوے میں سناٹا ہے ۔اور پچاس سے زیادہ کثیر منزلہ عمارتیں ایسی ہیں جو جل کر خاک ہو چکی ہیں ۔عمارتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ زیادہ تر گراونڈ فلور کاروبار کے لئے استعمال کرتے تھے اور اوپری منزل پر رہا کرتے تھے ۔اور سب سے زیادہ نقصان شیو وہار کے فیس چھ اور سات میں ہوا ۔گنجان گلیوں میں موٹر سائکلیں اور کاریں جلی پڑیں ہیں ۔چشم دید گاہوں کا کہنا تھا کہ 24فروری کی شام اچانک بھیڑ شیو وہار کی طرف آئی اور سی اے اے اور این آر سی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نکل گئی تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ آئے اور مذہبی نعرے بازی کر رہے تھے بھیڑ کو دیکھ کر کچھ لوگوںنے چھتوں سے پتھراﺅ شروع کر دیا ۔اور اس سے لڑائی بھڑک گئی اور چاروں طرف آگ کا منظر دکھائی دینے لگا ۔یہاں کے مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ لگانے والے مقامی لوگ نہیں تھے ۔یہ باہر سے آئے ہوئے تھے بہر حال شیو وہار سے اجڑے پریشان لوگوں کو بلا تاخیر مدد پہنچانی ہوگی اور شانتی قائم کرنی ہوگی ۔جو لوگ چلے گئے ہیں ان کے گھروں کو سرکار اور انتظامیہ کو پھر سے منانا ہوگا ۔اور متاثرین کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے دہلی کی تاریخ میں شیو وہار کو جو زخم ملا ہے اس کو بھرنے میں وقت لگے گا ہماری وہاں کے متاثرین کے ساتھ پوری ہمدردی ہے ۔

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...