Translater

27 جون 2015

چار دیویاں بنیں مودی کیلئے دردِ سر!

جب اٹل جی وزیر اعظم تھے تو ان کے لئے درد سر بنیں تھیں تین دیویاں ممتا ، مایااور جایا۔ یعنی ممتا بنرجی ، مایاوتی اور جے للتا۔ اب نریندر مودی کیلئے چار دیویاں سشما سوراج، وسندھرا راجے، اسمرتی ایرانی اور پنکجہ درد سر بن گئی ہیں۔آج میں پنکجہ منڈے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ کرپشن فری حکومت کا دعوی کرنے والی بھاجپا سرکار میں ان کے وزیر ہی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر تعلیم ونود تاوڑے کی فرضی ڈگری معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ ریاست کی خاتون و اطفال ترقی وزیر پنکجہ منڈے 206 کروڑ روپے کے گھوٹالے کے الزام میں گھر گئی ہیں۔ اسے مہاراشٹر کی دویندر پھڑنویس سرکار کا پہلا گھوٹالہ مانا جارہا ہے۔وہیں پنکجہ منڈے نے صفائی پیش کی ہے کہ انہوں نے جو فیصلے کئے ہیں وہ قاعدے کے مطابق ہیں۔ پنکجہ منڈے سابق مرکزی وزیر سورگیہ گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی ہیں۔ الزام ہے کہ انہوں نے قواعد کو طاق پر رکھ کر ایک ہی دن میں24 آرڈیننس کے ذریعے کروڑوں روپے کے سامان خریدنے کا آرڈر دے دیا۔ اس خرید کے کام میں 206 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا دعوی کیا جارہا ہے۔ دراصل تین لاکھ سے زیادہ کسی بھی خرید کیلئے ای ٹنڈر مدعو کرنے کا قاعدہ ہے، لیکن اس برس فروری میں یونیفائڈ اطفال ڈیولپمنٹ سروس اسکیم کے تحت بنواسی علاقوں میں چل رہے سرکاری اسکولوں کیلئے چٹائی، کتابیں و کھانے کا سامان خریدنے کے لئے پنکجہ نے ایک ہی دن میں 24 تجاویز کو منظوری دے دی۔ ان تجاویز کا کل تخمینہ 206 کروڑ روپے تھا۔ اپوزیشن نے اسے قاعدے کے خلاف بتاتے ہوئے کرپشن انسداد بیورو (اے سی بی) میں شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے سرکار سے ہائی کورٹ کے کسی جج سے معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پنکجہ نے الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے ان کا کہنا ہے یہ فیصلہ ای ٹنڈروں کی پالیسی لاگو ہونے سے پہلے کا ہے اس میں کوئی بے قاعدگی نہیں برتی گئی ہے۔ پنکجہ ان دنوں امریکہ میں ہیں۔ ان کے مطابق وزیر بننے کے بعد سے انہوں نے محکمے میں شفافیت لانے کیلئے کئی فیصلے کئے ہیں۔ حالانکہ دویندر پھڑنواس سرکار پر کرپشن کا یہ پہلا الزام ہے۔ کچھ دنوں پہلے کانگریس نے ریاست کے وزیر تعلیم ونود تاوڑے پر فرضی ڈگری رکھنے کا الزام لگایا تھا۔ اسی درمیان سرکار کے ایک دوسرے سینئر وزیر ایکناتھ کھڑ سے نے کہا اگر اپوزیشن ثبوت دے تو سرکار پنکجہ کے خلاف جانچ کرانے کو تیار ہے۔ کھڑسے کے مطابق اپوزیشن کا کام ہی الزام لگانا ہے۔ اچانک سامنے آئے ان الزامات سے بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کے چہروں پر پریشانی کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ سرکار کی سب سے بڑی تشویش آنے والے مانسون سیشن کو لیکر ہے اندیشہ ہے 21 جولائی کو شروع ہوئے سیشن ان تنازعوں کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔ ان چار دیویوں کی وجہ سے مودی سرکار کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ بے داغ مودی سرکار پر دھبے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

بجلی کٹی توہر گراہک کو ملے گا ہرجانہ!

دہلی حکومت نے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بجلی تقسیم کمپنیوں کے خلاف سختی کی ہے اس کا صارفین خیر مقدم کرتے ہیں۔سرکار نے دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) کو حکم دیا ہے کہ بغیر اطلاع کٹوتی کرنے پر ڈسکام پر جرمانہ کرے اور اس کا فائدہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دے۔ بجلی کٹوتی کے معاملے میں دہلی سرکار کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈی ای آر سی کے قاعدوں میں ترمیم کیلئے ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس میں لوگوں سے 29 جون تک اعتراضات اور تجاویز مانگی ہیں۔ اس کے بعد بجلی کٹوتی کیلئے نیا قانون بنا دیا جائے گا۔ ڈرافٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی خرابی کی وجہ سے 50 سے زیادہ گھروں میں بجلی گل ہوتی ہے ، تو ڈسکام کیلئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے ایک گھنٹے کے اندر متبادل بجلی کا ذریعہ لوگوں کے گھروں میں اجالا کرنے کے لئے اپنائے۔ اگر بجلی کمپنیاں ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں تو نہ بجلی بند ہونے کے ایک گھنٹے بعد اگلے دو گھنٹے کے لئے 50 روپے فی گھنٹہ فی صارفین کو دینا ہوگا۔ اس کے بعد ہر گھنٹے فی صارفین کو 100-100 روپے چکانے ہوں گے۔ جرمانے کی رقم بجلی کمپنیوں کو خود بجلی کے بل کے ساتھ صارفین کو دینی ہوگی۔90دنوں کے بجلی بل کے ساتھ جرمانے کی رقم چکاناہوگی اگر اس میں کوئی گڑ بڑی کی جاتی ہے تو فیصلہ کمیشن کو لینا ہوگا۔ اگر کسی کے گھر میں کمپنی کی گڑ بڑی کی وجہ سے بجلی گئی ہے تو شکایت کے تین گھنٹے کے اندر سپلائی بحال ہو جانی چاہئے اگر ایسا نہیں ہوتا تو کمپنی کو فی گھنٹے اس صارفین کو 100 روپے دینے ہوں گے۔ دہلی کے بجلی منتری ستندر جین نے کہا کہ بجلی ایکٹ2003 کی سیکشن 108 میں یہ سہولت ہے کہ سرکار ریگولیٹری کمیشن کو ایسی ہدایت دے سکے۔ وہیں ڈی ای آر سی کے چیئرمین پی ڈی سدھاکر نے کہا کہ سیوا نہ دینے پر جرمانے کی سہولت پہلے سے ہے بس جرمانوں کی شرح کو لیکر تھوڑا شش و پنج ہے لیکن اس قانون کو اب سختی سے لاگو کیا جائے گا۔ جتنی دیگر بجلی کٹوتی ہوگی اس کی جانکاری دہلی اسٹیٹ ڈسپیچ سینٹر کی ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے اس کے علاوہ بجلی سپلائی کے سسٹم کی خامیوں کو بھی دور کیا جائے گا۔ جرمانے کا انتظام کا صحیح تجزیہ صحیح طریقے سے ہو اس کے لئے انتظام کیا گیا ہے۔ یہ رقم صارفین کے بل میں نظر آنی چاہئے۔ اگر کسی علاقے میں 1 گھنٹے کی کٹوتی ہو تو متعلقہ علاقے کے صارفین کا بل جرمانہ گھٹاکر آنا چاہئے۔ ہم دہلی سرکار کی اس پہل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان بجلی کمپنیوں کی دھندلی پر لگام لگنی چاہئے۔ بجلی کے میٹروں کی بھی آزادانہ جانچ ہونی چاہئے۔ اگر سرکا ان قدموں کو صحیح طریقے سے لاگو کیا جاتا ہے تو راجدھانی کے علاقوں کے صارفین کو تھوڑی راحت ضرور ملے گی۔ ڈی ای آر سی کا کہنا ہے ڈرافٹ میں پاور کٹوتی سے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ڈسکام پر کس کس لاپرواہی کے لئے کتنا جرمانہ لگایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

26 جون 2015

بھارت سے پھر دھوکہ، لکھوی کی ڈھال بنا چین

جماعت الدعوۃ کا کمانڈراور ممبئی حملہ کا ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی گزشتہ اپریل میں جیل سے اس لئے رہا ہوگیا تھا کیونکہ پاکستان اس کے خلاف عدالت میں ضروری ریکارڈ و ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اور اب لکھوی کی رہائی پر پاکستان سے وجوہات مانگنے کی اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی کی پہل کو چین نے یہ کہہ کر روک دیا ہے کہ بھارت نے اس معاملے میں پاکستان کو پختہ جانکاری نہیں دی ۔ چین نے بھارت کے ساتھ پھر بھروسہ کو توڑا ہے چین اقوام متحدہ سلامی کونسل کامستقبل ممبرہونے کے ناطے اس کمیٹی کا ممبر ہے جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر فیصلہ کرتی ہیں۔ ذکی الرحمن لکھوی کے معاملے میں اقوام متحدہ میں چین نے جو رویہ اپنایا ہے اس پر ہمیں تعجب نہیں ہوناچاہئے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ چین نے بھارت کی ایسی کوشش میں ٹانگ اڑائی ہے مئی میں بھارت نے کشمیری آتنکی اور حزب المجاہدین کے نیتا سید صلاح الدین کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کروانے کی کوشش کی تھی، جسے چین نے رکوا دیا۔ چین پاکستان کے ساتھ اپنی حکمت عملی پالیسی کو اور مضبوط کررہا ہے ایسے اشارے کئی بار آچکے ہیں۔ا گر وہ دہشت گردی جیسے نازک مسئلے پر بھی پاکستان کی حمایت کرے گا،اس کی توقع نہیں تھی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خود چین بھی اسلامی دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ وہ آتنک واد مخالف بین الاقوامی معاہدوں کے تئیں خود کو باعزم بتاتا تھا۔ لکھوی جیسے دہشت گرد کے بچاؤ میں پاکستان اور چین کے متحد ہونے کا یہ کھولا ثبوت تو ہے یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اپنی زمین سے دہشت گردی کو کھاد پانی دینا کا کام اس لئے بھی کررہا ہے چونکہ اس کی پیٹھ پر چین کاہاتھ ہے۔ لکھوی جیل سے رہا ہوا تھا تب امریکہ، فرانس، برطانیہ جیسے ملکوں نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے لکھوی کو پھر سے گرفتار کرنے کامطالبہ کیاتھا۔ پاکستان اور چین گہری دوستی ہے یہ سبھی جانتے ہیں لیکن پاکستان کاساتھ دینا ایک بات ہے اور دہشت گردی کے سرغنہ کے حق میں کھڑے ہونا دوسری بات ہے۔ یہ تو کھلے عام دہشت گردی کی حمایت کرنا ہوئی۔ چین لکھوی معاملے میں پاکستان کے حق میں کھڑا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اس لئے تاریخ شاید ہے کہ چین شروع سے ہی ایک حکمت عملی پر چل رہا ہے جس نہ صرف بھارت کا کردار محدود ہو بلکہ اس کی آزادی اور سرداری بھی متاثر ہو۔ اس کی ترقی بھی رکاوٹ ہو۔ اس کے لئے چین کو پاکستان سب سے موزوں دیش رکھتا ہے بہت حد تک چین اور پاکستان کے مقصد بھی بھارت کو لے کر ایک جیسے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چین چاہتا ہے کہ بھارت کے بازار چینی مصنوعات سے روشن رہے اورپاکستان کی منشاء انہیں پوری طرح سے نیست و نابود کرنے کی رہتی ہے۔ اب لکھوی معاملے میں بھارت مخالف کھلا موقوف اپنا کر چین نے صاف کردیا ہے کہ وہ بھارت کو گھیرنے کی منظم پالیسی پر چل رہا ہے۔ بھارت کی اب ترجیح چینی حکمت عملی کا مقابلہ کرنا ہے۔
(انل نریندر)

مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی!

بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار تنازعات میں گھیرتی جا رہی ہے۔ پارٹی میں ناراضگی بھی بڑھ رہی ہے۔ للت مودی تنازعہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے۔ پارٹی کے بڑے لیڈر بھلے ہی اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن بیان بازی رک نہیں رہی ہے۔ بھاجپا ایم پی و سابق ہوم سکریٹری آر کے سنگھ نے للت مودی کو بھگوڑا قرار دیتے ہوئے ان کی مدد کرنے والے لیڈروں کو کٹھگرے میں کھڑا کردیا ہے سنگھ نے وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی وزیراعلی وسندھرا راجے کانام لئے بغیر دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھگوڑے کی مدد کرتا ہے یا اس کے ملتا ہے یہ قانونی اور اخلاقی طور پر دونوں طرح سے غلط ہے۔بھاجپا صدر امت شاہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ و ٹرانسپورٹ وزیر نتین گڈ کری کے کھل کر وسشما وسندھرا کی حمایت لینے کے بعد بھاجپا ایم آر کے سنگھ کے بیان سے صاف ہوگیا ہے کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے آر کے سنگھ کے بیان کو بھاجپا ایم پی کیرتی آزاد کے بیان کا رد عمل مانا جارہا ہے۔ آزاد نے سشما کے حق میں کھڑے ہوکر آستین کے سانپ ہونے کا بیان دے کر تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔ اب سنگھ نے اس کے برعکس سشما اوروسندھرا پر نکتہ چینی کی ہے۔ دونوں ہی بہار سے ایم پی ہے اس کا سیدھا اثر بہار میں ہونے والے اسمبلی چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پچھلے دنوں شری لال کرشن اڈوانی نے وارننگ دی تھی کہ ایمرجنسی عہد کا خطرہ بھی ٹلا نہیں ہے۔ اب پی جے بی کے سینئر لیڈر یشونت سہنا نے اپنی ہی پارٹی کی سرکار کو نشانہ بنایا ہے ان سے منگلوار دیر رات ایک پروگرام میں نریندر مودی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے کام کاج کے موازنے پر سوال پوچھے گئے تھے۔ انہو ں نے مرکز میں ’’میک ان انڈیا‘‘ کے پروگرام میں کہا ہے کہ پہلے بھارت بناؤ، باقی خود ہوجائے گا۔شری یشونت سنہا نے کہا ہے کہ بھاجپا میں جو بھی 75سال سے زیادہ عمر کے تھے ان کو سبھی کو’’برین ڈیڈ‘‘ قرار دے دیا ہے میں بھی پارٹی کے ان ’’برین ڈیڈ‘‘ لوگوں میں شامل ہوں۔ بدھوار کو مودی حکومت کی ایک اور وزیر مرکزی انسانی وسائل ترقی اسمرتی رانی کولیکر مشکل میں پھنس گئی ہے۔ بدھوار کو دہلی کی ایک عدالت نے ایرانی کے خلاف ملی شکایت کو سماعت کے لائق مانا، جس میں ان پر چناؤ کمیشن کو اپنی تعلیمی استعداد کی غلط جانکاری دینے کا الزام لگایاگیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے اس سلسلے میں ایرانی کو سمن بھیجنے سے پہلے شکایت کنندہ سے اورثبوت مانگے ہیں۔فری لانس صحافی احمر خاں نے عدالت میں عرضی دائر الزام لگایا تھا کہ ایرانی نے 2004سے 1914تک مختلف انتخابات لڑنے کے لئے دی حلف ناموں میں اپنی تعلیم الگ الگ بتائی تھی۔ پارٹی میں ناراضگی صاف ابھر کر سامنے آگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کاآنے والے بہار چناؤ میں کیا اثر پڑتا ہے؟ 
(انل نریندر)

25 جون 2015

طالبان کا افغان پارلیمنٹ پرحملہ

کابل میں افغانستان کی پارلیمنٹ پر طالبان دہشت گردوں کا حملہ اس دیش میں منڈرا رہے خطرے کی سنگینیت کو نئے سے سے بیان کرتا ہے۔ بیشک یہ باآور رہنے والی بات ہے کہ طالبان کو ان کی منشا پر کامیاب نہیں ہونے دیا گیا لیکن افغانستان کی پارلیمنٹ کو نشانہ بنا کر طالبان نے اپنے ارادے تو صاف کردئے ہیں کہ آنے والے دن وہاں کے لئے اور شورش والے ہونے والے ہیں۔ دراصل طالبان کا حوصلہ تو پچھلے سال کے آخر میں ہی نیٹو فوج کی افغانستان سے باقاعدہ وداعی کے بعدبڑھ گیا تھا۔ پیر کو پارلیمنٹ پر ہوئے حملہ کا شاید نشانہ نئے مقرر وزیر دفاع محمد معصوم ستنی کزئی تو نہیں تھے پچھلے 9 مہینے سے دیش میں وزیر دفاع کا عہدہ خالی تھا۔ صدر اشرف غنی اور پہلے ان کے حریف اور اب سرکار میں ساتھی عبداللہ عبداللہ کے درمیان وزیر دفاع کے نام پر عدم اتفاقی کی وجہ سے یہ عہدہ اب تک خالی پڑا ہوا تھا۔ پچھلے دنوں وزیر دفاع کے لئے ستنی کزئی کو نامزد کیاگیاتھا۔ پیر کو ان کی تقرری پر مہر لگانے کے لئے پارلیمنٹ کے ایوان میں ان کا تعارف کرانے کی کارروائی چل رہی تھی اسی دوران پارلیمنٹ پر طالبان دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ یہ راحت کی بات ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے میں ممبران اور سکیورٹی فورس کے جوان اور عام شہریوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ یہ بھی قابل ذکر ہے سکیورٹی فورسز نے پارلیمنٹ کو نشانہ بنانے والے آتنکیوں کو مار گرایا۔ سکیورٹی فورسز نے جس مستعدی سے آتنک وادیوں کے منصوبے کو ناکام کیا اس سے یہ صاف ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے اور منہ توڑ جواب دینے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ البتہ افغانستان کے موجودہ بحران میں دو پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تو یہی کہ اشرف غنی نے بیحد چیلنج بھرے وقت میں افغانستان کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس میں ملک کے تمام قبائلی گروپوں کو شیشے میں اتارے رکھنے کی ویسی صلاحیت نہیں ہے جیسی سابق صدر حامد کرزئی میں تھی۔ دوسرا یہ کہ آئی ایس کے افغانستان میں دبدبہ بنا لینے کے بعد طالبان کی یہ جارحانہ بالادستی کی لڑائی میں آگے بڑھنے میں دوڑ لگ سکتی ہے۔ حامد کرزئی کی جگہ پر صدر کی کرسی پر بیٹے اشرف غنی نے پچھلے دنوں جس طرح مبینہ طور پر اپنی سلامتی مضبوط کرنے کیلئے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ سمجھوتہ کیا اس سے بھارت سمیت عالمی برادری کا فکرمند ہونا فطری ہے اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ حامد کرزئی اور ان کے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود اشرف غنی نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے ہیں لیکن یہ معمہ بنا ہوا ہے آخر انہوں نے آئی ایس آئی سے ہاتھ ملانے کے بارے میں سوچا ہی کیوں؟ طالبان کی موجودہ جارحیت کو نہ صرف پچھلی ایک دہائی میں سب سے خطرناک حملہ بتایا جارہا ہے بلکہ اس سال کے ابتدائی چار مہینے میں دہشت گردانہ تشدد میں وہاں قریب ایک ہزار شہریوں نے جان گنوائی ہے۔ موجودہ حالت پوری دنیا کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے اور یہ پورے خطے کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔
(انل نریندر)

تومر سے عدالت نے کہا کب تک بیوقوف بناؤں گے

فرضی ڈگری معاملے کے ملزم جتیندر سنگھ تومر جنتا کے نمائندے ہیں۔ اس پر بی ایس سی، ایل ایل بی کی فرضی ڈگری رکھنے کا سنگین الزام ہے ایسے میں اسے کسی بھی طرح کی رعایت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تومر کو ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ پیر کوعدالت نے تومر کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو کب تک بیوقوف بناتے رہیں گے۔ ایڈیشنل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ترون یوگیش نے کہا کہ معاملے کی جانچ بہت اہم مرحلے میں ہے۔ ایسے میں انہیں ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنا نمائندہ چننے کیلئے ووٹ ڈالتے ہیں لیکن ہمیں کیا ملتا ہے۔ عدالت نے تومر کو اسمبلی چناؤ سیشن میں بھی حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ساکیت عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے تومر کے وکیل رمیش گپتا نے دلیل رکھی کہ ان کے موکل کو فرضی ڈگری معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا پورا معاملہ دستاویز پر مبنی ہے اور زیادہ دستاویز پولیس ضبط کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ ٹرائل کے دوران تومر عدالت میں پیش ہوگا اور کبھی بھی ثبوتوں کو ضائع کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ وہ سب ثبوت کو متاثر کرنے والا انسان ہی نہیں ہے کیونکہ اب وہ وزیر قانون نہیں ہے۔ایسے میں وہ کیسے ثبوت ضائع کر سکتا ہے۔ وہیں ابھی تک دہلی بار کونسل نے ان کے موکل کے خلاف کسی بھی طرح کی شکایت نہیں دی ہے۔ وہیں تومر نے کہا کہ اس کیس اور پولیس نے ان کا بیڑا غرق کردیا ہے۔اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا ہے۔ تین گھنٹے سے زیادہ چلی سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل پبلک سالیسٹر اتل کمار شریواستو نے ضمانت پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا معاملے کی جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اس معاملے میں کئی لوگ فرار ہیں اور ان کا پتہ لگانا ہے۔ انہوں نے کہا فرضی ڈگری گروہ کافی بڑا ہے اور اس کا پردہ فاش کیا جانا ہے۔ اگر اس وقت ملزم کو ضمانت دے دی گئی تو پورے معاملے میں جانچ متاثر ہوگی اس لئے ضمانت عرضی خارج کی جائے۔ تومر کے وکیل نے کہا کہ پولیس نے جوڈیشیل کسٹڈی میں بھیجنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے مطلب ہے پوچھ تاچھ پوری ہوگئی ہے اس لئے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے کہا آپ (تومر) دستاویز یا حلف ناموں میں جعلسازی کیسے کرسکتے ہیں۔ہم ضمانت پر رہا نہیں کرسکتے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندے کو ملا پارلیمانی مخصوص اختیار ان کے کام میں تعاون کرنے کے لئے ہے وہ دیگر شہریوں کے مقابلے میں ایک الگ زمرے میں نہیں بناتا۔ شریواستو نے کہا کہ قانون ملزمان کو الگ طرح کے برتاؤ کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ پارٹی کے جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ جتیندر سنگھ تومر کو فرضی کیس میں پھنسایا گیا ہے اب وہ خود فیصلہ کرلیں ۔ عدالت تو ثبوت کی بنیادپر چلتی ہے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیتی ہے۔ جتیندر سنگھ تومر پر انتہائی سنگین الزام ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دہلی کے وزیر اعلی اور پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو تومر کی جعلسازی کے بارے میں معلوم تھا۔ اسمبلی چناؤ سے پہلے پرشانت بھوشن نے کیجریوال سے درخواست کی تھی کہ تومر کو ٹکٹ نہ دیا جائے لیکن کیجریوال نے پرشانت بھوشن سے خندک نکالنے کے لئے جتیندر سنگھ تومر کو نہ صرف ٹکٹ دیا بلکہ وزیر بنا ڈالا۔ اب قانون منتری اوران کے قانون کا کیا حال ہورہا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔
(انل نریندر)

24 جون 2015

اترپردیش کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی صحافی کا قتل

تشویش کا موضوع یہ ہے لگتا ہے کہ دیش میں صحافی ایک مرتبہ پھر نشانے پر ہیں۔ کہیں پولیس ان کا شکار کررہی ہے تو کہیں مافیہ انہیں اپنے نشانے پر لے رہا ہے۔ابھی اترپردیش میں صحافی جگیندر کو پولیس کے ذریعے زندہ جلائے جانے کا واقعہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ اس کے تین دن بعد مدھیہ پردیش کی کٹنگی تحصیل میں ایک صحافی کی جلی ہوئی لاش پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے ناگپور کے ایک قصبے سے برآمد ہوئی۔ جرنلسٹ سندیپ کوٹھاری قتل کے سلسلے میں پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار ضرور کیا ہے لیکن پولیس کی لاپرواہی سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا پریس کو ایمانداری سے کام نہ کرنے دینے کی کوئی سازش تو نہیں رچی جا رہی ہے؟ دیش کے میڈیا کو پوری سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا۔ صحافیوں پر حملوں کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اترپردیش کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی ایک صحافی کو اپنی جان بنوانی پڑی ہے۔ بتایا جاتا ہے ریپ مافیہ سے وابستہ لوگوں نے عدالت سے معاملہ واپس نہ لینے پر جبلپور کے ایک ہندی اخبار کے نامہ نگار سندیپ کوٹھاری( 40 سال) کو زندہ جلا دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں 3 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اپرپولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج سونی نے بتایا کہ سندیپ کا دو دن پہلے 19 جون کو بالا گھاٹ سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان کی جلی ہوئی لاش مہاراشٹر کے وردھا ضلع میں بھنڈی شہر میں ریلوے کی پٹریوں کے پاس ملی۔ سندیپ کے بھائی نے لاش کی شناخت کی ہے۔ سونی نے بتایا کہ سندیپ بلاتکار کے ایک کیس میں پچھلے دو ماہ سے ضمانت پر رہا ہوا تھا۔پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ان کی پہچان راکیش نسوانی، وشال ڈانڈی اور برجیش دوہروال کی شکل میں ہوئی۔ تینوں کتنگی کے باشندے ہیں۔ الزام ہے کہ تینوں ناجائز کوئلہ کھدائی میں لگے ہوئے ہیں اور ایک چٹ فنڈ کمپنی بھی چلاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق سندیپ نے اس ناجائز کوئلہ کھدان کے معاملے میں کچھ لوگوں کے خلاف ایک مقامی عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔ تینوں ملزم یہ کیس واپس لینے کا دباؤ بنا رہے تھے پولیس کا خیال ہے کہ سندیپ کے انکار کرنے پر ملزمان نے ان کا اغوا کر قتل کردیا۔ اغوا میں استعمال کی گئی کار ضبط کر لی گئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے قتل کے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے صحافی نے ریت مافیہ کی سرگرمیوں کا خلاصہ کیا تھا اس لئے ان کے خاندان کو پریشان کیا جارہا تھا۔ وہیں بالا گھاٹ کے سابق ممبر اسمبلی کشور سمرتے کا الزام ہے کہ سندیپ کو 12 سے زیادہ مجرمانہ معاملوں میں پھنسایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا سندیپ نے منظم کرائم میں ملوث میگنیز اور ریت مافیہ اور طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور قلم کا سپاہی اپنی ڈیوٹی پر مارا گیا۔ ہم انہیں شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...