Translater

30 دسمبر 2017

پاک میں 500 میٹر گھس کر لیا بدلا

اپنے چار فوجیوں کی پاکستان کا کارانا حملے میں شہید ہونے سے تیتمائی بھارتی فوج نے بار بار پاکستان کی سرحد میں داخل کرنے کے لئے سرجیکل ہڑتال کی. ستمبر 2016 2016 کے بعد سرجیکل ہڑتال کے بعد بھارتی فوج نے پاک فوج کو کشمیر (پی اوکی) کے اندر داخل کیا اور اپنے چار جوانوں کی شہادت کا بدلہ لے لیا. فوج کی پونچھ بریگیڈ کے پانچ مقتول کمانڈروں نے پیر کے روز تقریبا 6 بجے لوسی پار کر ایک میجر بھی چار پاک فوجیوں کو مار ڈالایا اور چار۔پانچ پاک فوجیوں کو بری طرح سے زخمی کیا. ہمارے کمانڈوز نے پاکستان کے ایک عارضی چوک کو تباہ کر دیا. فوج کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے مارے گئے فوجیوں نے 59 افواج میں ریجیمنٹ کے سیکنڈڈ بریگیڈ کے تھے. تین دن قبل راؤری علاقے میں پاکستانی فوج کی فائرنگ سے بھارتی فوج نے ایک میجر سمیت تین جوان شہید ہو گئے. تب بھارتی فوج نے کہا تھا کہ ہم اپنے جوانوں کی قربانی ضائع نہیں جانے دیں گے. اور ہوا بھی یہی دراصل پاکستان نے ہمیشہ بزدلانہ طریقوں سے بھارتی فوجیوں کو نشانہ بنا دیا ہے. اس مرتبہ بھی پاک فوج نے سنیچر وار کو پیر پنجال وادی کے راجوری سیکٹر میں اسنائیپر فائرنگ میں ہندستانی فوج کے ایک میجر اور تین جوانوں کو مار دیا تھا ۔پاک کی اس کارروائی کی 48 گھنٹوں کے اندر ہی ہی ہمارا کمانڈو کی ٹیم نے بھارتی فوجیوں کے قتل کا بدلہ لے لیا. 45 منٹ کے اندر پانچوں بھارتی کمانڈو محفوظ واپس آنے کے بعد مکمل کرنے کی کارروائی. یہ خیال ہے کہ گریج نہیں ہے کہ بھارت کے پچھلے سرجیکل اسٹرائیک میں خاصا نقصان جھیلنے کے بعد بھی ناکامی کی وجہ سے پاکستان نے اپنی حرکات سے باز نہیں آتی ہے۔ اور سرحد پر جنگجوؤں کے خلاف ورزی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ بندی نہیں کی جا رہی ہے. اس سال پاکستان نے فائرنگ کے دوران 750 علاقوں میں کشیدگی کا نشانہ بنایا. پاکستان کی جانب سے جنگجوؤں کی طرف سے یہ واقعہ گزشتہ سات سالوں میں سب سے زیادہ ہے. پاکستان کوسبق سکھانے کی کی یہ واحد کارروائی نہیں تھی. اس سے قبل بھارتی جوانوں نے جموں۔کشمیر کی جھنکار میں کنٹرول لائن کے پاس ایک پاک سنیپر کو پھیر لیا اور ٹھیک بعد پلوااما میں طویل وقت سے مطلوب دہشت گرد نور محمد تانترے عرف چھوٹا نور کو مار گریا. چھوٹی نوری کا مارا جانا تو براہ راست جیک۔اے۔محمد (ص) اور پاک میں بیٹھے اس کے آقاوں کو سخت پیغام ہے. نومبر 2003 میں جب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد، کنٹرول لائن پر کشیدگی پر معاہدہ ہوا ہے، پاکستان نے کسی بھی سال اس کی قائدے سے تعمیل نہیں کی ہے۔۔بھارتی فوج نے یہ جواب دیا کہ اس وقت سامنے آئے جب کلبھوشن جادھوکی بیوی اور ماں پاکستان میں ان کے ساتھ مل کر ان کی ملاقات ہوئی اور ملک ان کے ملاقات کے دوران پاکستان کی طرف سے برتا گیا غیر انسانی سلوک کا بحث جوروز پر تھا. پاکستان نے جس طرح ماں اور بیوی سے سلوک کیا انہوں نے نہ صرف اپنی بے حسی کا کاثبوت دیا بلکہ اپنا اصلی چہرہ بھی دکھایا کہ وہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہے. ہمارے سوال یہ ہے کہ یہ سرجیکل ہڑتال پاکستان سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے. انہوں نے ہمارے چار مارے تو ہم نے ان کو چار مار دیا. اس سے نہ ہی پاک فائرنگ رکے گی اور نہ ہی گھس پیٹ. بھارت کو پی اوکی کی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا. جب تک ہم ایسا نہیں کرتے پاکستان سدھرنے والا نہیں. ویسے عام طور پر ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائیک میں اپنے مرنے والے فوجیوں کی پاکیزگی کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن پردہ پوشی کرتے ہوئے ہی سہی پاک یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے جنگ بندی کے خلاف ورزی کی ہے۔ اور اس کے تین فوجی مارے گئے ہیں۔ اس سے اس نے ہندوستانی کارنامے کی ایک طرح سے تصدیق ہی کر دی ہے۔
(انل نریندر)

2017نے کانگریس میں امیدیں جگائیں ہیں

کانگریس کے لئے سال2017تمام اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا پارٹی کی اترپردیش ،گوا ،منی پوراور ہماچل میں چناؤی ناکامی کے درمیان پارٹی کو پنجاب اسمبلی میں ملی جیت نے تھوڑی راحت کی سانس دی جبکہ وزیراعظم کی آبائی ریاست گجرات میں 22 سال سے اقتدار پر قبضے کے بعد بی جے پی کو کڑی انتخابی ٹکرکر دے کر پارٹی نے اپنے کارکنوں میں مستقبل میں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا جگائی ہے. حال ہی میں 16 دسمبر کو راولیل گاندھی کی طرف سے کانگریس کی ہائی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے رہنما اور کارکن نے نئے جوش سے لبرریج کیا. کانگریس کے حکمت عملی ساز گجرات چناؤ کے دوران راہل گاندھی کی رہنمائی میں پارٹ کے جارہانہ کمپین اور ریاست کے دیہی علاقوں میں پارٹی کی اچھی کارکردگی کو پارٹی کی حق میں چل رہی لہر مان رہی ہے۔سال 2017 کے اختتام سے چند دنوں پہلے 2 جی سپیکٹرم اسکلالا کیس میں خصوصی سیبی آئی عدالت کی طرف سے سابق مرکزی وزیر اے. راجہ اور دیگر تمام الزامات کو بری کرنے کا فیصلہ پارٹی کی خاطر نیا سنجیوی ثابت ہو سکتا ہے. ادھر آدرش سوسائیٹی گھوٹالے کے معاملے میں مہاراشٹر کی سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر سربراہ اشوک چوھان پر مقدمہ چلانے کی حکمرانی کی منظوری دی ہے. اس سال ہمیں کانگریس پارٹی کا سوشل میڈیا میں اپنی موجودگی کو زور شور سے درج کرانے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔ سوسائٹی میڈیا کے ذریعہ مودی حکومت پر کئے جانے والے اپنے حملوں کی دھارکانگریس نے اورتیز کی ہے. اس معاملے میں بڑے پہلو راہل گاندھی کی طرف سے ہی ہوا تھا جن کے ٹویٹر فلووروں کی تعداد میں گزشتہ چند مہینے میں 50 لاکھ کا اعداد و شمار ختم ہوگئے ہیں. اور اپنی طرف سے سال ھر سال بھر میں مختلف معاملات بھر میں بڑھ چھڑ کر کانگریس کی رہنمائی کرتے ہوئے راہل نظر آئے. گجرات میں راہل کی قیادت میں کانگریس لیڈروں نے جس سرگرمی سے کمپین کی، اس سے سیاسی تجزیہ کاروں سے یہ خیال ہے کہ یہ آنے والے وقت پارٹی کے لئے امیدوں کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں. سال 2017 کا دسمبر مہینہ کانگریس کی تاریخ میں طویل وقت تک یاد رکھا جائے گا. بیتے 19 سال سے کانگریس کی قیادت میں سونیا گاندھی کی جگہ راہل گاندھی باقاعدہ صدر بن گئے. مجموعی طور پر یہ کہاجا سکتا ہے کہ سال 2017کانگریس کیلئے کچھ نئی امیدیں لیکر آرہا ہے۔
(انل نریندر)

29 دسمبر 2017

حلف برداری تقریب کے بہانے شکتی پردرشن

گجرات میں وزیر اعلی وجے روپانی اور ہماچل میں وزیر اعلی جے رام ٹھاکر کی حلف برداری تقریب کو وسیع پروگرام بنا کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی بڑھتی طاقت کا پردرشن کیا ہے۔ یہ انعقاد ان ریاستوں میں بھی ماحول بنانے کی کوشش ہے جہاں اگلے برس اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کیبنٹ کے کئی ممبران اور نتیش کمار سمیت بھاجپا و اتحادی پارٹیوں کے حکمراں18 ریاستوں کے وزرائے اعلی کی شاندار موجودگی این ڈی اے کی سیاسی طاقت کے سامنے بکھری اپوزیشن کو بے اثر بتانے کی کوشش بھی تھی۔ ہماچل پردیش کے ساتھ ساتھ گجرات اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کی جیت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سب سے طاقتور بنا دیا ہے۔ اس کا اثر پارلیمنٹ میں بھی کھلے عام دکھائی دینے لگا ہے۔ جیت کے بعد تو پارلیمنٹ کے حالات اور ان کے مطابق ہوگئے ہیں۔ لوک سبھا میں تو اکثریت کے چلتے ان کے اشارے پر ایوان چلتا ہی تھا اب راجیہ سبھا میں بھی وہی ہورہا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ شاید یہ پہلی بار ہوا کہ راجیہ سبھا چیئرمین پارٹی کی جانب سے جواب دے اور کہے کہ پارلیمنٹ سے باہر کے اشو پارلیمنٹ ایوان میں جواب دینے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دونوں ریاستوں کے اسمبلی چناؤ جیتنے کے بعد بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس، ٹی ایم سی کے علاوہ زیادہ تر بڑی پارٹیاں بھاجپا کی حمایت میں ہیں یا ان کی دوری بھاجپا سے زیادہ کانگریس سے بنی ہوئی ہے۔ جے للتا کے مرنے کے بعد تو 37 ممبران والی انا ڈی ایم کے بھاجپا کی غیرا علانیہ ساتھی جیسی ایوان میں دکھائی دینے لگی ہے۔ یہی حال بیجو جنتادل کا بھی ہے۔ کانگریس بھی لوک سبھا میں کبھی حکمراں فریق کو نہیں گھیر پائی۔اب راجیہ سبھا میں کانگریس نمبروں کی تعداد میں بھاجپا سے پچھڑتی جارہی ہے۔ بھاجپا پردھان امت شاہ بھی راجیہ سبھا پہنچ گئے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھاجپا کے سابق صدر ایم وینکیانائیڈو نائب صدر جمہوریہ کے ناطے راجیہ سبھا کے چیئرمین بن گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں راجیہ سبھا میں بھی بھاجپا کی طاقت بڑھتی جائے گی۔ پھر تو لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی سرکار اپے حساب سے بل پیش اور پاس کروائے گی۔ کانگریس کے ہر ممبر روز واک آؤ ٹ کررہے ہیں لیکن حکمراں فریق اپنے حساب سے دیر شام تک ایوان کی کارروائی چلا کرکے سرکاری کام کاج نمٹا رہی ہے۔ پارلیمنٹ 5 جنوری تک چلے گی اور اس کے تین ہفتے بعد پھر پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن شروع ہوگا۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں سرکار گھرتی نہیں دکھائی دے رہی ہے البتہ وہ اپوزیشن کو حاشیے پر لگانے میں لگی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

اب حافظ سعید چناؤ لڑنا چاہتا ہے

پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے چیف اور ممبئی آتنک وادی حملے کا اہم سازشی حافظ سعید دہشت گردی انسداد اور پبلک سیکورٹی قانون کے تحت مہینوں سے نظربندی سے رہائی کے بعد اپنا جہادی ایجنڈا تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ آتنک وادی تنظیم لشکرطیبہ کے بانی سعید کے سر پر 1 کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرزمیں پر محفوظ پناہ گاہ مہیا کرانے کو لے کر پاکستان کو وارننگ بھی دی ہے۔ امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے اپنے غیر اعلانیہ افغانستان دورہ کے دوران یہ بات کہی۔ امریکی وارننگ کے باوجود حافظ سعید اپنے ارادوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سعید نے اس مہینے کی شروعات میں تصدیق کی تھی کہ اس کی تنظیم جماعت الدعوۃ سال 2018 کے عام چناؤ میں ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) کے بینر تلے چناؤ لڑے گا۔ پاکستان چناؤ کمیشن نے ایم ایم ایل کو سیاسی پارٹی کی شکل میں رجسٹرڈ کرنے سے منع کردیا تھا۔ کمیشن کے اس فیصلے کو ایم ایم ایل نے 11 اکتوبر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ پاک وزارت داخلہ نے ایم ایم ایل کی عرضی پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ وہ اس گروپ کے سیاسی پارٹی کی شکل میں رجسٹریشن کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ گروپ ممنوعہ تنظیموں کی شاخ ہے۔وزارت نے اپنے جواب میں کہا کہ سیاسی پارٹی حکم 2002 کے تحت ایسی تنظیم جو بنیادی حقوق کے تئیں پہلے سے بغاوت کا رویہ رکھتی ہو دیش کے اتحاد کو چنوتی دیتی ہو، نسلی علیحدگی پسندی کو فروغ دیتی ہو، علاقائی اور ذات پات نفرت پھیلاتی ہو اور جس کا نام آتنکی گروپ سے وابستہ ہو اسے سیاسی پارٹی کی شکل میں رجسٹرڈ کرنے پر روک ہے۔ 
پاکستان کا دورہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔کھلے طور سے وہ سعید کی تنقید کرتا ہے اور اندر خانے اس کی تعریف کرتا ہے۔ حافظ سعید اقوام متحدہ تک میں آتنکی قرار ہے۔ اس کے سر پر انعام ہے۔ امریکہ کھلے عام اسے آتنک واد اسپانسر کرنے کا الزام لگاتا ہے اور پاکستان سرکار اور ایجنسی اسے رہا کردیتی ہیں۔ اور اسے اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی پوری چھوٹ دیتی ہیں۔ حافظ سعید کھلے عام گھوم رہا ہے اور بھارت کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہا ہے اس کو تو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2017

شیشے کی دیوار کے پارسے دیدار

مبینہ جاسوسی کے الزام میں اگلے دو برس سے پاکستان کی جیل میں بندسابق ہندوستانی بحریہ کے کلبھوشن جادھو کی اپنی ماں اور بیوی سے پاکستانی وزارت خارجہ کے دفتر میں جس طرح سے ملاقات کروائی گئی وہ صرف چھلاوے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کیا آپ اسے رشتے داروں کی ملاقات کہیں گے؟ بیوی اور ماں کسی سے ملنے جائیں اور ان کے بیچ ایک شیشے کی دیوار ہو ۔نہ اسپرش نہ النگن، بس ایک دوسرے کو دیکھ پانا اور اسپیکر کے ذریعے سے بات کرنا۔ کلبھوشن جادھو ان کی ماں اور بیوی کے لئے یہ ملاقات ایک بیحد جذباتی وقت رہا ہوگا کیونکہ پتہ نہیں پھر یہ موقعہ کب آئے گا۔ آئے گا بھی یا نہیں؟ پہلے تو پاکستان اس ملاقات کے لئے راضی ہی نہیں ہورہا تھا اور اب اس ملاقات کے بعد وہ انسانی بنیادپر اور فراق دلی برتے جانے کا ناٹک کررہا ہے۔ خوف کے ماحول میں کرائی گئی اس ملاقات میں سیکورٹی کے نام پر پریوار کے کلچرل اور مذہبی جذبات کی توہین بھی کی گئی۔منگل سوتر، چوڑی، بندی اتروا لی گئی اور پہناوے میں بھی تبدیلی کرائی گئی۔ بار بار درخواست کے باوجود جادھو کی بیوی کا جوتا ملاقات کے بعد واپس نہیں دیا گیا۔ جادھو کی بیوی اور ماں منگلوار کو نئی دہلی میں وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج سے ملیں۔ بھارت نے کہا کہ ملاقات کے بعد جو فیٹ بیک ملا ہے اس سے لگتا ہے کہ جادھو شدید تناؤ میں تھے اور وہ دباؤ کے ماحول میں بول رہے تھے۔ جو بھی وہ بول رہے تھے انہیں ویسا بولنے کے لئے کہا گیا تھا،جس سے پاکستان میں ان کی سرگرمیوں سے جڑے جھوٹے الزامات کو ثابت کیا جاسکے۔ ان کے جسم پر اذیتوں کے کئی نشان بھی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو ٹھینگا دیکھاتے ہوئے پاکستان نے ابھی تک جادھو تک بھارت کے ڈپلومیٹ کو پہنچنے نہیں دیا اور بھارت کے دباؤ کے سبب وہ جادھو کی ماں اور بیوی سے ملاقات کروانے کے لئے راضی ہوا۔ سارے قاعدے قانون کو طاق پر رکھ کر پاکستان نے جادھو کو موت کی سزا سنا رکھی ہے جس پر بین الاقوامی عدالت (آئی سی جے) نے بھارت کے حق میں اپنا انترم فیصلہ سناتے ہوئے آخری فیصلہ تک روک لگا رکھی ہے۔ کلبھوشن جادھو کا معاملہ پہلا ایسا معاملہ نہیں جب پاکستان نے کسی ہندوستانی شہری کو پکڑ کر جاسوس قراردیا ہو اور پھر پھانسی کی سزا سنا دی ہو۔ اس سے پہلے سربجیت کا معاملہ تو کئی سال تک موضوع بحث بنا رہا تھا۔ ایک ہی سربجیت پر پاکستان میں کئی نام سے مقدمے چلائے گئے تھے۔ خود پاکستان کے کئی انسانی حقوق رضاکار اس کے حق میں کھڑے ہوگئے تھے لیکن آخر کار پراسرار حالات میں اس کی جان لے لی گئی۔ چمیل سنگھ، کرن پال سنگھ نام کے دو ہندوستانیوں کو بھی پاکستان حال ہی میں پھانسی پر لٹکا چکا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جو جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے اور پھانسی سے بچ گئے۔نہ جانے وہ کب سے وہاں کی جیلوں میں بند ہیں۔ اگر پاکستان اس ملاقات کے ذریعے دونوں ملکوں کے رشتوں میں کچھ بہتری کی امید کررہا تھا، تو وہ اس میں پوری طرح ناکام ہوگیا ہے اور اب بھارت اسے بین الاقوامی عدالت سے لیکر تمام دنیا میں اسے گھیرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑنا چاہے گا۔ بس اتنی تشفی ضرور ہے کہ کلبھوشن جادھوزندہ ہے۔
(انل نریندر)

دوکانوں کی سیلنگ سے دہشت

سینٹرل زون کی ڈیفنس کالونی میں ایم سی ڈی نے جمعہ کو تقریباً51 دوکانوں کو سیل کردیا۔ اس سے پوری دہلی کے تاجروں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ساؤتھ دہلی کی دوسری مارکیٹ میں بھی سیلنگ کی کارروائی کا ڈر تاجروں کو ستا رہا ہے۔ چھترپور انکلیو میں بھی ماربل کے چھ شوروم سیل بند کردئے گئے ہیں۔ ایم سی ڈی کے مطابق دوکانداروں نے کافی عرصے سے کنورجن چارج نہیں دیاتھا ان دوکانوں کے اوپر ریزیڈینشل فلور کو سیل کیا گیا ہے۔ ساؤتھ دہلی کے شاپنگ سینٹرز کو کئی سال پہلے بنایا گیا تھا۔ ان شاپنگ سینٹر میں لوگوں کو گراؤنڈ فلور پر دوکان کھولنے اور اوپر فلور کو ریزیڈینشل یونٹ کی شکل میں استعما ل کرنے کے لئے الاٹ گیا تھا لیکن دوکانداروں نے اوپر ریزیڈینشل فلور کا بھی کمرشل یوز کرنا شروع کردیا۔ جس کے سبب انہیں 89 ہزار روپے فی مربع میٹر کے حساب سے کنورجن چارج جمع کرنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن دوکانداروں نے کنورجن چارج کی ادئیگی نہیں کی ۔ ان دوکانداروں پر کروڑوں روپے کا کنورجن چارج بقایا ہے۔ اس اشو پر ڈیفنس کالونی کے دوکانداروں کا کہنا ہے کہ ہم یہاں لمبے عرصے سے کاروبار کررہے ہیں۔ ایم سی ڈی کو کارروائی سے پہلے نوٹس دینا چاہئے تھا ، تاکہ تاجر بھی اپنا موقف رکھ پاتے۔ کاروباریوں نے کارروائی کو غلط بتاتے ہوئے کہا ان کا کمپلیکس مکس لینڈ یوز میں ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے کنوینر برجش گوئل نے کہا کہ ایم سی ڈی کی کارروائی پوری طرح غلط ہے۔ سیلنگ کے باوجود ڈیفنس کالونی کے دوکاندار کنورجن چارج چکانے کو تیار نہیں ہیں۔ دوکاندار اب ایم سی ڈی اور مانیٹنرنگ کمیٹی سے پوچھ رہے ہیں کہ 59 سال پہلے جن دوکانوں کو لینڈ اینڈ ڈولپمنٹ آفس نے کمرشل طور پر الاٹ کیاتھا اب وہ دوکانیں شاپ کم ریزیڈینشل کیسے ہوگئیں؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ صاف کئے بغیر کوئی بھی دوکاندار کنورجن چارج نہیں دے گا۔دوکانداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 89 ہزار روپے مربع میٹر کنورجن چارج کچھ مارکیٹ پر ہی لاگو ہے جن میں سروجی نگر، خان مارکیٹ اور گرین پارک ایکسٹینشن شامل ہیں۔ باقی بازاوں میں یہ چارج لاگو نہیں ہوگا۔ معاملہ سنگین ہے اور اس میں مرکز کو مداخلت کرنی چاہئے۔مانیٹرنگ کمیٹی کی سرگرمی سے سبھی علاقوں میں سیلنگ کو لیکر 2006-08 جیسی افراتفری پھر پیدا ہوسکتی ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ترمیمی بل جلد پاس کروائے کیونکہ موجودہ راحت کی میعاد 31 دسمبر تک ختم ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ کمیٹی نے منگلوار کو تمام اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ میٹنگ کرکے طے کیا ہے کہ سیلنگ کے معاملہ میں دوکانداروں کے خلاف سخت رخ اپنانے کے بجائے انہیں کنورجن چارج جمع کرانے کے لئے 31 مارچ تک کا وقت دیا جائے۔ اگر لوکل شاپنگ سینٹر کے کاروباری گھٹا ہوا کنورجن چارج بھی جمع نہیں کراتے ہیں تو ان کے خلاف سیلنگ کی کارروائی کی جائے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2017

لالو کو جیل ہونے پر ان کی پارٹی و اپوزیشن پر کیا اثر ہوگا

چارہ گھوٹالہ کے ایک اور معاملہ میں آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کو قصوروار قرار دئے جانے کے بعد ان کے سیاسی سفر پر تو سوالیہ نشان لگا ہی بلکہ عدالت کے اس فیصلہ کا اثر صرف بہار ہی نہیں بلکہ مرکز کی سیاست پر بھی پڑے گا۔ لالو کے جیل جانے سے جہاں ان کی پارٹی راشٹریہ جنتادل کے مستقبل پر اثر پڑے گا وہیں تمام اپوزیشن کے سروے سروا بنے لالو یادو کی غیر موجودگی اور خود ساختہ اپوزیشن اتحاد پر بھی اثر پڑے گا۔ بہار میں اقتدار سے باہر ہونے اور بیٹے تیجسوی کو آگے بڑھانے کے فیصلہ کے بعد سے ہی آر جے ڈی میں کئی سینئر لیڈروں کے بغاوتی سر اٹھنے لگے تھے حالانکہ لالو کے رہتے یہ نیتا کھل کرتو سامنے نہیں آ پائے، لالو کے جیل جانے کے بعد ان کے حوصلہ بلند ہوسکے ہیں اور یہ سیدھے تیجسوی اور تیج پرتاپ کی لیڈرشپ کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ قومی سطح پر لالو مودی سرکار کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے میں لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے یوپی میں بسپا اور سپا ،کانگریس کو ایک ساتھ لا کر مہا گٹھ بندھن بنانے کی کوشش کی تھی۔ بیشک اس میں زیادہ کامیابی نہیں پاسکے۔ آر جے ڈی کے کچھ لیڈر حکمراں جنتا دل (یو) میں جاسکتے ہیں۔ آر جے ڈی کی ساتھی کانگریس میں بھی اتھل پتھل مچ سکتی ہے۔ پارٹی کے15 سے زیادہ ممبران اسمبلی کے پہلے سے ہی بھاجپا ،جنتادل (یو) کے رابطہ میں ہونے کی خبریں ہیں۔ لالو کی غیرموجودگی اور آر جے ڈی کی نئی لیڈرشپ میں کم تجربہ کار ہونے کا فائدہ نتیش والی جنتا دل (یو)اور بھاجپا اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ بتادیں کہ لالو کی مصیبتیں ابھی ختم نہیں ہوں گی۔ دو معاملوں میں فیصلے آچکے ہیں۔ دونوں معاملوں میں لالو پرساد یادو قصوروار قرار دئے گئے ہیں ،چار مقدمہ چل رہے ہیں ، ایک پٹنہ میں اور تین رانچی میں۔ چارہ گھوٹالہ کی جانچ اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد سی بی آئی نے 1996 میں سے لیکر 1998 کے درمیان لالو پرساد یادو کے خلاف ایک کے بعد ایک 6 معاملہ درج کئے تھے۔ یہ سبھی معاملہ گھوٹالہ اور سازش سے جڑے ہوئے ہیں۔ بتادیں کہ یہ ساتویں بار ہے جب لالوجیل گئے ہیں۔ جیل جانے سے پہلے لالو نے کئی بار ٹوئٹ کر فیصلے کو اپنے خلاف بھاجپا کی سازش بتایا اور کہا کہ سماجی انصاف کی لڑائی جاری رہے گی۔ بھاجپاکو چنوتی دیتے ہوئے لالو نے کہا کہ سنو کان کھول کر ، گدڑی کے لال کو پریشان کر سکتے ہو، ہرا نہیں سکتے۔ سامنتی طاقتوں میں جانتا ہوں لالو تمہاری راہوں کا کانٹا نہیں آنکھوں کی کھیل ہے لیکن اتنی آسانی سے اکھاڑ نہیں پاؤگے۔ ہم جیل جاتے رہیں گے لیکن جھکیں گے ہیں۔
(انل نریندر)

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...