Translater

15 جون 2019

آگرہ کچہری کمپلکس میں ہی قتل کرڈالا !

جرائم پیشہ گھٹنے توڑنے کے جس عزم کے ساتھ یوگی آدتےہ ناتھ سرکار اقتدار میں آئی تھی ،وہ بیچ میں ہی رہ گئی تقریبًا ڈھائی سال بعد بھی ریاست اترپردیش میں جرائم کے حالات بگڑتے نظر آرہے ہیں ۔آئے دن دن دہاڑے قتل ہورہے ہیں ۔تازہ واقعہ تاج نگری آگرہ کی کچہری احاطہ میں واقعہ اترپردیش بار کونسل کے چیئر مین درویش یادو کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا ہے درا صل بدھ کے روز دوپہر قریب 3بجے اترپردیش بار کونسل کے چیئرمین درویش سنگھ یادو اور وکیل منیش شرما کے درمیان کسی بات کو لیکر جھگڑا ہوگیا تھا آگرہ کے اے بی ڈی جے آنند نے بتایاکہ جھگڑہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ وکیل منیش شرمانے درویش یادو کو لگاتار تین گولیا ں ماری گولی چلنے سے دوانی احاطہ میں افراتفریح مچ گئی اس کے بعد منیش شرمانے بھی خود کو گولی مار لی ۔دونوں کو دہلی گیٹ پر واقع پشپانجلی اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔کچہری میں ایک وکیل اروند مشرا کے چیمبر میں یہ واردات تین بجے ہوئی ایک گولی درویش کے بھتیجے منوج کوبھی ماری گئی لیکن وہ بچ گیا دوریش کے بھتیجے سنی یادو نے منیش کے خلاف رپورٹ میں الزام لگایا کہ اس نے درویش کے چیمبر اور پیسہ اور زیورات ہڑپ لیئے تھے منیش کی بیوی وندنا قتل کی دھمکی دے رہی تھی ۔بدھ کو کچہری میں دوریش کا استقبالیہ پروگرام تھا منیش کے نہیں آنے پر کچھ وکیلوں نے فون کرکے بلایا تاکہ دونوں گلے شکوے بھول جائیں اوراروند مشرا کے چیمبر میں میٹنگ بلائی گئی تھی چشم دید گواہوں کے مطابق درویش اور منیش میں کچھ کہاسنی ہوئی درویش کے رشتہ بول پڑا تو منیش بھڑ گیا اور اس نے پستول نکال کر منوج پر فائر کردیا لیکن وہ کسی طرح بچ گیا اس کے بعد تین گولیاں درویش اور ایک خود کو مار لی ۔درویش کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیدیا ۔دودن پہلے ہی درویش یادو اترپردیش بار کونسل کے چیئر مین بنی تھی ۔یوپی بار کونسل کی تاریخ میں وہ پہلی خاتون چیئرمین بنی تھی درویش سنگھ کے نام ایک ریکارڈ یہ بھی ہے کہ بار کونسل کے 24ممبروں میں اکیلی خاتون ہے اور وہ ایٹہ کی رہنے والی ہے ۔درویش کو پہلے ہی قتل ہونے کا اندیشہ تھا اس نے ساتھی وکیلوں سے کہا تھا کہ منیش کے ارادے ٹھیک نہیں ہے وہ دھمکی دے رہا ہے کبھی بھی قتل کرواسکتا ہے ۔درویش نے اپنے کچھ رشتہ داروں کو بھی اس بار ے میں بتایا تھا ۔اترپردیش میں قانون وانتطام کے حالات بےحد خراب ہیں درویش کے قتل کچہری احاطہ میں ہوا ہے اگر ہماری عدالت بھی محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی کبھی بھی محفوظ نہیں ہے ۔اترپردیش کی پولیس وقانون بنائے رکھنے میں پوری طرح فیل ہوئی ہے ایسا لگتاہے کہ اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی قانو ن وانتطام پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے ۔

(انل نریندر)

پانی کی قلت خون خرابہ لاٹھی ڈنڈے تک پہنچ گئی ہے !

آزادی کی سات دہائی بعد بھی دیش کے 82فیصد گاو ¿ں وشہر پانی کےلئے ترس رہے ہیں حالت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے گاو ¿ں پانی کےلئے قدرتی وسائل پر منحصر ہےں ایسا نہیں کہ دیش کے ہر گاو ¿ں ،شہر میں پانی پہنچانے کیلئے کبھی پلان نہیں بنے غور وخوض ہوتارہا پلان بھی بنتے رہے اور اس مد کےلئے پیسہ بھی الاٹ ہوتا رہا لیکن جو کام ہونا تھا وہ نہیں ہوا ان اسکیموں پر ایمانداری سے عمل ،لوگوں کو پانی ملنے لگے یہ کسی بھی سرکار کی ترجیح نہیں ہے دور دراز علاقوں کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ اسی سے لگا یا جاسکتا ہے کہ دیش کی راجدھانی میں پانی کے لئے خون خرابے کی نوبت آگئی تازہ معاملہ وسنت کنج ساو ¿تھ علاقہ کا ہے جہاں رات کے وقت دہلی جل بورڈ کے ٹینکر سے پانی لینے کے لئے دوفریقوں میںجم کر لاٹھی ڈنڈے اور لات گھنسے چلے ۔اس واقعہ میں دونوں فریقوں کے 6افراد زخمی ہوگئے ۔منگلوار کی شام ممبر پارلیمنٹ وجے گوئل اوربھاجپا ورکروں نے دہلی جل بورڈ کے سی ای او کا گھیراو ¿کرتے ہوئے پانی کی قلت ،پانی کی بربادی اور آلودہ پانی کی سپلائی وغیرہ پریشانیوں پر تحریری جواب مانگا ۔اس پر بورڈ کے سی ای او نکھل کمار نے لیڈروں سے پریشانی اور متعلقہ علاقہ کی جانکاری مانگ لی ہے لیکن دونوں فریق اڑے رہے تو تنازعہ سنگین ہوگیا صبح سویرے 3بجے تک دفتر میں ہنگامہ چلتا رہا اور اس دوران سی ای او کو دفتر سے باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو بھاجپا ورکروں کوبھی باہر نکالا گیا منگلوار کی شام سے ہی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔افسر کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو بھاجپا ورکروں نے دفتر کے باہر ہنگامہ شروع کردیا اور معاملہ بڑھنے پر پولیس کوبلایا گیا۔اور کافی مشقت کے بعددہلی جل بورڈ کے سی ای او کو دفتر سے باہر لے جایا گیا ۔شدید گرمی کے سبب دہلی میںبجلی پانی کے بحران کو لیکر دہلی سیاست گرماگئی ہے کانگریس اور بھاجپا دونوں ہی عام آدمی سرکار کو گھیر رہی ہیں سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے نمائندہ وفد کے ساتھ وزیر اعلی اروند کجرےوال کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور دہلی والوں کے 6ماہ کی بل معاف کرنے کی مانگ کی گئی آپ سرکار پر الزام تراشیوں کے اس دور میں دہلی کے شہری پیاسے رہنے کو مجبور ہے جہاں پانی آبھی رہا ہے وہاں اس پانی کی کوالٹی خراب ہے اور اسے پینے سے لوگ بیمار ہورہے ہیں دہلی میں مانسون دیری سے آنے سے دہلی کے شہریوں کو پانی کی قلت سے دوچار رہنا ہوگا امید کریں کہ جلد ی بارش ہو تاکہ دونوں سیکٹروں میں تھوڑی راحت ملے ۔گرمی کا ستم الگ چھایا ہوا ہے ۔

(انل نریندر)

14 جون 2019

گرنا....پھر اُٹھ کر بھڑنا مجھے کرکٹ نے ہی سکھایا

ٹیم انڈیا کے جانباز آل راﺅنڈر یوراج سنگھ نے پیر کو بین الااقوامی کرکٹ سے سنیاس کا اعلان کر دیا ہے ۔بھارت کی دو ورلڈ کپ جیت(2007ٹی 20)اور 2011کے مہا نائک کو لوگ کینسر سے جنگ جیتنے والے ایک یودھا کی شکل میں بھی یا د رکھیں گے زندگی میں ہارنہ ماننے والے 37سالہ یو راج کو 2017کے بعد سے ٹیم انڈیا میں کھیل کا موقعہ نہیں ملا اب یو وی اپنی فاﺅنڈیشن یو وی تھین کے ذریعہ کینسر مریضوں کی مدد کریں گے ۔یوراج نے کہا کہ ایک کرکٹر کے طور پر میں نے سفر شروع کرتے وقت کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں کبھی بھارت کے لئے کھیلوں گا بچپن سے ہی اپنے والد کے نقش قدم پر چلا اور دیش کے لئے کھیلنے کے ان کے خواب کا پیچھا کیا میرے لئے 2011ولڈ کپ جیتنا ،مین آف دی سریز ملنا اپنے لئے خواب کی طرح تھا ۔یوراج کہتے ہیں کہ گرنا .....پھر اُٹھ کر بھڑنا مجھے کرکٹ نے ہی سکھایا ہے ۔17سال کے اپنے کرکٹ کئیریر میں جو کارنامے حاصل کئے وہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے چاہے میچوں کی تعداد ہو یا رنوں کا امبار یا پھر آئی پی ایل میچ کے کھلاڑی کی قیمت ہو ۔یوراج ہمیشہ ایک چیمپین کی طرح ہی رہے ہیں ۔میدان میں بھی اور باہر نے بھی اس کرکٹر نے اپنے کھیل سے کرکٹ شائقین کا دل ہی نہیں جیتا بلکہ کینسر جیسی خوفناک بیماری پر جیت پا کر کھیل میں واپسی کر کے تمام لوگوں کو تلقین کرنے کا کام کیا بلکہ بین الا اقوامی کرکٹ بھی کھیلے یوراج کے من میںشاید 2019کے ولڈ کپ میں کھیلنے کی چاہت رہی ہوگی لیکن 2سال پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سریز میں امیدوں کے مطابق کھیل نہیں سکے اس سے ان کی دعویداری کمزور پڑ گئی ۔اب ان کے یادگار لمحوں کی بات کریں تو 2011کا ولڈ کپ بھارت کو دلانے میں ان کا اہم رول نبھانا ہے ۔اس ولڈ کپ کے نو میچوں میں انہوںنے ایک سنچری اور چار ہاف سنچری سے 362رن بنائے اور 15وکٹ بھی اپنے نام کئے اس پرفارمینس پر انہیں مین آف دی ٹونامینٹ چنا گیا کئی بار تووہ اتنے جارحانہ انداز میں گیند بازوں کی دھلائی بھی کی وہ اپنی سد بد کھو بیٹھتے تھے انگلینڈ کاسٹوورڈ برانڈ 2007کے ٹی 20ولڈ کپ کو شاید کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ۔یوراج نے ان کی چھ گنیدوں پر چھ چھکے مارے اور ولڈ ریکارڈ بنا دیا ۔یہ صحیح ہے کہ یوراج نے کہا کہ انہیں الوادی میچ کھیلنے کی آفر ملی تھی لیکن میں اپنے بل پر کھیلنا چاہتا تھا لیکن ہمیں اپنے ہیروز کا اہترام کریں ۔یوراج سے پہلے سہواگ کی بھی الوداعی میچ کھیلے بغیر چلے گئے اتنا ضرور ہے کہ یوراج کے ساتھ کئیر یر میں کئی بار نظر انداز نہ کیا گیا ہوتا تو ان کے ریکارڈ اور بہتر ہوتے ہم یوراج کو اپنی دوسری پاری کے لئے نئی خواہشات پیش کرتے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یوراج کی کرکٹ کی زندگی آنے والے نسلوں کے لئے کسی تلقین سے کم نہیں ہے بیسٹ آف لک یوراج۔

(انل نریندر)

ٹوئٹ پر گرفتاری شخصی آزادی پر ڈاکہ

سپریم کورٹ کے جج نے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے متعلق ایک ٹوئٹ کی وجہ سے گرفتار کئے گئے صحافی پرشانت کنوجیا کی ضمانت پر فورارہائی کا حکم دے کر صاف کیا ہے کہ آئین میں بنیادی حقوق کے تحت دی گئی شخصی آزادی کا ریاست خلاف ورزی نہیں کر سکتی ۔کنوجیا کی گرفتاری کے معاملے پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جو ریماکس دیئے ہیں اس سے ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے حکومتیں خاص طور پر ان کی پولس کو کسی بھی مسئلے پر کارروائی کے دوران ان پیمانوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔غور طلب ہے کہ حال میں ایک صحافی پرشانت کنوجیا نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی کے بارے میں کچھ تبصرہ کرتی ہوئی ایک خاتون کے ویڈیو کے ساتھ ساتھ ایک ذاتی رائے زنی بھی پوسٹ کر دی تھی اسے بے ہودہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کو بد نام کرنے والا بتاتے ہوئے اس کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی اس پر اترپردیش کی پولس نے جس طرح آنا فانا میں کاروائی کرتے ہوئے پرشانت کو گرفتار کیا یہ بتانے کے لئے اپنے آپ میں کافی تھا ۔اس معاملے میں آئینی سسٹم یا قانون کا خیال نہیں رکھا گیا اور دھونس جمانے اور صحافیوں میں ڈر پیدا کرنا زیادہ تھا۔عدالت کے فیصلے سے صاف ہے کہ ان کا یہ حکم صحافی کے ذریعہ ٹوئٹ کی توثیق نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو ۔در اصل کنوجیا کو اترپردیش کی پولس نے دہلی سے ان کے گھر سے جس طرح گرفتار کیاتھا اس سے اس کی نیت پر سوال اُٹھ رہے تھے اس معاملے میں پولس نے ایک ٹی وی چنیل کے دو صحافیوں سمیت کچھ اور لوگوں کو بھی گرفتار کیا۔گرفتاری کے وقت سپریم کورٹ کے ذریعہ طے گائڈ لائنس کی تعمیل نہ کرنے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے لیکن کنوجیا کو جس الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف جس طرح کی دفعات لگائی گئیں وہ حکومتی طاقت کے بے جا استعمال کی طرف ہی اشارہ کرتی ہیں ۔سرکار اور سیاست داں ایک طرف تو آئین کی دہائی دیتے نہیں تھکتے لیکن دوسری طرف شہری آزادی کو خود کی ساکھ سے جوڑتے ہیں ۔اور قانون کی دھجیا ں اُڑا دیتے ہیں ۔کرناٹک پولس نے تو وزیر اعلیٰ کمار سوامی کے بیٹے پہ لوک سبھا چناﺅ میں ہار ہونے سے متعلق ایک خبر شائع کرنے پر ایک کنڑ اخبار کے مدیر کے خلاف با قاعدہ ایک ایف آئی آر درج کر دی تھی ممتا سرکار نے کچھ برس پہلے وزیر اعلیٰ کا کارٹون سوشل میڈیا پر شیر کرنے والے پروفیسر کو گرفتار کر لیا تھا ۔آئینی قواعد اور قانون سے بندھے انتظامیہ کو اس کی ساکھ کا خیال رکھنا چاہیے نیتاﺅں اور سیاستدانوں کوبھی دیش کی جمہوری روایت اور شہری آزادی کے آئینی سسٹم کو دھیان میں رکھتے ہوئے لچیلا رویہ کا ثبوت دینا چاہیے ۔کہنے کی ضرورت نہیں ایک پختہ جمہوریت میں حکومت اعلیٰ کا بے جا استعمال کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے ۔کہتے ہیں سرکاریں چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاستوں کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نصیحت لیں گی اور قانون کی تعمیل کریں گی ۔

(انل نریندر)

13 جون 2019

سب سے زیادہ ٹریفک ممبئی اور دہلی میں ہوتی ہے

دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹریفک جام سے ممبئی والوں کو دو چار ہونا پڑتا ہے جبکہ دہلی دنیا کا چھوتھا سب سے ٹریفک دباﺅ برداشت کرنے والا شہر ہے یہ انکشاف لوکیشن ٹیکنالوجی کمپنی ٹوم ٹوم کے ٹریفک اینڈیکس 2018میں ہوا ہے ۔دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں لوگوں کوسڑکوں پر جام لگنے کی صورت میں اپنی منزل تک پہنچنے میں 65فیصدی زیادہ وقت لگتا ہے جبکہ دیش کی راجدھانی دہلی میں 58فیصدی زیادہ وقت لگتا ہے ۔ٹریفک دباﺅ کے معاملے میں کولمبیا کی راجدھانی داگورا 63فیصدی وقت کے ساتھ دوسرے نمبر پر پیرو کی راجدھانی لیما 58فیصدی اور 56فیصدی جام سے روس کی راجدھانی ماسکو 5ویں مقام پر ہے ۔فہرست میں شامل پہلے چاروں شہر ترقی پزیر ممالک میں شامل ہیں ۔پانچواں دیش ترقی یافتہ ہے جی پی ایس سسٹم پر مبنی اسٹڈی میں آٹھ لاکھ سے زیادہ آبادی والے 400شہروں کو شامل کیا گیا تھا ۔ٹوم ٹوم کمپنی ایپل اور اوبر کے لئے نکشے بھی تیار کرتی ہے ۔رپورٹ میں مذید کہا گیا ہے کہ 2018میں پہلے کے مقابلے ممبئی اور دہلی میں ٹریفک تھوڑا کم ہوا ہے ۔2018میں جہاں دہلی میں ٹریفک کا دباﺅ 58فیصدی تھا وہیں 2017میں یہ 52فیصدی ہو اکرتا تھا یعنی اس میں 4فیصدی کمی آئی ہے رپورٹ کے مطابق دہلی میں سب سے کم ٹریفک دباﺅ دو مارچ 2018سے ہو رہا ہے اس دوران یہ محض 6فیصدی ہوا کرتا تھا ۔سب سے خراب ٹریفک 8اگست2018کو تھا اس دوران ٹریفک دباﺅ 83فیصد تک پہنچ گیا تھا ۔ممبئی میں 2017کے مقابلے بہتری دیکھی گئی ۔جو 66فیصدی تھی اب 2018میں یہ 65فیصدی رہ گئی تھی اگست 2018کو 16فیصدی زیادہ تھی ۔رپورٹ سب سے زیادہ ٹریفک کے دوران لوگوں کو کتنا وقت اپنی منزل تک پہنچے میں لگتا ہے اس کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار ہوئی ہے اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ممبئی میں اوسطا5سو کاریں فی کلو میٹر چلتی ہیں یہ دہلی سے کافی زیادہ ہیں ۔بین الااقوامی سطح پر ٹریفک کا بڑھنا اچھا اور خراب دونوں ہی ہے ۔اچھا یہ ہے کہ اس سے مضبوط معیشت کا اشارہ ملتا ہے اور نقصان یہ ہے کہ زیادہ ٹریفک بڑھانے سے لوگوں کو جام کا شکار ہونا پڑتا ہے اور زیادہ ایندھن کی بربادی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ہمارے ماحولیات کو بھی بھاری نقصان پہنچتا ہے ۔

(انل نریندر)

پھانسی سے اس لئے بچ گئے کٹھوعہ کے درندے

جموں و کشمیر کے کھٹوعہ میں خانہ بدوش بکروال فرقہ کی آٹھ سالہ بچی سے بد فعلی کے بعد قتل معاملے میں پٹھان کوٹ کی اسپیشل عدالت نے چھ ملزمان کو قصوار ٹھہرا کر سزا سنائی ہے ۔جس سے تھوڑی راحت محسوس کی جاسکتی ہے ۔ڈیڑھ برس پہلے 10جنور 2018کو اس بچی کو اغوا کر اس کے ساتھ بربریت کی گئی ۔جس کا مذہب سماج میں تصور نہیں کیا جا سکتا ۔لیکن اس جرم کو جس طرح سے انجام دیا گیا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا ۔یہ بچی جانوروں کو چرانے کے لئے نکلی تھی تبھی اسے اغوا کیا گیا اس کے بعد اس کو ایک مندر میں قید رکھا گیا اور نشے کی دوائیاں دی جاتی رہیں اسی حالت میں اس سے اجتماعی آبرو ریزی ہوتی رہی ۔شرم کی بات یہ ہے کہ اس گھناﺅنے جرم کو انجام دینے والوں میں مندر کا پجاری اس کا رشتہ دار ایک ایس پی او بھی شامل تھا ۔چار پانچ دن بعد بچی کو قتل کر اس کی لاش جنگل میں پھینک دی گئی تھی ۔ایسے واقعہ مشکل سے سنے میں آتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ ان گھنونے جرم میں کچھ پولس ملازم بھی شامل تھے ۔اس واردات کے اجاگر ہونے کے اس کو فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ دینے کی نہ صر ف کوشش ہوئی بلکہ ملزمان کی قیصدہ خوانی کرنے کے سبب ریاست کی اس وقت کی پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے دو وزیروں کو استعفی تک دینا پڑا تھا ۔حالت یہ ہو گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی سماعت پڑوسی ریاست کے ضلع پٹھان کوٹ میں منتقل کرنی پڑی تھی ۔ورنہ جس بے حد غریب طبقہ سے یہ خانہ بدوش خاندان آتا ہے اس کے لئے انصاف کی درخواست لگا پانا شاید ممکن نہیں ہوتا۔یہ واردات ہمارے دیش و مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں و سماج کے سب طبقات کے لئے شرم ناک تھی ۔اب فیصلہ آگیا ہے اور قصورواروں کو سز ا ہو گئی ہے لیکن اس واردات میں جو کچھ ہوا اور جنہوں نے اسے انجام دیا اس سے صاف ہے کہ یہ لوگ صرف جرائم پیشہ نہیں بلکہ حیوان تھے ۔مندر کی دیکھ بھال کرنے والا ایسا شخص نفرت آمیز اور گھناﺅنے جرم کو انجام دے گا کوئی اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اتنا ہی نہیں بلکہ اس پجاری نے اپنے ایک رشتہ دار لڑکے کوبھی فون کر کے دوسرے شہر سے بلا لیا تھا ۔اسپیشل پولس آفیسر جسے مقامی لوگوں کی مدد کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ ایک ایسے کسی کو اغوا اور آبرو ریزی کی سازش تیار کرئے گا اور گناہ کرئے گا اور اس کے بعد دوسرے پولس والے اس کے ثبوت مٹائیں گے یہ پولس مشینری کا چہرہ دکھانے کے لئے کافی ہے ۔حال ہی میں علیگڑھ کے ٹپل قصبہ میں بچی کے قتل اور بھوپال میں دس سالہ بچی سے آبروریزی کے بعد قتل جیسے واقعات نے پورے دیش کو شرم سار کر دیا ہے ۔اجین اور جبل پور میں بھی دو معصوم بچیوں کے ساتھ آبرو ریزی ہوئی یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ ہمارے سماج میںکیسی حرکتیں کی جا رہی ہیں ۔ہماری حکومتی مشینری کہیں نہ کہیں جرائم کو نظر انداز کرتی ہے ۔ہمارا ضمیر اس قدر مٹ گیا ہے کہ ایک متوفی اور قاتل کی سماجی پہچان دیکھ کر طے کرتے ہیں کہ کس کے ساتھ کھڑا ہو کر ساتھ دینا چاہیے یہ سارے واقعات بتاتے ہیں کہ جرائم نے خوف نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے ۔اس لئے ایسے جرائم پر شکنجہ کسنے کے لئے اطفال جنسی جرائم کنٹرول قانون کابھی خوف نہیں ہے۔جس میں موت تک کی سہولت ہے ۔ایسا لگتا ہے سخت قانون بھی بچیوں اور عورتوں کو ازیت اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کا توڑ نہیں کر پا رہے ہیں ۔اتنا بے خوف جرم کرنے والے مجرم پھانسی سے اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ سزا آئی پی سی سے نہیں بلکہ جموں کشمیر میں رنویر پینل کوڈ کے تحت سنائی گئی اس میں بارہ سال سے چھوٹی بچیوں سے بد فعلی پر پھانسی کی سہولت تھی 24اپریل 2018کو کھٹوعہ کی واردات کو بعد میں جوڑا گیا یہ واردات دس جنوری 2018کی ہے ۔اور نے قانونی تقاضوں کے تحت عدالت سزا نہیں دے سکتی تھی اس لئے قصور وار پھانسی سے بچ گئے ۔

(انل نریندر)

12 جون 2019

پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ نائب وزیر اعلیٰ

ہندوستانی ریاستوں کی سیاست میں ذات و طبقہ گروپ کی بڑھتی توقعات کو پوری کرنے کے لئے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی نے سیاسی توازن بٹھانے و خوش آمدی کا نیا راستہ دکھا دیا ہے ۔سنیچر کو جگن نے پانچ نائب وزیر اعلیٰ بنائے ہیں ۔ان کی کیبنٹ میں شیڈول و قبائل و پسماندہ طبقہ و اقلیت اور کاپو فرقہ سے ایک ایک ڈپٹی وزیر اعلیٰ ہوگا۔وزراءکے لئے تیس مہینے کی عہد کا فارمولہ بھی طے کیا گیا ہے ڈھائی سال بعد 90فیصدی وزیر بدل دیں گے دیش میں اپنی طرح کا یہ پہلا تجربہ ہے ۔بھارت کی سیاسی تاریخ میں ایسا اب تک نہیں ہوا جگن موہن ریڈی نے اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے ۔عام طبقات کے علاوہ انہیں ان پانچوں فرقوں کا بھی ووٹ ملا ہے ۔اور وہ چاہتے ہیں کہ اپنے انتظامیہ میں سب کو نمائندگی دیں واضح ہو کہ آزادی کے بعد سے اب تک کئی ریاستوں میں حکمراں پارٹیوںنے نائب وزیر اعلیٰ بنائے ہیں ۔لیکن ایسا سیاسی نفع و نقصان کے بارے میں غور و فکر کے بعد کیا جاتا ہے ۔عہدے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ۔اس پر فائذ شخص کو وزیر اعلیٰ جیسے اختیارات نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ وزیر اعلیٰ کی غیر موجودگی میں ریاست کی رہنمائی کر سکتا ہے ۔اسے کوئی فاضل تنخواہ یا بھتہ دینے کی سہولت نہیں ہے ۔ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت میں سردار بلبھ بھائی پٹیل ڈپٹی وزیر اعلیٰ بنائے گئے تھے سردار پٹیل دیش کے وزیر داخلہ بھی تھے اس کے بعد 1967سے 1989تک مرارجی دیسائی نائب وزیر اعلیٰ بنائے گئے ۔کوئی نائب وزیر اعلیٰ یا وزیر اعلیٰ حلف لیتے وقت وزیر کی ہی حلف لیتا ہے حالانکہ چودہری دیوی لال نے خود کو ڈپٹی پی ایم کہہ کر حلف لیا تھا ۔اس کے بعد پیدا ہوئے تنازعہ میں اٹارنی جنرل سولی سوراب جی نے سپریم کورٹ میں کہا کہ نائب وزیر اعظم کا آئین میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔دیوی لال ایک وزیر کی طرح ہی رہے ۔ویسے تو نائب وزیراعلیٰ توکئی ریاستوں میں رہے ہیں دیش کے کئی ریاستوں میں پہلے بھی دو دو نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔اترپردیش اور گوا میں ابھی دو دو نائب وزیر اعلیٰ ہیں ۔جبکہ بہار میں بھی سشیل مودی نائب وزیراعلیٰ ہیں ۔اس سے پہلے آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو اور تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راﺅ نے دو نائب وزیر اعلیٰ بنائے تھے حال ہی میں راجستھان میں کانگریس اقتدار میں آئی تو یہاں اشوک گہلوت وزیر اعلیٰ اور سچن پائلٹ کو نائب سی ایم بنایا گیا ۔کرناٹک میں جی پرمیشور اور دہلی میں منیش سسودیا ڈپٹی سی ایم ہیں ۔بہار میں سشیل مودی اسی عہدے پر ہیں ۔پہلے آر جے ڈی کے ساتھ سرکار بنی تھی تو تیجسوی یادو کو ڈپٹی سی ایم بنایا گیا تھا گوا میں پرمود ساور کی حکومت میں ایک ہی ڈپٹی سی ایم تھا ۔جب سے اتحادی سیاست کا دور شروع ہوا ہے تب سے نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سب سے بڑی اتحادی جماعت کو دیا جانے لگا ہے ۔الگ الگ فرقوں کی نمائندگی دکھانے کے لئے ایک دو وزیر اعلیٰ بنانے کا چلن عام ہو چکا ہے ۔لیکن جگن موہن ریڈی نے تو پانچ نئے وزیر اعلیٰ بنا کر ایک نئی روایت قائم کر دی ہے ۔دیکھیں ریڈی کا یہ بڑا تجربہ آنے والے وقت میں کتنا کامیاب ہوتا ہے ؟

(انل نریندر)

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یرد...